حکومتی مظالم اورہماری مجرمانہ خاموشی!!

          وطن عزیز میں گذشتہ کئی سالوں سے کمزوروں،مجبوروں،پسماندہ طبقوں اوربالخصوص مسلمانوں کے لیے ایک نفرت کا ماحول بنادیا گیا ہے۔اس خوب صورت سرزمین کی صبح وشام میں نفرت گھولنے کی مستقل سازشیںہورہی ہیں ۔ملک کی گنگاجمنی تہذیب کو ملیامیٹ کردینے کی پوری کوشش چل رہی ہے۔انیکتامیں ایکتا،اختلاف میں اتحاد کاجوحسین منظر اس ملک کی سرزمین پر پیش کیا جاتا ہے،اسے پورے طریقے سےختم کردینے کی تیاری ہے۔اگر یہ کہاجائے توغلط نہ ہوگا کہ ہمارے اس دیش کےاصول،ضابطے،قانون ،سمودھان یعنی مکمل’’آئین ہند‘‘( Constitution of India) کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔اس سے بڑھ کر غداری ،دیش دروہ،اوراینٹی نیشنل کام کیا ہوسکتاہے۔ کمال تویہ کہ یہ سب وہ کررہے ہیں جن کے ذمہ اس ملک اورقانون کی حفاظت کرنا تھی،وہی ملک کو توڑنے اور اس کے دستورکوتوڑنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔یعنی رکھشک ہی بھکشک بن گئے ہیں۔لیکن شاعر کی زبان میں انھیں یہ جان لینا چاہیے کہ ؎

      مسائل  کیسے  بھی  ہوں  تا  قیامت  رہ  نہیں  سکتے    

   یہ  ظالم  ظلم  کی  بن  کر  علامت  رہ  نہیں  سکتے

       ہے جن کا  عزم  ہم کو  چین  سے  جینے  نہیں دیں گے    

    وہ  یہ  بھی  جان  لیں  خود  بھی  سلامت  رہ  نہیں

         یہ کسی شاعر کی صرف شاعری نہیں بلکہ قرآنی آیات کی ترجمانی ہے۔اللہ جل شانہ اعلان عام فرماتا ہے:وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ،اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(الشعراء  :۲۲۷)

         اورارشاد فرماتاہے:وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ ط اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُ۔اور (اے سننے والے!)ہرگز اللہ کو ان کاموں سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔ اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔(ابراہیم:۴۲)

         اور یہ بھی فرماتا ہے:یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۔جس دن ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے بُرا گھر ہے۔(غافر:۵۲) یہ اس رب کا فرمان ہے ،جس نےخودیہ بھی اعلان فرمایاہے:لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ۔اللہ کی باتیں بدلتی نہیں۔(یونس:۶۴)کسی نے خوب کہا ہے؎                          

                                        ہو  قول  محمد یا  قول  خدا،  فرمان نہ بدلا جائے گا  

                                        بدلے گا  زمانہ  لاکھ  سہی،  قرآن نہ بدلا جائے گا

         ان فرامین باری تعالیٰ کی روشنی میں تاریخ کے اوراق کھولیے اوردیکھیےکہ ظالموں کا انجام کیا ہوا!!۔یہ ساری باتیں اتنی مشہوراورزبان خاص وعام ہیں کہ اس کے لیے کسی سنداورحوالے کی ضرورت نہیں ہے۔

         ۱۔خود کو بڑا خدا سمجھنے والا فرعون ،اپنے لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق ہوا اور اس کی لاش قیامت تک کے لیے عبرت بن گئی۔

         ۲۔: اپنی طاقت اور بڑی عمارتوں پر اترانے والی ’’قومِ عاد و ثمود‘‘ آندھیوں اور زلزلوں کا نشانہ بن کر صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

         ۳۔مال و دولت کے گھمنڈ میں اندھےہوجانے والے قارون کو زمین نے اس کے خزانوں سمیت نگل لیا۔

         ۴۔خدائی کادعویٰ کرنے والےبابل کے بادشاہ نمرود کا انتہائی ذلت آمیز اورعبرت ناک انجام ہوا،اللہ جباروقہارنےاسے ایک حقیرمچھر کے ذریعہ ہلاک کیا۔

         ۵۔قوم عاد کاسرکش بادشاہ شداداپنی بنائی ہوئی جنت میں داخل ہونے کے لیےجب اپنے پورے لاؤلشکراورشاہی ٹھاٹ باٹ کے ساتھ چلا تواللہ جل شانہ نے حضرت عزرائیل علیہ السلام یعنی ملک الموت سےفرمایاکہ ہمارا یہ باغی حقیقی جنت توکیا،اپنی بنائی ہوئی مصنوعی جنت میں بھی داخل نہیں ہوسکتا،اورعین مصنوعی جنت کے داخلی دروازے کےباہرملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔

         اسی طرح ہٹلر،مسولینی اورنہ جانے کتنے ایسے ظالم وجابرلوگ گزرے ہیں،جن کا شمار دنیا کے طاقتور افراد میں ہوتا تھا، جن کے پاس نعمتوں کے خزانے موجود تھے،جن کے حکم کی خلاف ورزی کرنا گویا موت کو دعوت دینا تھا،جو زمین پر اکڑ اکڑ کر چلا کرتے تھے، جن کے ظلم و جبرکے نہ صرف کارنامےسُن کربلکہ ان کانام سُنتے ہی لوگ لرز جاتے تھے، لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ایک دن انہیں بھی مرنا ہے اور اپنی کرنی کا پھل بُھگتنا ہے ، بالآخر موت نے انہیں اپنے شِکنجےمیں لےکران کاغروروتکبر ہمیشہ کے لیے خاک میں مِلادیا ؎

دیکھی ہے رعونت بھی اورنام بھی دیکھا ہے

تاریخ نے ظالم کا  انجام  بھی  دیکھا ہے

         جذبۂ حسینی اوراتباع حسینیت:     

         نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے۔(سنن ترمذی:۲۱۷۴)جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کو بہترین جہاد اس لیے کہا گیا کہ میدانِ جنگ میں جان کا جانا یقینی نہیں ، آپ اپنا دفاع بھی کر سکتے ہیں لیکن جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کے بعد جان کا جانا یقینی ہے۔اس کلمہ حق کی بہترین مثال امام عالی مقام حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنھماکا انکار ہے۔آپ ظلم،ناانصافی،جارحیت ،تشدد اورحاکم وقت کے سامنے حق کہنے والوں کےسرخیل وقائد اوربہترین نمونہ ہیں؎

کٹا دیا  ہے  سر  اعلائے  کلمۂ  حق  میں

حسین  ابن  علی  کا  کوئی  جو اب  نہیں

ہوا   ہے   اور  نہ  ہوگا  کوئی  شہید  ایسا

جہاں میں  آیا  کہیں  ایسا  انقلاب  نہیں

         اورمشہورشاعر احمدفرازؔکابڑاسبق آموز شعرہے؎

جب  بھی  ضمیر و ظرف  کا  سودا  ہو  دوستو

قائم   رہو  حسین   کے  انکار  کی   طرح

         حسین اعظم کےنقش قدم پرچلتے ہوئےباطل کے خلاف ڈٹ کرعدل وانصاف،ایثاروقربانی ،صبرواستقامت اورحق ودین کاپرچم بلند کرنے والی شخصیات پرنظر ڈالیں توان میں آپ کوفرزندرسول حضرت امام زیدبن علی زین العابدین (م:۱۲۲ھ )،امام محمدنفس الزکیہ (م:۱۴۵ھ )نواسۂ صدیق اکبرحضرت عبداللہ ابن زبیر(م:۷۳ھ )،خیرالتابعین حضرت سعید بن مسیب(م:۹۴ھ ) ،فقیہ عراق حضرت یحییٰ ابن یعمر(م:۱۲۹ھ )ر،حضرت سعید ابن جبیر (م:۹۵ھ )رضوان اللہ علیھم اجمعین جیسی عظیم شخصیات نظر آئیں گی جنھوں اپنے وقت کے یزید حجاج ابن یوسف اوربنوامیہ کےحکمران وحکام کے سامنےاعلائے کلمۃ الحق کاپرچم بلند کیااورجام شہادت نوش کرلیا۔ہمارےفقہ کے امام ،امام اعظم ابوحنیفہ نےحب اہل بیت کے ہی جرم میںقیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں اورپھرجیل سےہی ان کاجنازہ اٹھا۔

         حضرت امام مالک(م:۱۷۹ھ ) جیسے عظیم فقیہ ومجتہد،صحابی زادے اورعاشق رسول کوراہ حق میں ایسی تکالیف برداشت کرنی پڑیں جوناقابل بیان ہے۔امام مالک نے دو حکومتیں دیکھیں۔ ایک اموی حکومت اور دوسری عباسی حکومت۔ دور عباسی میں عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور (م:۱۵۸ھ )کے دور میں امام مالک نے ایک حدیث کی روشنی میں فتویٰ دیا کہ ’’اگر جبراً طلاق کسی سے دلائی جائے تو واقع نہ ہوگی‘‘۔ فتنہ پرور لوگوں نے یہ پھیلانا شروع کر دیا کہ امام مالک خلیفہ ابو جعفر منصور کی بیعت سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ اس پر آپ کو منع کیا گیا کہ یہ فتویٰ واپس لیں اوریہ حدیث مت سنایا کریں کیوں کہ اس سے حکومت کے ذریعہ لیےگئے جبری بیعت پربھی حرف آتا ہے ۔ خلیفہ ابوجعفرمنصور نے مدینہ پہنچ کر نئے سرے سے لوگوں سے بیعت لی۔ امام مالک کو کہلا بھیجا کہ آئندہ طلاق جبری کے عدم اعتبار کا فتویٰ نہ دیں کہ لوگوں کو بیعتِ جبری کی بے اعتباری و عدمِ صحت کے لئے سند ہاتھ آئے۔ امام سے ترکِ حق کی توقع کس قدر بے جا خواہش تھی۔ امام صاحب بدستور فتویٰ دیتے رہے۔ گورنرمدینہ نے اس پرغضب ناک ہوکرامام مالک کوگرفتارکرنے کاحکم دیا، محکمہ امارت میں آپ کو گناہگاروں کی طرح لایا گیا۔ پھرسترکوڑے مارنے کا حکم سنایاگیا۔آپ کےکپڑے اتارے گئے،لگاتارکوڑےمارےگئے،آپ کی پیٹھ خون آلود ہوگئی، دو ہاتھ مونڈھے سے اتر گئے۔ اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو حکم دیا کہ اونٹ پر بٹھا کر شہر میں ان کی تشہیر کی جائے۔ امام صاحب بایں حالِ زار بازاروں اور گلیوں سے گزر رہے تھے اور زبانِ صداقت نشان بآوازِ بلند کہہ رہی تھی ’’جو مجھ کو جانتا ہے وہ جانتا ہے جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں،میں فتویٰ دیتا ہوں کہ طلاقِ جبری درست نہیں‘‘۔ اس کے بعد اسی طرح خون آلود کپڑوں کے ساتھ مسجدِ نبوی ﷺمیں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔‘‘ یہ واقعہ ۱۴۷ھ؁ کا ہے۔(مقربانِ الہی کی سرخروئی،ص:۱۶۔۱۷)

         اسی طرح حضرت امام احمد بن حنبل(م:۲۴۱ھ ) پر مظالم کے پہاڑتوڑے گئے، آپ کو دربارِ خلافت کی طرف سے قید و بند، تازیانے اور سخت ترین آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ۔اس کی بنیادی وجہ ’’فتنہ خلقِ قرآن‘‘تھا۔ عباسی خلیفہ مامون الرشید(م:۲۱۸ھ )، معتصم باللہ(م:۲۲۷ھ ) اور واثق باللہ (م:۲۳۲ھ )کے دورِ حکومت میں معتزلہ فرقے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ سرکاری نظریہ مسلط کیا گیا کہ قرآ ن ’’مخلوق‘‘ (بنایا ہوا) ہے۔

         امام احمد بن حنبل نے اس نظریے کو باطل قرار دیا اور اس بات پر ڈٹے رہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے،جب اللہ مخلوق نہیں ،خالق ہے تواس کاکلام اورفرمان بھی اور مخلوق نہیں ہے۔اس موقف پر استقامت کی وجہ سے آپ کو شاہی غضب کا نشانہ بنایا گیا۔قید اور کوڑے

