قرآن کی مختلف آیات اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان کررہی ہیں کہ یہ عظیم آسمانی کتاب صرف تلاوت کرنے کے لیے نہیں ہے ،بلکہ اس کا منتہا ئے مقصُود ” ذکر “ ( یاد دہانی ) ” تدبر“ ( نتائج پر غور وخو ض ) ” انذار “ ( تنبیہ اور خبردارکرنےوالی)اللہ کے بندوں کوظلمات سے نکال کرنور تک پہنچانے والی اور ” شفا، رحمت اور ہدایت “ ہے ۔”سورہ انبیا میں ہے: وَ ھٰذا ذِکْرٌ مُبارَکٌ اَنْزَلْناہ ” یہ بابرکت یاد دہانی ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے “ ( آیت؛۵۰)
سورہ ص میں ہے:کِتابٌ اٴَنْزَلْناہُ إِلَیْکَ مُبارَکٌ لِیَدَّبَّرُوا آیاتِہ ” یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر نازل کیا ہے تا کہ تو اس کی آیات میں غور کرے “(آیت؛ ۲۹)
سورہ ٴ انعام کی ۱۹ ؍ویں آیت میں ہے : وَ اُوحِیَ إِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْآنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہِ وَ مَنْ بَلَغَا ” یہ قرآن مجھ پر وحی کیاگیا ہے ،تاکہ اس کے ذ ریعے سے تمہیں اوران لوگوں کوڈ راؤں جن تک یہ پیغام پہنچے “۔
سورہٴ ابرا ہیم کی پہلی آیت میں فرمایاگیا ہے : کِتَابٌ اَنْزَلْنَا ہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَی النُّورِ’’یہ ایک کتاب ہے ، جسے ہم نے تجھ پرنازل کیا ہے تاکہ اس کے ذ ریعے تو لوگوں کو تاریکیوںسے نکل کرنور تک پہنچا ئے ‘‘۔
سُورہٴ نبی اسرائیل کی ۸۲ ؍ویں آیت میں ہے : وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا ھُوَ شِفاء ٌ وَ رَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنینَ‘‘ہم قرآن کی ایسی آیتیں بھی نازل کرتے ہیں جوموٴ منین کے لیے شفا اوررحمت کاسبب ہیں“۔
سورۂ نحل ۸۹؍ویں آیت میں ہے؛وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ’’اور ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہےجس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے اور وہ مسلمانوں کے لیے ہدایت،رحمت اور بشارت ہے‘‘۔
سورہ انعام آیت نمبر ۵۹ ؍میں ہے ؛ وَ لَاحَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ’’اور زمین کی تاریکیوں میں ہردانہ اور ہر تر اور ہر خشک چیز جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو‘‘۔
اور حدیث پاک میں ہے:عَنْ مَالِکٍ رضي الله عنه أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ ﷺ قَالَ: تَرَکْتُ فِيْکُمْ أَمْرَيْنِ،لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا: کِتَابَ اﷲِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ.(رواه مالک، والحاکم عن أبي هريرة).”امام مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان تک یہ خبر پہنچی کہ حضور نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی کی سنت۔“
ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: سنو! میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں: ایک اﷲ عز وجل کی کتاب ہے، جواﷲ کی رسی ہے۔ جو اس کی اتباع کرے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جو اس کو ترک کردے گا وہ گمراہی پر ہوگا۔(صحیح مسلم)
معلوم ہوا کہ قرآن مجید ہمارے لیے ایک مکمل راہنما ہے، مینارۂ ہدایت ہے،اصول زندگی ہے، ضابطۂ حیات ہے، دستورالعمل ہے، اگر صاحب قرآن کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے تو قرآن ہمارے لیے ایک نسخہ کیمیا ہے۔علامہ اقبال خوب فرماتے ہیں
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
اور ایک جگہ فرماتے ہیں؛
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جُز بہ قرآن زیستن
یعنی اگر تم مسلمان کی زندگی گزارنا چاہتے ہو تو قرآن کے بغیر یہ نا ممکن ہے یعنی ایک کامل مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ قرآن کریم کے سانچے میں اپنے آپ کو ڈھالے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ مسلمانوں کاسلوک اس سے نہایت ہی نا روا ہے ،اسے ورد ووظیفہ تک محدود کردیا گیا ہے ،صرف سرسری تلاوت پر اکتفاکیاجاتا ہے ،زیادہ سے زیادہ تجوید ،خوش الحانی اوراچھی آواز سے پڑھنے کو ا ہمیّت دی جاتی ہے۔ہم مسلمانوں کی بہت بڑی بدبختی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو اپنی زندگی کے پرو گراموں سے نکال کر بس اس کے الفاظ پرگز ارہ کررکھا ہے ۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان زیرتفسیر آیات میں بڑی صراحت کے ساتھ فرمایاگیا ہے کہ دل کے مریض ان منافق لوگوں نے قرآن میں تدبّرنہیں کیا ، جس کانتیجہ یہ نکلا کہ انہیں یہ سیا ہ اور تاریک دن دیکھنے نصیب ہُوئے ۔
اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمان جب تک قرآن اوراس کی تعلیمات سے وابستہ تھے ،چہاردانگ عالم ان کی فتح ونصرت کے جھنڈے لہرارہے تھے۔اہل زمانہ ان کی عظمت کو سلام کرتے تھے۔کامیابی وکامرانی ان کا مقدر تھا اور تائید خداوندی ان کے شامل حال تھی۔مگر جب مسلمانوں نے اللہ ورسول سے منھ موڑا،صاحب قرآن کی غلامی کا قلادہ اپنی گردن سے اتارا اور قرآن کو پسِ پشت ڈالا تو عرش سے فرش پر آگئے،ذلت ورسوائی سے دوچار ہوئے ،اللہ نے ظالم بادشاہوں کو بطور عذاب ہم پر مسلط کیا اورغلامی کا پٹہ ہمارے گلے میں ڈال دیا گیا۔
ہمیں جو سزا مل رہی ہے وہ قرآن کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔میں نبی مکرم ﷺ کی حدیث بھی آپ کو سنا چکا ہوں اور ہمارے لیے مستند ترین بات حضورﷺ کا فرمان ہی ہے، لیکن مزید وضاحت کے لیے اپنے ان بزرگوں کی بات بھی سن لیجیے۔حکیم الامت ،نباض قوم ،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ جوابِ شکوہ میں لکھتے ہیں کہ ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر
یہی بات انھوں نے فارسی میں بڑے پر شکوہ انداز میں کہی ہے ؎
خوار از مہجوریٔ قرآں شدی
شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی
اے چو شبنم بر زمیں افتندۂٖ
در بغل داری کتابِ زندۂٖ
کہ اے امت ِمسلمہ تو جو ذلیل و رُسوا ہوئی ہے اور دنیا میں اس طرح پامال کی جارہی ہے، یہ قرآن کو ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔یہاںجناب اقبال نے ’’مہجوری ٔ قرآن‘‘ کی یہ ترکیب اپنی شاعرانہ تخلیات سے نہیں بلکہ قرآن کریم کی سورۃ الفرقان سے لی ہے،جہاں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ قَالَ الرَّسُولُ یٰرَبِّ اِنَّ قَومِی اتَّخَذُوْا ھٰذَا القُراٰنَ مَہجُوْرًا(آیت؛۳۰) ’’اور رسول ﷺ فریاد کریں گے کہ اے رب! میری قوم نے اس قرآن کو ترک کردیا تھا‘‘۔علمائے مفسرین نےاس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ’’قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کے ضدی معاندین نے جب کسی طرح نصیحت پر کان نہ دھرا، تب نبی اکرم ﷺنے بارگاہ الٰہی میں شکایت کی کہ خداوند !میری قوم تیرے کلام کو نہیں سنتی، انھوںنےاس عظیم الشان کتاب کو بکواس قرار دیا ہے(العیاذ باللہ تعالیٰ) ، جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو خوب شور وغوغا کرتے ہیں تاکہ کوئی شخص اسےسن اور سمجھ نہ سکے۔ اس طرح ان بدبخت مشرکین نے قرآن جیسی قابل قدر کتاب کو بالکل متروک و مہجور کر چھوڑا ہے۔
مذکورہ آیت کریمہ میں مخاطب گرچہ صرف کفار ومشرکین ہیں تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا، اس میں تدبر نہ کرنا، اس پر عمل نہ کرنا اس کی تلاوت نہ کرنا، اس کی صحیح قرأت کی طرف توجہ نہ کرنا، اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا،اس کے حلال وحرام اور احکام وفرامین کو پس ِپشت ڈالنا، یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت میں داخل ہوسکتی ہیں۔
خدارا غور کریں! محبوب خدا ﷺ نے اگر کل ان کفار ومشرکین کے ساتھ ساتھ’’مہجوریٔ قرآں‘‘ کی بنا پر اپنے رب کے حضور ہماری طرف بھی اشارہ فرمادیا تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟؟اللہ اکبر!اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے جسم وروح کا قبلہ درست کریں ،قرآن کو حرز جاں بنائیںاور اس سے ربط وتعلق استوار کریں۔
مجمع البحرین،حجۃ الاسلام امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ (م:۵۰۵ھ) نےقرآن کے ۱۰؍باطنی آداب بیان فرمائے ہیں۔ ان میں ساتواں باطنی ادب ہے ’’تخصیص‘‘ یعنی بندہ قرآنِ کریم کو اپنے ساتھ خاص سمجھے ، اپنی ہدایت کے لئے تِلاوت کرے ، تِلاوت کرتے وقت یہ تصورباندھے کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں جو احکام بیان فرمائے ہیں ، یہ میرے ہی لیے ہیں، جن کاموں سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے ، یہ مجھے ہی منع کیا جا رہا ہے ، قرآنِ کریم میں جو قیامت کا تذکرہ ہے ، جہنّم کا ذِکرہے ، عذابات کا تذکرہ ہے ، جو نصیحت بھرے واقعات بیان کئے گئے ہیں،یہ سب میرے ہی لئے ہیںاور مجھے ہی ان سے نصیحت لینی ہے۔ (احیا العلوم جلد اول، ص؛۸۵۹خلاصۃً)
محترم قارئین ! اگر ہم یہ تصور باندھ کر تِلاوت کریں تو قرآنِ مجید ہمارے دِل میں اُترے گا ، اَثَر بھی کرے گا ، آنکھوں میں آنسو بھی آئیں گے اور اللہ پاک نے چاہا توزندگی بھی ہماری سنور جائے گی۔اللہ کریم ہم سب کو اس کی سعادت وتوفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین