عقیدہ ٔ توحید اسلام کا سب سے پہلا اوراہم ترین بنیادی عقیدہ ہے۔یہ صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانے کا واحد ذریعہ ہے۔اللہ جل شانہ پراعتماد ویقین اورتوکل وبھروسہ میں تمام مشکلات کا حل اورہرآفات وبلیات میںراہِ نجات ہے۔عقیدۂ توحید انسان کو بلا کاجری،بے خوف اوربے خطربنادیتاہے۔کیوں کہ یہ بات اس کے دل میں راسخ ہوجاتی ہے کہ وہی کارسازہے،وہی ہمارا مددگارہے،وہی حامی وناصرہے،وہی رزق کا دینے والا ہے،عزت وذلت اسی کے دست قدرت میں ہے؎
مرا ہر غم مٹانے کو مرا اللہ کافی ہے مری بگڑی بنانے کو مرا اللہ کافی ہے
لہومیرے جگرکا ہے اسی کے فضل سے جاری اسی کی مہربانی سے ہے سانسوں کی رواداری
میرا جیون سجانے کو میرا اللہ کافی ہے
وہی گلشن سجاتا ہے وہی سبزہ اگاتا ہے اناجوں کا شجر اس کے کرم سے لہلہاتا ہے
مجھے کھانا کھلانے کو میرا اللہ کافی ہے
وہی دریا میں موسیٰ کے لیے رستہ بناتا ہے وہی یونس کو مچھلی کے شکم میں بھی بچاتا ہے
ہر اک منظر دکھانے کو میرا اللہ کافی ہے
اللہ رب العزت کی عبادت وبندگی میں محبت والفت کی چاشنی اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی ،جب تک بندے کو اپنے خالق کی حقیقی معرفت حاصل نہ ہو،اسی لیے اللہ نے جگہ بجگہ اپنے کلام مقدس میں ایسے ارشادات فرمائے ہیں،جس سے اس کی عظمت و شان ،معرفت وپہچان اورقرب وکرم نوازی کا پتہ چلتا ہے۔بلکہ کائنات کی جس شئی پرنظر ڈالی جائے تو اللہ جل شانہ کے وجود کا جلوہ نظر آئے گااورہرعقل سلیم رکھنے والا یہ تسلیم کرنے پرمجبور ہوگا کہ کوئی تو ایسی ہستی توجو اتنے نظم وضبط سارے عالم کوچلارہی ہے۔اسی ہستی کانام اللہ ہے ۔کسی فارسی کے شاعر نے خوب کہا ہے؎
ہر گیا ہے کہ از زمیں روید
وحدہ لا شریک لہ گوید
(یعنی:زمین سے اگنے والا ہرپودا اورگھاس کا ہرتنکا،اللہ کی وحدانیت اورپاکی کی گواہی دیتا ہے۔)
جب دنیاکے سارے در بند ہو جائیں۔ جب لوگ ساتھ چھوڑ جائیں۔ جب حالات بے قابو ہو جائیں۔ہرطرف اندھیرا ہی اندھیرانظر آئےتو بس یہ ایک جملہ کہواوراسی سے لَولگاؤ:حَسْبُنَااللهُ وَنِعْمَ الوَکِیْل،ہمارے لیے اللہ کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے!( آلِ عمران :۱۷۳)اور دیکھو کہ تمہارا رب کس طرح تمہارے لیے کافی ہو جاتا ہے! وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔وہ پردے کے پیچھےسے مدد کرتا ہے۔ وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے یہ کلمہ صرف الفاظ نہیں۔یہ ایک ایسا یقین ہے جو بندے کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔اس لیے اس وظیفے کو حرزجاں بنائیے،اس یقین کوکامل کیجیے،اس عقیدے میں پختگی پیداکیجیے کہ:حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الوَکِیْل۔
مگرافسوس!مسلم خاندانوںمیں پیدا ہونے والے آج ایسے نوجوان بھی سامنے آرہے ہیں ،جنھیں وجود باری تعالیٰ پر شک ہے،بلکہ بعض تو ڈھٹائی کے ساتھ انکاری ہوکر الحادودہریت(Atheism / Materialism) کی گود میں جابیٹھے ہیں۔آئیےہم وجودباری تعالیٰ کواپنے اسلاف اوربزرگوں کے ذریعہ سمجھنے کی کوشش کریں۔
وجود باری تعالیٰ پر چند اقوال:
ہمارے اکابر، اسلاف اور بزرگوں نے ہر دور میں مسئلہ توحید سمجھانے کے لیے روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سمجھانے کی پوری پوری کوشش فرمائی ہے۔ جب بھی اسلاف سے توحید کے متعلق سوالات کیے گئے تو اللہ تبارک نے مخالفین کے حالات کے اعتبار سے ان کے دل میں ایسی مثالیں ڈالیں جو بیان کرنے کے بعد بہت ہی مؤثر ثابت ہوئیں اور ہدایت کا ذریعہ بنیں۔ اس طرح کے واقعات تو بہت زیادہ ہیں، لیکن ہم یہاں چند نمونے کے طور پر ذکر کر رہے ہیں، جن میں ابھی تک افادیت اور تاثیر کی خوشبو مہک رہی ہے :
