دین اسلام میں سب سے اول ’’ایمان باللہ‘‘ کا ایک اہم ترین عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ اللہ جل شانہ کی ذات وصفات پرہمیں جان ودل سے ایمان لانا سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں تصور دیتا ہے کہ ہمارا ایک پروردگار ہے،وہی ہمارا خالق ومالک ہے،وہی رزاق وفتاح ہے،عزت وذلت اسی کے ہاتھ ہے،موت وحیات اسی کے دست قدرت میں ہے،کل بروزحشر ہمیں اسی کے حضور جواب دہ ہوناہے۔ہم اگر نیکی اوراچھے عمل کریں گے تو انعام کے مستحق ہوں گے اور اگربدعملی و برائی میں مبتلا ہوںگے تو قیامت کے دن سزا پانے والے بنیں گے۔جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗﭤ۔وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ، یعنی:توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرےگا وہ اسے دیکھے گا۔ اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرےگا وہ اسے دیکھے گا۔(سورۃ الزلزال:۷۔۸)
اللہ جل شانہ کواحکم الحاکمین ماننے کا یہ تصوراور عقیدۂ آخرت پریقین ، بندے کوبے خوف،نڈر،صابروشاکر،پیکرِ صبرواستقامت اور اللہ جل شانہ کی رضا پر راضی اوراس کےہرفیصلے پر سرِ تسلیم خم کردینے والا بنادیتا ہے۔بندے کی جب کوئی چاہت پوری نہیں ہوتی تو وہ جان جاتا ہے کہ اللہ جوچاہتا ہے کرتا ہے :إِنَّ اللهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (الحج:۱۸)بندہ اپنے رب کے آگے محض مجبور ہے۔یہی خالق اورمخلوق کافرق ہے۔اللہ اپنے بندوں کے لیے جوپسند فرماتا ہے وہ بھلا ہی ہوتا ہے ،بندے کواس کی سمجھ بھلے ہی نہ آئے۔
جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: عَسٰٓی اَنْ تَکْرَهُوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ۚ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔یعنی: ہوسکتاہےکہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اللہ ہی کوعلم ہے اور تم نہیں جانتے۔(سورۃ البقرۃ:۲۱۶)
اسی طرح سورۂ توبہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَا ۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔یعنی :تم کہہ دو: ہمیں وہی پہنچے گا جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہ ہمارا مددگار ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔(سورۃ التوبہ:۵۱)
ایک بندۂ مومن بڑی سی بڑی آزمائش پر صبرکرتا ہے کہ اس کے سامنے اللہ کا یہ فرمان ہوتا ہے:وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرَاتِ ۗ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْن۔یعنی: اور ہم ضرور تمہیں خوف اور بھوک سے، اور مالوں، جانوں اور پھلوں میں کمی کر کے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خو ش خبری دیجیے۔(سورۃ البقرہ:۱۵۵)
اسی طرح بندہ اگر بیماراورسخت مرض میں مبتلاہوجاتا ہے تووہ اس وقت بھی ہراساں نہیں ہوتابلکہ اللہ کی رحمت اور شفادینے والی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے ایمان سے لبریز جملوں کو اللہ کریم نے اپنے بندوں کے سامنے نمونہ بناکر اس طرح قرآن مجیدمیں کوڈ کیا ہے:الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِ ۔وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِ ۔ وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۔ وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۔وَ الَّذِیْ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓــٴَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔یعنی:وہ جس نے مجھے پیدا کیا تو وہی مجھے ہدایت دیتا ہے۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ اور وہی مجھےموت دے گا پھر مجھے زندہ فرمائے گا۔اور جس سے مجھے امید ہے کہ وہ میری خطاؤں کو قیامت کے دن معاف فرمادے گا۔(سورۃ الشعرا:۷۸ تا ۸۲)
