آج دنیا سمٹ کر مٹھی میں چلی آئی ہے اور انسان جدید آلات کی بنا پر کائنات کی ہر شئی کو پہچانتا ہے،ہر مشین کے بارے میں جانتا ہے،تمام آلات کی خوبی وخامی سے واقف ہے۔کائنات کے ہر بلند وپست مقام سے آگاہ ہے،مگر افسوس! آگاہ نہیں تو خوداپنی ذات سے آگاہ نہیں ۔ہم میں سے کتنےلوگ ہیں جو اپنے اعضا کی قدروقیمت پر غوروفکر کرتے ہیں اور اس نوعیت سے اس کی قدر کرتے ہیں؟اسی وجہ کر کہا گیا ہے کہ جو خودی سے بیگانہ وہ خدا سے بیگانہ ہےاور جس نے خود کو پہچان لیا اس نے خدا کو پہچان لیا ’’مَنْ عَرَفَ نَفْسَہُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہ‘‘۔ہمارے آقا ﷺ سے چالیس سال کی عمر میں اعلان نبوت کا حکم فرمایا گیا کیوں ؟حکمت یہی تھی کہ اے محبوب !پہلے زمانے کو یہ بتاؤ کہ انسان کا خاصّہ کیا ہے،مقام انسانیت کیا ہےاور وجہ شرف انسانیت کیا ہے؟اس لیے جو انسان نہیں ہوگا وہ بھلا مسلمان کیا ہوگا!!انسان انس سے بنا ہے ،جس کا معنی محبت ،اخوت،شفقت،ملاطفت اور رحمت ہے۔جس کے اندر یہ انسانی خوبیاں نہ ہوں وہ بہ صورت انسان تو ہوسکتا ہے مگر حقیقت میں انسان نہیں ہوسکتا ۔
اگر ہم سیرت نبوی ﷺکا مطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ محسن انسانیتﷺ نے کفار و مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ انسانیت کے تحفظ اور قیام امن کے لئے بہت سے معاہدے کیے تاکہ ظلم وستم کا سد باب ہو۔ اس کے ساتھ ہی آقا ﷺ انسانیت کے دشمن پر بھی کڑی نظر رکھتے، کہ کہیں کوئی فساد سر نہ اٹھا سکے اور انسانیت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔پیغمبر اسلام ﷺ قرآن کی شکل میں جو ایک اسلامی مینوفیسٹواورمنشورحیات لے کر آتے ہیں اس میں صاف صاف اعلان ہے : مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَ نَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا(المائدہ :۳۲) یعنی ’’جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا‘‘۔
محسن انسانیت ﷺ کومجبوراً میدان جنگ میں بھی آنا پڑا مگر اصول یہ تھا کہ ’’اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُوْمِ‘‘ یعنی مظلوم کی ہمیشہ مدد کی جائے گی۔آپ کی تلوار دفاع میں بلند ہوئی یامظلوموں کی مدد کے لیے اٹھی یا اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے۔آپ کی پوری زندگی میں ہوس ملک گیری کا کوئی شائبہ نہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ ’’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے‘‘(All is fair in love and war)مگر یہ نبیٔ رحمت تھے کہ جس نے جنگ کے لیے بھی یہ ضابطۂ اخلاق دیا کہ: وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ- اِعْدِلُوْا- هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (المائدہ :۸)اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے۔
نبی رحمت ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا:مَنْ قَتَلَ مُعَاھِدًا فِیْ غَیْرِ کُنْھِہِ،حَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ۔ یعنی جو مسلمان کسی غیر مسلم شہری کو ناحق قتل کرے گا ،اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرمادے گا۔(سنن نسائی:کتاب القسامۃ)