- اہلِ بیت اطہار اورعالم اسلام کی مشہور شخصیت حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک زندیق ملحد آیا اور صانع و خالق کا انکار کرنے لگا۔ امام نے اس کو سمجھانے کی غرض سے سوال کیا کہ: تم نے کبھی سمندر کا سفر کشتی پر کیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: جی ہاں ، پھر امام نے پوچھا کہ: کیاتونے سمندر کے خوفناک حالات کابھی کبھی مشاہدہ کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پھر امام نے فرمایا: کیسے؟ ذرا تفصیل تو بتائیں؟ اس شخص نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ: ایک دن سمندری سفر کے دوران سخت خوف زدہ طوفانی ہوا چل پڑی، جس کے نتیجہ میں کشتی بھی ٹوٹ گئی اور ملاح بھی ڈوب کر مرگئے۔ میں نے ٹوٹی ہوئی کشتی میں سے ایک تختہ کو پکڑا، لیکن بالآخر سمندری موجوں کی وجہ سے وہ تختہ بھی مجھ سے چھوٹ گیا، بالآخر سمندری موجوں نے مجھے کنارے تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: پہلے تو سمندری سفر کے دوران سمندری پانی سے گزرنے کے لیے کشتی پر اعتماد کرکے سوار ہوا اور ساتھ ساتھ ملاحوں پر بھی اعتماد کیا، لیکن جب یہ دو نوں ختم ہو گئے تو کشتی کے ایک تختہ پر اعتماد کرکے اپنے آپ کو بچانے کے لیے تو نے اس پراعتماد کیا، یہ جب سارے سہارے ختم ہوئے تو، تونے اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے تیار کرلیا۔ اس پر حضرت جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: کیا تونے اس کے بعد سلامتی کی تمنا کی؟ کہا کہ: جی ہاں، حضرت امام نے فرمایا کہ: اس درد ناک حالت میں سلامتی کی امید کس سے رکھی؟ وہ شخص خاموش ہوگیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ: اس خوفناک حالت میں تونے جس سے سلامتی کی اُمید رکھی، یہ ہی تو صانع وخالق ہے، جس نے تجھے غرق ہونے سے بچایا۔ یہ سن کر وہ آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا۔ واہ کیا ہی سمجھانے کا انداز ہے ۔ (التفسیر الکبیر، ج: ۱، ص: ۳۳۳)
- امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ایک دن اپنی مسجد میں تشریف فرما تھے، دہریوں کے خلاف آپ ننگی تلوار تھے، ادھریہ لوگ آپ کو فرصت کا موقع پاکر قتل کرنے کے در پے رہتے تھے۔ ایک دن دہریہ لوگ تلوار یں تان کر جماعت کی شکل میں امام ابوحنیفہ کے پاس آدھمکے اور وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ: میں اس وقت ایک بڑی سوچ میں ہوں، لوگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ایک بہت بڑی کشتی جس میں طرح طرح کا تجارتی سامان ہے، مگر نہ کوئی اس کا نگہبان ہے نہ چلانے والا ہے، مگر اس کے باوجود برابر آجا رہی ہے اور بڑی بڑی موجوں کو خود بخود چیرتی، پھاڑتی گزر جاتی ہے، رُکنے کی جگہ پر رُک جاتی ہے اور چلنے کی جگہ پر چلنے لگتی ہے، نہ کوئی ملاح ہے، نہ منتظم۔ سوال کرنے والے دہریوں نے کہا کہ: آپ کس سوچ میں پڑ گئے؟ کوئی عقلمند انسان ایسی بات کہہ سکتا ہے کہ اتنی بڑی کشتی نظام کے ساتھ طوفانی سمندر میں آئے جائے، اور کوئی اس کا نگران اور چلانے والا نہ ہو؟! حضرت امام صاحب ؒ نے فرمایا کہ: افسوس تمہاری عقلوں پر کہ ایک کشتی تو بغیر چلانے والے کے نہ چل سکے، لیکن یہ ساری دنیا آسمان وزمین کی سب چیزیں ٹھیک اپنے اپنے کام پر لگی رہیں اور اس کا مالک حاکم اور خالق کوئی نہ ہو؟ یہ جواب سن کر وہ لاجواب ہو گئے اور حق معلوم کرکے اسلام لائے۔ (التفسیر الکبیر، ج:۱، ص: ۳۳۳۔ تفسیر ابن کثیر، ج:۱، ص:۵۹۔ الخیرات الحسان، ص: ۷۹)
