الحاد :شبہات،خطرات اورلائحۂ عمل

         ”فتنہ“ عربی زبان کا لفظ ہے، جو متعدد معانی کے لیے قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ لیکن معروف معنی آزمائش وآفت اور دنگا وفساد ہی ہے، اور اسی معنی میں یہ لفظ اردو میں بھی مستعمل ہے۔ روزمرہ کی گفتگو میں بھی ”فتنہ وفساد“ وغیرہ الفاظ ہم استعمال کرتے رہتے ہیں۔ حضورنبی کریمﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق امت محمدیہ مسلسل فتنوں کا شکار رہے گی۔

         آج نقشہٴ عالم پر نگاہ دوڑائیے! حرمین شریفین سے لے کر تمام عرب ممالک، ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ سبھی خطے شرور وفتن کی لپیٹ میں ہیں۔ آفات ومصائب اورفتنہ وفساد کا ایک عالمی طوفان ہے جو بڑھتا چلا جارہا ہے، فتنوں پر فتنے اٹھ رہے ہیں، دینی وعلمی فتنے، ملکی وقومی فتنے، تہذیب وتمدن کے فتنے، آرائش وآسائش کے فتنے، زرپرستی اورسرمایہ داری کے فتنے، غربت وافلاس کے فتنے، اخلاقی وسیاسی فتنے، عقل پرستی کے فتنے، داخلی وخارجی فتنے حتیٰ کے نورانی اور روحانی فتنے۔ ایک تسلسل کے ساتھ تمام فتنے دنیا میں پھیلتے چلے جارہے ہیں، دنیا کا کوئی بھی خطہ شاید ایسا نہیں جو فتنوں سے بالکلیہ محفوظ اور مامون ہو۔آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے حق فرمایا تھا: فَإِنِّي لَأَرَى الْفِتَن تَقع خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقع القَطَرِ’’یعنی: میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتا دیکھ رہا ہوں‘‘۔(بخاری:۷۰۶۰)

         انتہائی کرب ناک صورت حال یہ ہے کہ دشمنان اسلام کی سازشوں اورہماری دین سے دوری کے نتیجے میں عالم اسلام فتنوں کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے۔ اسلام کے نام پر فتنے، اسلامی عقائد اور اسلامی اعمال میں فتنوں کی ایک شورش برپا ہے۔ فریق مخالف کے خلاف کفر وضلال کی مشین گن تھامے ہر کوئی اسلام کا ٹھیکیدار نظر آتا ہے۔ یورپ سے درآمد شدہ دانشور مسلمانوں کے ایمان کو ختم یا کم از کم کمزور کرنے کے لیے آئے دن ”نئی تحقیق“ اور ”جدیدریسرچ“ کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ قلمی جولانیاں، زبان کی سلاست وروانی، چرب لسانی کے ذریعے اذہان وعقول کو متاثر کرکے احکام دین سے باغی کرنا ان کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔ اُن سے اور کچھ نہ بن پڑے تو اچھے بھلے مسلمان کو اس کے عقائد وافکار کے حوالے سے شک میں تو ڈال ہی دیتے ہیں۔ اور یہ سب اِس وجہ سے ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنے خالق سے دوری اوراس کے ذکروفکرسے لاپرواہی کرلی ہے۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے: وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى(طہ:۱۲۴)اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ زندگی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آرام وآسائش اور دنیا کی ساری نعمتوں کے باوجود ہم نہایت بے سکونی کی زندگی گزارہے ہیں۔

         فتنوں کی اِس بھرمار میں سب سے خطرناک ایمان سوز فتنے ہیں،کیونکہ کسی بھی مسلمان کے لیے سب سے قیمتی چیز ایمان ہے، جب متاعِ ایمان ہی لٹ جائے تو دنیا وآخرت کی سب خیریں گویا چھن گئیں،چنانچہ احادیث میں فتنہٴ دجال کو بڑا فتنہ قرار دیا گیا،کیونکہ وہ ایمان کے لیے خطرناک ہوگا۔ انھیں ایمان سوز فتنوں میں سے ایک ”فتنہ الحاد“ ہے۔ جس کا معنی : راہِ راست سے ہٹ جانا، بے دینی اور مذہب بیزاری اختیار کرناہے۔ یعنی حق سے منحرف ہو کر اس میں بے بنیاد باتیں داخل کردینا۔ اور دینی احکام کے بارے میں غلط قسم کی تاویلیں کرنا۔ مختصریوں کہہ لیں کہ دین میں تحریف، رد و بدل یا دین کے نام پر دین سے دُوری کا نام اِلحاد ہے۔

