سائنس کے لغوی معنی علم وحکمت کے ہیں اور عرف عام میں حقائق کائنات کے مطالعہ کانام سائنس ہے۔ اللہ کے نیک بندے جہاں اس کے ذکر واذکار میں مگن ہوتے ہیں وہیں اس کی بنائی ہوئی کائنات میں غور وفکر کرکےاپنے عقیدۂ توحید میں پختگی پیدا کرتے ہیں۔یہ قرآن حکیم اعلان فرماتا ہے:الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا(آل عمران:۱۹۱)یعنی:جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔
اس سلسلے میں قرآن مجید میں جوبات نظری طور پر کہی گئی ہے، کائنات اس کی واقعاتی دلیل ہے اس اعتبار سے مانناپڑے گا کہ سائنس قرآن کا علم کلام ہے کیونکہ سائنس کسی انسان کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ سلطنت الٰہیہ میں پھیلی ہوئی اشیاء کی حقیقتوں کی تلاش کا نام ہے۔ان اشیاء کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کارفرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے۔ وہ خداکی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا انسانی علم میں آناہوتا ہے۔سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد ۔سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لیےہوتا ہے اور مومن کاعمل عبرت کے لیے ۔سائنس داں اضافۂ علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومن اضافۂ ایمان پر۔سائنس داں کیلئے سائنس برائے تعمیر دنیاہے مگر مومن کے لیے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے، جس سے وہ دعوت حق کی جدوجہد میں کام لیتا ہے اور اپنی بات کو دلائل کی روشنی میں لوگوں کے سامنے پیش کرتاہے۔
اس حقیت کوفراموش نہیں کیا جاسکتا کہ سائنس کے عروج وارتقامیں مسلمانوں کا نمایاں کردار رہاہے۔ظہور اسلام سے قبل تعلیم خواص کی چیز تصور کی جاتی تھی لیکن اسلام نے تعلیم کو محدود دائرے سے نکال کرآفاقی حدود میں داخل کردیا۔ اقوام عالم کے سامنے اسلام نے ہی تعلیمی مراکز کے قیام کا تصور پیش کیا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں جب جہل وظلمت کا شکار تھیں، اس وقت بغداد، نیشاپور، قرطبہ، غرناطہ، قاہرہ وغیرہ جیسے اسلام کے بین الاقوامی علمی سنٹرزنے اپنی فکری تابشوں سے شاہراہ علم کو روشن کررکھا تھا۔یورپ کے ملحدخیال رائٹرز کے مطابق’’قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک جب مذہب کا دورتھا انسان کوئی ترقی نہ کرسکا، انسان کی تمام ترقیاں حالیہ چند صدیوں میں ہوئی ہیں جبکہ مذہب کا غلبہ ختم ہوااور سائنس کا دور شروع ہوا‘‘۔
یہ بات تھوڑی لفظی ترمیم کے ساتھ صحیح ہے’’زمانۂ قدیم میں جو غلبہ تھا وہ حقیقی مذہب کا غلبہ نہیں بلکہ مشرکانہ مذہب کا غلبہ تھااور یہی مشرکانہ مذہب زمانۂ قدیم میں انسانی عروج کے لیے رکاوٹ بنارہا نہ کہ حقیقی مذہب‘‘ کیونکہ حقیقی مذہب تو موحدانہ مذہب ہے۔زمین پرانسان ہزاروں سال سے آباد ہے مگر معلوم تاریخ کے مطابق اسلام سے پہلے ہردور میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ تھا اور یہی شرک مظاہر فطرت اوردنیا کی مختلف چیزوں پر تحقیق کرنے میں رکاوٹ بنا رہاکیونکہ شرک کے عقیدہ کے تحت فطرت کے مظاہر پر ستش کی چیز بنے ہوئے تھے، جبکہ سائنس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جبکہ ان مظاہر کو تحقیق وتسخیر کی چیز سمجھاجائے۔ چاند کو دیوتا سمجھنے والا انسان اس پر قدم رکھنے کا تصور کب کرسکتا ہے؟ سیلاب کو خداکا جزو سمجھنے والے کے لیےکیوں کرممکن ہے کہ وہ اسے قابو میں لاکر بجلی پیدا کرے! اور سورج کو معبود کا مقام دینے والے اس کی تسخیر کا حوصلہ کہاں پاسکتے ہیں۔ تمدنی ترقیاں فطرت کی تسخیر کا نتیجہ ہیں اور زمانۂ قدیم میں انسان نے فطرت کی چیز وں کو معبود بنارکھاتھا اور معبود تحقیق وتسخیری نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔
ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلامﷺ کے ذریعہ جو ہماگیر انقلاب آیا اس نے پہلی بار تاریخ کودین حق کا غلبہ منوایا۔ توحید ورسالت کے غلبے کے بعد یہ ہواکہ فطرت کی چیزیں جو اس سے پہلے پرستش کی چیزیں بنی ہوئی تھیں وہ اب قابل تسخیر بن گئیں۔ خدائی کلام نے متعدد مقامات پر مختلف انداز وکیفیات میں اعلان عام کردیا:
وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِ(ابراہیم:۳۳) ’’تمہارے لیےچاند وسورج مسخرکردیئے جو برابرچل رہیں‘‘
وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ (ابراہیم:۳۳) ’’اور تمہارے لیے رات ودن مسخرکیے‘‘
وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ ۔ ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کے سب
تمہارے لیے مسخر کردئیے گئے‘‘
اور آگے فرمایا گیا: اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(الجاثیہ:۱۳) ’’بے شک اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لئے
نشا نیاں ہیں‘‘۔
مغرب نے جس انقلاب کو سائنس کی طرف منسوب کیاہے حقیقتاًوہ انقلاب اسلام کالایا ہواہے ۔پیغمبر اسلام ﷺ نے شب معراج مظاہر فطرت کو اپنے قدموں سے فیضیاب کرکے تسخیر کائنات کی بنیاد رکھی ہے ؎
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے ہمیں
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ درست ہے کہ اسلام اس لیےنہیں آیا کے وہ دنیا کے سامنے سائنس وٹکنالوجی پیش کرے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اگر اسلام نہ آتا تو سائنسی ترقیات کا دروازہ انسان پر کبھی نہ کھلتا۔قرآن قدم قدم پر انسان کو دعوت غوروفکر اور تسخیر کائنات کی ترغیب دیتا ہے اگر دین حق تحقیق وجستجو پر انسان کونہ ابھارتا تو سینکڑوں ایجادات تکمیل کی سرحدوں سے نہ گذرتیں۔قرآن حکیم اپنی لافانی آواز میں برسہابرس سے انسان کو جھنجھوڑ رہاہے کہ اٹھو اور دیدہ بینا سے مشاہدہ کائنات کرو!:
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْ ، وَ اِلَى السَّمَآءِكَیْفَ رُفِعَتْ ۔ کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسے بنایا گیااور
آسمان کو کیسے بلند کیا گیا؟
وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْ ، وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ ، اور پہاڑوں کو کیسے نصب کیا گیا اور زمین کس طرح
بچھائی گئی؟(الغاشیہ:۱۷،۱۸،۱۹،۲۰)
قرآن حکیم آسمان و زمین کی پیدائش اور رات ودن پر غوروفکر کرنے کی اس انداز میں دعوت دیتا ہے :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ(آل عمران:۱۹۰)
’’بلاشبہ ! آسمان وزمین کی پیدائش اور رات ودن کے باری باری آنے میں عقل مندوں کے لیےنشانیاں ہیں‘‘۔
