محمدعربی ﷺکاعلمی انقلاب اور موجودہ سیاسی جہالت

         محمد عربی رحمت عالم ﷺ کا لایا ہوا علمی انقلاب جہالت کے اندھیروں کو مٹا کر عقل، شعور تہذیب ،تمدن ،احترام انسانیت اور وحی الٰہی کی روشنی پھیلانے کا نام ہے، جس کی بنیادی جھلکیاں’’ اقرأ ‘‘کا حکم، توحید کا تصور اور اخلاقیات کی درستگی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انسانیت کو علمی زوال سے نکالااورجہالت، توہم پرستی اور بے بنیاد رسم و رواج کا خاتمہ کیا۔

         نبی رحمتﷺ کےاوپرنازل ہونے والانسخۂ کیمیا قرآن مجید میں کائنات کی تخلیق، چاند، سورج اور زمین پر غور کرنے کی دعوت دی گئی، جس سے سائنسی سوچ کو فروغ ملا۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَا اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ ۪-وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی تبدیلی میں اور کشتی میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے لے کر چلتی ہے اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ مردہ زمین کو زندگی بخشی اور زمین میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہواؤں کی گردش اور وہ بادل جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے پابند ہیں ان سب میں یقینا عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔(البقرہ:۱۶۴)

         مفسرین کرام اس آیت کریمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ’’ کعبہ کے اندرمشرکین کے تین سو ساٹھ بت تھے جنہیں وہ معبودمانتے تھے ،انھیں یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی کہ معبود صرف ایک ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس لیے انھوں نے حضور سید عالم ﷺ سے ایسی آیت طلب کی جس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ثابت ہو، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔اس میں انھیں یہ بتایا گیا کہ آسمان و زمین کی تخلیق، آسمان کی بلندی، اس میں چمکتے ہوئے ستارے، اس کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا، سورج چاند، ستاروں کے ذریعے اس کی زینت سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔یوں ہی زمین اور اس کی وسعت، اس میں موجود پہاڑ، معدنیات، جواہرات، اس میں رواں سمندر، دریا، چشمے ، اس سے اگنے والے درخت، سبزہ، پھل، پھول، نباتات، شب و روز کا آنا جانا، دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، سمندر میں بھاری بوجھ کے باوجود کشتیوں کا تیرنا، لوگوں کا اس میں سوار ہونا، سمندری عجائبات، ہواؤں کا چلنا،سمندر کے ذریعے مشرق و مغرب میں تجارت کرنا، سمندر سے بخارات کا اٹھنا، بارش کی صورت میں برسنا، بارش سے خشک اورمردہ زمین کا سر سبزوشاداب ہوجانا، اس پانی اور اس کے ثمرات سے زندگی میں باغ و بہار آنا، زمین میں کروڑوں قسم کے حیوانات کا ہونا ،ہواؤں کی گردش، ان کے خواص و عجائبات ،یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت اور اس کی قدرت و وحدانیت پر عظیم دلیلیں ہیں۔

         یعنی اس کائنات کی ہرشئی انسان کے لیے بنائی گئی اورانسان ذات باری تعالیٰ کے لیے پیداکیاگیاجواپنی خدائی میں یکتاوتنہاہے۔وہ اعلان فرماتاہے:وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔اور میں نے جن اور آدمی اسی لیے بنائے کہ میری عبادت کریں۔(الذّٰریت:۵۶)

         علم کی اہمیت:اسی طرح علم کی اہمیت وفضیلت کے حوالے سے بے شمارقرآنی آیات نازل ہوئیں اورجہالت کی تاریکی میں علم کی شمع روشن کی گئی۔سورۃ العلق کی ابتدائی آیات میں پڑھنے اور قلم کے ذریعے علم سکھانے کا ذکر ہے۔

         درجات کی بلندی: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ طیعنی: اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا۔(سورۃ المجادلہ: ۱۱)

         اہلِ علم کا مقام: ارشادِ باری تعالی ہے: هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ طتم پوچھو: کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں؟ (سورۃ الزمر:۹)

         خوفِ خدا: اسی طرح فرمایاگیاکہ ’’اللہ کا حقیقی ڈر اور خشیت صرف علم والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے‘‘اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا(سورۃ الفاطر: ۲۸)

         علم احادیث کی روشنی میں:

         اسی طر ح متعد داحادیثِ مبارکہ میں نبی اکرم ﷺ نے علم کی اہمیت بیان فرمائی ہے،یہاں کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں،فرمایاگیا: طلبُ العِلمِ فريضةٌ على كلِّ مسلمٍ وَّمسلمۃ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔(اخرجہ ابن ماجہ)

         اسی طرح فرمایا گیا: اُطْلُبُوْاالْعِلْمَ وَلوْبِالصِّیْن،یعنی علم حاصل کرواگرچہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے(شعب الایمان)

         حضورﷺ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں:وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ،یعنی:جو شخص کسی ایسے راستے پر چلا جس میں وہ کوئی علم حاصل کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔“  (صحیح مسلم)

         بہترین صدقہ: آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کی موت کے بعد بھی اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں جاری رہتی ہیں، جن میں سے ایک ’’نفع بخش علم‘‘ بھی ہے۔إِذَا مَاتَ الإنْسَانُ انْقَطَعَ عنْه عَمَلُهُ إلَّا مِن ثَلَاثَةٍ: إلَّا مِن صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو له (صحیح مسلم)

         وراثتِ انبیاء: ارشاد فرمایا: إنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنبِيَاءِ وَإنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِّثُوْا دِيْنَارًا إِنَّمَا وَرَّثُوْا عِلْمًا۔‘ یعنی:بے شک علما انبیاکے وارث ہیں، اور انبیا نے کوئی دینار یا درہم (مال و دولت) ورثے میں نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے صرف علم کو ورثے میں چھوڑا ہے، لہٰذا جس نے اسے حاصل کیا اس نے ایک بڑا حصہ پالیا۔ (ابو داؤد:۳۶۴۱)

         قلم کی اہمیت:اسی طرح قلم کی اہمیت اورطاقت بھی قرآن نے بیان کیا ہے۔ وہ قلم ہی ہے جس سے اللہ جل شانہ کی برحق کتاب لکھی گئی اور پھر اس قلم کی طاقت واہمیت کا علم انسان کو بھی عطا کر دیا۔ صاحب قلم سے اس کی تحریروں کے بارے میں سوال ہو گا۔ قلم کی نوک سے نکلا ہر حرف روز حشر انسان کے حق میں یا خلاف گواہی دے گا۔ لیکن لوگوں نے اسے مذاق بنا رکھا ہے۔ یہ قلم کبھی انسانوں کی خوشامد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی ان کے خوف سے جھوٹ لکھاجاتا ہے۔اس قلم سے کبھی انسانوں پر بہتان لگائے جاتے ہیں اور کبھی ان کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں۔ اس مقدس قلم سے انسانوں کو کبھی بلیک میل کیا جاتاہے اور کبھی حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی قلم سے کبھی فحاشی کا پرچار کیا جاتا ہے اور کبھی اسے بطور رشوت استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قلم کو پیشہ تو بنا لیا جاتا ہے مگر الا ماشاءاللہ اس کا حق ادا نہیں کیا جاتا۔ یہ وہ قلم ہے جس کی پروردگار نے نہ صرف قسم کھائی بلکہ اس کے نام پر پوری سورہ نازل فرما دی:نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ ،یعنی: قسم ہے قلم کی اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں۔ (سورۃالقلم:۱)