         الحاد اورمذہب بیزاری کی تاریخ کوئی نئی نہیں بلکہ بہت قدیم ہے۔مذہب کےانکاری لوگ اپنی خواہشات کے پیرو کار ہوتے ہیں۔دنیا کواپنی زندگی کا وہ کل اثاثہ سمجھتے ہیں۔ملحدین مَن مانی اورکھلی فضا میں آزاد جانوروںکی طرح زندگی گذارنے کوکامیابی سمجھتے ہیں۔جنگل کی طرح بےضابطہ، اصول وقوانین سے بے بہرا، ادھر اُدھر منہ مار کر پوری زندگی گزارنے والےلوگ ہمیشہ یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ مذاہب میںبہت سختی ہے۔وہاںعمل کامطالبہ بہت ہے،قیدوبند ہے،پابندیاں ہیں،سختیاں ہیں،بڑے قوانین ہیں۔اس لیے ہم مذہب سے آزاد ہوکر ایک خوش گوارزندگی گذاررہے ہیں۔ دراصل یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں شتر بے مہار چھوڑ دیا جائے، وہ مجنون اور پاگل بن کر ایک ایسی زندگی کے خواہاں ہوتے ہیں جس میں کوئی روک ٹوک اور پابندی نہ ہو، انہیں صحیح غلط کی تمیز بتانے والا، حیوان اور انسان کے درمیان فرق ملحوظ رکھنے کی تلقین کرنے والا، جائز و ناجائز کی باتیں بتانے والا نہ ہو،بالخصوص مغربی دور نے انسانی دماغ کچھ اس طرح مسحور کردیا ہے کہ وہ حیوانیت کو آزادی اور انسانیت کو دشواری سمجھنے لگے ہیں۔مذاہب کے اعتبار سے خود کو ڈھالنے کے بجائے آسمانی تعلیمات اور اقدار کو اپنی ہوس و خواہش کے موافق بنانا چاہتے ہیں۔

         ان کی اسی ضد کو پوری کرتے ہوئے سینٹ پال نے عیسائیت میں سیندھ لگا دی، عیسائیت پر ابھی ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ آپ کی تعلیمات پر نقب زنی کردی گئی، ایک خدا کے بجائے تین خداؤں کا تصور ٹھونس دیا گیا۔ اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات کو اسی فکرومزاج لوگوں نے مسخ کیا، بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لائی ہوئی کتاب پر عمل نہ کیا ،وہ معجزات کی دنیا میں رہنے کے عادی ہوگئے، ہر چیز کو اللہ تعالی کی جانب سے براہ راست سننے، دیکھنے اور جاننے کا مطالبہ بڑھتا گیا، اور آج بھی ان کی نسلیں یہی کررہی ہیں۔ تمام آسمانی مذاہب کو مشکوک کر دینے کے بعد اسلام کو بھی اسی ڈگر پر ڈال دینا چاہتے ہیں۔وہ آئے دن اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں،بلکہ انہوں نے ہی مستشرقین کا گروہ ایجاد کیا تاکہ اسلامی تعلیمات کو شکوک و شبہات سے پر کردیا جائے، اس پر لوگوں کا اعتماد متزلزل کردیا جائے اور یہ ثابت کردیا جائے کہ اس وقت اب ایک نئے دین کی ضرورت ہے،یا کم از کم اس میں تبدیلی اور سدھار درکار ہے۔بہت سے مفکرین اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں نے انہیں کے نصاب سے اپنی ذہنی و فکری پرواز پائی ہے، وہ بھی اسی کے حامی ہوگئے ہیں۔ اصل میں یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مذہب کو نہ ماننے والے اور خواہشات کے پیچھے سرپٹ دوڑنے والے ہمیشہ انکار و رد کی پالیسی اختیار کرتے ہیں، اگر یہ نہ ہوسکے تو جو موجود ہے اسی کو بدلنے اور اس کی جگہ دوسرا حکم لے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں، بھلا اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم نے اس سے انکار کیا، اب اس کی جگہ دوسرا حکم آئے گا تو اسے مان لوگے؟ بات صرف اتنی ہے کہ یہ ضلالت و گمراہی کو اپنا مقدر مانتے ہیں، ان کے سامنے روحانیت کھیل تماشہ ہے، زندگی ہی سب کچھ ہے، موت کے بعد اللہ تعالی کی لقا اور جزا و سزا کچھ نہیں ہے۔

         قرآن مجید میں ایسے لوگوں کی نفسیات کا تذکرہ ملتا ہے، ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے: وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ہٰذَااَوْ بَدِّلْہُ ط قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیْ ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحیٰ اِلَیَّ  اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَ لَا اَدْرٰىکُمْ بِہٖ ، فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ’’جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل واضح ہیں تو جولوگ ہماری ملاقات کا یقین نہیں رکھتے ، وہ کہتے ہیں : اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ ، یا اس میں کچھ ترمیم ہی کردو ، آپ فرمادیجئے ، مجھے کیا حق ہے کہ میں اپنی طرف سے کوئی رد و بدل کردوں ، مجھ پر جو کچھ وحی کی جاتی ہے ، میں تو صرف اسی کی پیروی کرتا ہوں ، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی بڑے دن ( یعنی قیامت )کے عذاب کا ڈر لگتا ہے، آپ کہہ دیجئے ، اگر اﷲ کو منظور ہوتا تو میں اس کی تلاوت تمہارے سامنے نہیں کرتا ، اور نہ اﷲ تم لوگوں کو باخبر فرماتے ،کیوں کہ میں تو اس سے پہلے بھی تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں ، کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟‘‘۔(یونس:۱۵۔۱۶)

         اس آیت کی تفسیرمیں مفسرقرآن حضرت علامہ غلام رسول سعید ی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : اس نزول قرآن سے پہلے میں نے تم میں چالیس سال زندگی گزاری اورتم میرے صدق اورامانت اور میری پاکیزگی کو جان چکے ہو،میں پڑھتا تھا، نہ لکھتا تھا،پھرمیں تمہارے پاس اس معجزکلام کو لے کر آیا، تو اب کیا تم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کلام میرا نہیں ہوسکتا اور یہ صرف اور صرف وحی الٰہی ہے،پھر میں نے تم میں اپنے شباب کی پوری عمر گذاری ہے ،جس میں میں نے اللہ تعالیٰ کی کوئی نافرمانی نہیں کی، تو اب تم مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں گااور اس کے کلام کو بدل ڈالوں گا،کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے!(تفسیر تبیان القرآن)

         اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام جب تورات لے کر آئے ، تو ان کی قوم کو یہی اعتراض تھا کہ اس میں جو سخت احکام آگئے ہیں ، ان میں تبدیلی کی جائے ، یہاں تک کہ کوہِ طور ان کےاوپرلٹکاکرانھیں منوایاگیا کہ چلو اب مضبوطی سے اس تورات کو تھام لو، جوہم نے تمہیں عطا کی ہے اور ہمارے احکام دھیان سے سنو ۔بنی اسرائیل نے ڈر کے مارے دوبارہ اطاعت کا اقرار توکرلیا لیکن ان کے دل کی حالت پہلے جیسی ہی رہی اور شریعت کا حکم چونکہ ظاہر پر ہوتاہے دل پر نہیں ، اس لیے بنی اسرائیل کے زبانی اقرار کرنے پر ان سے کوہِ طورکو ہٹا لیا گیا اگرچہ ان کے دل میں وہی انکار تھا اور درحقیقت ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں میں توبچھڑے کی محبت گھسی ہوئی تھی۔ (البقرۃ : ۶۳)

         قرآن مجید کے بارے میں بھی اہل مکہ کا مطالبہ تھا کہ یا تو دوسرا قرآن مجید اُتارا جائے یا قرآن مجید کے موجودہ احکام میں تبدیلی لائی جائے ، اسی کی تردید کی گئی ہے اورحضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی زبان سے کہلایا گیا ہے کہ قرآن مجید اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب ہے ، ہمیں اس میں ادنیٰ درجہ کی تبدیلی کا بھی حق نہیں ہے۔

         ہردور میں مذہب بیزار اور نفس کے پرستار لوگوں کا یہی مزاج رہا ہے کہ وہ خدائی تعلیمات میں تبدیلی کے خواہاں رہتے ہیں ، موجودہ دور میں پردہ کی مخالفت ، سود ، جوا اور شراب کی اجازت ، زنا اور ہم جنسی کے تعلق کو درست ٹھہرانا وغیرہ اسی نوعیت کے مسائل ہیں ، اِن اُمور سے متعلق قریب قریب تمام مذاہب کی تعلیمات یکساں ہیں ، ہر مذہب میں سود ، قمار ، زنا ، ہم جنسی اور بے پردگی کی ممانعت ہے،لیکن پھر بھی مغربی دنیا اپنے آپ کو عیسائی یا یہودی کہنے کے باوجود ان احکام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ خواہشات نفس نے انھیں اپنا غلام بے دام بنارکھا ہے۔ادھرچندسالوں یہ متعدی وبا یوروپ سے نکل کر مسلم ممالک میں بھی اپنے بال وپرپھیلانےلگی ہے۔

          الحاد کے خطرناک اثرات:

         الحادوزندیقیت پر تحقیق کرنے والے حضرات لکھتے ہیں کہ’’ الحادنے مغربی اور مسلم معاشروں پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں‘‘۔ یہ کہا جائے توکوئی مبالغہ نہ ہو گا کہ انہوں نے قدیم ورثے کی جڑوں کو بلا کر رکھ دیا اور عیسائیت اور اسلام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج پیدا کر دیاہے۔ ہم الحاد کے اثر ات کو نظریات، فلسفے، سیاست، معیشت، معاشرت اور اخلاق ہر پہلو میں نمایاں طور پر محسوس کر سکتے ہیں۔