لگائے جانے کے واقعات خلیفہ مامون کے دور میں آپ کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر بغداد سے دربار کی طرف روانہ کیا گیا، لیکن راستے میں ہی مامون کا انتقال ہو گیا۔خلیفہ معتصم باللہ (م:۲۲۷ھ )کے دور میں آپ کو دربار میں پیش کیا گیا جہاں مناظرے کے بعد ظالم حاکم نے آپ کو کوڑے لگانے کا حکم دیا۔آپ کو شدید گرمی میں رکھا گیا اور حالتِ روزہ میں ظالم جلادوں نے آپ کو بے رحمی سے کوڑے مارے یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے اور طویل مدت تک قید خانے میں بند رہے۔

         ہندکی سرزمین پرحضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ االلہ علیہ(م:۱۰۳۴ھ ) کا زمانہ یادکریںکہ وہ کیساپُرآشوب تھا!!ہر طرف بدعت وضلالت کے اندھیرے پھیلے ہوئے تھے، کفر وشرک کی خزائیں زوروں پر تھیں، اکبر بادشاہ کی اسلام دشمنی اور جہانگیر کی آزاد رَوی کے سامنے حضرت مجدِّد پاک رحمۃ اللہ علیہ کے عزم واِستقلال نے اندھیروں اور خزاؤں کا تسلُط ختم کیا، اور شہنشاہوں کی اکڑی ہوئی گردنیں خم کر دیں، جس وقت بادشاہِ وقت نے حضرت مجددعلیہ الرحمہ کو سجدۂ تعظیمی کےلیے مجبور کیا، تو آپ نے صاف انکار کردیا اور ارشاد فرمایا کہ ’’جو سر بارگاہِ الٰہی میں جھکتا ہو، کسی اَور کے دروازے پر کیسے جھک سکتا ہے!!۔‘‘ سجدۂ تعظیمی سے انکار کے بعد حضرت شیخ احمد سرہَندی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کو طرح طرح سے ظلم وستم کا نشانہ بنایا گیا، لیکن آپ کے پایۂ استقلال میں کوئی لرزش نہ آئی۔یہ جرأت، استقلال اور استقامت کیوں نہ ہو، سیّدنا فاروق ِاعظم کاخون ان کےرگ وریشے میں دوڑ رہا تھا ۔

         یہ کہاجائے توکوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ ہند کی دھرتی پر اگرسرکارغریب نوازخواجہ معین چشتی قدس سرہ (م:۶۳۳ھ )نے اسلام کا پودا لگایاہے تو اس کے جھاڑپھوس کوصاف کرکے آبیاری کرنے والوں میں ایک بہت بڑا نام حضرت مجدد الف ثانی،قطب ربانی کاہے۔شاعرمشرق علامہ اقبالؔ جیسا مفکرومدبرجب ان کے مزارپُرانوارپرحاضرہوا تو بے ساختہ پکاراٹھا؎                                            

حاضر   ہوا   میں   شیخ   مجدّد  کی   لحد  پر

وہ  خاک  کہ  ہے  زیر  فلک  مطلع  انوار

اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے

 اس خاک  میں  پوشیدہ ہے  وہ  صاحبِ اَسرار

گردن  نہ  جھکی  جس کی  جہانگیر  کے  آگے

 جس   کے   نفَسِ  کرم   سے  گرمئ  اَحرار

وہ  ہند   میں   ہے  سرمایۂ  ملّت  کا  نگہباں

 اللہ   نے   بَر  وقت  کیا   جس  کو   خبردار

         پھر ماضی قریب سے حالیہ دور تک آئیے تو’’آپ کوصدام حسین کاحوصلہ،کرنل معمرقذافی کی ہمت اور آیت اللہ خامنائی کی جرأت وشہادت کے پیچھے امام عالی مقام سیدناحسین کی عزیمت بھری عظیم سیرت سے لیاجانے والاسبق نظرآئے گا‘‘۔ امام حسین کی’’ سرزمین  کربلا‘‘پراپنے کنبے کے ساتھ دی جانے والی شہادت جہاںمجاہدین اسلام کی رگوں میں خون بڑھاتی ہے،وہیںآپ کا سجدے میں سردینا قیامت تک کے لیے اسلام کوسرخرواورمسلمانوں کوحقیقی زندگی کادرس دینے والابہترین نمونہ ہے؎                  

