لفظ’’ اللہ‘‘  کی عظمت وشان

         لفظ ’’اللہ‘‘ اللہ جل شانہ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اسی کے لیے مخصوص ہے۔ پوری کائنات میں کوئی اور اس نام سے نہ جانا جاتااورنہ ہی کسی کا یہ نام رکھا جاتا ہے۔اس لیے ’’عبداللہ ‘‘نام تونظرآتا ہےلیکن ’’اللہ ‘‘نام والا کوئی بندہ نہیں مل سکتا۔اس لیے ’’اللہ ‘‘صرف خالق ومالک اوررب کائنات کا نام ہے۔اسی طرح ہم اپنے پروردگارکو اللہ تعالیٰ کہیں گے،اللہ جل شانہ کہیں گے،اللہ عزوجل کہیں گے،اللہ سبحانہ تعالیٰ کہیں گے ،اللہ رب العزت کہیں گےمگر’’اللہ میاں ‘‘ہرگزنہیں کہہ سکتے۔کیوں کہ یہ ’’میاں‘‘بندوں کے لیے استعمال ہوتاہے۔ہمارے بہار، جھارکھنڈ کے علاقے میں جمن میاں ،جمعراتی میاں ،شبراتی میاں ،رمضانی میاں ایک عام دیہاتی ،کم پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔کبھی کبھی تضحیک وتمسخرکے لیے بھی یہ استعمال ہوتاہے،جیسے جاؤمیاں،ہٹومیاں ، کھسکو میاں،بھاگومیاں۔ہاں !یہ دوسری بات ہے کہ اترپردیش کے علاقے میں یہ لفظ ’’میاں ‘‘ادب واحترام کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے،جیسے سادات کرام کے لیے ،پیرصاحبان کے لیے ،کسی بزرگ اوربڑی ہستیوں کے لیےکہ بولاجاتا ہے کہ یہ میاں صاحبان ہیں۔لیکن بہرحال !بندہ کتنی ہی شان والا ہومگر بندہ ،بندہ ہے اوراللہ ،اللہ ہے۔اس لیے علمائے اہل سنت کا اس پراجماع ہے کہ’’ اللہ میاں‘‘ کہنا ناجائز ونارواہے۔یوں بھی یہ زنانہ جملہ ہے جسے بعض فرقوں کے مولویوں نے بھی اپنالیا ہے۔

         اسی طرح یہ نام’’اللہ ‘‘ اپنی تحریرکے اعتبار سے بھی نہایت خوبصورت اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بلندی و عظمت پر دلیل ہے کہ اس کےتمام حروف اوپر کی جانب اٹھتے ہیں۔

          لغوی معنی:اس لفظ کی اصل’’  اَل اِلٰہ  ‘‘ ہے اور عربی لغت میں یہ نام چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

  1. المعبود:  جس کی عبادت کی جاتی ہے۔
  2. الملجاء: جس کی پناہ لی جاتی ہے۔
  3. المفزوع الیہ: گھبراہٹ میں جس کی مدد حاصل کی جاتی ہے۔
  4. المحبوب: وہ ہستی جس سے سب سےبڑھ کر محبت کی جائے۔

         لفظِ اللہ کے خصائص:

         یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا اسمِ اعظم ہے۔حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ(م:۵۰۵ھ ) اپنی شہرۂ آفاق تصنیف’’ المقصد الاسنیٰ فی شرح اسماء اللہ الحسنیٰ ‘‘میں فرماتے ہیں: جان لو یہ نام ۹۹؍ناموں میں سب سے زیادہ عظیم ہے کیونکہ اس ذاتِ الٰہیہ پر دلالت کرتا ہے، جو تمام صفاتِ الٰہیہ کو جمع کرنے والی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی صفت بھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔

         تمام اسماء الحسنٰی کی نسبت اسی نام اللہ کی طرف جاتی ہے” وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا”اور بہت اچھے نام اللہ ہی کے ہیں تو اسے ان ناموں سے پکارو(الاعراف:۱۸۰)

  • قرآن کریم میں جو نام سب سے زیادہ آیاہے وہ یہی ہے، یعنی تقریباً ۲۷۰۰ ؍مرتبہ لفظ’’ اللہ ‘‘قرآن میں آیا ہے۔
  • تمام امتیں اس نام اللہ کو جانتی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرتیں۔
  • نماز کے ہر رکن میں یہ نام لیا جاتا ہے تکبیرِ تحریمہ سے سلام تک۔شروعات اللہ اکبر سےتوتکمیل السلام علیکم ورحمۃ اللہ پر۔

اسی طرح دن کے مختلف اوقات میں صبح سے رات تک یہی اسمِ جلالہ بار بار لیا جاتا ہے: 

