اسلام اور جذبہ ایثار

         اسلام نے جن اعلیٰ اخلاق کو ایمان کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے، ان میں ایک عظیم صفت ایثار ہے۔علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی (م:۶۶۸ ھ )لکھتے ہیں :ایثار کا معنی ہے: کسی دوسرے شخص کو دنیاوی چیزوں میں اپنے اوپر ترجیح دینا، یہ وصف یقین کی قوت، محبت کی شدت اور مشقت پر صبر کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ۱۸، ص:۲۵ ،دارالفکر، بیروت،۱۴۱۵ ھ)

         حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَجْوَدَ النَّاسِ،یعنی: اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔(صحیح بخاری)حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کئی کئی دن ایسے گزرتے کہ گھر میں چولہا نہ جلتا، مگر جب کوئی سائل آتا تو آپ ﷺ اسے خالی ہاتھ واپس نہ لوٹاتے۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی شان میں فرمایا: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ(سورۃ التوبہ: ۱۲۸)یعنی تمہاری تکلیف آپ ﷺ پر گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے حریص اور اہلِ ایمان پر نہایت مہربان ہیں۔

         صحابہ کرام کا ایثار:

         غزوہ ٔ تبوک کے موقع پر صحابہ نے جوایثار وقربانی پیش کی وہ مثالی ہے۔سفر دور دراز کا تھا، اور جہاد اس زمانے کی سب سے زیادہ طاقت ور،یوں کہہ لیں سپرپاورمملکت روما سے تھا۔پھرقحط سالی کا زمانہ تھا، کھجور کی فصل پکنے کی قریب تھی، اکثر صحابہ خالی ہاتھ تھے، موسم بھی سخت تھا، ان حالات میں رسول اکرمﷺ نے تمام قبائل عرب سے فوجی اور مالی معاونت طلب فرمائی، اور مدینے کے تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اس جہاد میں نکلیں ، نہ صرف نکلیں بلکہ مالی امداد بھی کریں ۔ یہ حقیقت ہے کہ صحابۂ کرام نے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا، جب بھی رسول اللہ نے کسی معاملے میں ان سے مالی یا جسمانی مدد چاہی بے سروسامانی کے باوجود انہوں نے مدد کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا، جس کے پاس جو کچھ دینے کے لئے تھا وہ لے کر حاضر خدمت ہوگیا۔

         حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس موقع پرآدھا مال لے کر آئے۔ انہیں خیال ہوا کہ آج میں ابوبکرسے سبقت لے جاؤں گا، آج میں ابوبکرؓ سے آگے بڑھ جاؤں گے، ویسے تو وہ ہمیشہ ہی مجھ سے آگے رہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے عمر! تم نے اپنے گھر والوں کے لیےکتنا مال چھوڑا ہے، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اتنا ہی مال گھر والوں کے لیے چھوڑا ہے ،جتنا مال آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔اتنے میںحضرت ابوبکر صدیق اپنا تمام مال لے کر حاضر ہوئے، اس کی قیمت چار ہزار دینار تھی ۔رسول اللہ ﷺ نےسیدنا ابوبکرسےپوچھا :مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ؟اے ابوبکر!اپنے گھروالوں کے لیے کیا چھوڑاہے؟توانھوں وہ تار:یخی جملہ عرض کیا :اَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، یارسول اللہ! میں نے گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے۔علامہ اقبالؔ نےاس قول صدیق کو کیاہی خوب اپنے نظم کی لری میں پرویا ہے،کہتے ہیں؎

پروانے کوچراغ ہے،بلبل کوپھول بس

صدیق کے لیے ہے خدا کارسول بس

یہ سن کر میں نے ابوبکر سے کہا کہ میں آپ سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ (سنن ابی داؤد: ۲/۱۲۹، رقم الحدیث: ۱۶۷۸)

         حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکرِ اسلام کی بے مثال مالی مدد کی، جس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ،یعنی:آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کریں، انہیں نقصان نہ پہنچائے گا۔یہ سیدنا عثمان غنی کے لیے حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کی جانب سے بہت بڑا اعزاز حاصل ہے۔

