فروغِ سائنس میں مسلمانوں کا کردار

         سائنس کے لغوی معنی علم وحکمت کے ہیں اور عرف عام میں حقائق کائنات کے مطالعہ کانام سائنس ہے۔ اللہ کے نیک بندے جہاں اس کے ذکر واذکار میں مگن ہوتے ہیں وہیں اس کی بنائی ہوئی کائنات میں غور وفکر کرکےاپنے عقیدۂ توحید میں پختگی پیدا کرتے ہیں۔یہ قرآن حکیم اعلان فرماتا ہے:الَّذِیْنَ  یَذْكُرُوْنَ  اللّٰهَ  قِیٰمًا  وَّ  قُعُوْدًا  وَّ  عَلٰى  جُنُوْبِهِمْ  وَ  یَتَفَكَّرُوْنَ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا  مَا  خَلَقْتَ  هٰذَا  بَاطِلًا(آل عمران:۱۹۱)یعنی:جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔

(المزيد…)

0 Comments

’’دین محمدی ‘‘ہی’’ دین ابراہیمی ‘‘ہے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاط وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(آل عمران :۶۷)

(ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔)

         جسےہم ملتِ ابراہیم ،ابراہیمی ملت یادین ابراہیمی کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں ،دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمدﷺ۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں ’’امام الناس ‘‘کہا گیا ہے:وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ رَبُّه بِكَلِمَاتٍ فَاَتَمَّهُنَّ   ۖ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (البقرہ:۱۲۴)اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا، فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا امام بنادوں گا۔چنانچہ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن نے ان کی ذات’’ امۃ‘‘ کہا ہے۔اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِيْفًا   (النحل:۱۲۰)بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھا، اللہ کا فرماں بردار تمام راہوں سے ہٹا ہوا۔اسی طرح آپ کا ایک لقب ’’ابوالانبیا‘‘بھی ہے۔

(المزيد…)

0 Comments