اور صحیح بخاری کتاب الجزیہ میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ’’جس نے کسی غیر مسلم شہری(معاہد)کو قتل کیا تو جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا بلکہ اسے جنت سے چالیس برس کی مسافت سے بھی دور رکھا جائے گا۔
اسی طرح غیر مسلموں کے مذہبی رہنماؤں کے قتل کی بھی سخت ممانعت کی کی گئی ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :کَانَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اِذَابَعَثَ جُیُوْشَہُ قَالَ:لَاتَغْدِرُوْاوَلَاتَغُلُّوْا وَلَاتُمَثِّلُوْاوَلَاتَقْتُلُوْاالْوِلْدَانَ وَلَا اَصْحَابَ الصَّوَامِعْ۔ حضور ﷺ جب اپنے لشکروں کو روانہ کرتے تو حکم فرماتے :غداری نہ کرنا،دھوکا نہ دینا،لاشوں کی بے حرمتی نہ کرنااوربچوں اور پادریوں کو قتل نہ کرنا۔(مسند احمد:جلد:۱ص:۳۳)
پیغمبراسلام ﷺ اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے کہ وہ پرامن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزادے۔حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:لَایُوْخَذُ مِنْھُمْ رَجُلٌ بِظُلْمِ آخَرَ۔یعنی کسی امن پسند غیر مسلم شہری کو دوسرے غیر مسلم شہری یا افراد کے ظلم کے بدلے میں کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
امام ابوداؤد حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وَلَاتَقْتُلُوْا شَیْخًا فَانِیَاً وَلَا طِفْلًا وَلَاصَغِیرًاوَلَا اِمْرَاَۃً۔نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو نہ شیرخوار بچے کو نہ نابالغ کو اور نہ عورت کو۔(سنن ابوداؤد)
رحمۃللعالمینﷺ پر تشدد ، دہشت گردی،قتل و غارت گری اور بدامنی عام کرنے کا الزام لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ نفرت وتعصب سے نکل کر صحیح تاریخ کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ آپ ﷺ کی راہ نمائی میں دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی ۸۲؍کوششوں میں (جن میں۲۸؍میں آپ نے خود قیادت کی)صرف ۴۵۹؍ مسلمان اور ۴۵۹؍مخالفین کام آئے۔ ان تمام مقابلوں میں صرف ۱۱؍ مسلمان قید ہوئے،البتہ مخالفین کے ۶۵۴۶؍ افراد قیدی بنائے گئے،جو فدیہ سے یا فدیہ کے بغیر آزاد کر دیے گئے اور ان میں سے جو بلا کسی شرط کے چھوڑے گئے،ان کی تعداد۶۳۴۷؍ہے اور ان کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی،زخمیوں کی تعداد بھی فریقین کو ملا کر ۳۰۰؍کے قریب ہوئی۔
اسی غزوئہ بدر میں حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کے چچا حضرت عباس کو نہ چاہتے ہوئے بھی مشرکین مکہ کے ہمراہ مسلمانوں سے لڑنا پڑا۔ جس میں آپ بھی گرفتار ہوئے اور ستّر قیدیوں میں سے ایک تھے۔ اتفاق سے حضرت عباس کو سختی سے باندھ دیا گیا جس کی وجہ کر وہ تکلیف سے کراہ رہے تھے ۔ اُن کی تکلیف کی آواز سن کر رسولِ اکرم ﷺ بہت بے چین ہوگئے۔ صحابہ کرام نےجب یہ محسوس کیا تو حضرت عباس کی رسّی ڈھیلی کردی جس سے انھیںآرام مل گیااور وہ سوگئے۔ حضور اکرم ﷺ نے پوچھا: اب عباس خاموش کیوں ہوگئے؟بتایا گیاکہ یارسول اللہ!آپ کی بے چینی دیکھ کر ان کی رسی ڈھیلی کردی گئی ہے اس لیے انھیں آرام مل گیا۔ محسن انسانیتﷺ نے حکم دیا کہ سارے قیدیوں کی رسّیاں ڈھیلی کردی جائیں۔ سبحان اللہ!!
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حضورﷺنے ۲۷؍ غزوات میں بنفس نفیس شریک ہوئے مگر آپ کی تلوار سے کسی کی ایک انگلی بھی نہیں کٹی۔محسن انسانیتﷺ دنیا کے واحد جرنیل ،کمانڈرانچیف اور بہادر سپاہی ہیں کہ جن کی تلوار پر خون کا ایک دھبّا نظر نہیں آتا۔
ادھرچند سالوں سے ایک اصطلاح اور سلوگن بہت عام کیا جارہا ہے کہ ’’انسانیت ہی سب سے بڑا دھرم ہے‘‘۔لیکن کون نہیں جانتا کہ اسلام سے پہلے انسانیت کس طرح سسک رہی تھی ۔انسان ،انسان ہوکر بھی جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور تھا۔اونچ نیچ،ذات پات،بھید بھاؤ،رنگ ونسل کاامتیاز،انسانوں کو غلام ولونڈی بنانا،عورتوں کو صرف نفسانی خواہشات پوری کرنے کا آلہ سمجھنا،چھوٹی چھوٹی باتوںپربرسوںفسادوخوںریزی اور انسانیت سوز مظالم وجرائم ساری دنیا میں عام تھے۔
محسن انسانیت ﷺنےایسے عالم میںدنیا کو انسانیت کا سبق پڑھایااورجانوروں سے بدتر زندگی گذارنے والوں کو حقیقتاً انسان بنادیا۔حجۃ الوداع کے موقع پر حضور علیہ الصلاۃ والسلام کایہ اعلان دنیائے انسانیت کے لیے ایک انقلابی منشور ہے: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنكُمُ مِنْ ذَكَرٍ وَّ أُنثَى وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ فَلَيْسَ لِعَرَبِي عَلَى عَجَمِيٌّ فَضْلٌ ، وَلَا لِعَجَمِيٌّ عَلَى عَرَبِي، وَلَا لَاسْوَدَ عَلَى أَبْيَضَ، وَلَا لَا بْيَضَ عَلَى أَسْوَدَ فَضْلٌ إِلَّا بِالتَّقْوى۔
لوگو! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا کہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت و کرامت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر ، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے۔ ہاں! بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقوی ہے ۔(معجم کبیر ، 18 / 12 ، حدیث : 16)
اور فرمایا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ: مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ: أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ۔”بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، (اب دو قسم کے لوگ ہیں) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں‘‘ ۔ (سنن ابوداود/ابواب النوم/حدیث: ۵۱۱۶)
ایک حدیث پاک میں نبی کریم ﷺنے انسانیت کی عظمت پر زور دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پوچھے گا: ’’اے بنی آدم، میں بیمار ہوا لیکن تم مجھے دیکھنے نہیں آئے؟ انسان جواب میں کہے گا کہ اللہ! آپ تمام جہانوں کے رب تھے۔ میں آپ کے پاس کیسے حاضر ہو سکتا تھا؟ اللہ تب فرمائے گا؛ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ میرا ایک بندہ بیمار ہو گیا ہے لیکن تم اس کی عیادت کے لیے نہیں آئے۔ کیا تم نہیں جانتے تھے کہ اگر تم اس کے پاس جاتے تو مجھے اس کے پاس پاتے؟
اے بنی آدم میں نے تم سے کھانا مانگا تھا لیکن تم نے مجھے نہیں دیا، اللہ پوچھے گا، انسان جواب دے گا، اللہ تو جہانوں کا پالنے والا ہے میں تجھے کیسے کھلاتا؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے ایک بندے نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے اس سے انکار کر دیا اگر تو نے اسے کھلایاہوتا تم مجھے اس کے قریب پاتے‘‘۔