آسمانی مناظر قدرت کے مشاہدہ، اجرامِ فلکی کی اپنے مدار میں تبدیلیوں کی پیمائش وتحقیق اور گرد ش لیل ونہار کے مطالعہ پر حکمت والی کتاب نے کچھ اس طرح توجہ دلائی ہے: هُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ ۔ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(یونس:۵) ’’ وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنایا اور چاند کو تابانی عطاکی، اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو، اللہ نے ان سب کو بامقصد بنایااور تفصیلی نشانیاں علم والوں کے لیے پیش کیں‘‘۔
نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’رموز کائنات میں ایک گھنٹے کا تفکر وتدبر ستر برس کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا: ’’علماء کی گفتگوسننا اور علم وحکمت کی باتیں دلوں میں جاگزیں کرنا مذہبی امور میں مصروف رہنے سے کہیں بہتر ہے۔‘‘ قرآن وحدیث کے ان ہی اشارات نے مشہور مغربی مفکراور معروف ادیب وڈرامہ نویس جارج برناڈشاکواس قدر متاثر کیا کہ وہ برملا پکاراٹھا۔
IN THE NEXT CENTURY THE WORLD RELIGION WILL BE ISLAM AND ISLAM ONLY (1935,INMUMBASA) (یعنی آئندہ سوسال بعد دنیا کا مذہب صرف اسلام ہوگا۔)
جوخرمن باطل ہے وہ جل جائے گاایک دن
توحید کے اٹھتے ہوئے شعلوں کی لپک سے
ذرائع ابلاغ کے مطابق یوروپ و امریکہ کی سنگلاخ زمین سے بھی جس طرح اسلام کی نرم کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اس سے مسٹر شاکی دور بینی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔سائنس اور مذہب کے تضاد کا مفروضہ صرف غلط فہمیوں کی بنیاد پر قائم ہے ورنہ تحصیل علوم سائنس تومسلمانوں کا ایک مذہبی فریضہ ہے۔ دین اسلام ہمیں حیاتیات ونفسیات اور ارضیات وفلکیات کے مسائل سے آگاہ کرتاہے۔ قرآن ریاضی وجغرافیہ،ہندسہ وہئیت، سیاسیات و معاشیات، طب وجراحت اور دیگر علوم کی ترغیب دیتے ہوئے منزل کا پتہ بھی بتاتاہے۔ مغربی ممالک کی تجربہ گاہوں بلکہ وجود باری تعالیٰ کی منکر ریاستوں کی لیبارٹریوں اور لائبریریوں میں سب سے اوپر جوکتاب رکھی ہوتی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ قرآن حکیم ہے۔
سائنس دانوں کو صور اسرافیل سے ایٹم کا اشارہ ملا۔ سورئہ ابابیل سے فضائی بموں کی تیاری ہوئی، وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ۚ ( اور اے حبیب مکرم!جب آپ نے خاک پھینکی تو آپ نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔الانفال:۱۷)کی آیت کریمہ سے آنسو گیس اور دھواں دھار گولوں کی بات چلی۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ فَوْقَهُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّ یَقْبِضْنَ(اور کیا انھوں نے اپنے اوپر پر پھیلاتے ہوئے اور سمیٹتے ہوئے پرندے نہ دیکھے۔الملک :۱۹)سے ہوائی جہاز کا پہلو نکلا۔ واقعہ ’’معراج اور براق النبی‘‘ کی پرواز سے شمس وقمرکی تسخیر کا حوصلہ پیدا ہوا۔ ’’یاساریہ الجبل‘‘ کی کرامت سے ریڈیو اور وائرلیس کامفہوم ہویداہوا۔سرکار دوعالم کے جسم اطہر کو گنبد خضریٰ سے نکالنے کی ناپاک سازش کے موقعے پر نصرانیوں کی کریہہ شکلیں اس دور کے نیک دل مسلمان حاکم نورالدین زنگی کو دکھا یاجانا ٹیلی ویژن کی بنیاد قرار پایا۔ لاشوں کوسڑنے اورگلنے سے بچانے کا نسخہ قرآن حکیم میں ارشاد فرمائے گئے’’واقعۂ فرعون ‘‘ سے متعلق آیت: فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً ط وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ(آج ہم تیری لاش کو بچالیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بن جائے اور بیشک لوگ ہماری نشانیوں سے ضرور غافل ہیں ۔یونس:۹۲) سے حاصل ہوا۔ یہ عقیدہ کہ لوگ روز محشر اپنے اعمال وافعال کو دیکھ اور زبان سے اداکیے گئے الفاظ کو من وعن سن سکیں گے ایک ایسا تصور تھا جس سے ٹیپ ریکارڈراور کیمرے کی بنیاد استوارہوئیں۔
نبی کریمﷺ کے اس ارشاد نے کہ’’ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا علاج موجود نہ ہو‘‘۔ مریضوں کی تسلی وتشفی، تحقیق وتجسس کا جذبہ اور طب وحکمت کی دنیا میں انکشافات کے کئی نئے دروازے کھول دیئے ؎
ہیں جس قدر انسان کی ترقی کے مراتب
پیغمبر اسلام کے آئین سے نکلے
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ فروغ سائنس میں دنیا کی کسی قوم سے پیچھے نہیں بلکہ سب سے آگے ہے اور یہ بات بھی ایک امر مسلمہ ہے کہ جہان رنگ وبو کے سر بستہ رموزواسرار کو بے نقاب کرنے میں جو کردار مسلمانوں کا ہے وہ کسی اور قوم کا نہیں ۔ جب عیسائی دنیا دریائوں میں سفر کرنے کو ناقابل عفو گناہ اور تخلیق کائنات پر غوروفکر کرنے کو ایک جرم عظیم خیال کرتی تھی،مسلمان اس وقت مشاہدات میں مگن اور سمندروں کو پامال کرنے کی فکر میں تھے۔تاریخ کے جس دور کو مورخین یورپ’’Darkages ‘‘یعنی تاریک دورکے نام سے یادکرتے ہیں بلاشبہ! وہ دیگر اقوام کے لیے تو تاریک تھا مگر اسلامی دنیا کا وہ نہایت تابندہ دور تھا۔ خود دنیائے یورپ کو اس بات کا اعتراف ہے ۔ ورلڈ بک انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار’’ڈارک ایجز‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتاہے۔
The Term ”Darkages” Cannot be Applied to the splendid Arab Culture Which spread over north Africa and in to Spain. (P. 30)
(یعنی تاریک دور کی اصطلاح شاندار عرب کلچر پر چسپا ں نہیں ہوتی جو اس زمانہ میں شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیلا ہواتھا۔)
ساتویں صدی عیسوی سے تیرہویںصدی عیسوی کے درمیان جس دور کواہل یورپ ’’تاریک دور‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں اسی دور میں مسلم سائنس داں دنیا کے نقشے پہ چھائے رہے ۔مندرجہ ذیل فہرست سے اس کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
(۱)ابواسحٰق ابراہیم بن جندب(متوفی۱۵۷ھ/۷۷۶ء)دوربین Telescopeکےموجدہیں۔
(۲)جابر بن حیان(متوفی۱۹۸ھ/۸۱۷ء)علم کیمیاکے محقق اور بے شمار کیمیائی مرکبات کےموجدہیں۔
(۳)عبد المالک اسمعی(متوفی۲۱۳ھ/ ۸۳۱ء)علم حیوانیات اور نباتات پر لکھی جانے والی سب سے پہلی پانچ کتا بوں کے
مصنف ہیں۔
(۴)حکیم یحییٰ منصور(متوفی۲۱۴ھ/۸۳۲ء) دنیاکی پہلی رسدگاہ (Observatory)کے صدراورAstronomical
Ables کے موجدہیں۔
(۵)محمد بن موسیٰ خوارزمی(متوفی۲۳۲ھ/۸۵۰ء)الجبرے کےموجد الجبرومقابلہ اور علم الحساب کےمصنف ہیں۔
(۶) احمد بن موسیٰ شاکر(متوفی۲۴۰ھ/۸۵۸ء) دنیا کے پہلے میکنیکل انجینٔیراور علم میکانیت پر پہلی کتاب کے مصنف ہیں۔
(۷) ابوعباس احمد بن کثیر (متوفی۲۴۰ھ/۸۶۳ء)زمین کے صحیح محیط(Circumference)معلوم کرنے والے پہلے
سائنس داں ہیں۔
(۸)ابو یوسف یعقوب بن اسحاق کندی(متوفی۲۵۴ھ/۸۷۳ء)مسلمانوں کےوہ پہلے فلسفی ہیں، جس نے مغرب کو
حیرت زدہ کردیا۔
(۹)ابوبکر محمد زکریا رازی(متوفی:۳۰۸ھ/۹۳۲ء) ابتدائی طبی امداد،میزان طبعی،الکحل کےدریافت کرنے والے
اورعلم طب کے امام ہیں۔
(۱۰)حکیم ابو نصر محمد بن فارابی(متوفی:۳۰۸ھ/۹۵۰ء)علم اخلاق (Ethic)کے بانی اور علم نفسیات کے عظیم ماہرہیں۔