         ایثار صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہش، آرام، وقت، مال اور حتیٰ کہ اپنی جان تک کو اللہ کی رضا کے لیے دوسروں پر قربان کر دینا ایثار ہے۔مال کے ساتھ ایثار کرنے سے زیادہ مرتبہ جان کے ساتھ ایثار کرنے کا ہے اور سب سے افضل سخاوت رسول اللہ ﷺکی حمایت میں جان کی سخاوت کرنا ہے، پس حدیث پاک میں ہے :

         حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺکے لیے ڈھال بن گئے اور نبی ﷺدشمن کے احوال پر مطلع ہونے کے لیے ان کے پیچھے سے جھانک رہے تھے، تب حضرت ابوطلحہ نے کہا، یا رسول اللہ ! آپ مت جھانکیں، کہیں آپ کو دشمن کا کوئی تیر نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینہ کے لیے ڈھال ہے۔ (صحیح البخاری ،حدیث : ۳۸۱۱)

         وہ رسول اللہﷺ کی طرف آنے والے تیروں کے سامنے اپنا ہاتھ کرتے رہے حتیٰ کہ ان کا وہ ہاتھ شل ہوگیا۔

                                                                 (احکام القرآن ج :۴، ص:۲۱۹، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۰۸ھ)

         تاہم اپنی جان کے ساتھ ایثار کرنا صرف رسول اللہﷺ کے لیے مخصوص ہے، کسی اور کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس کے لیے مسلمان اپنا جسم یا جسم کا کوئی عضو قربان کر دے۔

         امام محمد بن اسماعیل بخاری (م:۲۵۶ھ) اپنی سند کے ساتھ یزید بن السکن سے روایت کرتے ہیں :

         جنگ احد کے دن جب قتال میں شدت آگئی اس دن نبی ﷺنے دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، اور دشمن آپ کے قریب آپہنچا تھا، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے دشمن کو آپ سے دور کیا اور وہ شہید ہوگئے اور حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ نے دشمن کو آپ سے دور کیا اور وہ شدید زخمی ہوگئے اور رسول اکرم ﷺ کا چہرہ خون آلود ہوچکا تھا اور آپ کے سامنے کے دانت کا تہائی حصہ شہید ہوچکا تھا اور آپ کا ہونٹ زخمی ہوگیا تھا اور آپ کا رخسار زخمی ہوچکا تھا، اس وقت آپ نے فرمایا : وہ کون ہے جو ہمارے لیے اپنی جان دے گا ؟ اس وقت انصار کے پانچ نوجوان کود کر نکلے، ان میں حضرت زیاد بن الکسن رضی اللہ عنہ بھی تھے، انھوں نے زبردست قتال کیا حتیٰ کہ دشمن کو آپ سے دور کردیا،حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت زیاد بن السکن سے فرمایا : میرے قریب ہو، وہ زخموں سے چور تھے، آقاعلیہ السلام نے ان کا سر گھسیٹ کر اپنے قدم مبارک پر رکھ لیا اور حضرت زیاد نے اسی حالت میں جان دے دی۔

بہ  چہ  ناز  رفتہ   باشد  ،  زِ  جہاں   نیاز  مندے

کہ  بہ  وقتِ  جان  سپردن  بہ  سرش  رسیدہ  باشی

                    (محب صادق کس شان سے دنیا سے گیا ہے کہ وہ جان دیتے وقت اپنے محبوب آقا کے قدموں میں پہنچ کا تھا)

                                 (تاریخ کبیر،ج:۸، ص:۱۹۷-۱۹۸ ،رقم الحدیث : ۱۲۴۸۴، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

         مسلمانوں کی تاریخ ایثار و قربانی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جب میں اپنی روشن روشن اور سنہری تاریخ کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی قسمت پر ناز بھی آتا ہے کہ میں ایک ایسے مذہب کو ماننے والا ہوں جس نے اخلاقیات کے حوالے سے بڑی عمدہ تعلیمات دی ہیں اور اس کے ماننے والوں نے نہایت روشن مثالیں قائم کی ہیں۔ صحابہ کرام نے اپنے قائد، اپنے رہبر و رہنما اور سرور کائنات سے بہت کچھ سیکھا اور اسے اپنی عملی زندگی میں بھی اپنایا۔ایمان میں تازگی اور پختگی کے لیےایثار و قربانی کے حوالے سے چند واقعات ملاحظہ فرمائیں:

         مسجد نبوی ﷺمیں شام کے وقت ایک مسافر آتا ہے ۔ مہمان کو بھوک لگی ہوئی ہے، اسے اپنی بھوک مٹانی ہے۔ جانتے ہیں یہ کس کا مہمان ہے؟ یہ اللہ کے رسو ل کا مہمان ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ اللہ کے رسو ل ﷺسب سے بڑے مہمان نواز تھے۔چنانچہ آپ نےاپنی ایک اہلیہ کے ہاں پیغام بھیجا کہ ایک مہمان آیا ہے، اس کو کھانا کھلانا ہے۔ گھر میں کھانے کے لیے کچھ ہے؟ جواب میں ہم مسلمانوں کی ماں نے کہلوا بھیجا کہ گھر میں پانی کے سوا کچھ نہیں!! ۔ آگے بڑھنے سے پہلے ذرا سوچیے ، غور کیجیے کہ یہ بیت نبوی ﷺہے، مگر گھر میں سوائے پانی کے کچھ نہیں۔اللہ اکبر!اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ خوب فرماتے ہیں؎

مالکِ  کونین   ہیں  گو  پاس  کچھ  رکھتے  نہیں

دو جہاں  کی  نعمتیں  ہیں  ان کے  خالی  ہاتھ  میں

         ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے ایک حدیث میںیہ الفاظ ہیں کہ ہمارے گھر میں بعض اوقات کئی ماہ گزر جاتے، مگر چولہا جلنے کی نوبت نہ آتی تھی۔ سوال کرنے والے نے پوچھ لیا: اماں جان! پھر آپ کا گزارا کس چیز پر ہوتا تھا؟ انھوں نے جواب دیا:بیٹا! ہمارا گزارا پانی اور کھجور پر ہوتا تھا ۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ اُس روز بیت نبوت میں کھجوریں بھی نہیں تھیں۔ اللہ کے رسول نے صحابہ کرام کو شفقت بھری نگاہوں سے دیکھااور سوال کیا:آج تم میں سے کون میرے مہمان کی مہمان نوازی کرے گا؟ صحابہ کرام میں سے ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول! آپ کے اس مہمان کی میزبانی میںکروں گا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہوں۔ سیدناابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے بڑے مشہور اور امیر لوگوں میں سے تھے۔ ان کا گھر مسجد نبوی ﷺسے ملا ہوا تھا بلکہ اب تو وہ بھی مسجد نبوی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کی اہلیہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہابھی بڑی عظیم صحابیہ تھیں۔ گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ رات کا وقت تھا، اندھیرا پھیل چکا تھا،سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مہمان کو ساتھ لیااور اپنے گھر آ گئے۔ مہمان کو مہمان خانہ میں بٹھایا، اپنی اہلیہ سے کہا: یہ اللہ کے رسول کا مہمان ہے ،اس کی عزت کرنی ہے۔

         مہمان کی عزت کیا ہے؟ یہی کہ اس کی تکریم کی جائے، اسے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے۔ اس کا مسکرا کر استقبال کیا جائے۔ اللہ کے رسول ﷺ کی مشہور حدیث ہے:  مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ ’’جو شخص اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘

         سیدناابو طلحہ اپنی اہلیہ سے پوچھتے ہیں:اس وقت گھر میں کھانے کے لیے کیا کچھ ہے؟ انہوں نے جواب دیا : گھر میں بچوں کے کھانےسواکچھ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابو طلحہ بڑے امیر آدمی تھے۔ ان کا کھجوروں کا باغ تھا، مگر اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ بعض اوقات امیر لوگوں کے ہاں بھی کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو جاتی ہیں۔ دونوں میاں بیوی آپس میں مشورہ کر رہے ہیں کہ کھانا تو ایک فرد کا ہے۔ بچوں کو کیا کھلایا جائے؟۔حضرت ابو طلحہ سیدہ ام سلیم سے کہتے ہیں: ایسا کرو کہ کھانا تیار کرو، بچوں کو کسی طرح سلا دو۔ جب مہمان کھانے کے لیے بیٹھ جائے تو چراغ بجھا دینا۔ام سلیم اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہم ایثارو قربانی کی ایک نئی داستان رقم کرنے جارہے ہیں۔حضرت ام سلیم نے کھانا تیار کرنا شروع کیا، رات ہو چکی تھی، بچوں کوکسی طرح بھوکا سلادیاجاتاہے۔ ام سلیم نے دستر خوان لگایا، کھانا صرف ایک ہی شخص کے لیے کافی تھا۔ شرفاء کے ہاں دستور چلا آ رہا ہے کہ میزبان بھی مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا ہے۔ اب اگر میزبان بھی مہمان کے ساتھ کھانا کھائے گا تو مہمان تو بھوکا رہ جائے گا۔ پروگرام پہلے سے طے ہو چکا ہے کہ ام سلیم چراغ درست کرنے کے بہانے چراغ بجھا دیں گی۔ میزبان مہمان کے ساتھ بیٹھے گا، مگر کھانا نہیں کھائے گا۔ مہمان کو کھانا کھانے کا پورا موقع دیا جائے گا۔اس طرح وضع داری پر بھی آنچ نہیں آئے گی اور مہمان پیٹ بھر کر کھانا کھا لے گا۔

         مہمان کو آوازدی جاتی ہے: کھانا تیار ہے، تشریف لائیے۔ میزبان اور مہمان دستر خوان پر بیٹھ گئے ہیں۔ اُدھر مہمان نے لقمہ منہ میں ڈالا، اِدھر ام سلیم چراغ کو درست کرنے کے بہانے بجھا دیتی ہیں۔ مقصد بڑا واضح ہے کہ مہمان کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو جائے۔ کہیں مہمان بھوکا نہ رہ جائے، مہمان کھانا کھاتا رہا۔ سیدناابو طلحہ نے کھانا نہیں کھایا۔ آج کی رات ابو طلحہ کا پورا گھرانہ بھو کا رہا ہے۔ مہمان کھانے سے فارغ ہو کر باعزت طریقے سے اپنے سونے کی جگہ چلا جاتا ہے۔

    صبح ہوتی ہے، سیدناابو طلحہ حسب معمول اللہ ﷺکے رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ آپ نےانھیں دیکھتے ہی فرمایا : اللہ عزو جل فلاں مرد اور فلاں عورت کے رات والے ایثار و قربانی پر خوش ہوا اوراللہ تعالیٰ ان کے طرز عمل پر ہنس پڑا۔

    اللہ رب العزت نے ایسی ہی شخصیات کے بارے میںارشاد فرمایا ہے: وَ یُوْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ ط وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ  ’’ اور اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود اِنہیں شدید حاجت ہی ہو، اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچا لیا گیا پس وہی لوگ ہی بامراد و کامیاب ہیں۔‘‘(الحشر:۹)

         علما لکھتے ہیں:اگر کسی شخص میں دومذموم صفات پائی جاتی ہوں تو وہ نہایت بد قسمت اور اخلاق سے گرا ہوا انسان ہے:

         ۱۔ ایک تو مال و دولت جمع کرنے میں سخت حریص اورلالچی ہونا ۔

         ۲۔ دوسرا مال و دولت خرچ کرنے میں انتہائی بخیل ہونا۔ اب ایسے شخص میں تنگ نظری تنگ ظرفی، سنگدلی بے مروتی وغیرہ جیسی صفات پیدا ہو سکتی ہیں اور ان کا ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے۔‘‘

         میرا ذاتی تجربہ ہے کہ فقر و فاقہ اور بخیلی میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ کسی بھی شخص کا مفلس یا قلاش ہونا کوئی جرم نہیں۔ جرم دراصل بخیل ہونا اور مال کی محبت میں اس حد تک آگے بڑھ جانا ہے کہ آدمی دولت کے پیچھے اندھا ہو جائے اور دولت کا پجاری بن جائے۔ یہ انتہائی قبیح خصلت ہے اور اسلام اس بد خصلت کے علاج کے لیے انفاق فی سبیل اللہ، صدقات اور ایثار کی راہ دکھاتا ہے جس سے وسعت نظر، ہمدردی ، مروت اور اخوت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔

         ایثار کا ایک حیرت انگیزواقعہ :

         مدینۃ النبی ﷺکھجورکے باغوں کا شہر ہے۔ ان ہی باغات میں ایک یتیم بچے کا باغ بھی تھا، اس کے ساتھ ایک دوسرے آدمی کا باغ تھا۔ کھجوروں کے درخت اس طرح آپس میں ملے ہوئے تھے کہ آندھی اور بارش میں کھجوریں نیچے گر پڑتیں تو آپس میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا کہ یہ کس درخت سے گری ہیں۔ یتیم نے سوچا: کیوں نہ میں دیواربنا کر اپنے باغ کو علیٰحدہ کرلوں تاکہ ملکیت واضح ہو جائے، کسی قسم کا تنازع اور جھگڑا نہ کھڑا ہو ،چنانچہ اس نے دیوار بنانا شروع کی۔ جب اس نے دیوار بنانا شروع کی تو اس کے ہمسائے کی کھجور کادرخت درمیان میں حائل ہوگیا۔ دیوار اس صور ت میں سیدھی ہوتی تھی جب یہ درخت اس کو مل جاتا۔ وہ یتیم بچہ اپنے ہمسائے کے پاس گیا اور کہا: آپ کے باغ میں بہت ساری کھجوریں ہیں۔ میں دیوار بنا رہا ہوں آپ کی ملکیت میں ایک کھجور راستے کی رکاوٹ بن رہی ہے۔ یہ کھجور مجھے دے دیں تو میری دیوار سیدھی ہو جائے گی،مگر اس شخص نے انکار کر دیا۔ اس بچے نے کہا: اچھا آپ مجھ سے اس کی قیمت لے لیں تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی کر لوں۔ اس نے کہا : میں اسے بیچنے پر بھی تیار نہیں۔ یتیم نے خوب اصرار کیا، ہمسائیگی کا واسطہ دیا، مگر اس پر دنیا سوار تھی۔اسے نہ یتیمی کا لحاظ تھانہ ہمسائیگی کا پاس۔ یتیم نے کہا : کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اپنی دیوار نہ بنائوں،اس کو سیدھا نہ کروں؟ ہمسائے نے کہا: یہ تمہارا معاملہ ہے، تم جانو اور تمہارا کام جانے! تمہاری دیوار سیدھی رہے یا ٹیڑھی، مجھے اس سے کوئی غرض نہیںمگر میں کھجورکا درخت فروخت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔یتیم جب اس سے مکمل مایوس ہوگیا توخیال آیا کہ مدینہ طیبہ میں ایک ایسی شخصیت بھی ہیں کہ اگر وہ سفارش کر دیں تو میرا کام بن سکتا ہے۔ دل میں خیال آتے ہی قدم مسجد ِنبوی کی جانب اٹھ گئے۔

         یہ قصہ باعث ِتعجب ہے کہ آپ کے صحابہ کو آپ سے کس قدر محبت تھی اور آپ کے الفاظ کا کس قدر پاس تھا۔ وہ یتیم بچہ جب مسجد نبوی ﷺمیں آیا تو سیدھا اللہ کے رسول کے پاس پہنچا،عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا باغ فلاں آدمی کے باغ سے ملا ہوا تھا۔میں ان کے درمیان دیوار بنا رہا ہوںمگر دیوار اس وقت تک سیدھی نہیں بنتی جب تک راستے میں ایک کھجور میری ملکیت نہ بن جائے۔میں نے اس کے مالک سے عرض کی کہ وہ مجھے فروخت کر دے، میں نے اس کی خوب منت سماجت کی مگر اس نے انکار کر دیا ہے ۔اللہ کے رسول!میری اس سے سفارش کر دیںکہ وہ مجھے کھجورکا درخت دیدے۔ آپ نے فرمایا:جائو !اس آدمی کو بلا کر لے آو۔

         وہ یتیم اس شخص کے پاس گیا اور کہا : اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں۔ وہ شخص مسجد ِنبوی میں آیا ۔آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: تمہارا باغ اس یتیم کے باغ سے ملا ہوا ہے، یہ یتیم بچہ دیوار بنا کر اپنے باغ کو تمہارے باغ سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے۔تمہارا کھجورکا ایک درخت اس کی راہ میں رکاوٹ ہے‘ تم ایسا کرو کہ اپنے بھائی کو یہ درخت دے دو!  

