’’تدبر قرآن‘‘ کی اہمیت وفضیلت

         قرآن پوری انسانیت کا ہادی و رہبر اور زندگی کا نور و دستور ہے، انسانی ضروریات کی ساری تفصیلات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کے اندر وضاحت کے ساتھ یا اشارے و کنائے میں بیان کر دیا ہے خواہ کسی کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔

         اسی لئے صحابہ کرام اور تابعین قرآن کو پڑھنے یاد کرنے اس کی آیات کو سمجھنے، غور و فکر کرنے اور ان پر عمل کرنے کا خاص اہتمام کرتے تھے، یہی حال اور یہی معمول دیگر تمام سلف صالحین کا تھا. بعد کے زمانے میں جس قدر امت کے اندر کمزوری آتی گئی قرآن کے ساتھ اس خاص تعلق و اہتمام سے لوگ دور ہوتے چلے گئے اور اکثر مسلمان قرآن کو بلا سمجھے صرف تلاوت کرنے اور تجوید کے ساتھ یاد کرنے کی طرف توجہ دینے لگے جس کے نتیجے میں لوگوں نے قرآن پر عمل کرنا ترک کر دیا یا عملی زندگی میںبہت زیادہ کمی اور کوتاہی در آئی حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نازل فرمایا اور ہمیں اس میں غور و فکر کا حکم دیا اور خود اس کی حفاظت کی ذمے داری لی لیکن ہم قرآن کو صرف حفظ کرنے میں مصروف ہو گئے اور اس ميں غور و تدبر کرنا چھوڑدیا۔

         واضح رہے یہاں یہ پیغام دینا مقصود نہيں ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے اسے تجوید کے ساتھ پڑھنے اور تلاوت کرنے کو ترک کر دیا جائے، بلاشبہ یہ بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، بلکہ یہاں یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ ایک طرف حفظ و تجوید کی رعایت کرتے ہوئے غور و فکر کے ساتھ تلاوت کی جائے اور دوسری طرف اسے عملی زندگی میں نافذ کیا جائے جیسا کہ سلف صالحین کا طریقہ کار تھا۔

         اسی لئے ذیل کے سطور میں قرآن و سنت کے نصوص اور سلف صالحین کی سیرت کی روشنی میں کچھ چیزیں ذکر کی جا رہی ہیں جن سے قرآن میں غور و تدبر کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔

         تدبر کا معنی اور اس کی اہمیت:معانی و مطالب تک رسائی کے لئے طویل غور و خوض اور فہم و ادراک کے لئے مکمل توجہ اور یک سوئی کو تدبر کہتے ہیں۔قرآنی آیات کی روشنی میں ہی غور و تدبر کا مقام اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :  كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (ص :۲۹)یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لیےنازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔

         وجہ استدلال: اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اتارنے کا اصل مقصد یہ بتایا کہ اس میں غور و تدبر کیا جائے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کی جائے نہ کہ صرف زبانی تلاوت،گرچہ تلاوت کا بھی بڑا اجر و ثواب ہے،اس کا قطعی انکار نہیں۔

         حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم! قرآن میں غور و فکر اسے نہیں کہتے کہ اس کے حروف کو تو یاد کیا جائے مگر اس کے حدود کو پامال کیا جائے، یہاں تک کہ بعض لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں نے پورا قرآن ختم کر لیا جبکہ ان کے اخلاق و کردار میں قرآن کا کوئی اثر دکھائی نہيں دیتا۔ (تفسیر ابن کثیر: ۷/۶۴)

          ارشاد باری تعالیٰ ہے : اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ (النسا:۸۲) توکیا غوروفکرنہیں کرتے قرآن میں؟

         علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس آیت ميں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو قرآن میں غور و فکر کرنے اور اسے سمجھنے کا حکم دیا ہے اور اس کے الفاظ و معانی کو نہ سمجھنے اور اس سے اعراض کرنے سے منع فرمایا ہے، آیت کریمہ کے اس حکم سے صاف واضح ہے کہ قرآن میں غور و تدبر واجب ہے۔ (تفسیر ابن کثیر:۳/۳۶۴)

         ۳۔ آیت کریمہ ہے : الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ    ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (البقرہ:۱۲۱) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے ، وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں ، اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں ، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔

         علامہ ابن کثیر نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں : قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قرآن کی کما حقہ تلاوت یہ ہے کہ بندہ قرآن کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھے اور اس کو ویسے ہی پڑھے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر :۱/۴۰۳)

         ۴۔ ارشاد ربانی ہے : وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ اِلَّا اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ ( البقرہ:۷۸)  ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں جو کتاب کے صرف ظاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں ۔

         مفسرین لکھتے ہیں: ایک قول کے مطابق یہا ں’’اَمَانِی‘‘ کا مطلب تلاوت ہے یعنی انہیں کتاب کی صرف زبانی تلاوت معلوم ہے وہ کتاب کو سمجھنا اور اس ميں غور و فکر کر کے پڑھنا نہيں جانتے۔ (فتح القدير:۱ /۱۵۶)

         حضرت ابن قيم فرماتے ہیں : یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو بدلنے والوں کی اور ایسے ان پڑھ لوگوں کی مذمت کی ہے جو صرف لفظی تلاوت کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ (بدائع التفسير:  ۱/۳۰۰)

         ۵۔ آیت کریمہ ہے : وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا هذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهجُوۡرًا (الفرقان: ۳۰)اور رسول کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔

         علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں : قرآن میں غور و تدبر نہ کرنا اور اس کو سمجھ کر نہ پڑھنا بھی گویا قرآن کو ترک کرنا اور اسے بالائے طاق رکھنا ہے۔(تفسیر ابن کثیر ۶/۱۰۸)

