۸؍مارچ کا دن دنیا بھر میں انٹرنیشنل وومینس ڈےیعنی عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے،تاکہ سماج میں موجود جنسی امتیاز کو کم کیا جا سکے۔عورتوں کے ساتھ ناانصافیاں بند ہوں ،انھیں ان کے حقوق دئیے جائیں اور انھیں سماج میںمردوں کے برابر کا درجہ ملے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب کی طرف سے یہ عورتوں کے لیے ایک بڑا جال اورفریب ہے۔
اہلِ مغرب نے مرد کی شہوت حیوانیت کو فحش اور عریاں فلموں ، لٹریچروںاور غزلوں کے ذریعے بھڑکایا۔جب بےحیائی کا مکمل ماحول بنا تو مرد کی شہوت حیوانیت کی تسکین کے لیے عورت کوبےپردہ کرنا انتہائی ضروری ہو گیا۔اس کے لیے عورت کو’’آزادی نسواں‘‘ اور ’’مساوات مرد و زن‘‘کا سبزباغ دکھا کر پہلے گھر سے باہر نکالا پھر اسےننگا کر کے تختہ مشق بنا لیا۔پھر اس صنف نازک پر اہل مغرب نےجوظلم اور بربریت کے پہاڑ ڈھائے وہ قابل بیان ہیں نہ قابل دید۔
مغربی تہذیب نےآزادی اورمساوات کے نام پر خواتین کوگھروں سےنکال کر مردوں کے لیے سیر و تفریح کا سامان بنادیا۔ کہیں وہ ماڈلنگ کی دنیا میں آزمائی گئی، کہیں لوگوں کے لیے سامان بیچنے کا ذریعہ بنی، تو کہیں صارفین نے اُسے ہدف بنا یا۔ رہی سہی کسر مال کے کلچر نے پوری کردی، جہاں اُسے سیلز گرل کے نام پر گراہکوں کا دل بہلانے والی ذمےداری دے کر وہاں بھی اس کا استحصال کیا گیا۔انھیںجہازوں میں ائیر ہوسٹس ، دفاتر میں بطور استقبالیہ ، ہوٹلوں میں ویٹر اور خریدوفروخت میں نمائش کی چیز بناکر ہرجگہ ان کے جسم کو استعمال کیا گیا۔
مسلم معاشرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے توپتہ چلے گا کہ آج مغربیت ہمارے رگ و ریشے میں کس طرح پیوست ہوچکی ہے ۔ہماراپڑوسی ملک جواسلام کے نام پر وجود میں آیا وہاں کہ حالات توانتہائی افسوس ناک ہیں۔ہمارے ملک ہندوستان میں غیرمسلم خواتین بھی اتنی بے شرم نہیں ،جس قدروہاں خودکو مسلم کہنے والی یہ ماڈرن خواتین ہیں۔یوم خواتین کے موقع پر یہ نام نہادمسلم خواتین ہاتھ میں بینر تھامے میرا جسم میری مرضی کا اعلان کرتی ہیں،ان کے ہاتھوں میں ہونے والے بینر میں انتہائی گھٹیا،گھناؤنے اور ناقابل بیان سلوگن ہوتے ہیں۔ سڑکوں پرآوارگی کا مظاہرہ کرنے والی یہ خواتین واقعی ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرتیں تو انھیں اس کی عظمت کا اندازہ ہوتا۔
اسلام کے خواتین پر احسانات کی جھلکیاں
اسلام سے قبل عورت کو منحوس ،ناقابل تکریم اور خواہشات نفس کے بجھانے کا صرف ایک سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کچھ قومیں”بچی‘‘پیدا ہوتے ہی اس کوزندہ درگور کردیا کرت تھے۔ ہندوانہ رسم و رواج میں عورت کو ستی کی رسم کے نام پر زندہ جلایا جاتا تھا۔ عورت کا جائداد میں حق تھا نہ ہی معاشرے میں کوئی کردار،ایسے پر خطر ماحول میں اسلام نے عورت کو تحت الثریٰ سے نکال کر اوج ثریا تک پہنچایا، مقام و عزت سے نوازا، آزادی رائے کا حق بھی دیا اور بہترین معاشرتی حقوق سے ہمکنار کیا۔