          الحاد نے عیسائیت اور اسلام کے بنیادی عقائد یعنی وجود باری تعالیٰ ،رسالت اور آخرت پر حملہ کیا اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ خدا کے وجود سے انکار کر دیا گیا، رسولوں کے تاریخی وجود کا انکار کر دیا گیا اور آخرت سے متعلق طرح طرح کے سوالات اٹھائے گئے۔ اس ضمن میں ملحدین کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہ ہو سکی، کیونکہ یہ تینوں عقائد ما بعد الطبیعاتی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں، جسے اس دنیا کے مشاہداتی اور تجرباتی علم کی روشنی میں نہ تو ثابت کیا جا سکتااور نہ رد کیا جا سکتا ہے۔

          ملحدین نے عیسائیت پر ایک اور بڑا حملہ کیا اور وہ یہ تھا کہ قرون وسطی کے عیسائی علمانے اپنے وقت کے کچھ سائنسی اور فلسفیانہ نظریات کو اپنے نظام عقا ئد (Theology) کا حصہ بنا لیا تھا، جیسے زمین کا ئنات کا مرکز ہے اور سورج اس کے گردگھومتا ہے۔ جب جدید سائنسی تحقیقات سے یہ نظریات غلط ثابت ہوئے تو بہت سے لوگوں کا پوری عیسائیت پرسے اعتماد اٹھ گیا اور انہوں نے فکری طور پر بھی الحاد کو اختیار کر لیا ۔اسلام میں چونکہ اس قسم کے کوئی عقائد نہیں، لہٰذا اسلام اس قسم کے حملوں سے محفوظ رہا ۔یہی وجہ ہے الحاد کو مغرب میں تو بہت ایسے پیروکار مل گئے جو ہر قسم کے مذہب سے بیزاری کا اعلان کر کے خود کو فخریہ طور پر ملحد (atheist)کہتے ہیں، لیکن مسلمانوں میں انہیں ایسے افراد بہت کم مل سکے ۔مسلمانوں میں صرف ایسے چند لوگ ہی پیدا ہوئے جو زیادہ تر کمیونسٹ پارٹیوں میں شامل ہوئے اگر ہم کمیونسٹ تحریک سے وابستہ نسلی مسلمانوں کا جائزہ لیں تو ان میں سے بہت کم ایسے ملیں گے جو خود کو کھلم کھلا دہریہ یا ملحد کہلوانے پر تیار ہوں۔

         عیسائیت پر ملحدین کا ایک بڑا اور بڑا حملہ یہ تھا کہ انہوں نے انبیائے کرام بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے انکار کر دیا، انہوں نے اسمانی صحیفوں بالخصوص بائبل کو قصے کہانیوں کی کتاب قرار دیا، اس الزام کا کامیاب دفاع کرتے ہوئے کچھ عیسائی ماہرین اثار قدیمہ نے اپنی زندگیاں وقف کر کے علمی طور پر یہ بات ثابت کر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک تاریخی شخصیت ہیں اور بائبل محض قصے کہانیوں کی کتاب ہی نہیں بلکہ اس میں بیان کیے گئے واقعات تاریخی طور پر مسلم ہیں اور ان کا ثبوت آثار قدیمہ کے علم سے بھی ملتا ہے۔ یہ الحاد کے مقابلے میں عیسائیت کی بہت بڑی فتح تھی۔ 

         اسلام کے معاملے میں ملحدین ایسا نہ کر سکے کیونکہ قرآن اور صاحب قرآن حضرت محمد ﷺکی تاریخی حیثیت کو چیلنج کرنا ان کے لیے علمی طور پر ممکن نہ تھا،اس لیے انہوں نے اسلام پر حملہ کرنے کی دوسری راہ نکالی، ان میں سے بعض کو تاہ قامت اور علمی بددیانتی کے شکار افراد نے چند من گھڑت روایات کا سہارا لے کر پیغمبر اسلام ﷺکے ذاتی کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی لیکن اس میں بری طرح ناکام ہوئے کیونکہ ان من گھڑت روایات کی علمی اور تاریخی حیثیت کو مسلم علمانے احسن انداز میں واضح کر دیا ،جسے انصاف پسند محققین نے بھی تسلیم کیا ۔ان محققین نے رسول اللہ ﷺکی ذات و عظمت کو کھلے دل سے اعتراف کیا۔ خدا کی ذات کے متعلق جو شکوک و شبہات ان ملحدین نے پھیلائے تھے، اس کی بنیاد چند سائنسی نظریات پر تھی۔ بیسویں صدی کی سائنسی تحقیقات جو خود ان ملحدین کے ہاتھوں ہوئی نے یہ بات واضح کر دی کہ یہ سائنسی نظریات پر انہوں نے اپنی عمارت تعمیر کی تھی، بالکل غلط ہیں۔ اس طرح ان کی وہ پوری عمارت اپنی بنیاد ہی سے منہدم ہو گئی جو انہوں نے تعمیر کی تھی۔(الحاد:ایک تعارف۔ص:۴۵ تا ۴۷)