 صبح جاگتے وقت: “اَلْحَمْدُلِلہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرُ ” تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا ہےاور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

  • اچھی چیز کو دیکھ کر:  سُبْحَانَ اللہ
  • چھینک کے وقت:   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
  • چھینک کا جواب:  یَرْ حَمُکَ اللّٰہ

         جواب سُن کر چھینکنے والاکہے: یَغْفِرُاللّٰہُ لَنَا وَ لَکُمْ (یعنی اللہ ہماری اور تمہاری مَغفِرت فرمائے) یا کہے :یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (یعنی اللہ ّ تمہیں ہِدایت دے اورتمہارا حال دُرُست کرے)

  • بلندی کی طرف جاتے ہوئے:  اَللہُ اَکْبَر
  • نیچے کی طرف آتے ہوئے:  سُبْحَانَ اللہ

سوتے وقت: اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَ اَحْیَا: ’’اے اللہ! میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں‘‘(یعنی سوتا اور جاگتا ہوں)

         اسمِ اللہ جلالہ کے برکات:

         روزمرہ کی زندگی میں یہ مختصر اور چھوٹی چھوٹی دعاؤں کوکوئی معمولی نہ سمجھا کرے،ان دعاؤں کےبے شمار فائدے ہیں۔ یہ انسان کو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی پناہ میں رکھتی ہیں،یہ مختصر دعائیں زبان پر جاری ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی میں برکت، ذہنی سکون، اور ناگہانی آفات سے حفاظت کا باعث بنتی ہیں۔یہ دعائیں اللہ کے حضور ہماری عاجزی کو ظاہر کرتی ہیں، جس سے دل کو حقیقی اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ان دعاؤں کے ذریعہ بندے کے دل میں عشق الٰہی کی شمع روشن ہوجاتی ہے ،اللہ جل شانہ کا قرب حاصل ہوتا ہےاوروہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ یہ نام صرف نام ہی نہیں بلکہ رب کی پہچان بھی ہے اور ہمارے دل و روح کی زندگی بھی۔ ان چھوٹی چھوٹی دعاؤں کے ذریعہ ہماری زبان ذکرالہٰی سے تر رہتی ہےاورقلب وروح میں محبت الٰہی کی حلاوت پیدا ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں:

▫    گھر میں داخل ہوتے وقت’’بسم اللہ ‘‘ کہا جائے تو شیطان گھرمیں ساتھ داخل نہیں ہوسکتا۔

▫    جس کھانے پر ’’بسم اللہ ‘‘پڑھ لیا جائے، شیطان اس میں شامل نہیں ہوسکتا۔

▫    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جُمدان کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: ”چلتے رہو، یہ جُمدان ہے۔ ” سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ ”   مفردون (لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے) بازی لے گئے،   قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟    لوگوں نے پوچھا: یارسول اللہ! مفردون سے کیا مراد ہے،یہ کون لوگ ہیں؟  قَالَ: “الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ‘‘  فرمایا: ”کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے (مرد) اور اللہ کو یاد کرنے والی (عورتیں)۔“ [صحيح مسلم/کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار / حدیث: ۶۸۰۸ ]

         تکلیف کے وقت’’ بسم اللہ‘‘ کہنے سے تکلیف دور ہو جاتی ہے۔کتابوں میں ایک روح پرور واقعہ ’’قیصرِ روم‘‘کے حوالے سے ملتا ہے کہ ایک دفعہ اسے شدید سر درد کی شکایت ہوئی ،اطبا اور دوائیں بیکار ہوگئیں ۔ اس نےامیرالمومنین سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط بھیجا کہ میرے پاس دوا بھیجیں، کیونکہ میرے سر میں شدید درد رہتا ہے۔ حضرت عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے علاج کے لیے کوئی دوا نہیں بھیجی، بلکہ ایک ٹوپی (یا خط) بھیجا جس پر ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘لکھا ہوا تھا۔جب قیصرِ روم نے وہ ٹوپی سر پر رکھی، تو بسم اللہ کی برکت سے اس کا درد اسی وقت جاتا رہا۔ لیکن جب وہ ٹوپی اتارتا، تو درد دوبارہ شروع ہو جاتا۔ اس بات سےاسے سخت حیرت ہوئی اور بعض روایات کے مطابق اس نے اس کلام کی برکت اور عظمت کو تسلیم کیا۔