         اس شخص نے کہا : میں تو نہیں دوں گا۔ آپ نے پھر فرمایا : اپنے بھائی کو یہ درخت دے دو! اس نے کہا :جی میں نہیں دے سکتا۔ آپ نے ایک بار پھر فرمایا: اپنے بھائی کو کھجورکا درخت دے دو، میں تمہیں جنت میں کھجورکے درخت کی ضمانت دیتا ہوں۔اس شخص نے اتنی بڑی پیشکش سننے کے باوجود کہا: نہیں،میں کھجور کاوہ درخت نہیں دوں گا۔ آپ اب خاموش ہوگئے،اس سے زیادہ آپ اس کو کیاکہہ سکتے تھے۔صحابہ کرام خاموشی سے ساری گفتگو سن رہے ہیں۔ حاضرین مجلس میں سیدناایک صحابی حضرت ابو دحداح رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرماتھے۔ مدینے میں ان کا بڑا خوبصورت باغ تھا۔۶۰۰؍کھجور کے درختوں پر مشتمل باغ اپنے پھل کے سبب بڑا مشہور تھا۔ اس باغ کی کھجوریں اعلیٰ قسم کی شمار ہوتی تھیں، منڈی میں ان کی بڑی شہرت تھی۔ مدینے کے بڑے بڑے تاجر اس بات کی حسرت اور خواہش کرتے تھے کہ کاش !یہ باغ ان کی ملکیت ہوتا۔

         حضرت ابو دحداح نے اس باغ کے وسط میں اپنا خوبصورت ساگھر تعمیر کر رکھا تھا۔بیوی اور بچوں کے ساتھ وہیں رہائش پذیر تھے۔ میٹھے پانی کے کنویں نے اس باغ کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیا تھا۔ ابو دحداح نے جب اللہ کے رسول کی پیشکش کو سنا تو دل میں خیال آیا کہ اس دنیا کا کیا ہے؟ آج نہیں تو کل مرنا ہے اور پھر ہمیشہ کی زندگی تووہی ہے۔ اگر جنت میں ایک کھجور کا درخت مجھے مل جائے تو کیا کہنے! وہ آگے بڑھے اور کہا :یارسول اللہ! یہ جو پیش کش آپ نے کی ہے، صرف اسی شخص کے لیے ہے یا اگر میں اس آدمی سے اس کھجورکے درخت کو خرید کر اس یتیم بچے کو دے دوں تو مجھے بھی جنت میں کھجور کا درخت ملے گا؟ آپ نے فرمایا:’’ ہاں تمہارے لیے بھی جنت میں کھجور کی ضمانت ہے‘‘۔ اب ابو دحداح سوچنے لگے کہ ایسی کون سی چیز ہے جو میں اس شخص کو دے کر اس سے وہ کھجور کا درخت خرید لوںاور پھر اس یتیم کو دے دوں۔پھراچانک ہی ایک عجیب وغریب فیصلہ کیا۔ وہ اس آدمی سے مخاطب ہوئے، کہا: سنو ! تم میرے باغ سے واقف ہو جس میں ۶۰۰؍کھجوروں کے درخت ،گھر اور کنواں ہے۔ اس نے کہا: مدینے میں کون ہوگا جو اس باغ کو نہ جانتا ہو!کہا: تم ایسا کرو کہ میرا سارا باغ اس ایک کھجور کے درخت کے بدلے میں لے لو۔ اس آدمی کو اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا۔اس نے مڑ کر ابودحداح کی طرف دیکھا: پھر لوگوں کی طرف دیکھا۔ سن رہے ہو،ابودحداح کیا کہہ رہا ہے؟۔حضرت ابو دحداح نے پھر اپنی بات کو دہرایا ، لوگوں کو اس پر گواہ بنایا چنانچہ اس ایک کھجور کے درخت کے بدلے میں اپنا سارا باغ ،کنواں اور گھر اس آدمی کے حوالے کر دیا۔ جب اس کھجور کے درخت کے مالک بن گئے تو اس یتیم بچے سے کہا:آج کے بعد وہ کھجور کا درخت تمہارا ہے۔ میں نے تم کو تحفے میں دے دیا ہے ۔اب اپنی دیوار سیدھی بنائو۔ اب تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔

         اس کے بعدانھوں نے اللہ کے رسول کی طرف رخ کرکے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! کیا اب میں جنت میں کھجورکے درخت کا مستحق ہوگیا ہوں؟ تو آپ نے فرمایا:کَمْ مِنْ عِذْقٍ رَدَاحٍ لِاَبِیْ الدَّحْدَاحِ فِی الْجَنَّۃِ،یعنی:’’ابود حداح کے لیے جنت میں کھجوروں کے کتنے ہی جھنڈ ہیں۔‘‘ابو دحداح گھر لوٹے، دروازے پر کھڑے ہوکر آواز دیتے ہیں: ام دحداح! بیوی کہتی ہے : آپ باہر کیوں رک گئے ہیں،اندر کیوں نہیں آتے؟ دوبارہ آواز آئی: ام دحداح!اہلیہ بولیں: حاضر اے ابودحداح! فرمایا: اس باغ سے بچو ں سمیت باہر نکل آؤ،میں نے اس کو فروخت کر دیا ہے۔ ام دحداح نے کہا کہ آپ نے اس کو بیچ دیا ہے۔ کس کو فروخت کیا ہے،کون خریدار ہے،کتنے میںبیچا ہے؟ فرمایا: میں نے اس کو جنت میں ایک کھجور کے درخت کے بدلے میں فروخت کر دیا ہے۔ ام دحداح نے کہا:اللہ اکبر! رَبِحَ الْبَیْعُ یَااَ بَا الدَّحْدَاحِ۔ ’’ابو دحداح !آپ نے بڑا ہی منافع بخش سودا کیا ہے۔‘ ‘

    انہوں نے کہا:اب باغ میں داخل نہ ہونا۔ بڑا ہی فائدہ مند سودا ہوا ہے،جنت میں ایک درخت،جس کے نیچے گھڑسوار ۷۰؍ برس چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ ام دحداح نے بچوں کو پکڑا ،ان کی جیبوں کو ٹٹولا،جو کچھ ان میں تھا ان کو نکالا ،کہا: اب یہ رب کا ہوگیا ہے۔ ہمارا نہیں،اور خالی ہاتھ باغ سے باہر نکل آئیں۔

         ابودحداح اور ام دحداح رضی اللہ عنہم کا یہ اقدام،یہ کارنامہ کوئی معمولی نہیں۔اللہ کے رسول کی خواہش اورجنت کے ایک درخت کے لیے دنیا کا اپنا سارااثاثہ لٹادیا۔ آباد گھر، مثالی باغ، میٹھے پانی کاکنواں اورسب کچھ وقف فی سبیل اللہ کرکے، ہمارے لیے مثالیں قائم کرگئے ۔ اسے کہتے ہیں: حقیقی محب، محب ِصادق،عاشق رسول، اللہ کے رسول سے عشق اورمحبت کرنے والے۔ابو دحداح اور ام دحداح رضی اللہ عنہم!آپ دونوں پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہو۔ آج ہم اپنے حالات دیکھیں اورتصورکریں کہ انھوں نے کتنی بڑی قربانی اور ایثار کا مظاہرہ کیاہے۔یہ صرف اس لیے کہ ان کا ایمان ویقین کامل تھا،اللہ اور اس کے رسول ﷺکے فرمان میںانھیں کوئی تذبذب ،شک اورشبہ کا معاملہ نہ تھا۔سچ کہا ہے کسی شاعرنے؎

جس  کو  دنیا  کی  حقیقت  کا  پتہ  ہوتا  ہے

اس  کے  جینے  کا   سلیقہ  ہی  جدا   ہوتا  ہے

٭٭٭