         علامہ ابن قيم نے قرآن کو چھوڑے رکھنے کی کئی اقسام بیان کی ہیں چنانچہ فرماتے ہیں : چوتھی قسم یہ ہے کہ بندہ قرآن میں غور و فکر کرنا اور اسے سمجھ کر پڑھنا چھوڑ دے اور قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا کیا مطالبہ ہے اسے جاننے کی کوشش نہ کرے۔(بدائع التفسير: ۲/۲۹۲)

         ’’تدبر قرآن‘‘ کی اہمیت و فضیلت: احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

         عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ )جو لوگ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اسے سمجھ کر پڑھنے پڑھانے اور مذاکرہ کرنے کا اہتمام کرتے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ کی طرف سے سکون و اطمینان کا نزول ہوتا ہے، رحمت الہی انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انھیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے پاس موجود فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر خیر فرماتے ہیں۔(صحیح مسلم: ۲۶۹۹)

         یہاں اس حدیث میں قابل غور بات یہ ہے کہ مذکورہ فضیلتیں یعنی سکون و اطمینان کا نزول، رحمت الہی کا ڈھانپنا اور فرشتوں کے درمیان ذکر خیر یہ سب اس تلاوت کے بدلے میں ہے جس تلاوت میں سمجھنا اور غور و فکر کرنا شامل ہو۔مگر آج کل ہماری صورت حال یہ ہے کہ ہم حدیث کے صرف ایک ٹکڑے پر عمل کرتے ہیں یعنی تلاوت، جبکہ سمجھ کر پڑھنے پڑھانے اور غور و تدبر کرنے کو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے حفظ قرآن میں زیادہ وقت لگے گا اور تلاوت کی مقدار میں کمی آئے گی ،لہٰذا اس کی کوئی ضرورت نہیں۔

         ۲۔ حضر ت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی روایت ہے جس میں وہ آپﷺ کی نماز اور قرأت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں : آپ ﷺکے ساتھ ایک رات نماز ادا کیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹَھَہر ٹَھَہر کَر پڑھ رہے تھے، جب تسبیح کی آیت سے گزرتے تو سبحان الله کہتے، دعاکی آیت پڑھتے تو دعامانگتے اور جب پناہ مانگنے والی آیت ہوتی تو پناہ مانگتے۔(صحیح مسلم : ۷۷۲)

         پیارے رسولﷺ کے اس واقعے سے تدبر قرآن کا ایک عملی نمونہ ملتا ہے۔

         ۳۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے، اور وہ آیت یہ تھی: اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ (المائدہ:۱۱۸ ) اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو بخش دے، تو تو عزیز ( غالب ) ، اور حکیم ( حکمت والا ) ہے    (سنن ابن ماجہ :۱۳۵۰)

         یہ پیارے رسولﷺ ہیں جو غور و تدبر کے ساتھ پڑھنے کو کثرت تلاوت پر ترجیح دیتے تھے یہاں تک کہ بسا اوقات ایک آیت پڑھتے ہوئے پوری رات گزار دیتے تھے۔

         ۴۔حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :ہم لوگ دس آیتیں سیکھتے تھے پھر آگے اس وقت تک نہیں بڑھتے تھے جب تک ان دس آیات کے معانی سمجھ نہ لیتے اور ان پر عمل کرنا نہ سیکھ لیتے ۔( رواہ الطبری )

         صحابہ کرام کو قرآن کی تعلیم دینے کے سلسلے ميں رسول اکرمﷺ کا یہی طریقہ کار تھا یعنی علم سیکھنا سمجھنا پھر اس پر عمل کرنا یہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ملزوم تھے چنانچہ پہلے سبق کو سمجھے اور اس پر عمل کیے بغیر آگے دوسرا سبق نہیں ملتا تھا۔

         ۵۔ ایک بار جب عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے تین رات سے کم میں قرآن ختم کرنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے منع فرماتے ہوئے کہا : جو شخص قرآن کو تین رات سے کم میں ختم کرے وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتا۔ (سنن ابی داؤد :۱۳۹۰)اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کا اصل مقصد اسے سمجھنا اور اس کی آیات میں غور و فکر کرنا ہے نہ کہ اسے صرف لفظی تلاوت کرنا۔

         ۶۔ مؤطا امام مالک میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے :حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے لوگوں کو جہری نماز پڑھائی، دوران نماز کوئی ایک آیت چھوٹ گئی نماز کے بعد آپ ﷺنے ایک شخص سے دریافت کیا : کیا نماز ميں مجھ سے کوئی آیت چھوٹ گئی ہے؟ اس نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم، اسی طرح دو تین اور لوگوں سے پوچھا سب نے جواب دیا ہمیں نہیں معلوم، پھر آپﷺ نے فرمایا : کیا بات ہے لوگوں کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے مگر انھیں اتنا نہیں معلوم ہوتا کہ کیا پڑھا گیا اور کیا چھوٹ گیا، بنی اسرائیل کے دلوں سے اللہ کی عظمت و کبریائی اسی وجہ سے جاتی رہی کیونکہ ان کے بدن حاضر ہوتے تھے مگر دل و دماغ غائب ہوتے تھے اور اللہ کو وہی عمل مقبول اور پسند ہے جس میں بدن کے ساتھ دل بھی حاضر ہو۔(موطا امام مالک)

         اللہ کریم ہم سب کو قرآن کی تلاوت کےساتھ ساتھ قرآن میں تدبروتفکر،غوروفکراوراس کے احکام وفرامین پرعمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین