یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

         اللہ رب العزت کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی قربانیوں سے بھری ہوئی ہے ۔آپ کے ساتھ آپ کے خوش بخت اور عظیم صاحب زادےحضرت سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی پاک سیرت میں ہمارے لیے بڑے اسباق موجود ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی اپنے ہاتھوں سے بیٹے کے حلقوم پرچھری چلانا ہے۔کیا ہی خوب کسی نےکہا ہے                                 ؎

 یہ آساں ہے کہ انساں چھوڑ دے سب مال و زَرْ اپنا

یہ آساں ہے کہ  انساں  چھوڑ دے  تختِ سلیمانی

یہ آساں ہے کہ انساں  رنج اُٹھائے ،  سختیاں جھیلے

یہ آساں ہے کہ  اپنی جان بھی  دے دے بہ آسانی

   یہ سب آسان سے بھی ،آسان تَر ہے  جانِ من لیکن

بہت مشکل ہے  اپنے  ہاتھ  سے بیٹے  کی  قربانی

         حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی عمر مبارک جب صرف۷؍سال کی تھی تواللہ پاک نے آپ سےفرمایا : اَسْلِمْ( سورۂ بقرہ :۱۳۱ ) یعنی : فرمانبرداری کر ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس ننھی عمر مبارک میں عرض کیا : قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ( سورۂ بقرہ : ۱۳۱)  میں نے فرماں برداری کی اس کی جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

         حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاس چھوٹی سی عمر میں اپنے رب سےجو وعدہ کیا اس پرساری زِندگی قائم رہے ، آپ پر مصائب بھی آئے ، پریشانیاں بھی آئیں ، دُکھ بھی سہنا پڑا ، آپ کو تکلیف بھی پہنچائی گئی مگر ایک لمحے کے لیے بھی آپ کے قدم میں ڈگمگاہٹ نہیں آئی ۔آپ ہمیشہ ثابت قدم رہے ۔اعلائے کلمۃ الحق کا پرچم پوری مضبوطی کے ساتھ بلند رکھا۔آپ تن تنہا دین کا پیغام عام کرنے میں مصروف رہے۔نمرود ،وقت کا ظالم ترین بادشاہ تھا ، اس کے دار الحکومت میں رہ کر ، بغیر ڈرے ، فقط اللہ پاک کے بھروسے توحید کا پرچم لے کر بڑھتے چلے گئے۔اور اللہ کے حکم پر اعلان فرمادیا:قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ(الانعام:۱۶۲۔۱۶۳)تم کہو، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کامجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔

         سورۃ الصافات ،آیت:۸۸- ۸۹ میں مذکور ہے کہ وہ کوئی جشن کا دن تھا، جس میں ساری قوم شہر چھوڑکر کہیں جایا کرتی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ساتھ جانے سے معذرت چاہی اور جب سارے لوگ چلے گئے تو بت خانے میں جاکر سارے بتوں کو توڑ ڈالا، صرف ایک بت کو چھوڑ دیا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی کلہاڑی بھی اس کی گردن میں لٹکاکر چھوڑدی۔ اس عمل سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ اپنی آنکھوں سے ان بتوں کی بے بسی کا منظر دیکھ سکیں اور یہ سوچیں جو بت خود اپنا دفاع نہیں کرسکتے، وہ دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔

         نمروود بد بخت جب ہرطرح کا حربہ آزماکر تنگ آگیا،مناظرے میں اسےشکست فاش ہوئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہرطرح سےاسے لاجواب ومبہوت کردیا،توبالآخراس نے آپ کوآگ میں ڈالنے کا شاہی اعلان جاری کردیا کہ شاید ابراہیم اب جان کے خوف سے باز آجائیں ، مگرآپ تسلیم ورضا کے پیکر بن گئے،جان دینے کے لیے تیار ہوگئےمگر کفروشرک سے سمجھوتہ نہ کیا۔علامہ اقبال ؔ نے اسی لیے جھوم کر کہا ہے؎                        بے  خطر  کود  پڑا  آتش  نمرود  میں  عشق 

                                              عقل  ہے   محو  تماشائے   لب   بام   ابھی

         جب آپ کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا ، حضرت جبرئیل امین حاضِر ہوئے ، عَرْض کیا : اے ابراہیم !(علیہ السلام ) کوئی حاجت ہو تو فرمائیے ! فرمایا : حاجت تو ہے مگر تم سے نہیں ، عرض کیا : پھر جس سے حاجت ہے ، اسی سے کہیے! فرمایا : وہ دیکھ رہا ہے ، کہنے کی ضرورت نہیں۔ گویا؎                                  جا نتا   ہے   خوب   میرا    رب   جلیل   

                                               آگ  میں  جاتا  ہے  اب  اس  کا  خلیل

         بہرحال! منجیق کے ذریعہ انھیں ادھر آگ میں پھینکا گیا اور ادھر اللہ جل شانہ نے آگ کو حکم دیا: یٰنَارُكُوْنِیْ  بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰى  اِبْرٰهِیْمَ(الانبیا:۶۹)’’ اے آگ! ٹھنڈی ہوجا، اور ابراہیم کے لیے سلامتی والی بن جا‘‘۔معاً اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے گل گلزار بن گئی۔ سچ ہے کہ                              ؎

آج  بھی  ہو  جو  براہیم  سا  ایماں  پیدا

آگ  کرسکتی   ہے  انداز  گلستاں  پیدا

         سبحان اللہ! یہ یقین تھا ، توکل تھا ،اعتماد وبھروسہ تھا، پھر اللہ پاک نے آپ کے اس یقین اور فرماں برداری کا صِلہ بھی عطا فرمایا ، میلوں تک پھیلی ہوئی اس ہولناک آگ کو اللہ جل شانہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے پھولوں کے باغ میں تبدیل فرما دیا۔

         پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہجرت کا حکم ہوا ، چنانچہ آپ نے اپنا گھر ، اپنے رشتے دار ، سب چھوڑے اور ہجرت کر کے ملکِ شام تشریف لے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب بڑھاپے کو پہنچ چکے تھے ، آپ نے دُعا کی :رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (سورۂ صٰفّٰت : ۱۰۰)یعنی: اے میرے رب ! مجھے نیک اولاد عطا فرما۔

         اس عمر میں اللہ پاک نے آپ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی صُورت میں نیک بیٹا عطا فرمایا ، ابھی حضرت اسماعیل علیہ السلام  کے دُودھ پینے کی عمر تھی ، حکم ہوا : اے ابراہیم ! اپنےبیٹے کو اور ان کی والدہ کو مکہ مکرمہ چھوڑ آئیے !

         اللہ اکبر ! بڑھاپے میں بیٹا عطا ہوا ، ابھی دُودھ پینے کی عمر میں ہےاور بیٹے کو خود سے جُدا کر دینے کا حکم آگیا ، قربان جائیے ! یہ جذبۂ اطاعت ہے ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اپنے رب سے کمال محبت ہے کہ یہ حکم سُن کر بھی آپ کی پیشانی پر بَل نہیں آیا ، زبان پر کوئی شکوہ آنا تو دُور کی بات ، دِل میں بھی کوئی خیال نہیں گزرا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کریم کے حکم پر سرِ تسلیم خم کیا اور اپنے دُودھ پیتے ننھے شہزادے اور ان کی والدہ محترمہ کو تنہا مکہ مکرمہ کی بےآب وگیاہ وادی،جسے قرآن نے’’ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ‘‘ سےتعبیرکیا ہے،اس میں چھوڑ کرحضرت ابراہیم واپس تشریف لے آئے۔ اللہ اکبر!اللہ اکبر!  یہ کیا آزمائش کم تھی!!

             لیکن اس پر بس نہیں ہوا،بلکہ    ع       ابھی  عشق  کے  امتحاں  اور  بھی  ہیں

         جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر مبارک کم وبیش ۱۳؍سال تھی ، حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں ، انبیائے کرام علیھم السلام کے خواب وَحی ہوتے ہیں ، لہٰذاحضرت ابراہیم علیہ السلام خواب کے ذریعے دیے گئے اس حکمِ خُداوندی پر عمل کرنے کےلیے مکہ مکرمہ پہنچے ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو خواب سنایا ، فرماں بردار بیٹے نے عَرْض کیا:  یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُز  سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ( سورۂ صٰفّٰت : ۱۰۲ ) یعنی:’’ اے میرے اباجان ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سےپائیں  گے‘‘۔سبحان اللہ ! بیٹا ہو تو ایسا ہو! فرماں برداری ہو تو ایسی ہو! !۔جناب اقبال ؔ نے اس موقع پر کیا ہی خوب کہا ہے                                                     ؎

           یہ  فیضانِ  نظر  تھا  یا  مکتب  کی  کرامت  تھی         

   سکھائے  کس  نے  اسماعیل  کو  آدابِ  فرزندی !

         انسان کی تربیت میں دو چیزوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے:   (1)   والدین۔(2)  درس گاہ۔

         علامہ اقبالؔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مثال دے کر سمجھاتے ہیں کہ حضرت اسماعیل کو آداب فرزندی کی تعلیم ان دونوں ذرائع سے ہی حاصل ہوئی تھی۔ یہ صلاحیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پدری صحبت اور تربیت سے ان کو حاصل ہوئی۔

         چنانچہ اب اس پیارے جواب کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے شہزادے کو ساتھ لیا ، وادیٔ منیٰ میں تشریف لائے ، بیٹے کو لٹا دیا ، گلے پر چُھری رکھ دی ، روایات میں آتا ہے : چھری بہت تیز تھی مگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چلائی جاتی تو چلتی نہیں تھی۔۔۔۔۔اللہ پاک کا حکم پُورا کرنے میں غیر اختیاری طَور پر دیر ہو رہی تھی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا فرماں بردار دِل اس تاخیر کو قبول نہیں کر سکتا تھا ، آپ نے چھری کو تیز کیا ، پھر چلائی ، نہ چلی ، پھر تیز کیا ، چلائی ، پھر نہ چلی ، ۳؍بار ایسا ہی ہوا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جوشِ فرماں برداری میں بار بار چھری چلانے کی کوشش کر رہے تھے ، اسی وقت حضرت جبرئیل امین علیہ السلام جنّتی مینڈھا لے کر حاضِر ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قربانی قبول ہونے کی خوش خبری سُنا دی گئی۔قرآن کے الفاظ ہیں: وَنَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُ۔قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا ج   اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ۔ وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ۔ وَتَرَكْنَاعَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ۔سَلٰمٌ عَلٰى اِبْرٰهِیْمَ۔ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ (الصفٰت:۱۰۴ تا ۱۱۱)

         (اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم۔ بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا، ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بے شک یہ روشن جانچ تھی۔ اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے صدقہ میں دے کر اسے بچالیا۔ اور ہم نے پچھلوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ سلام ہو ابراہیم پر۔ ہم ایسا ہی صلہ دیتے ہیں نیکوں کو۔ بے شک وہ ہمارے اعلیٰ درجہ کے کامل الایمان بندوں میں ہیں ۔)

         عہد حاضر میں مسلمانوںکو اپنی عزت وبقا کے لیےنقش قدم ابراہیم پر چل کرنمرود وقت کے سامنے’’ لاالٰہ الا اللہ‘‘کی ضرب لگانے،کلمۂ حق پیش کرنے، قدم قدم پر قربانیوں کے لیے تیاررہنے اوررب قدیر پرمکمل توکل واعتماد رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح نمرود کے زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستی کے سارے تصورات ختم کر دیے تھے، اسی طرح آج بھی ضرورت ہے کہ کفرو شرک، مادہ پسندی، خدا گریزی ،مفادپرستی ،دنیاطلبی جیسی اس دور کےبےشماربرائیوں کے بتوں کو بھی پاش پاش کردیاجائے۔ ہر دور میں انسانیت کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت رہی ہے جو سچائی، بہادری اور قربانی کی مثال ہوں۔ آج کا دور بھی بے شمار مسائل، اخلاقی زوال، ناانصافی، خود غرضی ،بے حسی اوردین بیزاری کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں دل یہ پکار اٹھتا ہے کہ                         ؎

                 یہ  دور  اپنے  براہیم  کی  تلاش  میں  ہے              

   صنم  کدہ  ہے  جہاں  لا    الہ   الا    اللہ

         یہاں ابراہیم سے مراد صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ یہ ایک اصطلاح اور وہ اوصاف ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی خاصیت تھی۔ حق پرڈٹ جانا، باطل قوتوں سے مرعوب نہ ہونا، سچائی کا علم بلند رکھا۔ جب پوری قوم بت پرستی میں مبتلا تھی تو انھوں نے تنہا ہو کر بھی حق کی آواز بلند کی۔ آج کے دور میں بھی ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو معاشرے میں پرچم توحیدلے کرڈٹ جائیں، کفروارتداد کی آندھی کا مقابلہ کریں، ظلم وتشدد کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔

         سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی قربانی کی اعلیٰ مثال ہے۔ انھوںنے اللہ کے حکم پر اپنی ہر عزیز ترین چیز قربان کردی۔ آج انسان صرف اپنی ذات اور مفاد کے بارے میں سوچتا ہے۔ معاشرے میں ایثار، محبت اور دوسروں کے لیے جینے کا جذبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اس دور کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اپنی خواہشات سے بلند ہو کر انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کریں۔اس کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام برداشت، صبر اور حکمت کے پیکر تھے۔ انھوں نے سخت مخالفت کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ موجودہ دور میں چھوٹے چھوٹے اختلافات نفرت اور دشمنی میں بدل جاتے ہیں۔ اگر لوگ ابراہیمی کردار اپنالیں تو معاشرے میں اتحاد واتفاق، امن وسکون، بھائی چارگی اور محبت والفت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔مختصر یہ کہ آج کا زمانہ مادّہ پرستی اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ہمیں ایسے باکردار، نڈر اور مخلص انسانوں کی ضرورت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حق اور انصاف کا پرچم بلند کریں۔ جب معاشرے میں ابراہیمی صفات رکھنے والے افراد پیدا ہوں گے تو ہی اس ملک عزیزہند کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں مسلمانوں کوفتح ونصرت اوراسلام کو غلبہ حاصل ہوسکتا ہے۔اللہ کریم اپنے حبیب مکرم ﷺ کے صدقے میں ہمارے اندر جذبۂ براہیمی پیدا فرمائے                                                     ؎

آج  بھی  ہو  جو  براہیم  سا  ایماں  پیدا

آگ  کرسکتی   ہے  انداز  گلستاں  پیدا

٭٭٭

                                                                                                                                                        سید سیف الدین اصدق چشتی

                                                                                                                                          آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف،نالندہ (بہار)