جھکتا  ہی  نہیں  سر  کسی  ظالم  کے  سامنے

ہمت  ہی  ایسی  دے  گیا  سجدہ  حسین  کا

کس  واسطے  نماز  سے  منھ  مو ڑتا  ہے  تو

کیا   یاد   نہیں  آخری   سجدہ  حسین   کا

         ہماری مجرمانہ خاموشی:

         افسوس!ہمت وحوصلہ ،جرأت وبےباکی اور ایمانی غیرت وجواں مردی کی تابناک تاریخ رکھنے والی قوم آج بزدلی وکم ہمتی اورحسرت ویاس کی تصویر بنی بیٹھی ہے۔یوں توہمارے یہاں کاغذی شیروں اورخودساختہ قائدین ملت کی کوئی کمی نہیں مگرحق کی آوازبلندکرنے اورقوم وملت کی رہنمائی کے نام پرخودکی واہ واہی کے سواکچھ نہیں۔خالدسیفی ،شرجیل امام اورعمرخالدجیسے کئی نوجوان اس ملک کےآئینی حفاظت اوراپنے حقوق کی آوازبلندکرنےکےجرم میں برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بندہیں مگرہمارے علماوقائدین اپنے منھ سِل رکھے ہیں۔قائدکہلانا اورقیادت کادعویٰ کرنا آسان ہے ،لیکن حقیقی قیادت اورقائدہونا کچھ اورہے۔حقیقی قائد وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کو مضبوط اور واضح وژن دیتا ہے، وہ اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور اپنے حسن اخلاق سے بہترین مثال قائم کرتا ہے۔ وہ سخت وقت اورمشکل ترین حالات میں بھی اپنی قوم کے ساتھ کھڑاہوتااوران کی رہنمائی کرتا ہے۔قیادت صرف احکام وفرامین نافذکرنےاورعقیدت واحترام حاصل کرنےکانام نہیں، بلکہ بلند ا فکاروخیالات، ہمت وحوصلہ ،ایثاروقربانی اورخدمت ورہنمائی سے عبارت ہے؎

نگہ بلند،  سخن دلنواز،   جان  پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

         ۲۴؍فروری ۲۰۲۰ء کو شمال مشرقی دہلی میں فسادات اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوا ،جس میں ۵۳؍سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، جبکہ ۲۰۰؍ سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے،جن میں زیادہ تر مسلمان تھے ،ٖمساجد،مدارس،مکانات،دوکانیں وغیرہ سب میں مسلمانوں کا بہت بڑانقصان ہوا،جس کاکھلاماسٹر مائنڈبی جے پی کا’’کپل مشرا ‘‘تھا۔جس کی نفرت انگیز تقریروں ،دھمکیوں اور تشدد پر ابھارنے کے ثبوت ویڈیوزکی شکل میں سوشل میڈیاپراب بھی موجودہیں۔مگرسزاطاہرحسین،میران حیدر،خالدسیفی،گلفشاں فاطمہ ،اورشفاءالرحمٰن اوراسی طرح کے دوسرے مسلمانوں کودی گئی۔ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرناجن سنگھی پولیس کی پرانی کارستانی ہے۔عام آدمی پارٹی کے کونسلرطاہرحسین کوتواب فساد کاماسٹرمائنڈ بتاکرعمرقید کی سزاسنادی گئی ہے،جب کہ اصل مجرمین آزادگھوم رہے ہیں۔

         بات اسی پرختم نہیں ہوتی بلکہ ہرمسلک کےمتحرک وفعال علمابھی بڑی تعداد میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بندہیں۔ مولاناقمرغنی عثمانی،مولاناتوقیررضاخان،مولانا کلیم صدیقی اورمولانا عمرگوتم جیسے علماکے لیے آپ دیکھیں کہ کتنے علماوقائدین ہیں آوازاٹھارہےہیں؟؟۔اول الذکر ان دوعالم دین کے لیے تو ان کے گھراورمسلک کے علما اورنام نہاد قائدین نے بھی اپنے منھ میں دہی جمارکھی ہے۔اس مجرمانہ خاموشی کوتاریخ بھی یادرکھے گی اوراللہ کے حضورانھیں جواب بھی دیناہوگا۔ایسے تمام لوگوں تک مظفرؔوارثی کا یہ ایک شعر بہ صورت پیغام پہنچانا چاہتا ہوں؎

کچھ  نہ  کہنے  سے  بھی  چھن  جاتا  ہے  اعزاز  سخن

ظلم   سہنے    سے   بھی   ظالم  کی   مدد   ہوتی   ہے

         علمائے سُو کی زہرناکیاں :

         اس وقت پوراملک جب کہ نفرت کی آگ میں جل رہا ہے،مسلمانوں پرمظالم کی انتہا ہورہی ہے ،کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ ہماری کسی نہ کسی مسجد ومدرسہ پربلڈوزر نہ چلایا جاتا ہو،اپنے کسی بھائی کے آشیانے نہ اجاڑے جاتے ہوں ،کسی کوجھوٹے مقدمے میں نہ پھنسایا جاتا ہو،کسی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ ڈال دیا جاتا ہو۔حال یہ ہے کہ اب ٹرین کے سفرمیں مسلم مردوں اورعورتوں کا اپنی شناخت کے ساتھ چلنا مشکل ہورہا ہے۔نہ جانے کتنے مسلمانوں کو مارپیٹ کرچلتی ٹرینوں سے نیچے پھینک دیا گیا گیا،جس میں کئی عالم وامام بھی ہیں ۔علاوہ ازیں ظلم کی سب سے خطرناک ترین صورت یہ ہے کہ سرکاری اسکول ومدارس میں جبراً شرکیہ اقوال واعمال تھوپے جارہے ہیں اورعلماکی جماعت بھی اس میں ملوث ہوتی جارہی ہے ،مگرایمان کی حفاظت،شرک کی مذمت اورحق کی سربلندی کے لیے انھیں اپنے منھ سے ایک آواز نکالنے اورایک سطرلکھنے کی جرأت نہیں ہوتی۔مگر یہی علمائے سو کاجتھا اپنوں کونیچادیکھانے،نیتوں پرحملہ کرنے،فتنہ وانتشارپھیلانے،جھوٹے حق گوبننے،قسم قسم کے فتوے لگانےاورامت کے اتحاد کوپارہ پارہ کرنے میں سب سے آگے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ علما سے متنفر ہوتا جارہا ہے۔جناب سید طارق زماں،طارقؔ نوادوی ایسےہی مولویوں کے لیے عام مسلمانوں کی آواز بن کراحتجا ج کرتے ہوئے کہتے ہیں؎

ڈرتا  ہوں  کوئی  کفر  کا   فتویٰ   نہ   لگادے

   بچ   بچ  کے  نکلتا  ہوں  میں  ملاّ  کی  نظر  سے

   جنت   بھی   جہنم   بھی    وہی   بانٹ  رہا  ہے

                                      غافل   ہے  مگر   اپنے   ہی   انجام   سفر  سے

         جین زی اورانقلاب: جنریشن زی یا جین زی (Generation Z) ۱۹۹۰ء کی دہائی کے آخر اور ۲۰۱۰ء کے وسط کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کی نئی نسل کوکہاجاتا ہے۔ یہ پہلی نسل ہے جو اپنے ابتدائی بچپن سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی اور روزمرہ کی زندگی کے ایک حصے کے طور پر ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ وہ پچھلی نسلوں کے مقابلے ثقافتی طور پر زیادہ آگاہ اور سیاسی طور پر مصروف ہیں اور موسمیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف جیسے اسباب کے بارے میں پرجوش ہیں۔

         جین زی نے روایتی سیاسی نظام، کرپشن اور پرانے حکومتی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہوئےبنگلہ دیش اورنیپال کی حکومتوں کاتختہ پلٹ دیا۔اسی طرح نیٹ کے پیپرلیک مسئلے کولے کرجنترمنترپرنیودہلی میں کیاجانے والاان کااحتجاجی دھرنے نےہندوستان کی وسیع وعریض ،طاقت ور اورمتکبرحکومت کوبھی دن میں تارے دکھادیے ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ۱۲؍سالہ اپنے دوراقتدار میں یہ جابرحکومت پہلی بارسہمی ،ڈری اوربیک فٹ (back foot) پر نظر آئی ہے۔اس میں سب سے مثبت بات یہ سامنے آئی کہ پہلی بار کھل کرکسی اہم مقام پرہندومسلم نفرت کی سیاست کانوجوانوں نےجنازہ نکالا اورملک کی سالمیت وحفاظت کےلیےاتحاد کامضبوط پیغام دیا۔

         اس میں مسلم جین زی یعنی مسلم نوجوانوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ حکومتی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلندکرنے والوں کا حکمت وبصیرت کے ساتھ جہاں تعاون کریں،وہیں اپنےگھرکی بھی خبرلیں، مدرسہ ،مسجد،اوقاف اوردیگرمذہبی شعبہ جات میں موجودکرپشن اورکرپٹ ذمہ داران سے اس مقدس اوراہم شعبے کوپاک وصاف کرنے کی کوشش کرنا بھی آپ مسلم جین زی کی ذمہ داری بنتی ہے۔

         خیال رہے کہ آپ اپنے علما،قائدین اورلیڈرزکے مودی بھکتوں کی طرح اندھ بھکت ہیںتودوسروں پراندھ بھکتی کارونافضول ہے۔ آپ اپنے علم وعقل سے جائزہ لیں کہ کیاآپ جسے اپنا قائد سمجھتے ہیں وہ قیادت کا حق اداکررہا ہے،یا اس کی قیادت سے قوم وملت کونقصان ہاتھ آرہا ہے۔صرف لچھے دارتقریروں اورمخالفین کونیچادکھانے والےبیانات سے کوئی حقیقی قائد نہیں ہوسکتا۔

         اسی طرح ان علما کا بھی محاسبہ ضروری ہے جوامت کوغیرضروری بحثوں میں الجھاکر،ہربات میںبال کی کھال نکال کر،افتراق وانتشار کی فضابناکراورغیرضروری فتوے بازی کرکے امت کوتقسیم درتقسیم کرنے میں لگے ہیں۔آج ایسے ماحول میں جب کہ نہ جانے کتنے جبہ ودستاراورداڑھی ٹوپی والوں نے حکومت وقت کے ہاتھوں اپنے ضمیرہی نہیں بلکہ دین وایمان کابھی سودا کرلیاہے ،ان حالات میں سوچنے پرمجبورہوناپڑتاہے کہ یہ امت کوبانٹنے اوراتحاد کوپارہ پارہ کرنے کے لیے درپردہ اسی طاغوتی طاقت کے آلۂ کار تونہیں ہیں!!۔آج جلسوں اورکانفرنسوں کے نام پرلاکھوں لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں مگر ان میں گویے،جاہل مقررین ،رٹوطوطے ،فتنہ باز وبدکردارمولوی اورنفس پرست پیروں نےاس کےمقاصدکوتباہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ جس سے فائدہ برائے نام اورنقصان بہت زیادہ ہورہا ہے۔

         ایسے میں مسلم جین زی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عقل سلیم کا استعمال کریں اوراسلام میں گھسے ان کالی بھیڑوں سےدین وشریعت اورقوم وملت کوبچانے کے لیے آگے آئیںاوران کے خلاف سخت احتجاج کریں۔مجرم وہ لوگ بھی بہت بڑے ہیں،بلکہ زیادہ بڑے ہیں جو ایسے لوگوں کودعوت دے کر بلارہے ہیں۔ایسے تمام لوگوں کوکل اللہ جل شانہ کے حضورجواب دینا ہے جنھوں نے دین ،شریعت اورمسلک ومشرب کے نام پراسلام کا مذاق بناکررکھ دیاہے۔

         زمین پرحالات زمانہ کے مطابق دین وشریعت کے تحفظ اورقوم وملت کے فلاح وبہبود کے لیےکام کرنے والے حقیقی اور مخلص عالم دین اورقائدکوپہچاننا اوران کا ساتھ دینا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ہمارے مسلم جین زی نے بھی اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرلی اورعزم ویقین کے ساتھ جدوجہد کرنے میدان عمل میں اترے توپھروہ دن دور نہیں کہ جہل وظلمت کا خاتمہ ہوگا اور مسلم معاشرے میں حقیقی اسلامی انقلاب آئے گا۔حکیم الامت علامہ اقبال ؔ نےخوب کہاہے؎

یقیں محکم ،    عمل پیہم ،   محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

                                                                                                                        سید سیف الدین اصدق چشتی

                                                                                                                         آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف نالندہ(بہار)

                                                                                                                                                                                                                بانی وسرپرست: تحریک پیغام اسلام جمشیدپور(جھارکھنڈ)