          قرآن کریم نے قلم کو جو علم کی نشر و اشاعت کا موثر اور بے مثال ذریعہ بنایا ہے، اس کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے اس کی قسم کھائی تاکہ حق کو ماننے والے حکمت و دانش کو پھیلانے کا مشن جاری رکھ سکیں۔ قلم کو جہاد قرار دے کر اس کی شان و عظمت پر مہر ثبت کر دی۔ صرف قلم کی قسم کھا کر اس کی عزت افزائی نہیں کی گئی بلکہ فرمایا ”اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں“ یعنی ان تحریروں کی بھی قسم کھائی ہے جو نوک قلم سے جہانوں میں حق و ہدایت کی شمع روشن کرتے ہیں۔ قلم سے لکھے گئے احکامات و ارشادات اور اقوال زریں تا قیامت انسانوں کے رہبر ہیں۔ زبان مبارک سے نکلا ہر حرف اس قلم نے ہی موتیوں میں پرویا۔ قلم کی طاقت کوزمانہ تسلیم کرتا ہے،ایسے دور میں جب ہمارے دشمن اپنی قوم میں نفرت پھیلارہےہیں اورتلوار بانٹ رہے ہیں ،مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ محبت پھیلائیں اورنئی نسل کے ہاتھوں میں قلم پکڑائیں۔ان شا ء اللہ ایک دن دنیا دیکھے گی کہ تلواروالی قوم مٹ گئی اورقلم والی قوم کے جھنڈےچہارسو لہرارہے ہوں گے؎

قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں

زمیں لپیٹ کے رکھ دوں کہ آسمان کو میں

         نبی اکرم ﷺ نےحصول علم کے لیےحوصلہ افزائی فرمائی ۔ آپ جس سماج میں تشریف لائے ، وہاں لوگ اس بات کو سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے کہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ، وہ بہت ہی فخر کے ساتھ اپنے ’’ اُمّی ‘‘ ہونے کی بات کہتے تھے ، آپ ﷺ نے تعلیم و تعلم کی حوصلہ افزائی کی اور علم کو بلا امتیاز و تفریق ہر طبقہ کے لئے عام فرمایا ، پھر آپ نے علم کے معاملہ میں دین و دنیا کی کوئی تقسیم نہیں کی ؛ بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو ، خداسے اس کی دُعاء کی اورفرمایا کہ علم و حکمت کی جو بات جہاں سے مل جائے ، اس کی طرف اسی طرح لپکنا چاہیے ، جیسے انسان اپنی گم شدہ چیز کے لیے لپکتا ہے : اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤمِنِ (ترمذی ، ابواب العلم ، حدیث نمبر : ۲۶۸۱)

         نبی رحمت ﷺ نے مسلمان بچوں کو بدر کے غیر مسلم قیدیوں سے تعلیم دلائی اور مدینہ میں یہودیوں کی درس گاہ ’’بیت المدراس ‘‘ میں تشریف لے گئے ، جس سے علم کے معاملہ میں آپ کی فراخ قلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ ہوتا ہے ۔

         اس سے نہ صرف یہ کہ علم کا دور دورہ ہوا بلکہ غیر سائنٹفک فکر کی جگہ سائنٹفک فکر کا غلبہ ہوا ، اور توہمات کی زنجیریں کٹ گئیں ، شرک میں چوںکہ مخلوقات کو معبود کا درجہ دیا جاتا ہے اورجو معبود ہو ، اس کی عظمت اور اس کا احترام تحقیق و تجسس میں مانع بن جاتا ہے ؛ اس لئے وہ علمی ترقی اور تحقیق وسائنس کے ارتقاء میں رکاوٹ بن جاتی ہے ، توحید چوںکہ مخلوقات کے معبود ہونے کی نفی کرتی ہے ؛ اس لئے کائنات کی تما م اشیاء پر غور و فکر ، بحث و تحقیق اور تفحص وتجسس کا راستہ کھلتا ہے ، انسان علم میں جتنا آگے بڑھتا جائے اور کائنات کے حقائق پر جو پردے پڑے ہوئے ہیں ، ان کو جس قدر اُٹھاتا جائے ، وہ اسی قدر توہمات سے آزاد ہوتا جائے گا ۔