اسلام نےاس کے برخلاف عورتوں کو سماج میں عزت دی ،کئی قسم کے حقوق دیئے ۔ اس کی پیدائش پر جنت کی خوش خبری دی ،ماں بناکراس کے قدموں میں جنت رکھی،بہن بناکراس کامان بڑھایا،بیوی کو گھر کی مالکہ بنایا اوربیٹی کو لخت جگر قراردیا۔ اسلام میں عورتوں کوعزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ مردوں کی طرح وراثت کی حقدار ہے۔ اسلام میں نہ تو عورت مظلوم ہے، نہ محکوم بلکہ صنف نازک کو اس خالق نے وہ اعزاز بخشا ہےجو کسی مرد کو حاصل نہیں۔اسلام نے عورتوں کو قید نہیں کیا ہے بلکہ گھر کی چہاردیواری اند رکھ کر اسے تحفظ فراہم کیا ہے۔پردے کے ذریعہ اس کی آزادی نہیں چھینی ہے بلکہ اس حجاب نے اس کی عظمت میں چار چاند لگادیا ہے۔یہ اسی طرح ہے جیسے کتابوں کی ڈھیر میں جزدان میں قرآن ،عمارات کی بھیڑاللہ کے گھر خانہ کعبہ کا غلاف ،یہ اس کی عظمت کی گواہی ہے۔
ایک طرف اسلام کا یہ سنہرا نظام اور بہترین تعلیمات ہیں جس میں عورت کی حیثیت ملکہ کی ہے تو دوسری طرف مغرب جو آزادی نسواں کا پرفریب جھانسہ دیتا ہے جہاں عورت کو صرف جنسی لذت کی تسکین کا ایک کھلوناسمجھا جاتا ہے، جہاں نہ جائیداد میں عورت کے کوئی حقوق ہیں نہ ذاتی زندگی میں،بلکہ عورت انکی نظر میں نائلٹ کلب اور شراب خانوں میں نچوانے کا آلہ ہے،جہاں فاحشہ عورت کو داد دی جاتی ہے، جہاں شادی کے بجائے گرل فرینڈ بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے،عمر رسیدہ ہونے پر دھکے دیکر اولڈ ہوم چھوڑ دیا جاتا ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتیں ایسے کونسے مطالبات منوانا چاہتی ہیں جو اسلام انہیں نہیں دیتا؟وہ کون سےحقوق ہیں جس میں اسلام نے عورتوں کے ساتھ زیادتی کی ہو؟۔جب کہ واضح طور پر آزادی نسواں نظریات کا دھوکہ ہے، میرا جسم میری مرضی کا نعرہ مکر و فریب کا جال ہے، بے حیائی کی طرف دھکیلنے کا ہتھکنڈا ہے۔جو کبھی فلموں کے ذریعے تو کبھی سیریلس اور پروگراموں کے ذریعے، کبھی نیوز چینلوں کے ذریعے ،کبھی اخبارات اور میڈیا کے ذریعے، کبھی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے آزادانہ ماحول کے ذریعے مسلم عورتوں کو اپنے باطل نظریات کی لپیٹ میں لینا چاہتے ہیں۔مسلم ذہنیت پر حملہ کرکے اپنے تفکرات ان میں شامل کرنا چاہتے ہیں دل سے ایمانی جذبات صلب کرکے بے غیرتی و بے حیائی کو عام کرنا چاہتے ہیں، آزادی کے نام پر اُکساکر جذبات کو بھڑکا کر اسلام کی تعلیمات سے دور کرنا چاہتے ہیں۔
آج خواتین تک یہ پیغام بھی پہنچانے کی ضرورت ہے کہ’’اے میری بہنوں!اسلام میں آپ کی عزت و حرمت کعبہ سے بھی افضل ہے ، آپ کی حیااللہ کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت ہے ، آپ کی پاک دامنی پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں،ذرا آس پاس نظر دوڑائیں! یہ ایک ایسا دور ہے جس میں دو بڑے گروہوں کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے، اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ برپا ہے ،یہ جنگ ہتھیاروں کے ذریعے نہیں لڑی جارہی ہے بلکہ اس جنگ میں نظریات، احساسات، اور مذہبی جذبات کا بھی سہارا لیا جارہا ہے۔ اس جنگ میں طاقت مال و دولت اور باطل مذاہب کا اتحاد کے ساتھ ساتھ عریانیت و فحاشیت، مذہب بیزاری اور اسلام دشمنی کا سیلاب بھی ہے، اس جنگ میں بہت بڑی تعداد زرخرید افراد کی ہے جنہوں نے اسلام کو بیچ ڈالا ہے، میرا جسم میری مرضی کا نعرہ یوں ہی نہیں لگایا گیا ہے بلکہ اس وقت باطل کی نظر تم پر ہے،تمہارے گود میں پلنے والے بچّوں پر ہے، باطل کو ڈر ہے کہ کہیں پھر تمہاری گود سے’’ محمد بن قاسم ‘‘جیسا بچّہ نہ پیدا ہوجائے، جو ایک بہن کی عزت بچانے کے لیے عرب سے اُٹھ کر ہندوستان تک چلا آیا تھا۔دشمنوں کو خدشہ ہے کہ کہیں تمہاری گودمیں پرورش پانے والا نو مولود بچہ ’’صلاح الدین ایوبی ‘‘نہ بن جائے، جو مسجد اقصی کو دوبارہ آزادی دلائے اور یورپ کے چھ لاکھ فوجیوں کو شکست دے دے۔اغیار کو اس بات کا خوف سونے نہیں دیتا کہ کہیں تمہارے دامن سے لگا ہوا یہ بچہ ایک دن’’ محمد الفاتح‘‘ بن کر نہ ابھر جائے۔باطل کو آج تم سے خطرہ ہے انہیں تمہاری دی ہوئی اسلامی تعلیمات سے خطرہ ہے۔
میری پیاری بہنوں! اس لیے باطل چاہتا ہے کہ اس بے حیا نعرہ کے ذریعے تمہیں بے حیابنا دے تاکہ جب تمہاری عزت پر ڈاکے پڑنے لگیں تو تمہاری گود میں پلنے والے بچوں کے کانوں میں جوں تک نہ رینگے۔کفار وملحدین چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہارے پیارے نبیﷺ کی تعلیمات سے دور کردیں، تمہیں گھروں سے نکال کر بازاروں میں لائیں،تمہیں دفتروں میں لائیں، تمہیں ائیرہوسٹیس بنا کر تمہیں گندی نگاہوں سے دیکھیں اور تمہارے گردن میں غیر مردوں کی غلامی کا طوق ڈال دیں ، تمہیں آزادی کے نام پر بے حیابنا دیں، تمہارے پیارے نبی کی دی ہوئی چادر کو چاک کردیں، تمہاری آنکھوں سے حیاکو نکال دیں، تمہاری غیرت تم سے چھین لیں، اسی وجہ سے یہ حقوقِ نسواں کی جھوٹی باتیں کرتے ہیں،آزادیِ نسواں کے نعرے لگاتے ہیں۔
یہ تمہیں تمہارا حق کیا دیں گے جب کہ خود ان کی خواتین کو ان سے شکایت ہے کہ ہمیں دفتروں میں جنسی ہوس کا شکار بنایا گیا، ہمارے ساتھ ہوٹلوں میں زیادتی کی گئی، ہمیں آزادی کے نام پر بے وقوف بنایا گیا، لیکن یہ ظالم خبیث الفطرت اغیار ہماری مسلمان خواتین کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ عورتوں کو مسلمانوں نے غلام بنا رکھا ہے، ماں باب، بھائی اور دیگر رشتہ دار شادی سے پہلے ان پر حکم چلاتے ہیں جبکہ شادی کے بعد شوہر اور اسکے رشتہ دار عورت کو غلامی پر مجبور کرتے ہیں،بقول شاعر ع
یہ حقیقت ہے تماشائے لب بام نہیں
اے مسلمان بہن ! نہ یہ جسم تیرا ہے نہ ذات تیری ہے یہ اللہ کی امانت جسکا حساب و کتاب ہوگا یہ جسم اللہ کا ہے تو مرضی بھی اللہ کی ہوگی۔خدارا! ان مغربی عورتوں کی روش کو اپنا کر میرا جسم میری مرضی کے نعرہ نہ لگائیں،آپ باعزت مسلمان خواتین ہیں، آپ اپنے مرتبہ کو سمجھیں! آپ کا مقام بہت بلند ہے! آپ ہی کی تربیت قطب الدین بختیار کاکی اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری پیدا کرتی ہے، آپ کی ہی محنت سے صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم پیدا ہوتے ہیں!!خدارا ماضی پر ایک نظر ڈالیں، اور مسلمانوں کی تابناک تاریخ کا مطالعہ کریں اور موجودہ دور کے حالات سے تجزیہ کریں حقائق واضح ہوجائیں گے۔شاعر مشرق علامہ اقبال ؔ فرماتے ہیں؎
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے، وہ قند
کیا فائدہ، کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں، معذور ہیں، مردان خرد مند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادیٔ نسواں کہ زمرد کا گلوبند
اس نظم میں جناب اقبالؔ نے عورت کی نام نہاد آزادی پر تبصرہ کرتے ہیں کہ’’ عورت کی آزادی اور حقوق کو میں جانتاہوں۔ مغربی تہذیب والے عورت کو اس کا حق دینے ، اسے ماں، بہن، بیٹی سمجھنے، اسے بازاری مال نہ کہنے، اسے شتر بے مہار نہ بنانے کی وجہ سے مجھ سے پہلے سے ناراض ہیں اور انھوں نے مجھے معتوب کیا ہے۔ لہذا خرد مند اس بارے میں کیا کہ سکتے ہیں اسے چھوڑ دیں۔ عورت کی بصیرت خود فیصلہ کرے کیا اس کے حق میں شتر بے مہار کی طرح آزاد پھرنا بہتر ہے یا پھر اس کے گلے میں شوہر کی تابعداری کا گلوبند اچھا لگتا ہے؟اب ظاہر ہے کہ اگر عورت کو شوہر کی غلامی سے آزاد کیا جائے تو پھر وہ کئی دیگر مردوں کے سامنے ذلیل ہوتی رہے گی اور اس کی زندگی اجیرن بن جائے گی۔ پہلے وہ ایک مرد کی تابعدار تھی اب سینکڑوں کی غلام ہوگی۔ اب عورت خود سوچھے کہ کتنے مردوں کی غلامی بہتر ہے؟‘‘۔
خواتین کی آزادی اور اسلامی نقطۂ نظر
اسلام بحیثیت انسان عورت اور مرد میں کوئی امتیاز نہیں کرتا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے:یَاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى (الحجرات :۱۳)اےلوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔
اسلام نہ صرف خواتین کو ان کے حقوق دیتا ہے بلکہ صنف نازک کے لطیف وجود کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ ط ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(الاحزاب:۵۹)’’اےنبیﷺ اپنی بیویوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کرے (تاکہ وہ ستائی نہ جائے،) تاکہ وہ پہچان لی جائے‘‘۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پوری دنیا کی نصف آبادی کا موجودہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہر دوسری تیسری خاتون کسی نہ کسی شعبے میں اپنے صنف مخالف سے ہراساں کی جاتی ہے۔ بات صرف ہراساں کرنےکی حد تک محدود نہیں ہے۔ ملک عزیز میں پچھلے پانچ چھ برسوں میں عصمت دری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر اسلام ایسے تمام عناصر کی حد بندی کرتا ہے نہ صرف عورتوں کو حجاب اور غض ِ بصر کا حکم دیتا ہے بلکہ مردوں کو بھی ان احکام کا پابند بناتا ہے۔
اسلام میں خواتین کی معاشی حیثیت
خواتین اسلام میں معاشی لحاظ سے مستحکم ہوتی ہیں۔ وراثت میں اس کا اپناحصہ ہوتا ہے، جو باپ، بھائی اور شوہر کے مال سے شرعی اور قانونی اس کا حق ہے۔ نکاح کے وقت خواتین کو مہر دیا جاتا ہے۔ جس کو فرض اور نکاح کے شرائط قرار دیا گیا ہے۔ یہ مہر عورت کی اپنی ملکیت ہے وہ چاہےخود پر خرچ کرے، چاہے اپنی خوشی سے شوہر کی مالی امداد کےمصرف میں لائے، چاہے اپنےوالدین پرخرچ کرے۔ اس کےمتعلق وہ جوابدہ نہیں ہے۔
امہات المومنین اور دیگر صحابیات کی زندگی سے یہ دلیل ملتی ہےکہ وہ تجارت میں اپنا سرمایہ لگایا کرتی تھیں۔ اسلام میں خواتین پر نہ معاشی بار ڈالا گیا ہے اور نہ اسے معاشی ذمہ داری اٹھانے سے روکا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے فرائض اور حقوق جو اس کے متعلقین کے اس پر عائد ہوتے ہیں، ان کو بخوبی انجام دینے کے بعد کوئی حلال آمدنی کا پیشہ اختیار کرتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
عورت کی کمائی اس کی اپنی کمائی ہے۔ کوئی اسے اپنی مفاد کی خاطرخرچ کرنے پر دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ حتیٰ کہ شوہر بھی نہیں، البتہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کرسکتی ہے۔
نکاح میں لڑکی کی رضامندی
نکاح کے وقت بھی لڑکی سے اجازت لینا ضروری ہے۔ رسولﷺ نے فرمایا: ’’غیرشادی شدہ کا نکاح اس سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے اور نہ کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اسلام میں خواتین کی تعلیم
اسلام کی تعلیمات کا آغاز ہی علم سے ہوتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نےفرمایا: ’’ہر مسلمان مرد اور عورت کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔‘‘(حوالہ)گویا علم حاصل کرنا پسند یا شوق نہیں بلکہ فرض ہے بلاصنفی تفرق، اس میں مرد و عورت کی کوئی تفریق نہیں رکھی گئی۔
اسلام میں خواتین کااحترام
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے حضورعلیہ الصلاۃ والسلام سے سوال کیا کہ ’’آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں؟‘‘ تو آپ ﷺنے (بلا تامل) فرمایا: ’’عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے۔‘‘ اللہ کے رسولﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ آپ ﷺخواتین کی بہت عزت کرتے ان کے ساتھ حسن سلوک کو حکم دیتے۔
یہ اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ ہے۔ اس کی پیدائش پر جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے۔ اسےعزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ مردوں کی طرح وراثت کی حقدار ہے۔ اسلام میں نہ تو عورت مظلوم ہے، نہ محکوم بلکہ صنف نازک کو اس خالق نے وہ اعزاز بخشا ہےجو کسی مرد کو حاصل نہیں۔ جب تک دنیا میں غیر فطری نظام رہے گا تب تک پوری انسانیت مسائل کا شکار ہوتے رہے گی۔جناب اقبالؔ نے کیا خوب کہا ہے؎
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
علامہ اقبال اس شعر میں عورت کے وجود کو کائنات کے حسن اور زندگی کی معنویت سے جوڑتے ہیں۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ ’’عورت محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کی خوبصورتی اس کے وجود سے وابستہ ہے‘‘۔ اس کے بغیر زندگی بے رنگ اور بے معنی ہو جاتی ہے۔عورت کے اندر محبت، ایثار اور قربانی کا ایسا جذبہ ہے جو زندگی کو اندرونی طور پر گرما دیتا ہے۔’’سوزِ دروں‘‘سے مراد وہ اندرونی حرارت اور عشق ہے جو انسان کو مقصدِ حیات سے جوڑتا ہے، اور یہ سب عورت کی پرورش، محبت اور تربیت سے ملتا ہے۔ارشد محمود ارشدؔکے اس نظم پر میں گفتگوختم کرتا ہوں؎
بنایا ہے مصور نے حسیں شہکار عورت کو
الگ پہچان دیتا ہے کہانی کار عورت کو
وہ ماں ہو بہن بیوی یا کہ بیٹی ہو سنو لوگو
ہر اک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو
یہی سچ مچ بنا دے گی ترے گھر کو حسیں جنت
ذرا تم پیار سے کرنا کبھی سرشار عورت کو
پھر اک دن ان کی قسمت میں لکھی جاتی ہے رسوائی
زمانے میں سمجھتے ہیں جو کاروبار عورت کو
اسی کا روپ دھارے پھر رہی ہیں کچھ چڑیلیں بھی
میں عورت ہی نہیں کہتا کسی مکار عورت کو
سلام ان عورتوں پر جو کہ مائیں ہیں شہیدوں کی
سلامی پیش کرتا ہوں میں سو سو بار عورت کو
مجھے اس وقت ارشدؔ کیوں مری ماں یاد آتی ہے
کسی کٹیا میں دیکھوں جب کسی لاچار عورت کو
٭٭٭