اللہ جل شانہ نے نبی مکرمﷺ کی ذات بابرکات پرجو پہلی وحی نازل کی اس میں تعلیم کی اہمیت، اس کے بنیادی مقاصد اور اس کے حصول کے ذرائع کو شاندار انداز میں بیان فرمایا ہے:اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ(۱)خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ(۲)اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمْ(۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ(۵)(اپنے رب کے نام سے پڑھوجس نے پیدا کیا۔انسان کو خون کے لوتھڑے سے بنایا۔پڑھواور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے۔جس نے قلم سے لکھنا سکھایا۔انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔)
قرآن کے تقریباً ۷۸؍ہزار الفاظ میں سب سے پہلا لفظ جو اللہ جل شانہ نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺکے قلب اقدس پہ نازل فرمایا وہ یہی ’’اِقْرَاْ‘‘ ہے، یعنی پڑھیے ۔مزید قرآن پاک کی ۶؍ہزار آیتوں میں سب سے پہلے جو ۵؍آیتیں نازل فرمائی گئیں ان سے بھی قلم کی اہمیت اور علم کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔علم کی فضیلت و عظمت، ترغیب و تاکید مذہب اسلام میں جس بلیغ و دل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی، تعلیم و تعلم، درس وتدریس تو گویا اس دین برحق کا جزو لاینفک ہے۔
محترم حضرات!ہرہوش مند انسان کو اس بات کا علم ہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد سب سے اہم چیز ’’علم دین‘‘ ہے۔کیوں کہ جو چیزیں ایمان میں مطلوب ومقصود ہیں کہ جن پرعمل کرلینے سے ایمان میں کمال آتا ہے ،اورجن پر دین کی اشاعت وحفاظت کا مدار ہے،وہ چیزیں دین کے علم کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں،یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الایمان کے معاً بعد ،علم سے متعلق احادیث کو جمع فرمایا ہے ،اور ان ہی کی پیروی کرتے ہوئے ’’صاحب مشکوٰۃ‘‘ علامہ بغوی علیہ الرحمہ نے بھی اپنی تالیف ’’مشکوٰۃ شریف‘‘کتاب الایمان کے بعد ’’کتاب العلم ‘‘کو جگہ دی ہے۔اس سےہمیں اس بات کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایمان کے بعد سب سے زیادہ اہم علم ہے ۔لیکن خیال رہے کہ علم ،ایمان سے بڑھ کرنہیں،جس علم سے ایمان خطرے میں آجائے ،تومومن کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسے علم کو چھوڑکر اپنا ایمان بچائے۔
بہرحال!کہنا یہ ہے کہ امتِ محمدیہ کا رشتہ علم کے ساتھ ایسا وابستہ کردیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی چھوٹ نہیں سکتا۔واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کائنات کی تمام مخلوقات پر جو فضیلت دی اس کا بنیادی سبب بھی علم ہی ہے، اسی بناپر فرشتوں کو انسان کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا، سورۂ بقرہ میں اس مکالمہ کا ذکر موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے مابین ہوا،اللہ رب العزت نے جب فرشتوں کے علم کا امتحان لیا تو وہ عاجز ہوگئے اور حضرت آدم علیہ السلام کامیاب ٹھہرے، بالآخر فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا، یہ فضیلت و منزلت علم ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی کہ انسان مسجودِ ملائک بنا۔
سورۂ علق کی آیا ت میں واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ علم وہی علم ہے جس میں رب کائنات کی رضا کا حصول موجود ہو۔ دنیا کا کوئی علم فی نفسہٖ نفع یا نقصان دہ نہیں ہے۔حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے مختلف زبانوں اور علوم کو سیکھنے کا حکم دیاہے۔ہاں! جب علم کارخ اللہ ورسول کے حکم کے خلاف ہوجائے۔ جو علم شریعت سے ٹکراؤ پیداکردے۔جوعلم انا وتکبرکا پتلا بنادے۔جس علم کے ذریعہ ظلم و ستم کا راستہ اختیار کیا جائے ۔ کمزور و ناتواں پر مظالم ڈھائے جائیں۔ انسانیت کے حقوق غصب کیے جائیں ۔ جوعلم مادر پدر آزادبنادے۔جس علم کی وجہ کراسلامی تعلیمات اور اس کی تہذیب و ثقافت کو کمتر سمجھنے لگے۔ ان صورت حال میں یہ علم فائدہ دینے کی بجائے انسانیت کو ہلاکت وتباہی کی طرف لے جانے والا ہوگا۔ ایسے علم کو’’ علم شیطانی‘‘ کہاجائے گا۔