         خالق کائنات کے وجود کا انکار تشکیک سے شروع ہوتا ہے،جب انسان کے اندر علم کی کمی ہوتی ہے تووہ ہرکسی کی غلط تحریر وتقریر سےمتاثر ہوتاچلا جاتاہے،یوں بھی مثبت کے بجائے منفی ،نئی بات اورمعترضانہ کلام میں انسانی فطرت زیادہ دل چسپی لیتی ہے۔اگر وہ صاحب علم وشعور ہوتا ہے تو صحیح اور غلط کی تمیزاسے ہوجاتی ہےمگر جب اس کا اپنا حصول علم (Source of knowledge)کاکوئی ذریعہ نہیں ہوتا ،تعلیم وتربیت سے کورا ہوتا ہے اوراچھی صحبت بھی نہیں ملی ہوتی تو وہ باآسانی کسی کے بھی دام فریب میں آجاتا ہے۔

         مسلم معاشرے اورنوجوانوں میں ان کمیوں کی چوں کہ کثرت ہے اس لیے عصر حاضر میں یہ فتنہ تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے ،جس کی جڑیں کافی مضبوط اور اس کے برگ و بار ہر سو نظر آنے لگے ہیں۔ یہ فتنہ کبھی بہت محدود دائرے میں ہوا کرتا تھا۔ بعض اعلی تعلیم یافتہ لوگو ںیا دین بیزاروں میں اس کا چلن تھا، مگر دور حاضر میں فکری آوارگی، لامحدود آزادی، دینی تعلیم کی کمی ،اچھی صحبت سے محرومی ،موبائل و انٹرنیٹ کی سہولیات، خود ساختہ نظریات کی ریل پیل، سوشل میڈیا کی لا محدود فضا اور ہر کس و ناکس کے لیے بآسانی اس کی فراہمی نے گھر گھر تک الحادی نظریات کی پہنچ کو آسان بنا دیا ہے۔آج ملحدین سب سے زیادہ مسلمانوںکےدینی عقائد کو نشانہ بنارہے ہیں۔یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دنیاکےمختلف مذاہب کے ملحدین نے اپنی اعتراضاتی توپوں کا رخ اسلام کی طرف کردیا ہے،یاکردیاگیا ہے۔کیوں کہ انھیں پتہ ہے کہ تمام مذاہب کے مقابلے میں اسلام ہی ایک منظم،مکمل اورلاجیکل مذہب ہے ۔اگر اس پر ہم نے فتح پالی تو دوسرے مذاہب خود ہی گھٹنوں پر آجائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کی مسلمات میں شک و شبہات پیدا کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔          حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس فتنۂ الحاد سے پڑھا لکھا طبقہ زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ کئی ایسے الحادی لقمے ہیںجو ہمارے پڑھے لکھے حضرات اوردانشور کہلانے والے افراد کے منھ سے جانے انجانے میں نکل رہا ہے۔جس میں ایک یہ بھی ہے کہ مذہب سوال کی اجازت نہیں دیتا اور سائنس سوال کرنے کی ترغیب دیتاہے ،ایک زمانےتک سائنس کی ترقی مذہب کی وجہ کررکی رہی ،علما اورمذہبی لوگوں نے سائنس دانوں پر بڑے مظالم ڈھائے ہیں،وغیرہ وغیرہ۔شہرجمشیدپورکی ایک علمی وادبی نشست میں ایک معزز،مشہور،علمی اورخیرسے ایک اسلامی جماعت سے منسلک شخصیت کے منھ سے بھی یہی بات سن کر مجھے سخت تعجب ہوا!!۔آئیے ذرا اس کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

         اسلام کیا سائنس کا مخالف ہے!!

         اس حقیقت کوکس طرح فراموش کیا جاسکتاہے کہ سائنس کے عروج و ارتقا میں اسلام اور مسلمانوں کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ظہور اسلام سے قبل تعلیم خواص کی چیز تصور کی جاتی تھی لیکن اسلام نے تعلیم کو محدود دائرے سے نکال کر آفاقی حدود میں داخل کردیا۔ اقوام عالم کے سامنے اسلام نے ہی تعلیمی مراکز کے قیام کا تصور پیش کیا ہے۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں جب جہل و ظلمت کا شکار تھیں، اس وقت بغداد، نیشاپور، قرطبہ، غرناطہ، قاہرہ وغیرہ جیسے اسلام کے بین الاقوامی علمی سنٹرز نے اپنی فکری تابشوں سے شاہراہِ علم کو روشن کر رکھا تھا۔ یورپ کے ملحد خیال رائٹرز جن کا چبایا ہوا نوالہ آج نئے نویلے ملحدین اور بعض نام نہاد مسلم دانشوران بھی اس طرح اگل رہے ہیں کہ ’’قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک جب مذہب کا دور تھا انسان کوئی ترقی نہ کرسکا، انسان کی تمام ترقیاں حالیہ چند صدیوں میں ہوئی ہیں جبکہ مذہب کا غلبہ ختم ہوا اور سائنس کا دور شروع ہوا‘‘۔    