              یہ واقعہ اللہ کے نام (بسم اللہ) کی برکت، شفا اور عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے مختلف اسلامی کتب ،تاریخ اور تفسیر (تفسیرِ روح المعانی وغیرہ) میں بطورِ مثال ذکر کیا گیا ہے۔اس تاریخی اور روایتی واقعہ کی اسنادپرتوکلام کیا جاسکتا ہے، تاہم اسلامی تعلیمات میں شفا کے لیے اسم اللہ کے برکات کاسہارا لینا، ایک آزمودہ ،مجرب اور امت کااجماعی عمل رہاہے،جس کاانکارممکن نہیں۔

          اللہ جل شانہ کی عظمت وشان:چندقرآنی آیات کی روشنی میں:

         اب قرآن پاک کی چند آیات کریمہ پیش کی جاتی ہیں ،جس کی روشنی اللہ جل شانہ کی عظمت وشان اوراس کی قدرت کاملہ کوسمجھنے کا موقع ملےگا اور ایمان کو پختگی اورتقویت حاصل ہوگی۔

         ۱۔  هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (الحشر :۲۲)وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، ہر عیاں اور نہاں کاجاننے والا، وہی نہایت مہربان، بہت رحمت والاہے۔

         ۲۔  هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَج اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُط سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ( الحشر :۲۳)وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک ، سلامتی دینے والا ، امان بخشنے والا ، حفاظت فرمانے والا، عزت والا عظمت والا، تکبر والا ،اللہ ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔

         ۳۔  هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ط یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ج   وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (الحشر:۲۴)وہی اللہ بنانے والا، پیدا کرنے والا، ہر ایک کو صورت دینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں ۔ آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز اسی کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی بہت عزت والا،بڑا حکمت والا ہے۔

         ۴۔ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰهُ ط(الرعد:۱۶)تم کہو: آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے؟ آپ (ﷺ) خود ہی کہہ دیجیے:’ ’اللہ ‘‘ہے۔

         ۵۔  قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰهُ(سبا؛ ۲۴)تم کہو :کون ہے جو تمہیں آسمانوں اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟آپ خود ہی کہہ دیجیے: ’’اللہ ‘‘ہے۔

         ۶۔  وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ  ج فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(العنکبوت:۶۱)

         اور اگر تم ان سے پوچھوکہ آسمان اور زمین کس نے بنائے اورسورج اور چاند کو کس نے کام میں لگایا تو ضرور کہیں گے: ’’ الله نے‘‘

         ۷۔  وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ ط (العنکبوت:۶۳)اور اگرتم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی اُتارا پھر اس کے ذریعے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا؟ ضرور کہیں گے :’’ الله نے‘‘۔

         ۸۔  اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ (الروم :۱۱) اللہ مخلوق کو پہلی بار پیدا فرماتا ہے پھر (وہی) اسے دوبارہ پیدا فرمائے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

         ۹۔اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ط هَلْ مِنْ شُرَكَآىٕكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ (الروم:۴۰)الله ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیاپھر تمہیں روزی دی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔

         ۱۰۔ اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِط (السجدہ:۴)الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے سب کچھ چھ دن میں بنایاپھر عرش پر استواء فرمایا (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)

         اسم’’اللہ ‘‘کے ہرلفظ کامعنوی حسن:

         لفظ’’ اللہ ‘‘ اپنے دامن دراز میں بےشمار حکمتیں اور مصلحتیں چھپائے ہوئے ہے۔ان میں سے ایک حکمت اس اسم ذات کی ترکیب لفظی میں بھی پنہاں ہے۔اگرلفظ ’’اللہ ‘‘سے کوئی حرف حذف کر دیں تو بقیہ حروف پھر بھی ذات باری تعالیٰ کی نشان دہی کے لیےاپنا معنی برقرار رکھتے ہیں۔مثلاً لفظ ’’اللہ ‘‘” کا پہلا حرف’’ الف ‘‘گرا دیا جائے تو باقی’’ للہ‘‘ رہ جائے گا جس کا معنی ہے’’ اللہ کےلیے‘‘۔ اگر دوسرا حرف’’ لام ‘‘حذف کر دیں اور پہلی ’’الف‘‘ کو بحال کر لیں تو’’ الٰہ ‘‘ بن جاتا ہے جس کا معنی ہے’’معبود‘‘۔اگر پہلے دونوں حرف ’’الف ‘‘اور’’لام ‘‘حذف کر لیں تو پھر’’لہ ‘‘رہ جاتا ہے جس کا معنی ہے’’ اس کےلیے‘‘۔اگر تینوں’’حروف حذف کر دئیے جائیں تو’’ہ‘‘ رہ جائے گا‘‘ جو ہر دم اس مولا کی نشاندہی کرتا ہے اور’’ھو‘‘(وہ) کے معنی میں ضمیر استعمال ہو گا۔ گویا’’ اللہ ‘‘ایک ایسا لفظ ہے جو ہر اعتبار سے ذات حق پر معنوی دلالت کرتا ہے۔اس لفظ کی ترکیب لفظی کے حسن کا یہ عالم ہے کہ اس کا کوئی حصہ بھی بےمعنی نظر نہیں آتا۔گویا اسم ذات بھی ذات باری تعالیٰ کی طرح ہر ہر اعتبار سے مکمل و اکمل ہے۔