خدا پوچھے گا اے بنی آدم میں نے تم سے پانی مانگا تھا لیکن تم نے انکار کر دیا انسان پھر جواب میں کہے گا کہ توتو رب العالمین تھا میں تیری پیاس کیسے بجھا سکتا تھا؟ خدا جواب دے گا کہ میرے ایک بندے نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے انکار کر دیا اگر تو اسے پانی پلاتا تو مجھے اس کے پاس پاتا‘‘۔(صحیح مسلم،حدیث:۱۴۶۵)
اندازہ کیجیے کہ اللہ رب العزت نے خود کو بھوکا،پیاسا اور بیمار کہاجو ناممکن ومحال ہے ،لیکن کیوں؟ تاکہ انسانوں کے اندر آپس میںبھلائی ،ہمدردی،بھائی چارگی اور نیکی کےجذبے کے ساتھ ان کےاندر روح انسانیت پیدا ہو؎
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں
سیرت رسول اکرم ﷺ میں خدمت انسانیت اور احترام انسانیت کے سینکڑوں شہ پارے موجود ہیں،مثلاً
- آپ ﷺ کہیںراہ میں کانٹے بچھانے والی یا کوڑا پھینکنے والی عورت کی عیادت کرتے نظر آتے ہیں۔
- کہیں اپنےایک بیماریہودی خادم لڑکے کی عیادت فرماکر اسے جہنم سے آزاد کراتے نظرآتے ہیں۔
- کہیں ایک یہودی کےجنازے کےلیے سراپا کھڑے ہوکر انسانیت کا سبق سکھاتےنظر آتے ہیں۔
- کہیں مکہ کے قحط زدہ مشرکین کے لیے ریلیف بھیجتے ہیں،جس میں اتنا غلہ ہوتا ہے کہ مکہ کا قحط دور ہوجاتا ہے۔
- کہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرماتے کہ تم یہ ریشمی جوڑا اپنے مشرک بھائی کو مکہ معظمہ بھیج دو۔
سرکار دوعالم ﷺ کے ان ہی نقوش قدم پر چلتے ہوئے ان کے خلفا اور اہل بیت واصحاب نے بھی اس خدمت واحترام کے نہ جانے کتنے چراغ روشن کیے۔پھر اسی نبوی مشن کو لے کر صوفیہ کی جماعت چلی تو چاردانگ عالم اسلام کا غلغلہ بلند کردیا اور زمانےوالے ان کے اخلاق کی خوشبو،کردار کی پاکیزگی اور خدمت انسانیت کے حسن سے غلام بے دام بن گئے۔
حالیہ ۲۲؍اپریل کوجموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر دہشت گردانہ حملے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔یہ صرف ہندؤوں پرحملہ نہیں ہے ،یہ کشمیر پر،پورے ملک پر ،مسلمانوں پر،عالم انسانیت پر بلکہ اسلام پر حملہ ہے۔اس حملے کی جس قدر مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ اس المناک واقعہ میں مرنے والوں اور شدید طور پر زخمی ہو جانے والے افراد کے خاندانوں سے ادارہ جام شہود اظہار ہمدردی کر تا ہوں۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ اس واقعہ کی جلد ازجلد تحقیق کر وائے اور ملوث پائے گئے افراد کے خلاف سخت کارروائی کر ے ۔لیکن دنیا کو اس بات پر سخت حیرت ہے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی زبر دست موجودگی اور سرحدوں پر فوج کی تعیناتی اور چوکسی کے باوجود ایسے واقعات کیوں ہو جاتے ہیں؟پلواما کے بعد یہ پہلگام کا واقعہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔پلواما میں اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوا تھا ،اس کی گتھی اب تک نہیں سلجھی اوراس کا جواب اب تک باقی ہے کہ یہ پہلگام کا انتہائی بزدلانہ دہشت گردانہ حملہ سامنے آگیا۔اس حملے کے بعدگودی میڈیا نےمسلمانوں کو نشانے پر رکھ لیا اور زبردستی چشم دید سیاحوں سے اپنے من کی بات اگلوانے کی کوشش میں لگ گئی ،یہ دوسری بات ہے کہ اس میں اسے منھ کی کھانی پڑی ہے۔مگر بہرحال !ہم اور سارے ذمہ دار مسلمان کھل کر اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ اگر واقعی ایسا کرنے والا کوئی نام نہادمسلمان ہی ہے تو ایسے مسلمانوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت وتعلیمات کی جھلکیاں اسی لیے پیش کردی گئیں تاکہ امن وامان اور دہشت گردی کے حوالےسے اسلام کا تصور واضح طور پر سمجھ میں آجائے۔