         یہ بات تھوڑی لفظی ترمیم کے ساتھ صحیح ہے’’زمانۂ قدیم میں جو غلبہ تھا وہ حقیقی مذہب کا غلبہ نہیں بلکہ مشرکانہ مذہب کا غلبہ تھا اور یہی مشرکانہ مذہب زمانۂ قدیم میں انسانی عروج کے لیے رکاوٹ بنارہا نہ کہ حقیقی مذہب‘‘ کیونکہ حقیقی مذہب تو موحدانہ مذہب ہے۔زمین پرانسان ہزاروں سال سے آباد ہے مگر معلوم تاریخ کے مطابق اسلام سے پہلے ہردور میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ تھا اور یہی شرک مظاہر فطرت اور دنیا کی مختلف چیزوں پر تحقیق کرنے میں رکاوٹ بنا رہا کیونکہ شرک کے عقیدہ کے تحت فطرت کے مظاہر پر ستش کی چیز بنے ہوئے تھے، جبکہ سائنس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جبکہ ان مظاہر کو تحقیق و تسخیر کی چیز سمجھا جائے۔ چاند کو دیوتا سمجھنے والا انسان اس پر قدم رکھنے کا تصور کب کرسکتا ہے؟ سیلاب کو خداکا جزو سمجھنے والے کے لیے کیوں کر ممکن ہے کہ وہ اسے قابو میں لاکر بجلی پیدا کرے! اور سورج کو معبود کا مقام دینے والے اس کی تسخیر کا حوصلہ کہاں پاسکتے ہیں۔تمدنی ترقیاں فطرت کی تسخیر کا نتیجہ ہیں اور زمانۂ قدیم میں انسان نے فطرت کی چیز وں کو معبود بنارکھاتھا اور معبود تحقیق وتسخیری نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلامﷺ کے ذریعہ جو ہماگیر انقلاب آیا اس نے پہلی بار تاریخ سےدین حق کا غلبہ منوایا۔ تو حید ورسالت کے غلبے کے بعد یہ ہواکہ فطرت کی چیزیں جو اس سے پہلے پرستش کی چیزیں بنی ہوئی تھیں وہ اب قابل تسخیر بن گئیں۔ خدائی کلام نے متعدد مقامات پر مختلف انداز وکیفیات میں اعلان عام کردیا:  وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِ (ابراہیم:۳۳)  ’’تمہارے لیے چاند وسورج مسخرکردیئے جو برابرچل رہیں‘‘    

         وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ  (ابراہیم:۳۳)   ’’اور تمہارے لیے رات ودن مسخرکیے‘‘       

         وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کے سب تمہارے لیے مسخر کردئیے گئے‘‘۔اور آگے فرمایا گیا:اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(الجاثیہ:۱۳)’’بے شک اس میں غور وفکر کرنے والوں کے لیے نشا نیاں ہیں‘‘۔قرآن نے انسان کو بے شمار مقامات پرکائنات عالم میں غوروفکر،تدبروتفکراورعقل وشعور سے کام لینے کی دعوت اور ترغیب دلائی ہے۔مغرب نے جس انقلاب کو سائنس کی طرف منسوب کیاہے ،حقیقتاً وہ انقلاب اسلام کا لایا ہوا ہے ۔پیغمبر اسلام ﷺ نے شب معراج مظاہر فطرت کو اپنے قدموں سے فیضیاب کرکے تسخیر کائنات کی بنیاد رکھی ہے ؎

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے ہمیں

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

         یہ درست ہے کہ اسلام اس لیے نہیں آیا کے وہ دنیا کے سامنے سائنس وٹکنالوجی پیش کرے مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اگر اسلام نہ آتا تو سائنسی ترقیات کا دروازہ انسان پر کبھی نہ کھلتا۔قرآن قدم قدم پر انسان کو دعوت غور و فکر اور تسخیر کائنات کی راہ نہ دکھاتااور دین حق اسلام تحقیق وجستجو پر انسان کونہ ابھارتا تو سینکڑوں ایجادات تکمیل کی سرحدوں سے نہ گذرتیں۔ اس لیے مذہب سوال کی اجازت نہیں دیتا، مذہب ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور مذہب و سائنس کے درمیان تضاد ہے وغیرہ جیسی باتیں لغو اور باطل ہیں۔ ہاں! اگر علما نے کسی دور میں سائنس کی مخالفت کی ہے تو یہ ان کی اپنی کج فہمی،بے بصیرتی اورذاتی عمل توکہاجاسکتا ہے،مگر اس کا ٹھیکرا مذہب اسلام کے سر بالکل نہیں پھوڑا جاسکتا۔          

         یہ بنیادی بات بھی ہرذی علم اور دانشورکوذہن نشیں رکھنا چاہیے کہ دین کاتعلق عقل سے نہیں بلکہ یقین سے ہے؎

زمانہ  عقل  کو  سمجھا  ہوا  ہے  مشعل   را ہ

کسے  خبر  کہ جنوں  بھی  ہے صاحب ادراک

         اپنی نسلوں کو الحاد وزندیقیت سے بچانے کی تدبیر کریں:

         بہرحال!آج الحادی لٹریچر کی بہتات ہے، انٹرنیٹ پر بہت ساری ویب سائیٹس اور منظم گروپ ایسے مل جائیں گے جو الحادی نظریات کے فروغ کے لیے مسلم نوجوانوں کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں اور اسلامی تعلیمات میں تشکیک کا دروازہ کھول کر غیر ضروری سوالوں میں انھیں الجھا رہے ہیں۔ آج لوگوں کی اکثریت اور بطور خاص نوجوان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اتنا منہمک ہو چکا ہے کہ اسے یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے، کیا دیکھ رہا ہے، کس حاصل کرنے کے لیے آج نوجوانوں میں صحیح اور غلط کے درمیان تمییز کی پرواہ نہیں۔ ہمارے سامنے ایسی مثالیں موجود ہیں اور بکثرت ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ مدرسہ کا پڑھا نوجوان اس طرح کے فتنے کا شکار ہو رہا ہے۔ اسے یہ تمیز نہیں کہ کونسی کتاب پڑھےاورکون سی نہیں۔کن ویب سائٹوں سے استفادہ کرےاورکن سے نہیں۔ کن علماکو سنے اور فالو کرےاورکن کو نہیں،کن مراجع و مصادر کی کتابوں کی طرف کیسے رجوع کرے،اسےشعورنہیں۔اگر آج انٹرنیٹ کی دنیا کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین کے نام پر ایسے باطل نظریات اور جماعتیں متحرک ہیں جن کے افکار و عقائد قرآن وسنت اوراسلاف کی روش سے مکمل متصادم ہیں۔ مگر ایک نوجوان جس کے اندر عقیدے کی پختگی نہیں، اہل وسنت وجماعت کے اصول و ضوابط کی پہچان نہیں، جدید افکار و نظریات کی حقیقت سے آگاہی نہیں اور الحاد کے تیر و نشتر سے مقابلہ آرائی کی قوت نہیں، تو دریائے الحاد میں غوطہ زنی کے بعد اس کی کیا حالت ہوگی؟ الحاد صرف یہ نہیں کہ انسان دین اسلام کا انکار کردے ،یا رب العالمین کے وجود کا انکار کردے جو کہ الحاد کیا سب سے بدترین شکل ہے، بلکہ الحادی فتنے کی شروعات غیر منہجی جماعتوں کے افکار و نظریات کو اپنانے سے ہوتی ہے۔ اسلام کے نام پر متحرک کئی جماعتیں ایسی ہیں جن کے یہاں احادیث کے مقام و مرتبہ کااستخفاف پایا جاتا ہے۔اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام کی قدر و منزلت میں شبہات پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کرتی ہیں، جو بعد میں انکارسنت اورپھرانکاردین تک تک پہنچا دیتی ہیں۔