(۱۱)ابو علی حسن ابن الہیشم(متوفی:۴۳۰ھ/۱۰۲۱ء)علم نور(Light)کے عظیم ماہر، انعطاف نورکے نظریہ کےماہر،
دریافت کنندہ اور کیمرہ کےموجدہیں۔
(۱۲)احمد بن محمدعلی مسکویہ(متوفی:۴۲۱ھ/۱۰۳۲ء) نباتات میں زندگی ،حیوانات میں قوت حس اور دماغی ارتقاء کے
دریافت کرنے والے، علم سماجیات،(Sociology)نفسیات اور اخلاقیات کے عظیم محقق ہیں۔
(۱۳)شیخ حسان عبد اللہ بن علی سینا(متوفی:۴۲۸ھ/۱۰۳۸ء) علم طبیعیات(Physics)علم الامراض والا دویہ کے فنون
کےمجدد، دنیا کی باکمال اور جامع شخصیت اور سائنسدانوں میں سب سے زیادہ کتابوں کےمصنف ہیں۔
(۱۴)ابوریحان محمدبن احمد البیرونی(متوفی:۴۳۹ھ؍۱۰۴۸ء) پہلےعظیم جغرافیہ داں، بر صغیر کے پہلے ماہر آثارقدیمہ
وارضیات اورمؤرخ وسیاح ہیں۔
(۱۵)امام محمد بن احمد غزالی (متوفی:۵۰۵ھ؍۱۱۱۱ء) علم دین کے مجدد اور جدید فلسفۂ اخلاق کے بانی، علم نفسیات اور فلسفہ
کے عظیم محقق ہیں۔ (Reference, Islamic Science: An Illustrated Study)
یہ عظیم سائنس داں بیک وقت عالم ، محقق، موجد سب کچھ تھے۔فلسفہ تاریخ ابن خلدون نے مرتب کیا ۔علم جراحی کی ایجاد کاسہرا ابوالقاسم اندلسی سائنس داں کے سرجاتاہے ۔علم الحیوانات کو الجاحظ نے کمال تک پہنچایا ۔ابن رشددنیا کا وہ پہلا مسلمان طبیب ہے جس نے تحقیق وتجربہ کے ثابت کیا تھا کہ اگر کسی کو ایک دفعہ چچک نکل آئے تو وہ پھر ہمیشہ کیلئے محفوظ ومامون ہوجاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اہل یورپ نے ہمارے سائنس دانوں کے نام تک بدل دئیے تاکہ دنیا کو ان کے مسلمان ہونے کی خبر نہ ہو اور مسلمان اس احساس کمتری کے شکاررہیں کہ ہم نے دنیا کو سائنسی میدان میں کچھ نہیں دیا۔ اس لیے انھوں نےابن رشد کو’’Averroes‘‘ کا نام دے دیا،جابر بن حیان کو ’’Geber‘‘ کہہ دیا۔
اسی طرح گھڑی مسلمانوں کی ایجاد ہے۔ ڈوبے ہوئے جہازوں کو سمندر کی تہہ سے نکالنے کا فن مسلمانوں نے ہی پیش کیا۔ایک مسلمان حکیم نے ایسی بانسری بنائی تھی کہ جس کی نغمگی کے اثر سے پیٹ کادرد رخصت ہوجایا کرتاتھا۔مسلمانوں کی سائنسی ترقی کی تفصیلات پروفیسر فلپ ہٹی کی کتاب’’تاریخ عرب‘‘ (History of the Arabs)میں دیکھی جاسکتی ہے۔
مسلم سائنس دان اورموجدین کی خدمات اورایجادات سے متعلق بے شمار کتابیں اردو،عربی اورانگریزی کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف زبانوں میں موجود ہیں۔میں فی الوقت انٹرنیٹ پرموجودان تینوں زبانوں کی پانچ پانچ کتابوںکے نام ان کے مصنفین کے ساتھ پیش کرتا ہوں،تاکہ قارئین اگرچاہیں تو ان استفادہ کرسکیں۔
۱: مسلم سائنس دان اور ان کی خدمات ۔ مصنف: ابراہیم عمادی ندوی ۔
۲: مشہور مسلمان سائنس دان ۔مصنف: خواجہ خلیل احمد صاحب ۔
۳: مسلمان اور سائنس ۔مصنف: پرویز امیر علی ہود بھائی ۔
۴: مشاہیر مسلم سائنس دان۔مصنف: محسن عثمان ندوی
۵: مسلمان سائنس دان اور سائنس میں ان کی خدمات: محمد احمد عابد۔
یہ پانچوں کتاب اردو میں ہے ۔
۱: تاریخ العلوم عند العرب۔مصنف: عمر فروخ
۲: موسوعۃ علماء العرب والمسلمين۔مصنف : محمد فارس
۳: علماء العرب: مصنف: ميخائيل خوري
۴: روائع الحضارة العربية الإسلامية فى العلوم: مصنف: الأستاذ الدكتور على بن عبد الله الدفاع
۵: تاريخ التراث العربي۔ فؤاد سزكين
یہ پانچوں کتابیں عربی زبان میں ہیں۔
- EHSAN MASOOD. A History: Islam science.
- Ahmad dallol. and the challenge of history, science, Islam.
- Muzaffar Iqbal. Islam and science.
- Jim Al-Kalil. The House of Wisdom.
- Muslim Contribution to World Civilization.
Siddique. Dilnawaz Ahsani. Syed A. Basheer Ahmad. M: Editors.
یہ پانچ کتابیں انگریزی زبان میں انٹرنیٹ پرموجود ہیں ۔
بہرحال!صدیوں تک اقوام عالم پر فرماں روائی کرنے والی قوم بالآخر تھک گئی،ان کی روحِ جہاد سرد اور قوت اجتہادشل ہوگئی۔ جس مقدس کتاب نے انہیں علم کی روشنی اور عمل کی طاقت سے سر بلند کیا تھا اسے انھوں نے طاقو ں کی زینت بناکر چھوڑدیا۔ جس ہادئی اعظم کی سنت نے انکی تہذیب کو ایک جامع فکری وعملی نظام کی صورت میں ترتیب دیا تھا اس کی پیروی کو انھوںنے ترک کردیا تو نتیجہ یہ ہواکہ ان کی ترقی کی رفتار رک گئی۔ان کے شوکتوں کے لہراتے پرچم سرنگو ںہوگئے۔ ان کے افکارو نظریات کی چمک گرد آلود ہوگئی۔ ان کی تہذیب وتمدن کی جامعیت مشکوک ہوگئی۔ ان کے نشان عظمت پر گرہن لگ گیا۔ان کی ریسرچ وتحقیق کا بہتا دریا جب یکایک وادئی جمودمیںپہنچ گیاتووہ منصب امامت سے معزول ہوگئے ۔ دنیاکی قوموں پر ان کے افکار، ان کے علوم، ان کے تمدن اور ان کے سیاسی اثرات نے جوقابو پالیا تھا اس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔علوم وفنون کی جس راہ سے مسلمان کنارہ کش ہوئے مغربی قوموں نے بڑھ کر اسے پکڑلیا۔ اہل مغرب علمی اور فکری اعتبار سے دنیا کے نقشے پر چھاگئے۔ ان کی فرماں روائی نے صرف اجسام ہی پر نہیں بلکہ دلوں اور دماغوںپر بھی قبضہ کرلیا۔ اب علم ہے تو ان کا ہے۔تہذیب ہے توان کی ہے۔قانون ہے تو ان کا ہے اور حکومت ہے تو ان کی ہے۔
ساری دنیا کے معلم اور تابناک ماضی رکھنے والے مسلمانوں کے پاس ’’پدرم سلطان بود‘‘کے طغرے کے سوا کچھ نہیں۔سرزمین عرب اسلام کا منبع ومخزن ہے۔ یہی ارض مقدس دین حق کا نقطۂ آغاز وانتہا ہے۔یہی طیب وطاہر وادی قرآن وحدیث کا سرچشمہ ہے۔ مگر افسوس ! مملکت اسلامیہ میں سب سے زیادہ قابل تشویش اسی کی حالت ہے۔ علمی میدان میں نہ ان کی کوئی شناخت اور نہ ہی کوئی توجہ۔سائنس وٹکنالوجی میں نہ کوئی مقام ہے اورنہ ہی اس کی کو ئی کوشش۔ طب و حکمت سے نہ ان کا واسطہ ہے اور نہ ہی اس کے آثار۔ قدم قدم پر یہ یورپ وامریکہ کے محتاج ہیں۔ یہ ان ہی کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں،ان ہی کے کانوں سے سنتے ہیں، ان ہی کے دوش پراڑتے ہیں اور ان ہی کی بیساکھی کا سہارا لیتے ہیں ۔ان کے ہی یہاں کسی عاشق کی صدا ’’یارسول اللہ انظر حالنا ‘‘تو شرک وبدعت ہے مگر اپنی مصیبت میں ’’المدد یا امریکہ ‘‘کا نعرہ عین ایمان ہے۔الاماں والحفیظ