ایمان باللہ کا یہ اسلامی تصور اتنا عجیب ہے کہ انسانی زندگی کے بڑے بڑے مسائل اس سے حل ہو جاتے ہیں۔انسان فکروتردد سے نجات پاجاتاہے۔اسےٹینشن سے چھٹکارامل جاتاہے۔وہ اپنا سارا بوجھ کسی دوسری طرف منتقل کردیتا ہے ۔آپ ذرا غور کیجیے! ایک باپ کا جواں سال بیٹا اگر فوت ہوجائے،لوگ تعزیت کوپہنچیں ،افسوس کا اظہار کریں،لیکن اللہ کی ذات پر اس کا یقین محکم ہو تووہ کہےگابھائی !’’اللہ کی مرضی ‘‘۔
ایک جواں سال لڑکی ہے۔ شادی کے چند ماہ بعد اس کا شوہر فوت ہو جائے۔ اب وہ نوجوانی میں بیوہ ہو گئی۔ اس کی زندگی میں اس سے بڑی مصیبت اورکیا ہوسکتی ہے کہ وہ اس عمر میں بیوہ ہو چکی ہے۔ لیکن اگرواقعی اسلام اس کے اندرسرایت کرچکاہے تو آپ اس سے جا کر افسوس کریں کہ آپ کے خاوند کی وفات ہو گئی ،سن کربڑا دکھ ہوا، تو وہ فوراًجواب دے گی کہ جی !’’اللہ کی مرضی‘‘ ۔
ایک نہایت دولت مند شخص ہواوراس کا پوراکاروبار دوالیہ ہوجائے،پائی پائی کا وہ محتاج ہوجائے،لوگ اس سے افسوس کا اظہار کریں تووہ کہے گا دوستو!’’اللہ کی مرضی‘‘۔یہ ایمان وعقیدہ کی مضبوطی بھی قرآن سے ملتی ہے:وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّااَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا رب ہے(سورۂ تکویر:۲۹)
’’ اللہ کی مرضی ‘‘والایہ جواب اگرواقعی زبان کے ساتھ دل سے بھی ہے توبندہ اندر سے ہلکا ہوجاتا ہے ،اس کے دل ودماغ کو سکون مل جاتا ہےاوراسے وہ تناؤ،گھبراہٹ،بےچینی،مایوسی اورٹینشن نہیں ہوتی جو ایک کافر کو ہوتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق نیویارک میں سات سوپاگل خانےہیں، اور مسلم ممالک میں چندایک،ہمارے ملک بھی میں بھی دیکھیں جوپاگل خانے ہیں اس میں مسلم برائے نام ملیں گے۔کیوں کہ مسلمانوں کے یہاں اللہ کا تصور ہے ،لہذاجب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اسے اللہ کی طرف شفٹ کردیتے ہیں،اللہ کی مرضی۔بزنس فلاپ ہوا،اللہ کی مرضی ۔اولادمرگئی،اللہ کی مرضی ۔ نوجوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھنی پڑھی ،اللہ کی مرضی ۔مرض میں مبتلا ہوئے ،اللہ کی مرضی ۔مصیبت میں گرفتار ہوئے، اللہ کی مرضی ۔
اس کے برخلاف غیرمسلم ذہنی تناؤ(Mental Tension؍ Mental Stress) کا شکار زیادہ ہوتے ہیں اور پاگل خانوں کو آباد کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ کا نیویارک جیسے ایک ترقی یافتہ شہر میں سات سوپاگل خانے ہیں ،وہ یہ پرانی رپورٹ ہے ،شاید اس میں اب اور اضافہ ہوگیا ہو۔پتہ چلا کہ ایمان باللہ کی نعمت نے ایک مسلمان کو پاگل ہونے بچالیا۔سبحان اللہ!!
ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو
راضی ہیں اسی میں جس میں تیری رضا ہے
ایمان باللہ کا ثمر:یہ ایمان کی نعمت بندے کو نیکی پرزندگی گذارنے کی تعلیم دیتی ہے ۔میرے مطالعے میں کہیں ایک امریکی امام وخطیب کا بیان گذراتھا کہ میں یہاں اتوار کے دن جیل میں جاتا ہوں اوروہاں لوگوں دین کی دعوت دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی حکومت نے یہ محسوس کیا کہ وہاں کے جو کریمنل مائینڈ ڈ ( مجرمانہ ذہنیت کے ) لوگ ہیں ، وہ سزاؤں سے سیدھے نہیں ہوتے ، ہاں اگر ان میں سے کوئی دین پر آجائے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اس لیے انہوں نے اس کی پر میشن ( اجازت ) دے دی کہ جس مذہب کا بھی بندہ چاہے وہ آکر ان کو تعلیم دے تا کہ یہ بگڑے ہوئے لوگ اچھے شہری بن کر زندگی گزار سکیں ۔امام صاحب کہتے ہیں کہ:ایک آدمی کو گرفتار کر کے جیل میں لایا گیا ۔ میں نے اس کے سامنے دین ایمان کی بات کی اور وہ کچھ دنوں میں مسلمان ہو گیا اور میں نے اس کا نام علی رکھا۔ اب میںنے اس کو دین کی بنیادی باتیں سکھانی شروع کیں۔ حتی کہ ہمارے درمیان بہت محبت ہو گئی ۔ ہم ایک دوسرے سے بہت قریب ہو گئے ۔ کچھ مہینوں کے بعد ہم اپنی ذاتی باتیں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے لگ گئے ۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا: علی بھائی!مجھے یہ بتائیں کہ اسلام لانے سے پہلے اور اسلام لانے کے بعد تمہیں اپنی زندگی میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے؟ میرا یہ سوال سن کر اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس سے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا۔ چنانچہ میں نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ اگر آپ اچھامحسوس نہیں کر رہے تو بے شک بات نہ کریں ۔ وہ کہنے لگا نہیں ، میں آپ کو ضروربتاؤں گا۔
اسلام لانے سے پہلے میں ایک نفسیاتی مریض تھا، ایک وحشی انسان تھا، بلکہ انسان کی شکل میں ایک پکا حیوان تھا۔ مجھے دوسرے انسانوں کو قتل کر کے مزہ آتا تھا اور جب ان کی لاشیں تڑپتی تھیں تو میں ڈانس کرتا تھا ۔ ابھی تو میں چھوٹے جرم سے آیا ہوں لہذا چند مہینوں کے بعد واپس چلا جاؤں گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ میں چھتیس ۳۶؍ انسانوں کو بغیر کسی وجہ کے قتل کر چکا ہوں ۔ مجھے جہاں بھی موقع ملتا تھا میں بندے کو قتل کر دیتا تھا اور اسے تڑپتا ہوا دیکھتا تھا۔ میں اتنا نفسیاتی مریض تھا کہ میں ان کو دیکھ کر ڈانس کرتا تھا۔ میں کسی بھی قتل کے جرم میں پکڑا نہیں گیا۔ اسلام لانے سے پہلے میری یہ حالت تھی ۔ اسلام لانے کے بعد آپ نے مجھے خدا کا تصور دیا، قیامت کا تصور دیا اور بتایا کہ قیامت کے دن انسان کی زندگی کے اعمال کو تولا جائے گا ۔پھر یہ قرآنی آیت میری نظر سے گذری : مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاط یعنی: جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔(المائدہ:۳۲)
اس ایک قرآنی آیت اور تصور آخرت نے میری زندگی ایسی تبدیل کردی کہ جب کبھی میں اپنے کمرے سے باہر نکلتا ہوں تو قدم رکھتے ہوئے بھی خیال رہتا ہے کہ پاؤں کے نیچے کوئی چیونٹی آکر نہ مرجائے ۔ یہ دین اسلام کا تصور ہے۔ یہ ایمان ہے کہ وہ بندہ جو کفر کی حالت میں چھتیس بے گناہ انسانوں کو قتل کر چکا تھا، جب دین اسلام میں داخل ہوا تو اب چیونٹی کے مرنےکا بھی خیال کرتا ہے۔یہ کتنی بڑی نعمت ہے!یہ دین اسلام کا کیساخاص ثمر اورپھل ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اورقرآن کی حقیقی تعلیم بندے کو دہشت گرد نہیں ،امن پسند بناتی ہے۔قاتل نہیں ،انسانیت کا محافظ بناتی ہے۔ظالم وجابر نہیں ،الفت ومحبت کا پیکربناتی ہے۔حیوانیت نہیں ،انسانیت کاعلمداربناتی ہے۔نفس پرست نہیں،خداپرست بناتی ہے؎
اسلام چیز کیا ہے خدا کے لیے فنا
ترک رضائے خویش پئے مرضیٔ خدا
صوفیائے کرام اوراہل اللہ نے اسی ایمان باللہ کے عقیدے کونہایت عمدگی کے ساتھ اپنے رگ وریشے میں پیوست کیاتوتعلق باللہ،تعلق مع اللہ اورمعرفتِ الٰہی کے رازداربن گئے۔انھوں نے محبت الٰہی کا جام پیا تو اللہ نے ان کی محبت دنیاوالوں کی دلوں ڈال دی۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(مریم:۹۶)بیشک جولوگ ایمان لائے اورانھوں نے نیک کام کیے،عنقریب رحمٰن ان کے لیے(لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کردے گا۔
ایمان باللہ کو اپنے دل ودماغ میں راسخ کرلینے والے بندوں کواللہ جل شانہ اپنا دوست بناکر ہرخوف وغم سے بے نیاز کردیتا ہے۔اس کی جانب سے یہ اعلان عام ہے:اَلَا اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (یونس:۶۲)
چنانچہ صالحین امت میں سے ایک بزرگ کو شیرکے پنجرے میں پھینک دیا گیا ،لیکن اللہ نے انھیں بچالیا۔لوگوں نے پوچھا :شیرجب آپ سے اس قدر قریب تھا تو آپ کے دل کی کیا کیفیت تھی؟کہنے لگے کہ میں شیرکے لعاب کے باری میں سوچ رہا تھا کہ وہ پاک ہے یا ناپاک؟۔سبحان اللہ !۔اسی لیے صوفیہ نے فرمایاہے کہ’’ جو بندہ اللہ سے ڈرتا ہے، ساری دنیا اُس سے ڈرتی ہے، جو اللہ سے نہیں ڈرتا، وہ ہر شئے سے ڈرتا ہے‘‘۔