          آپ ﷺ کی انقلاب انگیز تعلیمات پوری انسانیت کے لئے نفع اور خیر و فلاح کی ضامن ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺ کی انقلابی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے ذریعہ آئے ہوئے دین کو اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کریں گے :لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ (التوبۃ : ۳۳) یہ صرف دعویٰ نہیں ہے ؛ بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، آپ کے ذریعہ دنیا میں جو فکری انقلاب آیا اور اس کے نتیجہ میں ترقی اور انصاف کے راستے کھلے ، وہ پیغام محمدی کے غلبہ کی واضح مثال ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺنے جس صالح انقلاب سے دنیا کو بہرہ ور کیا اور آپ ﷺکی صحبت بافیض نے ذرہ کو آفتاب بنادیا ، اکبر اِلٰہ آبادی نے اس کا خوب نقشہ کھینچا ہے :

دُر فشانی  نے  تری ،  قطروں  کو  دریا  کردیا

دل  کو  روشن  کردیا ،  آنکھوں  کو بینا  کردیا

خود نہ تھے  جو راہ پر ،  اوروں کے  ہادی بن  گئے

کیا  نظر تھی  جس  نے  مردوں  کو  مسیحا  کردیا !

         معلم انسانیت ﷺنے اپنے شاگردوںکو ان کی صلاحیت واستعداد کے مطابق سجایاسنوارااوررشک بداماں بنادیا۔حضرت ابوبکر کوصداقت کا پیکربنایا،حضرت عمر کو فارق حق وباطل کامنصب بخشا،حضرت عثمان کو سخاوت ودریادلی عطافرمائی ،سیدناعلی المرتضیٰ کو علم وشجاعت اورروحانیت کاشہریاربنایا،اپنےچچاسیدالشہداحضرت حمزہ کو’’ اسداللہ واسدرسولہ ‘‘(اللہ اور اس کے رسول کا شیر)کا لقب عطا فرمایا،حضرت عماربن یاسر کو’’ طَیِّب و مُطَیَّب‘‘( پاک وپاکیزہ شخص )قراردیا،حضرت بلال حبشی کو’’سیدالمؤذنین‘‘(مؤذنوں کا سردار)کاعہدہ عطا فرمایا، حضرت معاذ ابن جبل کو امام الفقہا بنایا،حضرت زید ابن ثابت کو علم فرائض کا سب سے بڑا عالم قراردیا،حضرت ابی بن کعب قرآن کے سب سے بڑے قاری،یعنی ’’استاذالقرا‘‘بنے،حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح کو’’ امین الامت ‘‘فرمایا،حضرت زبیربن عوام کو اپنا ’’حواری ‘‘قرار دیا،حضرت عبداللہ ابن عمر ’’امام المفسرین‘‘بنے،حضرت ابوہریرہ کو’’ امام المحدثین ‘‘کی سندعطا فرمائی،حضرت خالدبن ولیدکو ’’سیف اللہ ‘‘کا اعزازبخشا،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو ’’الصادق البار‘‘(سچا اورنیک )کالقب عطا فرمایا۔غرضیکہ معلم انسانیتﷺ اپنے اصحاب کے ہرہرفرد کونوازتے چلے گئےاوریہ نفوس قدسیہ جہاں جس جگہ پہنچی اس خطے کو علم وفن سے آراستہ کیا اور ایک زمانے نے ان سے فیض پایا۔مولانا الطاف حسین حالیؔ نے خوب کہا ہے ؎

لیے  علم  و  فن  ان  سے  نصرانیوں  نے

کیا    کسبِ   اخلاق    ر وحانیوں   نے

ادب   ان   سے  سیکھا   صفاہانیوں   نے

کہا   بڑھ   کے   لبیک   یزدانیوں   نے

  ہر  اک  دل  سے  رشتہ  جہالت  کا  توڑا

کوئی  گھر   نہ   دنیا  میں  تاریک  چھوڑا

ارسطو    کے    مردہ    فنوں   کو   جلایا

فلاطون   کو    زندہ   پھر   کر    دکھایا

ہر  اک  شہر  و  قریہ  کو   یاناں   بنایا

مزا  علم  و  حکمت  کا  سب  کو  چکھایا

کیا  بر  طرف  پردہ  چشمِ  جہاں   سے

جگایا   زمانے  کو  خوابِ  گراں  سے

         یورپ جب جہالت کی تاریکیوں میں ڈوباہواتھا،جسے ڈارک ایجز(تاریک دور) کا نام دیاجاتاہے،اس زمانے میں اسپین (اندلس) کے مسلمان، عرب سائنسدان، مفکرین اور موجدین نےعلم وتحقیق اورایجادات کی روشنی پھیلانے میں مصروف تھے۔ ۷۱۱ء سے شروع ہونے والے اس دور میں ابوالقاسم الزہراوی (سرجری)، عباس بن فرناس (پرواز کی ابتدائی کوشش)، اور ابن رشد (فلسفہ) جیسی عبقری شخصیات نے ایجادات اور تحقیقات سے جدید یورپ کی بنیاد رکھی۔یہ چندنام بطور مثال پیش کیاگیا ورنہ اس کی تفصیل پیش کی جائے تو بات بہت لمبی اور طویل ہوجائے گی۔مختصر یہ کہ آج جدید یورپ کی بھی جوعلمی ترقیاں ہیں وہ اسلام اورمسلمانوں کی مرہون منت ہیں۔

         قرآن کی ایک آیت سے علم پر خوب صورت استدلال:

         وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ-لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْط وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْء مِّنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (الانفال:۶۰)

         اور ان کے لیے جتنی قوت ہوسکے تیار رکھو اور جتنے گھوڑے باندھ سکو تاکہ اس تیاری کے ذریعے تم اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں انہیں ڈراؤ، تم انہیں نہیں جانتے اوراللہ انہیں جانتا ہے اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تمہیں اس کا پورا بدلہ دیا جائے گااور تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

         اس آیت میں قوت سے مراد یہ ہے کہ اسلحے اور آلات کی وہ تمام اقسام کہ جن کے ذریعے دشمن سے جنگ کے دوران قوت حاصل ہو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد قلعے اور پناہ گاہیں ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد رَمی یعنی تیر اندازی ہے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۰، ۲ / ۲۰۵)

         جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالمﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں قوت کے معنی رمی یعنی تیر اندازی بتائے۔ (مسلم، کتاب الامارۃ،، الحدیث: ۱۶۷) فی زمانہ میزائل اوردورتک مار کرنے والےجدیداسلحات وغیرہ بھی اسی میں داخل ہوں گے۔

          اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں:

         (۱)… جہاد کی تیاری بھی عبادت ہے اور جہاد کی طرح حسبِ موقع یہ تیاری بھی فرض ہے جیسے نماز کے لئے وضو ضروری ہے۔

         (۲)… عبادت کے اَسباب جمع کرنا عبادت ہے اور گناہ کے اسباب جمع کرنا گناہ ہے جیسے حجِ فرض کیلئے سفر کرنا فرض ہے اور چوری کے لئے سفر کرنا حرام ہے۔

         (۳)…کفار کو ڈرانا دھمکانا اپنی قوت دکھانا بہادری کی باتیں کرنا جائز ہیں حتّٰی کہ کافروں کے دل میں رُعب ڈالنے کیلئے غازی اپنی سفید داڑھی کو سیاہ کر سکتا ہے ورنہ ویسے سیاہ خضاب پرعلما کی اکثریت ناجائز وگناہ پرمتفق ہے۔

         فتح و نصرت کی عظیم تدبیر:

         مذکورہ بالا آیت ِ کریمہ فتح و نصرت اور غلبہ و عظمت کی عظیم تدبیر پر مشتمل ہے اور اس آیت کی حقانیت سورج کی طرح روشن ہے جیسے آج کے دور میں دیکھ لیں کہ جس ملک کے پاس طاقت و قوت اور اسلحہ و جنگی سازوسامان کی کثرت ہے اس کا بدترین دشمن بھی اس پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کرتا جبکہ کمزور ملک پر سب مل کر چڑھ دوڑنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں ، جیسے ایک بڑی طاقت اپنا سب سے بڑا دشمن دوسری بڑی طاقتوں کو سمجھتی ہے ،لیکن ان پر حملہ کرنے کی جرأت نہیں کی کیونکہ اُنھیں معلوم ہےکہ ہم سے مقابلہ کرنے کے نسخے اورطاقت ان کے پاس موجود ہے، لیکن وہی بڑی طاقتیں اور عالمی امن کے جھوٹے دعویدار کمزور ممالک کو طاقت دکھانے میں شیرہیں اور ان ممالک میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ اِسی آیت پر کچھ عمل کی برکت ہے کہ ایران آج زندہ وسلامت ہے،بلکہ یہ کہاجائے توغلط نہیں ہوگاکہ اس نےاپنی ہمت وبہادری ،جذبۂ حسینیت اورعسکری طاقت سے اسرائیل وامریکہ کودن میں تارے دکھادئیے ہیں۔ اگراسی طرح دیگرمسلم ممالک بھی اِس آیت پر عمل کریں تو کیا مجال کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کوآنکھ دکھاسکے۔   

         آخری بات:

         علم کی عظمت واہمیت وہی سمجھ سکتا ہے جس کا دل علم کی روشنی سے منور ہو،کتاب کی قدر ،قلم کی حرمت ،اہل علم کا مقام اورتعلیمی اداروں کی اہمیت وہی جانتاہےجوخودصاحب علم ہو،پڑھالکھاہو،علم سے اس کا کچھ تعلق ہو۔ ورنہ جاہل انسانوں کی نظرمیں کتابیں صرف کاغذاورعلمی ادارہ محض ایک عمارت ہوتی ہے۔جب کہ علم والے،شعوروالے،بصیرت والے جانتے اورسمجھتے ہیں کہ یہ کنکریٹ کی صرف کوئی بلڈنگ نہیں،بلکہ ملک کی شان ہیں، قوموں کامستقبل ہیں،اورلوگوں کی تقدیر یں بدلنے کےمراکزہیں ۔مولانامحمدعلی جوہریونیورسٹی کی ۳۸؍عمارتوں کوگرانے کاحکم کیا کوئی پڑھالکھابندہ دے سکتاہے؟۔جی نہیں!جب جاہل ، غیرتہذیب یافتہ اورکرپٹیڈ لوگ مسنداقتدار پرپہنچ جائیں گے تواس کانتیجہ یہی ہوناہے۔اس ملک میں حالیہ چندسالوں سےجس طرح تعلیمی شعبہ جات کونقصان پہنچایاجارہاہے، اسے تاریخ کے بدترین دور میں شامل کیا جائے گا۔مگراب حالات بدل رہے ہیں ،نوجوان بیدارہورہےہیں،علمی اداروں کی حفاظت اورنفرت کی سیاست کے خلاف پُرزورآوازیں اٹھنے لگیں ہیں ۔ایسے میں مسلم نوجوانوں کوبھی خواب غفلت سے بیدار ہوکر میدان عمل میں آنا چاہیےاورحکمت وبصیرت کے ساتھ ظلم کے خاتمہ ،حق وانصاف کی آواز اورعلم وفن کی شمع روشن کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؎

وقت سے آنکھیں ملا ، غفلت کی چادر چھوڑدے

دھوپ سرپہ آچکی ہے ،  اب تو  بستر چھوڑدے

تمت بالخیر