انسانیت کے لیے خطرہ کون:جہادی یا فسادی؟

         آج ہمارے اس وطن عزیز میں فسادیوں کا ایک ٹولہ مسلمانوں کو جہادی کہہ کرنشانہ بنانے میں لگا ہے ۔انھوں نے جہاد کی مختلف قسمیں گڑھ لی ہیں ،حال یہ ہے کہ ہرجاہل،گنوار ،غنڈہ،کریمنل،ملک دشمن ،دیش دروہی اوردنگائی نے اس لفظ ’’جہاد ‘‘ اور ’’جہادی ‘‘ کو اپنا تکیہ کلام بنالیا ہے۔آئیے ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسانیت کے لیےخطرہ کون ہے،جہادی یافسادی؟

         لفظِ جہاد ایک کثیر المعانی لفظ ہے جس کے لغوی معنی سخت محنت و مشقت،تگ ودو،کوشش ،جدجہد، (Extreme effort & hard work) کے ہیں۔  اسلامی نکتۂ نظر (Point of view)سے لفظِ ’’جہاد‘‘ ا َعلیٰ، اَرفع اورنیک مقاصد کے حصول، قیام امن، فتنہ وفساد ،ظلم و ستم، جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کو مٹانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے پر بولاجاتاہے۔ جہاد کا اسلامی مفہوم حق، انصاف اور مظلوموں کی حفاظت کے لیے ایک مثبت(Positive) جدوجہد ہے، جس کا مقصدمعاشرے اورسوسائٹی میں امن  وسکون قائم کرنا اورانسانیت کوتحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔ایک مسلمان ساری زندگی جھوٹ، منافقت، دجل، فریب اور جہالت کے خاتمہ کے لئے اِبلیسی قوتوں سے مصروف جہاد رہتا ہے۔جہاد اپنے وسیع تر معانی میں وقتی یا ہنگامی عمل نہیں بلکہ مہد سے لے کر لحد تک مردِ مومن کی پوری زندگی پر محیط ایک جامع تصور ہے۔ لہذا وہ شخص جو احترام آدمیت اور خدمت انسانیت کے اس جذبہ سے خالی ہے، اسلام کے لیے قابل قبول نہیں۔جہاد کے نام پربے قصوروبے گناہ کسی ایک شخص کاقتل بھی جرم عظیم ہے۔ایسے مجرمین لاکھ اسلام اورمسلمانوں کی بات کریں لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کریم کا اعلان عام ہے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَ نَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاطیعنی:جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔ (المائدہ:۳۲) معلوم ہوا کہ ناحق کسی مظلوم کو قتل کرنا ،کسی کی جان لینا ،جہادنہیں ،فساد ہے ۔ اسلام جہاد کاتوحکم دیتا ہے، مگر اس میںفساد کی کوئی گنجائش نہیں،دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔اصلاً دہشت گردی کے خاتمے کانام ہی جہاد ہے۔

          ہمارے اس وطن عزیز ،پیارے ملک بھارت پرجب انگریزوں نے اپنے ناپاک چنگل گاڑدئیے تھے،ہم بھارتیوں کو ظلم وتشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا،زندگی جب اجیرن ہوچکی تھی توسب سے پہلے ہم مسلمانوں اورعلمانے ہی اس دیش کو بچانے کے لیےجدوجہدشروع کیا۔دہلی کی جامع مسجد سے علامہ فضل حق خیرآبادی کاانگریزوںکے خلاف دیاگیا فتویٔ جہادکون بھلاسکتا ہے!!اس جہاد کےفتوےکے بعدہندو،مسلم،سکھ،عیسائی اورہرذات،برادری،دھرم کے لوگوں نے اس دیش کی حفاظت اورملک کی آزادی کے لیےآخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفرؔکے پرچم تلےانگریزوں سے جہاد کیا۔ہزاروں علما کو انگریزوں نےتختۂ دار پرچڑھادیا۔اس لیے کہ وہ سارےکے سارے جہادی تھے۔بےشک!علامہ فضل حق خیرآبادی جہادی تھے،بہادرشاہ ظفرجہادی تھے،مفتی صدرالدین آزردہ جہادی تھے،علامہ فیض احمد بدایونی جہادی تھے،علامہ سیداحمداللہ شاہ مدراسی جہادی تھے،جنرل بخت خان جہادی تھے،انگریزوں کوناکوں چنے چبوادینے والےٹیپوسلطان جہادی تھے،علامہ کفایت اللہ کافیؔ جہادی تھے،مولانا حسرت موہانی جہادی تھے،اشفاق اللہ خان جہادی تھے۔توماننا پڑے گا کہ بھگت سنگھ بھی جہادی تھے،نیتاجی سبھاش چندربوس بھی جہادی تھے،رانی لکشمی بائی بھی جہادی تھی،سروجنی نائیڈوبھی جہادی تھی،رام پرساد بسمل بھی جہادی تھے،گاندھی ،نہرواورولبھ بھائی پٹیل بھی جہادی تھے،اوردیش کو آزاد کرانے کےلیے انگریزوں سے جس کسی نے بھی دشمنی مول لی وہ سب جہادی تھے۔بے شک !یہ جہادی توتھے مگرفسادی نہ تھے۔فسادی کون تھے ؟وہ جنھوں نے انگریزوں کے چرنوں میں پناہ لی ہوئی تھی،ان سے معافی مانگ رہے تھے،ان دیش پریمی جہادیوں کی مخبری کررہے تھے۔

         تاریخی شواہد اور سیاسی تجزیوں کے مطابق، ونایک دمودر ساورکر اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے بانی ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار سمیت دیگر رہنماؤں پر انگریز حکومت سے وفاداری اور تحریک آزادی سے الگ رہنے کے الزامات اورثبوت ہیںان کے حوالے سے نمایاں تفصیلات درج ذیل ہیں:

         ۱۔ ونایک دمودر ساورکر (Vinayak Damodar Savarkar)ساورکر ہندو مہاسبھا کے رہنما تھے اور ان کے نظریات آر ایس ایس کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کالا پانی کی قید کے دوران، انہوں نے برطانوی حکومت کو رحم کی متعدد درخواستیں (Mercy Petitions) لکھیں اور انگریزوں کے وفادار رہنے کا عہد کیا۔

         ۲۔ ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار ( Dr. Keshav Baliram Hedgewar)وہ آر ایس ایس کے بانی اور پہلے سربراہ (سرسنگھ چالک) تھے۔ تاریخ کے مطابق، انہوں نے تحریک آزادی (جیسےبھارت چھوڑو تحریک) میں آر ایس ایس کو شامل نہیں ہونے دیا اور انگریز راج کی مخالفت سے گریز کی پالیسی اپنائی۔

         ۳۔ ایم ایس گولوالکر ( M.S. Golwakar)گولوالکر (آر ایس ایس کے دوسرے سربراہ) نے اپنی کتابوں اور بیانات میں تنظیم کو تحریک آزادی سے دور رکھا اور ہندو راشٹر کے نظریے پر زور دیا، جسے برطانوی استعمار کے خلاف براہِ راست جدوجہد کے متصادم سمجھا جاتا ہے۔

         ۴۔ ناتھورام ونائک گوڈسے (Nathuram Vinayak Godse)اس نے ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ءکو دہلی کے برلا ہاؤس میں گاندھی جی کو قریب سے تین گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ ناتھورام گوڈسے ایک ہندو قوم پرست اور انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور ہندو مہاسبھا سے وابستہ تھا۔ اس کے ساتھ اس کے ساتھی وِنایک دامودر ساورکر کو بھی اس سازش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔ناتھورام گوڈسے کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا گیا، اور نومبر ۱۹۴۹ء میں اسے سزائے موت دے دی گئی۔

         آرایس ایس وہ تنظیم جس نے برسوں تک اپنے ہیڈکواٹر پرترنگا نہیںلہرایا،آئین ہنداوردستورہند کے ساتھ ساتھ اس کے مرتب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی کھلم کھلا مخالفت کی ،بلکہ آج بھی باآسانی سوشل میڈیا کےذریعہ گاندھی،نہرو،امبیڈکر اوراس ملک کے خدمت گاروں،مجاہدین آزادی اورہرطبقے کو ایک دوسرے سےجوڑنے کی کوشش کرنے والوں کو ان کےغنڈے اورآوارہ قسم کے نیتا گالیاں دیتا مل جائیں گے۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کو’’جہادی‘‘کہنے والے یہ سارے کے سارے’’ فسادی‘‘ہیں۔فساد کا مطلب ظلم، بدامنی، اور تباہی پھیلانا ہے۔جسے دنیا کا نہ کوئی مذہب پسند کرتاہے اور نہ ہی کوئی اچھی حکومت اسے اپنے ملک میں پنپتا دیکھ سکتی ہے۔قرآن مجیدجو قیامت تک کے لیے ایک اصول و ضابطہ دینےوالی اہم کتاب ہے،اس میں فتنہ وفسادکے بارے میں بتایا گیاکہ :

         وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ(البقرہ :۲۱۷) اورفتنہ(وفساد) قتل سے بڑا جرم ہے۔

         ایک دوسری جگہ فرمایا گیا:وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ  ط فَاِنِ انْتَہَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ (البقرہ :۱۹۳)ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہ آجائے اگر یہ رک جائیں ( تو تم بھی رک جاؤ ) زیادتی تو صرف ظالموں پر ہی ہے ۔

         اسی طرح فتنہ وفساد پھیلانے والوں کے خلاف ہتھیار ڈال دینے کے بجائے،ان کے شرسے لوگوں کو بچانے کے لیے جدوجہد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔قرآن کہتا ہے:وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ( الانفال:۳۹)اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین (مکمل طور پر) اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔

         نبی اکرم ﷺنے اپنے دور کے فتنوں اور آئندہ آنے والے بہت سے فتنوں سے قتال کا حکم دیا اور اپنے زمانے میں خود اپنی نگرانی میں قتال کے ذریعے سے بڑے بڑے فتنوں کا قلع قمع فرمایا اورفتنہ وفسادپھیلانے والے سرداروں کو قتل کرنے کا حکم صادر فرما کر انسانیت پر امن و سکون کی راہیں کھول دیں اور ان کینسر صفت لوگوں کے خاتمے سے جو رحمت عام ہوئی اس کا اقرار صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ انصاف پسند کافر بھی کرتے ہیں کہ اگر مکہ مکرمہ سے ابوجہل، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عتبہ، شیبہ کا ناسور نہ کاٹا جاتا تو اہل عرب مزید کئی صدیاں جہالت اور ظلم میں ڈوبے رہتے۔ اسی طرح اگر مدینہ منورہ میں کعب بن اشرف حئی بن اخطب وغیرہ کو ختم نہ کیا جاتا تو مدینہ کئی صدیوں تک باہمی خونریزجنگوں کا مرکز بنا رہتا اور یہ ظالم بھیڑیے اوس اور خزرج اور دیگر قبائل کو لڑا لڑا کر تباہ کر دیتے اور مدینہ منورہ میں قحط سالی اور معاشی ظلم کا الو بولتا رہتا مگر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیمیا اثر تربیت اور ان بڑے موذیوں کے خاتمے سے مدینہ منورہ رحمت و برکت، امن و سکون کا مرکز بن گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد مدینہ منورہ نے معاشی خوشحالی کا وہ دور دیکھا جس میں زکوٰۃ دینے والے گلیوں میں زکوٰۃ لینے والے کو تلاش کرتے پھرتے تھے ، مگر کوئی لینے والا نہیں ملتا تھا۔

          اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں امن قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور فساد پھیلانے والوں کی شدید مذمت فرمائی ہے۔فسادیوں کوبے نقاب کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ، قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ اَلَا اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(البقرۃ:۱۱۔۱۲)اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! حقیقت میں یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں لیکن وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔

         پتہ چلا کہ دین وسنیت کی تبلیغ،حق کی سربلندی،ایمان وعقیدے کی حفاظت ،امربالمعروف نھی عن المنکر،دعوت واصلاح وغیرہ کے دلکش اوردلفریب نعروں اورجاموں میں بھی چھپے فسادی ہوسکتے ہیں ہیں۔ایسے لوگ اپنے مفاد کی خاطرکچھ بھی کرسکتے ہیں۔ان فسادیوں کے پاس نہ کوئی موقع ہے نہ محل،نہ حکمت ہے نہ بصیرت ،امت میں تفرقے بازی کرکے،مسلک ومشرب کے نام پر اپنی روٹی بوٹی کا انتظام اوراپنی دکان چمکانے کے سوا ان کاکوئی مقصد نہیں ہوتا۔ان جھوٹے حق گو اورحق بیان کے زبان وقلم سے وقت کے اس ظالم وجابر حکومت کے خلاف ایک جملہ بولنے اورلکھنے میں بھیگی بلی بن جاتے ہیں،اورآپسی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے میں یہ شیرہیں ۔حالانکہ حضوراکرم ﷺ کاارشاد ہے:أفضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر،یعنی:ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے۔(سنن ترمذی:۲۱۷۴)ایسی صورت حال میںیہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ ایسے لوگ قصداًیاسہواًظالم وجابرحکومتِ وقت کے حمایتی اور آلۂ کار بن گئے ہیں۔اورجانے انجانے میں اسلام دشمن عناصر کے مشن کو فروغ دے رہے ہیں۔

         ایسے لوگ بھی حقیقتاً قرآن وحدیث کی رُوسے فسادی ہیں۔ سُورۃالاعْرَاف کی آیت نمبر ۵۶؍میں ہے: وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ۔اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سےڈرتے ہوئے اورامیدرکھتے ہوئے دعا کرو۔ بیشک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔

         خلاصۂ کلام :

         فسادی: وہ شخص یا گروہ ہے جو زمین پر ناحق خونریزی کرتا ہے، دہشت پھیلاتا ہے،فتنہ انگیزی کرتاہے،نفرت پھیلاتاہے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ فساد ہر مذہب اور انسانی قانون میں ایک سنگین جرم ہے جو براہِ راست انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔

         جہادی:وہ شخص یاگروہ ہےجو ظلم کو مٹاتاہے، حق کی آوازبلندکرتا ہے،انسانی حقوق کی حفاظت کرتا ہے، محبتیں بانٹتاہےاورقیام امن کے لیے کوشاں رہتاہے۔اس لحاظ سے’’ جہادی‘‘ ہونا قابل فخر ہے اور’’فسادی‘‘ ہونا قابل ملامت۔مگراس دور کے فسادیوں نے لفظ جہاد اورجہادی کواس قدر بدنام کیا ہے کہ اچھے خاصے لوگ بھی اس لفظ کو اپنی زبان پرلانےسے گھبرانے لگے ہیں۔

         صورت حال تو یہ ہے کہ پٹنہ کے مقبول ومعروف ’’خان سر‘‘جیسے آن لائن ٹیچر،جنھوں نےمختصر سی مدت میں تعلیم اورصحت کے میدان میں بھی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ انھوں نےیہاں تک پہنچنے کے لیے ضروری سمجھا کہ اسلام اورمسلم دشمن عناصرکوبھی خوش کیاجائے۔اس لیےجب موقع ملا مسلمانوں کو ہدف ملامت بنایا ،ہندوانہ رسم ورواج میں رنگے اوراپنی مسلم شناخت چھپانے کی ہرممکن کوشش کی ۔مخصوص اندازمیں پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کی بناپربھی انھیں مقبولیت تو بہت مل گئی مگر جب ذرا طلبا کے حق کی آوازاٹھائی ،گودی میڈیا کےخلاف بولے اورنظام حکومت پرسوال قائم کیے توفوراً انھیںسازش کا شکاربنایاگیا۔میڈیاکے حکومتی اندھ بھکتوں نے انھیں’’ خان سر‘‘سےراتوں رات ان کے اصل نام فیصل خان سے مشہورکردیا،مسلمان نام کی وجہ کرایجوکیشن جہاد اورجہادی ہونے کاتمغہ ہونے دیاگیا۔منفی نکتۂ نظر سے تو جہادی ہونا قابل شرم ہے مگر مثبت فکراورجہاد کی تعریف کی روشنی میں یقیناً جہادی ہونا قابل فخر اوراعزاز کی بات ہے ۔

         دوسری جانب’’ خان سر‘‘جیسےمسلمانوں کوخوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آپ لاکھ سیکولر بننے اورہندوتوا وادی تنظیموں کوخوش کرنے کی کوشش کریں لیکن کسی بھی اعتبار سے اگر ’’مسلم‘‘ لفظ آپ سے جڑا ہواہے تواس بھارت میں کسی وقت بھی آپ کے اوپرطوفان آسکتاہے۔اس لیے فیصلہ آپ کوکرنا ہے کہ گھٹ گھٹ کر جی حضوری اورغلاموں کی زندگی جینا ہےیا اپنی اسلامی شناخت کے ساتھ ایک آزادانہ اورشاہانہ زندگی گزارنی ہے!!بقیہ ’’كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ۔وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ‘‘(سورۃ الرحمٰن :۲۶۔۲۷)

         (زمین پر جتنی مخلوق ہے سب فنا ہونے والی ہے۔ اور تمہارے رب کی عظمت اور بزرگی والی ذات باقی رہے گی۔)

         اس لیے موجودہ حالات میںاگرواقعی آپ مسلمان ہیں،توبزدلی،خوف اوربےجا مصلحت کےخول سے نکلیں۔عزت وذلت اورموت وحیات سب اللہ کے دست قدرت میں ہے،اس بات کو اپنے دل ودماغ میں راسخ کریں۔ اپنی شناخت چھپانے کے بجائےاپنی صلاحیتوں کوبروئے کارلاتے ہوئےنوجوانوں پرلازم ہے کہ وہ دین سے وابستہ ہوں،اسلامی تعلیمات کوجانیںسیکھیں،اسلام پرہونے والے اعتراضات کاجواب کیاہے،اس کا علم حاصل کریں۔دعوت کافریضہ نہیں انجام دے سکتے توکم ازکم اسلام کا پیغام ہی غیروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔بلکہ موجودہ دور میں یہی بہترین فریضۂ دعوت ہے۔جہاں خاندانی مسلمان، اسلام سے منحرف ہورہے ہیں وہیں غیرمسلم خاندانوں کے نوجوان سکون کی تلاش میں دامن اسلام میں پناہ لےرہے ہیں۔خاندانی مسلمانوں کے لیے اللہ جل شانہ کا اعلان عام ہے : اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا وَّ یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ وَ لَا تَضُرُّوْهُ شَیْــٴًـاط وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر(سورۂ توبہ:۳۹) یعنی:اے مسلمانو! اگر تم رسولِ کریم ﷺکے حکم کے مطابق اللہ جل شانہ کی راہ میں کوچ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک سزا دے گا اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گاجو تم سے بہتر اور فرماں بردار ہوں گے۔

         معلوم ہوا کہ اسلام ہمارا محتاج نہیں ،ہم اسلام کے محتاج ہیں ۔اس لیے مسلمانوں کو اپنی بقاکے لیے ایمان ویقین کا پیکربننا ہوگا؎

یقیں   محکم ،   عمل    پیہم،  محبت   فاتح    عالم

جہاد  زندگانی  میں  ہیں  یہ  مردوں  کی  شمشیریں

سبق  پھر  پڑھ  صداقت کا،  عدالت کا،  شجاعت کا

   لیا  جائے  گا  تجھ  سے  کام،  دنیا  کی  امامت کا

٭٭٭