         یہی وجہ ہے کہ تصوف کی کتابوں اورصوفیہ کے عمل میں اسمِ اللہ کے ہرہرلفظ کی بڑی اہمیت نظر آتی ہے۔ جب بھی لفظ ’’اللہ‘‘ سے کوئی بھی حرف الگ ہوتا ہے، تو اس کے صوفیانہ معنی اور گہرائی بدل جاتی ہے۔ ہر حرف کے حذف ہونے سے ایک نیا اور جدا روحانی مفہوم اخذ کیا جاتا ہےاوراسےصوفیائے کرام وظائف واذکار میں شامل کرتے ہیں۔

         معلوم ہوا کہ بے شک !اللہ ہی ہے جو واحد بھی ہے اوراحد بھی۔

         اللہ ہی ہے جس کے سوا کسی کے الٰہ ہونے کا شائبہ بھی نہیں۔

         اللہ ہی آسمان وزمین اورکل کائنات کا خالق ومالک ہے۔

         اللہ ہی کےقبضے میں آسمان وزمین کے تمام خزینے ہیں۔

         اللہ ہی ہے جو دلوں میں چھپی ہوئی اورسینوں میں ڈھکی ہوئی باتوں کوجانتا ہے۔

         اللہ ہی ہےجوتحت الثریٰ اور فوق ثریا کے غیوب کوازخودجاننے والا ہے۔

         اللہ ہی ہے کہ جس کی تسبیح وتحمید میں ہرشئی لگی ہوئی ہے۔

         اللہ ہی ہے جسے کائنات کی ہرشئی سجدہ کرتی ہے۔

         اللہ ہی ہے جو قلوب کا مطلوب اورارواح کی جان ہے۔

         اللہ ہی ہے جو دعاؤں کو سنتا اورمرادیں بخشتا ہے۔

         اللہ ہی ہے کہ سارا عالم جس کے نظام سے بندھاہے۔

         اللہ ہی ہے جو طالبوں کو بلاتا اورسالکوں کوراہ دکھاتا ہے۔

         وہ اللہ ہی ہے کہ سارے جن وملائکہ،ولی وشہید،نبی ورسول اس کے بندہ ہیں،اسی کے حکم کےآگے سبھی نے سرِ تسلیم خم کررکھاہے۔ان سب کا بھروسہ وسہارااوراعتماد وتوکل اللہ ہی کی ذات پاک پر ہوا کرتا ہے۔وہ اللہ ہی ہے جس کی ذات ’’رحمٰن‘‘ اور’’رب العالمین‘‘ہے،اور اس نے ہمارے آقاومولا حضرت محمدمصطفےٰ ﷺ کوبھی ’’رحمۃ للعالمین ‘‘بناکر اس عالم میں بھیج دیا ہے؎

یارب   تو  کریمی  و  رسول  تو  کریم

   صد  شکر  کہ  ہستیم  میان  د و  کریم

         فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِطوَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(الجاثیہ:۳۶۔۳۷)  تو اللہ ہی کے لئے سب خوبیاں ہیں جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب ، سارے جہان کارب ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیےبڑائی ہے اور وہی عزت و الا،حکمت والا ہے۔

         اسم’’ اللہ ‘‘جل شانہ کا ایک قیمتی وظیفہ:

         جو شخص روزانہ ایک ہزار مرتبہ ’’یااللہ‘‘ کا وظیفہ پڑھے گا ،اس کے دل سے تمام شبہات دور ہوجائیں گے اورعزم ویقین کی قوت نصیب ہوگی ،جولاعلاج مریض کثرت کے ساتھ ’’یااللہ ‘‘کا وظیفہ جاری رکھے اور اس کے بعد شفا کی دعا مانگے ،اس کو شفائے کاملہ نصیب ہوگی۔(حصن حصین) اللہ کریم اپنی محبت میں زندہ رکھے اور اسی میں موت دے۔ آمین                           

٭٭٭

                                                                                                                                                    سید سیف الدین اصدق چشتی

                                                                                                                                                                                                                  آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف،نالندہ(بہار)

                                                                                                                       بانی وسرپرست: تحریک پیغام اسلام جمشیدپور(جھارکھنڈ)