         آپ کو سوشل میڈیا پر اپنی دوکانیں سجائے نہ جانےکتنےنام نہادایسے اسکالرزمل جائیں گےجن کی تقریروں سےانکار حدیث،استخاف شان رسالت واہل وبیت ،تضحیک صحابہ وائمہ،مستندترین بزرگان دین کی توہین کاعنصرشامل ہوتا ہے۔اس راہ سے بھی فکری الحاد کا دروازہ کھولا جا تاہے۔ آج مدارس کے وہ طلبہ جو عصری جامعات کا رخ کرتے ہیں،وہ نئے تجربات سے روشناس ہوتے ہیں، ان کی زندگی کے ایک نئے دور کی شروعات ہوتی ہے، غور و فکر کے نئے زاویے کھلتے ہیں، فکر و نظر کی آزادی کے ماحول میں نشو نما پاتے ہیں اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے، جو ان کی شخصیت سازی اور ذہنی و فکری تربیت و ساخت میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں، ایسے ماحول میں بھی الحمد للہ! اچھی خاصی تعداد اپنے دینی عقائد و نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے نمایاں کامیابیوں سے ہمکنار ہوتی ہے۔ مگر ایک اچھی خاصی تعداد ایسے مسلم اسکالرز کی بھی ہوتی ہے جو عصری یونیورسٹیوں میں جا کر مدارس کے قلعوں میں سیکھے ہوئے شرعی علوم کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ انھیں دینی ماحول سے چڑ ہونے لگتی ہے، اسلاف کی کتابوں سے نظریں چراتے ہیں اور اپنی دینی شناخت کو مٹانے سےگریز نہیں کرتے۔ ایسے طلبہ کو جب کھلا ما حول میسر ہوتا ہے تو دین مخالف نظریات سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں، ہر طرح کے لٹریچر پڑھنا ان کا فیشن بن جاتا ہے۔ وہ مارکس کے نظریات سے متاثر ہو جاتے ہیں، وہ عرب قوم پرستوں کے نظریات پر فدا ہوتے ہیں، ملحد ین شعرااور ادباکے لٹریچر میں انھیں سکون قلب ملتا ہے۔ وہ مغربی مفکرین اور دین بیزار مصنفین کو شب و روز پڑھ کردانشوربننے کی کوشش کرتے ہیں ۔علما اوردینی جماعتوں کوہدف ملامت بناناان کی ہابی(hobby)ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اسلام اور شرعی قوانین پر تنقید کرنےکی راہ ان پرآسان ہو جاتی ہے۔ دھیرے دھیرے دین پرسخت اعتراض کرنا، علما پر کیچڑ اچھالنا، ان کی تحقیر و توہین کرنا، اسلامی لٹریچر کا مذاق اڑانا اور عظمت اسلام کو پامال کرنا ان کے شب و روز کا عمل بن جاتا ہے۔  

         واضح ہو کہ آج غیر شعوری طور پر اکثر گھرانے اس فتنے کی زد میں ہیں۔ بچوں کی اسلامی تربیت نہ ہونے کی وجہ کر وہ بڑی تباہی کی طرف جارہے ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ صحیح اسلامی عقائد کو جاننا، سیرت رسول ﷺکو پڑھنا اور دین کی

مبادیات کو سیکھنا اور اس کی روشنی میں بچوں کی تربیت کرنا بے حد ضروری ہے۔ بچپن ہی سے اللہ جل شانہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی محبت ذہن نشین کرنا، اہل بیت واصحاب اوربزرگان دین کی عقیدت وپیروی کرنا،اسلامی شعائر کی پہچان کرانا اور خود عملی طور پر بچوں کے لیے بہترین نمونہ بن کرزندگی گزارنا بہت ضروری ہے۔ مسلم سماج کا ہر فرد یہ کوشش کرے کہ اس کا گھر اسلامی اقدار کا پابند ہو ۔ مساجد میں نو نہالوں کی ذہنی تربیت اور اعتقادی پختگی پر کافی محنت کی ضرورت ہے۔ مدارس و جامعات کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کے آغوش میں تعلیم پانے والے طلبہ ذہنی، فکری اور اعتقادی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ گمراہ کن لٹریچر، الحادی نظریات اور منحرف جماعتیں انھیں ورغلا نہ سکیں اور نہ ہی انھیں اپنا آلہ کار بنا سکیں۔ دینی جماعتوں کو عصر حاضر میں الحادی نظریات اور ملحدین کے مقابلے کے لیے لکچر کا اہتمام کرنا،لٹریچر کی فراہمی، پمفلٹ کی تقسیم اور سوشل میڈیا کا موثر استعمال حکمت ودانائی کے ساتھ کرنی چاہیے۔ مسلم نوجوانوں کی فکری تربیت، صحیح رہنمائی اورعصری جامعات میں پڑھنے والے مسلم طلبہ کی کونسلنگ ان کے ساتھ بات چیت اور ان کے اعتراضات و خدشات کو دور کرنے کے لیے منظم لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ملحدین کے افکار و نظریات کا جامع ریسرچ کر کے اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔ وقتاً فوقتاً جد ید فتنوں سے متعلق کانفرنس، سمینار اور تربیتی پروگرام مؤثر طریقے سے پیش کرنا کافی اہم ثابت ہوگا ۔ان شاء الله

         خلاصۂ کلام یہ کہ الحادی فتنوں کا مقابلہ شرعی علم کی پختگی کے بغیر ممکن نہیں ، اس لیے اس دورمیں تمام مدارس ، مساجد جمعیتوں اور جماعتوں کو ٹھوس لائحہ عمل تیار کر کے میدان عمل میں محنت کی ضرورت ہے۔ نیز تمام والدین اپنےبچوں کو بنیادی دینی تعلیم ضرور سکھائیں اور بچپن سے ہی ان کی دینی بنیادی عقائدکے حوالے سے تربیت کا اہتمام کریں۔

٭٭٭