لیکن اس جانکاہ حادثے کے بعد جس طرح گودی میڈیا اوربھاجپائیوں نے ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہا ہے۔اس سے پہلے بھی ملک میں دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں لیکن کبھی ایسا ماحول نہیں ہوا کہ کسی مسلمان کو بھی راہ چلتے پکڑ کر بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا ہو،یا سخت تشدد برتا گیا ہو،یا انھیں دھمکیاں دی گئی ہوں،یاکھلے عام ان سے خریدوفروخت کا بائیکاٹ کیا گیاہو۔ اس طرح کا کوئی یہ ایک دوواقعہ نہیں ہے بلکہ ان گنت واقعات ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعہ سامنے آئی ہیں ،جوواقعات سامنے نہ آسکے ان کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے۔اس لیے اس پورے واردات کے پیچھے ایک منظم سازش کی بو آتی ہے کہ اور ذہن ودماغ میں کئی سوالات جنم لیتے ہیںمثلاً:
- جموں کشمیر جہاں قدم قدم پر فوج کے جوان اورفوجی چھاؤنیاں ہیں آخر اتنی اہم جگہ پر سناٹا کیوں پسرا تھا؟
- رپورٹ یہ بھی آئی ہے کہ مین روڈ سے دودن قبل ایک چیک پوسٹ کو ہٹالیا گیاتھا،آخر کیوں؟
- مذہب پوچھ کر مارنے والے اگرمسلم دہشت گرد ہیں تو برسوں سے نام پوچھ کرسینکڑوں مسلمانوں کو مارنے والے ہندو دہشت گرد کیوں نہیں ؟
- کشمیر یا کشمیریوں کو اس دہشت گردی سے فائدہ ہوا یا نقصان؟
- عام ہندوستانی مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچا یا نقصان؟
- کیا مرنے والے سارے کے سارے صرف ہندو ہیں؟
- اس طرح کی دہشت گردی سے سب سے زیادہ فائدہ کسے ہوتا یاکون اٹھاتا ہے؟
- جو مرنے سے بچ گئے ان کی مدد کرنے والے کون تھے؟
- کیا بھاجپائی دہشت گردوں کی وجہ کر ہمارا پیاراوطن خانہ جنگی اورسخت تباہی کی طرف نہیں بڑھ رہا ہے؟
- ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے داڑھی،ٹوپی،برقع پہن کر اور مسلم روپ دھارکرماحول بگاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بھگوا تنظیموں کے غنڈ ےمتعددغنڈے گرفتار ہوئے ہیں ،بلکہ پاکستانی سیکریٹ ایجنسی’’ آئی ایس آئی‘‘ کے لیے کام کرنے والے کئی ہندو افیسران کی بھی گرفتاری ہوئی ہے،ایسے میں یہ سوال بھی ہوتا ہے کہ کہیں اس دہشت گردی میں ان کا ہاتھ تو نہیں؟
بہرحال!اس طرح کے سوالات صرف مسلمان ہی نہیں بڑی تعداد میں کھلے ذہن کے سیکولر غیرمسلم بھی کررہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی حمایت اوربڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف کمان ان ہی لوگوں نے سنبھال رکھا ہے۔ میں کشمیری مسلمانوں کو سلام کرتا ہوں کہ جنھوں محسن انسانیتﷺ کی سیرت کواپناکر خدمت انسانیت سے لوگوںکےدل جیت لیےہیں۔ ہرطرف ان کی تعریفیں ہورہی ہیں اوریہ کہا جائے تو کوئی غلط نہ ہوگاکہ انھوں نےاپنے کردار وعمل سے دشمنان اسلام کو منھ توڑ جواب دیا ہے ۔جس کی وجہ کران کے نفرتی مشن مشن کو زبردست زک پہنچا ہے۔ ایسےنفرت کے ماحول میں حواس باختہ ہونے کے بجائےآج ضرورت اس بات کی ہے کہ دین اسلام ،پیغمبر اسلام اور صوفیائے کرام کی تعلیمات ،سیرت اور طریقِ کار کی روشنی میںسب سے پہلے ہم خود انسانیت کی ایک خوب صورت تصویر بنیں،خدمت انسانیت کا فریضہ انجام دیں اورانسانیت کی سربلندی کے لیے جدوجہد کریں۔اگر ایسا ہم کرسکے تو ضرورلوگ ایک بار پھر جوق درجوق اسلام کی طرف کھنچتے چلے آئیں گے؎
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
٭٭٭
سید سیف الدین اصدق چشتی
بانی و سرپرست: تحریک پیغام اسلام جمشید پور
6207784971