معروف صوفی عالم دین حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ (م:۶۹۱ھ) اپنی شہرہ ٔ آفاق کتاب ’’گلستاں‘‘میںلکھتے ہیں کہ انھوں نے بزرگوں سے ایک ایمان افروز واقعہ سنا کہ ایک صاحبِ دل (اللہ کے ولی) جنگل میں جا رہے تھے۔ انھوں نے ایک خوفناک شیر پر سواری کی ہوئی تھی، وہ اسے بڑے آرام سے چلا رہے تھے، اور ان کے دوسرے ہاتھ میں سانپ کی لگام تھی۔یہ منظر دیکھ کر ایک راہگیر نے حیران ہو کر عرض کیا:اے مردِ خدا! مجھے بھی وہ راستہ اور عمل بتائیں جو آپ نے اپنایا۔ آپ نے ایسا کیا کیا کہ یہ درندے (جیسے خونخوار چیتا اور زہریلا سانپ) آپ کے تابع ہو گئے؟اس درویش نے جواب دیا:اگر میرے تابع شیر، سانپ، ہاتھی یاخطرناک ترین درندے ہیں، تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اگر تم بھی چاہتے ہو کہ کائنات کی ہر چیز تمہارے قدموں میں جھک جائے، تو تمہیں ایک اصول پر عمل کرنا ہوگا،اوروہ اصول کیا ہے حضرت سعدی نے ایک شعر میں بیان فرمایا؎
تو ہم گردن از حکم داور مپیچ
کہ گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ
(یعنی: تو بھی اللہ کے حکم سے سرکشی نہ کر، پھر کوئی بھی چیز تیرے حکم سے منہ نہیں موڑے گی۔)درویش نے مزید سمجھایا کہ جب انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرماں بردار بن جاتا ہے، تو کائنات کی ہر چیز اس کی تابع اور مطیع کر دی جاتی ہے۔
آیوش ملک کا محمدعلی بننا:
ابھی جون ۲۰۲۲۶ء میں ایک خبر سوشل میڈیا پربہت گردش کررہی ہے کہ شاملی جواترپردیش کاایک ضلع اورشہرہے،وہاں کے ایک کروڑپتی بزنس مین کے بیٹے آیوش ملک نے سناتن دھرم چھوڑکراسلام قبول کرلیاہے۔اس نےاپنانام محمد علی رکھااورچہرےپرحضورکی سنت کا نورداڑھی بھی سجالیا ہے۔اس خبرنے توجیسے پورے سنگھ پریوار،حکومت اورمیڈیا کوپاگل بنادیا ہےاور وہ محمد علی عرف آیوش ملک پرطرح طرح کے الزامات عائدکررہے ہیں ،پاکستان سے کنکشن جوڑجارہاہے جوان کی پرانی بیماری ہے،اس کی بیوی چاندنی قریشی کو اصل مجرم بناکر اس کے باپ کےساتھ جیل میں ڈال دیا گیاہے۔ لیکن اس نوجوان کے ہمت مردانہ کوسلام ،اس کے ایمانی جذبے پر ہزاروں خاندانی مسلمان قربان ،اس نے گودی میڈیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا رد کیااورعلی الاعلان کہا کہ ’’مجھے کسی لڑکی نے اسلام قبول کرنے کی ترغیب نہیں دلائی ہے، انسپائر(inspire) نہیں کیاہے بلکہ میرے میرے پیارے نبی ﷺکی ذات نے مجھے انسپائر (inspire) کیا ہے‘‘۔
محمدعلی نے واضح طور پر کہا، ’’میں مسلمان ہو چکا ہوں‘‘۔اورپڑھ کر،سمجھ کر،ریسرچ کرکے،بہت غوروفکر کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔میں ہرطرح کی قربانی دینے کے لیے تیارہوں مگراب دوبارہ ہندو بن جانے کا سوال نہیں پیداہوتا۔انہوں نےکہا کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر خاندان اور سماجی دباؤ کے تحت کرائی گئی ہے اور ان کا خاندان بھی اسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔لوگ اسے جائیداد کے لالچ کا معاملہ بنا کر پھنسانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اس نوجوان نے تو اسلام کی خاطر جائیداد تک سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔سبحان اللہ !۔اسے کہتے ہیں’’ ایمان کی طاقت ‘‘اوریہ کوئی ایک واقعہ نہیں ،قرون اولیٰ سے اب تک ہزاروں، لاکھوں قبول اسلام کے ایسے واقعات ہیں ،جن سے اسلام کی حقانیت اورایمان باللہ یعنی اللہ جل شانہ کی محبت وکبریائی اوراس کی قدرت وعظمت کاپتہ چلتا ہے۔
ہو فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو
راضی ہیں اسی میں جس میں تیری رضا ہے
اسلام چیز کیا ہے خدا کے لیے فنا
ترک رضائے خویش پئے مرضیٔ خدا
٭٭٭