عرب کی سرزمین سے ہی مغرب نے اپنی معیشت مستحکم کرلی ہے اور انکی معاشیات کو ضربیں لگارہاہے۔ ذہنی اور فکری اعتبار سے مغرب نے عربوں کو پوری طرح مفلوج کررکھا ہے۔اہل عرب جوکبھی قدآور اور بلند افکارتھے، اب صرف یورپیٔن انجینئروں کے سہارے بنی ان کی جگمگاتی بلڈنگیں قدآورہیں۔ان کے الفاظ عرب ضرورہیںمگرنہ ان فکرعرب ہے، نہ ان کے خیالات عرب ہیں،نہ ان کے احساسات عرب ہیں،نہ ان کا حوصلہ عرب ہےاور نہ ہی ان کی پرواز عرب ہے ۔سچ کہا ہے کسی نے؎
ہائے گذری ہوئی شوکت مرے ایمانوں کی
گردنیں خم تھیں کلیسا کے نگہبانوں کی
کیا قیامت ہے کہ اب ناقہ سواران عرب
پیروی کرتے ہیں کفار حدی خوانوں کی
اب خدا ہی مری کشتی کو بچائے تو بچے
ظلمتیں یاس کی ہیں شام ویرانوں کی
آج تقریباً ۵۷؍ آزاد مسلم ریاستیںہیں ۔لیکن ان کی آزادی مغرب کی محکومیت میںمضمر ہے۔ ان کے افکار ونظریات کو مغربی اثرات نے اغوا کرلیا ہے، وہ معمولی اشیا سے لیکر آلات حرب وضرب تک میں مغرب کے محتاج ہیں۔ مسلمانوں کی سائنسی فقدان کی بنیاد پر آج اغیار ایک جانب اسلام دشمن عناصر کو استحکام و تقویت دے رہے ہیں اور دوسری جانب ٹیکنکل امداد کے پر نام مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ آج کا دور سائنس وٹکنالوجی کا دور ہے اور جس قوم کے پاس اس کی قوت ہے وہ دوسری قوموں پر حکمرانی کررہی ہے۔ قرآنی ارشاد : وَاَعِدُّوْا لَھُمْ مَّااسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃِ (اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو۔الانفال: ۶۰) سے ہمیں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہم اس قوت کو حاصل کریں جس سے حریف پر ہماری دھاک قائم ہواور موجود ہ دور میں سائنسی علوم نے ہی رعب ودبدبے کا مقام حاصل کرلیا ہے۔ ہمیں اگر اپنے ماضی کا وقار وتمکنت ، دبدبہ وہیبت اور جاہ وحشمت کاسکہ رائج کرنا ہے اور اسلام کی عظمتوں کے پرچم لہرانے ہیں تو بہرحال سائنسی دنیا میں اپنا مقام بنانا ہوگا۔موجودہ دور میں مملکت ایران ہمارے لیے مثال ہے،اگرسائنس وٹکنالوجی کے میدان میں اس نے اپنی تیاری نہ کی ہوتی،آلات حرب وضرب سے تیار نہ ہوتاتوآج اسرائیل وامریکہ نے صفحۂ ہستی سے اس کے وجود کو مٹادیا ہوتا۔معلوم ہواکہ قوم کی بقا وسلامتی کا راز اسی میں پہناں ہےکہ مسلمان خود کوحالات زمانہ کےمطابق علمی سانچیں میں ڈھالیں اور آنے والے چیلنجزکے لیےخود کوتیار رکھیں ؎
پنپ سکتی نہیں وہ قوم کبھی بھی
فکر نہ ہو جس قوم کو اپنی بقاکا
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شو کت پر زوال آتا ہے
٭٭٭