- حضرت امام اعظم ابو حنیفہ سے ہی ایک بار وجودِ باری تعالیٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ: تم نے یہ نہیں دیکھا کہ والدین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ لڑکا پیدا ہو، لیکن اس کے برعکس لڑکی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح بعض اوقات والدین کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ لڑکی پیدا ہو، لیکن اس کے برعکس لڑکا پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی ایسی ذات ہے جو والدین کی خواہش کی تکمیل میں مانع ہے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ یہ وہی ذات ہے جس کو ہم اللہ تبارک تعالیٰ کہتے ہیں۔ (التفسیر الکبیر، ج:۱، ص: ۳۳۳)
- امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ہارون رشید نے پوچھا کہ: اللہ تعالیٰ کے وجود پر کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا: زبانوں کا مختلف ہونا، آوازوں کا جدا ہونا، لب ولہجہ کا الگ ہونا، ثابت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہے۔ (التفسیر الکبیر، ج:۱، ص: ۳۳۴۔ ابن کثیر، ج: ۱، ص: ۵۸)
- امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا:” اس کائنات کو بنانے والا کوئی ہے؟“ انہوں نے جو اب میں فرمایا :” شہتوت کا پتہ جس کا ذائقہ ایک ہے؛لیکن اگرریشم کا کیڑا اسے کھائے تو اس سے ریشم نکلتاہے۔اگر شہد کی مکھی کھائے تواس سے شہد نکلتاہے۔اگرگائے، بکری اوردیگر چوپائے اس اپنے پیٹ میں ڈالیں تو یہ گوبر اورمینگنی کی صور ت میں باہر نکلتاہے۔ہرن کھالے تو مشک نکلتاہے؛حالاں کہ چیز ایک ہی ہے؛مگرصورتیں مختلف بن رہی ہیں۔“کیا یہ اس امر کی صاف دلیل نہیں کہ ایک ہی پتے میں مختلف خواص پیدا کرنے والا کوئی ہے؟، اور اسی کو ہم اللہ تبارک تعالیٰ کہتے ہیں، وہ ہی موجد اور صانع ہے۔ (التفسیر الکبیر، ج:۱ ، ص:۳۳۳۔ ابن کثیر، ج: ۱، ص: ۵۷)
کسی عرب کے دیہاتی شخص سے وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں سو ال کیا گیا تو اس نے کہا کہ: ’’یَا سُبْحَانَ اللّٰہِ اِنَّ البَعْرَۃَ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ‘‘ زمین پر پڑی ہوئی مینگنیاں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہاں سے اونٹ گزر گیا ہے۔ ’’وَإِنَّ اَثَرَ الأَ قْدَامِ یَدُ لُّ عَلَی المَسِیْرِ‘‘ زمین پر پائوں کے نشانات سے کسی آدمی کے گزرنے کا پتہ چلتا ہے۔ ’’وَالْرَّوْثُ عَلَی الْحَمِیْر‘‘ لید سے گدھے کا پتہ چلتا ہے۔ ’’فَسَمَائٌ ذَاتِ الْأَبْرَاجِ وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجِ وَبحَارٌ ذَاتُ الْأَمْوَاجِ، أَلاَ یَدُلُّ عَلٰی ذٰلِکَ؟‘‘ تو کیا برجوں والا آسمان، اور راستوں والی زمین، اور موج مارنے والے سمندر، اللہ تعالیٰ باریک بین اور خبردار کے وجود پر اور توحید پر دلیل نہیں بن سکتے؟ ۔ ( التفسیر الکبیر، ج: ۱، ص: ۳۳۴۔ تفسیر ابن کثیر، ج: ۱، ص: ۵۹)
امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ ایک مفسر،فقیہ اوراصولی عالم تھے۔انھوں نے توحید کے موضوع پر قرآن کی تین سو ساٹھ آیات منتخب کی تھیں ، ایک دن وہ چرخہ کاتنے والی بڑھیا کے پاس سے گزرے تو خیال آیا کہ پتہ کرنا چاہئے کہ یہ بڑھیا اللہ کی توحید تک کیسے پہنچی ہو گی ،،