اسی وجہ سے سورۂ علق کی پہلی دوآیات میں علم کے حصول اور اس کے عظیم رب کے ساتھ رشتہ و تعلق کی اہمیت کے ساتھ انسان کو بتادیا گیا ہے کہ انسان کوغروروتکبر کا رویہ اختیار کرنا زیب نہیں دیتا، کیوں کہ انسان کی اصل اوربنیاد پانی کے ایک گندے قطرے کے بعد خون کے لوتھڑے سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔حضرت سید پیرنصیرالدین نصیرؔرحمہ اللہ نے کیا ہی خوب کہا ہے؎
اتنا نہ اکڑ، نہ اتنے جذبات میں رہ
اک قطرہ ٔ ناپاک ، نسب ہے تیرا
حد سے نہ گزر ، دائرہِ ذات میں رہ
اوقات یہی ہے تیری، اوقات میں رہ
اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی علم کی بہت اہمیت بیان کی گئی اور اسے حاصل کرنے کی مختلف طریقوں سے ترغیب دلائی گئی ہے۔نبی اکرم ﷺ اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ حصول ِ علم کی رغبت اور تلقین فرماتے۔ غزوہ بدر کے موقع پہ آپ ﷺ ہر اس اسیرکو جو مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھاتا آزاد فرما دیتے تھے۔اس عمل سے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺکی نظر میں تعلیم کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
میرے عزیزنوجوانو!صدیوں سے انسان ایک سوال پر غور کرتا آ رہا ہے: علم بہتر ہے یامال و دولت!!یہ ایک ایسا سوال جو کئی ذہنوں کو مشغول کیے ہوئے ہے،بلکہ آج توعلم کی طلب بھی مال ہی حاصل کرنے کےلیے ہوتی جارہی ہے۔علم بہتر ہے یامال؟ اس کا جواب انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔پھر اس کا جواب اس سے بہتر کون دے سکتا ہے جو یا تو’’ مدینۂ علم‘‘ ہو یا’’باب علم‘‘ ہو!!
علامہ ابو القاسم محمود زَمَخْشَری(م:۵۳۸ھ) ممتاز عالم، اورعلم تفسیر کی مشہورکتاب ’’کشاف‘‘ کے مؤلف ہیں۔آپ اپنی کتاب اربعین میں یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ خوارج نے جب حدیث شریف ’’ا نا مَديْنَةُ العِلْمِ وَعَليٌّ بَابُها‘‘(میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں) سنی تو ان میں سے دس لکھے پڑھے افراد حضرت سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ’’اے علی! ہم سب آپ سے ایک سوال کریں گے، اگر آپ نے ہم سب کو الگ الگ جواب دے دیا تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی باب مدینۂ علم رسول ہیں‘‘۔حضرت مولا علی شیرخداکےساتھ بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ،آپ نے کہا ٹھیک ہے سوال کرو:
چنانچہ(۱) پہلا شخص آگے آیا اور بولا:یا علی : علم بہتر ہے یا مال؟
حضرت علی نے فرمایا : علم بہتر ہے۔ کیونکہ مال تو میراث قارون و فرعون ہے۔ جب کہ علم میراث انبیاہے ۔
(۲)دوسرا شخص آیا اور بولا : علی! ایک سوال ہے، علم بہتر ہے یا مال؟
مولا نےفرمایا : علم بہتر ہے۔ کیونکہ مال کی تمہیں حفاظت کرنی پڑتی ہے،اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔
(۳)تیسرا شخص آیا اور کہا :علی!علم بہتر ہے یا مال؟لیکن جواب دونوں سے الگ چاہیے!!
حضرت علی نے فرمایا : ضرور!لےیہ الگ جواب سن!علم ،مال سے کہیں بہتر ہے، کیونکہ مال والوں کے دشمن زیادہ ہوتے
ہیں،اورعلم والوں کے دوست زیادہ ہوتے ہیں۔
(۴)پھرچوتھا شخص آیا اور کہنے لگا :یا علی!علم بہتر ہے یا مال؟
آپ نےفرمایا :بے شک! علم بہتر ہے۔ کیونکہ مال تقسیم کرنے سے کم ہوتا ہےاورعلم تقسیم کرنے سے بڑھتا ہے ۔
(۵)پانچواں شخص آیا اور کہا :اے علی!علم بہتر ہے یا مال؟
آپ نےفرمایا : علم بہتر ہے،کیوں کہ مال والے کولوگ کنجوس و خسیس سمجھتے ہیں اور لوگ علم والے کو بزرگ اورباعظمت
سمجھتے ہیں
(۶)پھر چھٹا شخص آتا ہے اور کہتا ہے :یا اباالحسن !علم بہتر ہے یا مال؟
آپ نےفرمایا : علم بہتر ہے،جبکہ مال کے چوری ہونے کا ہمیشہ ڈر رہتا ہے،لیکن علم کے چوری ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا ۔
(۷)ساتواں شخص داخل ہوتا ہے اور کہتا ہے :اے علی!میرے سوال کا بھی کچھ الگ جواب دیں:علم بہتر ہے یامال؟
فرمایا : علم بہتر ہے۔ کیونکہ زمانے کے گزرنے کےساتھ ساتھ مال پرانا و بوسیدہ ہو جاتا ہے،جب کہ علم کبھی پرانا نہیں
ہوتا۔
(۸)آٹھویں شخص نے بھی یہی سوال کیا !علم بہتر ہے یا مال؟
آپ نےجواب دیا : علم بہتر ہے،کیوں کہ مال فقط دنیا میں ہی تمہارے ساتھ رہنے والی چیز ہے،جب کہ علم دنیا میں بھی
تمہارے ساتھ ہوگااور آخرت میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوگا۔
(۹)لوگ حیرانگی کے عالم میں شہرعلم کے اس دروازے کو دیکھ رہے تھے،کہ ایک اور نواں شخص آیا اور بولا : یا علی! علم بہتر
ہے یا مال ودولت؟آپ نے فرمایا : ہرحال میںعلم بہتر ہے،کیونکہ مال و ثروت انسان کے دل کو سخت بنا دیتا ہے،جب کہ علم
انسان کے قلب کولطافت ونورانیت سے بھردیتا ہے۔
(۱۰)دسواں شخص مجلس میں داخل ہوا اور بولا :اے امیر!مجھے بھی بتائیں کہ ’’علم بہتر ہے یا مال‘‘؟
آپ نے فرمایا : بے شک!علم،علم اورعلم بہتر ہے۔ کیوں کہ صاحب مال و ثروت متکبر ہوتے ہیں، جب کہ صاحب علم ہمیشہ منکسرالمزاج اور متواضع ہوتے ہیں۔آپ کے اس مدلل جواب نے ہرطرف سکوت طاری کردیا۔آپ نے آوازدی کہ ہے اورکوئی سوال کرنے والا !!پھر بھی سب خاموش رہے توپُرجوش آواز میں فرمایا:خدا کی عزت و جلال کی قسم !!اگر دنیا کے تمام لوگ قیامت تک مجھ علی ابن ابی طالب سے یہ ایک ہی سوال پوچھتے رہتے تو میں قیامت تک ان کو اس سوال کے مختلف جواب دیتا رہتا۔سچ کہا ہے کسی نے؎
حوالہ یاد نہیں کتاب سوچنے دو
کہاں سے پوچھ رہے ہو نصاب سوچنے دو
علی کی زندگی میں کو ئی ایسا سوال تو لاؤ
کہ جب علی نے کہا جواب سوچنے دو
مولاعلی شیرخدا کرم اللہ وجھہ الکریم ایک موقعہ پر خود اپنے علم وفضل کے حوالے سے فرماتے ہیں :
رَضينا قِسمَةَ الجَبّارِ فينا
لَنا عِلمٌ وَ لِلجُهّالِ مالُ
فَإِنَّ المالَ يَفنى عَن قَريبٍ
وَإِنَّ الْعِلْمَ بَاقٍ لَا يَزَالُ
(ہم راضی ہیں اپنے رب کی تقسیم سے اس نے ہمیں علم دیا اور جاہلوں کو مال! بیشک مال فنا ہوجائے گا اور علم ہمیشہ باقی رہے گا۔)
شہر علمﷺ نے جہاں یاارشاد فرمایا: الكلمةُ الحِكْمَةُ ضالَّةُ المؤمنِ ، حَيْثُمَا وَجَدَهَا , فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا۔’’یعنی:حکمت و دانائی کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، جہاں بھی اس کو پائے وہی اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے‘‘۔(سنن ترمذی:۲۶۸۷)
مگر ساتھ ہی حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ’’اللّٰھُمَّ عِلْمَاً نَافِعَاً‘‘یعنی ،اے اللہ! علم نافع عطافرما،جیسی بے شمار دعائیں ہمیں سکھاکر یہ بھی درس دیا کہ ہمیشہ نفع بخش علم ہی حاصل کرو۔
معلوم ہوا کہ اسلام وہ دین متین ہے جس نے نہ صرف علم کی اہمیت کو ببانگ دہل بیان کیا ،اس کے حصول پر زور دیا،وہیں علم رحمانی اور علم شیطانی کےدرمیان حد فاصل بھی قائم کردیا۔ جو علم رحمانی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے گا وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائے گا۔اورجوعلم اللہ ورسول سے دور کردے۔دین وشریعت سے دور کردے۔اخلاق وکردار میں گراوٹ پیدا کردے۔تہذیب وتمدن کا جنازہ نکال دے۔اسلامی قدروں کی خو بو ختم کردے تو ایسا علم ’’علم شیطانی‘‘ہے ۔ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا کہ کہیں ہماری نسلیں علم شیطانی کی طرف تو نہیں جارہی ہیں !!اگر ایساہے تویہ آپ کے لیے بڑے فتنے اورتباہی کا باعث بن جائے گا۔ کیوں کہ؎
اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
اولاد بھی املاک بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ ٔ تکبیر بھی فتنہ