امام رازی نے سلام دعا کر کے بڑھیا سے پوچھا کہ اماں! آپ اللہ پر ایمان رکھتی ہیں ؟ اس نے کہا: کیوں نہیں بیٹا،آپ نے پوچھا :تجھے کیسے پتہ چلا کہ اللہ واقعی موجود ہے ؟ بڑھیا نے کہا کہ’’ بیٹا! مجھے میرے اس چرخے نے بتایا ہے کہ اللہ موجود ہے ‘‘۔امام رازی یہ سن کر دنگ رہ گئے ، پھرپوچھا: اماں! چرخے سے خدا کا وجود کیسے ثابت ہوا ؟ وہ بولی بیٹا میں صبح سے شام تک چرخہ چلاتی ہوں، جب ہاتھ روکتی ہوں تو یہ رک جاتا ہے ، اگر یہ چھوٹا سا چرخہ خود بخود نہیں چل سکتا، توپھر اس نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا ،اتنا بڑا چرخہ خود بخود کیسےچل سکتا ہے ؟ ۔امام رازی کی دل چسپی اوربڑھی ،پوچھاکہ آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ یہ چرخہ چلانےوالا اکیلا ہے ، دو بھی تو ہو سکتے ہیں ؟ بڑھیا نے کہا:بیٹا یہ بات بھی مجھے میرے چرخے نے بتائی ہے، میرے چرخے کو تم اپنے طریقے سے چلاؤ اور میں اپنے طریقے سے چلاؤں تو یہ چلنے کی بجائے ٹوٹ جائے گا ، یہ تبھی تک ٹھیک چلے گا جب تک اس کو ایک ہاتھ چلائے گا ، پھر اتنا بڑا چرخہ دو خدا مل کر چلائیں گے تو وہ تباہ ہو جائے گا کیونکہ ہر الٰہ اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہے گا ۔ امام رازی کو قرآن کی آیت یاد آ گئی:’’ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا ۚ فَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (الانبیا:۲۲) اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اورمعبود ہوتے تو ضرور آسمان و زمین تباہ ہوجاتے تولوگوں کی بنائی ہوئی باتوں سے اللہ پاک ہے جوعرش کا مالک ہے۔
دوسری جگہ ارشادفرماتا: مَا اتَّخَذَ اللهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا کَانَ مَعَہُ مِنْ إِلَہٍ إِذًا لَذَھَبَ کُلُّ إِلَہٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَابَعْضُھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا یَصِفُونَ ( المومنون:۹۱)نہ تو اللہ کا کوئی بیٹا ہے ، اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود اس کائنات میں شریک ہے ، اگر کچھ اور معبود ہوتے تو تمام معبود اپنی اپنی پیدا کردہ مخلوق کو لے کر دوسرے معبود پر حملہ آور ہو جاتے، اللہ پاک ہے ان معبودوں کی شراکت سے جویہ اللہ سے متعلق بیان کرتے ہیں ـ۔
خواجہ نجم الدین کبری امام فخر الدین رازی کے پیرومرشد ہیں۔امام رازی پرنزع کے وقت شیطان نے خدا کے وجود طلب کی ،آپ نے دلائل کے انبارلگادئیے مگرشیطان اپنے علم سے کاٹتا چلا گیا،اب سخت بے بسی اوراس نازک موقع پر خواجہ نجم الدین نےکشف کے ذریعے جانا کہ شیطان امام رازی پر نزع کے وقت حملہ آور ہے۔خواجہ صاحب نے بذریعہ کشف وہیں سے کہا’’رازی تو چرانمی گوئی کہ من خدا را بلا دلیل می شناسم (تو یہ کیوں نہیں کہتا ہے کہ میں خدا کو بغیر دلیل مانتاہوں)‘‘۔امام فخر الدین رازی نے جب اپنے پیر کی آواز سنی تو فورا کہا ’’شیطان میں خدا کو بغیر دلیل مانتا ہوں‘‘۔ (امام رازی، عبد السلام ندوی، ص:۸)
یا یوں کہہ لیں کہ انھوں نےکہاکہ’’ میں ایمان لایا اپنے رب پر نیشاپور کی سوت کاتنے والی بُڑھیا کی طرح‘‘ ـ
حضرت امام رازی کے اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہم خدا کے وجود کے بارے میں اتنا غور کریں کہ وجدان کی سطح پر خالق کے وجود پرہمارا یقین ،حق الیقین اورعین الیقین کی سطح پر پہنچ جائے۔جولوگ یہ کہتے ہیں کہ بےدیکھے خدا کومانناعجیب ہےتو وہ غورکریں انھیں خدا کو نہ ماننا اس سے زیادہ عجیب لگے گا۔بہت خوب کسی نے کہا ہے؎
تو دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا
میں جان گیا بس تیری پہچان یہی ہے