حضور ﷺ :ذات اور تعلیمات

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ط   وَاللّٰہُ    غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(آل عمران:۳۱)

         اے حبیب! فرما دو کہ اے لوگو! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ جب ہی سچا ہوسکتا ہے جب آدمی سرکارِ دو عالم ﷺ کی اتباع کرنے والاہو اور حضورِاقدس ﷺکی اطاعت اختیار کرے۔ مدینہ کے یہودی کہا کرتے تھے کہ ہم کوحضور ﷺکی اتبا ع کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم تو اللہ جل شانہَّ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ تب یہ آیت اتری۔(تفسیرخازن)

ہر  ابتدا  سے   پہلے  ،   ہر   انتہا   کے  بعد

ذات نبی ﷺ  بلند ہے ، ذات  خدا  کے  بعد

دنیا  میں  احترام  کے  قابل  ہیں   جتنے  لوگ

میں سب کو مانتا ہوں، مگر مصطفی ﷺ  کے  بعد

         آج امت محمدیہ ﷺ  ہر مسئلے میں افراط وتفریط اور افتراق وانتشار کی شکار ہے ۔اسی میں ایک حضور کی ذات اور تعلیمات کا معاملہ ہے۔مسلمانوں کی ایک جماعت نے تعلیمات پکڑلی تو ذات سے اپنے آپ کو دور کرلیا اور دوسرے طبقے نے ذات کا تذکرہ شروع کیا تو تعلیمات کا ذکر بس رسمی اور نام کے برابر،الاماشاء اللہ۔ایک جماعت جلسہ میلاد النبی کرتی ہے تو دوسری صرف جلسہ سیرت النبی ﷺ۔بے شک! ہم غلاموں کے لیے ذکرسیرت النبی ﷺبھی ضروری ہے اور ذکر میلاد النبی بھی ۔میلادالنبی کا تعلق ذات سے ہے اور سیرت النبی کا تعلق تعلیمات سے۔ذات پہلے ہوتی ہے اور تعلیمات بعد میں ۔ذات ہی نہ ہو تعلیمات کہاں ؟۔میلاد النبی کے ذریعہ ذات سے محبت ہوتی ہےاور سیرت النبی کے ذریعہ تعلیمات سے بندہ قریب ہوتا ہے۔حضور کی تعلیمات سے زندگی اچھی ہوتی ہے اور ذات سے آخرت سنور جاتی ہے۔حضور کی تعلیمات پر عمل کرنے سے بندہ اسلام پر عامل ہوتا ہے اور حضور کی ذات کی محبت سے ایمان کامل ہوتا ہے۔حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمیں خود یہ دعا سکھائی ہے جسے نمازجنازہ میں پڑھا جاتا ہے:اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيْرِنَا وَکَبِيْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا. اَللّٰهُمَّ مَنْ اَحْيَيْتَه مِنَّا فَاَحْيِه عَلَی الْاِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَه مِنَّا فَتَوَفَّه عَلَی الإِيْمَانِ(یا اللہ! تو ہمارے زندوں کو بخش اور ہمارے مردوں کو، اور ہمارے حاضر شخصوں کو اور ہمارے غائب لوگوں کو اور ہمارے چھوٹوں کو اور ہمارے بڑوں کو اور ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو۔ یا اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے تو اس کو اسلام پر زندہ رکھ اور جس کو ہم میں سے موت دے تو اس کو ایمان پر موت دے۔)

         اس ’’فَاتَّبِعُوْنِیْ‘‘میں آقا علیہ السلام کی ذات سے محبت بھی ہے اور تعلیمات پر عمل کا حکم بھی ہے۔یعنی اس ایک لفظ میں ذات وتعلیمات دونوں موجود ہیں۔ذات سے محبت کا دعویٰ ہو اور اور تعلیمات پر عمل نہ ہو تو اتباع کامل نہیں ۔اورتعلیمات پر عمل ہو مگر محمد عربیﷺ کی ذات سے محبت میں کجی پائی جائے تو ایمان کامل نہیں؎

محمد کی  محبت  دین  حق کی شرط اول ہے

اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نہ مکمل ہے

         حضور ﷺ  کی ذات:رحمت عالم ﷺ نے جب کفار مکہ کے سامنے کلام الٰہی پیش کیا تو اسے کلام خدا نہ مان کر کلام مصطفےٰ کہنے لگے اور حضورپرکذب کا اتہام باندھاتو فرمان ِ الٰہی باری تعالیٰ آیا: ’’قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ‘‘اے محبوب!آپ ان سے فرمائیےکہ اگر اللہ چاہتا تو میں تمہارے سامنے اس کی تلاوت نہ کرتا اور نہ وہ تمہیں اسکی خبر دیتا۔اس آیت کریمہ کا اگلا حصہ بڑا ایمان افروز ہےکہ:فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس:۱۶)  تو بیشک میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو پھرتم عقل سےکام کیوں نہیں لیتے ؟۔یعنی میری صداقت ،دیانت اور امانت تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے ۔جب میں نے اپنی چالیس سالہ پچھلی زندگی میں بندوں سے متعلق کوئی صداقت وامانت کے خلاف بات نہیں کہی تو میں اب رب العالمین اور اس کےکلام کے بارے میں کیسے کوئی خلاف حقیقت بات کہہ سکتا ہوں۔

         گویا اللہ مصطفےٰ سے یہ فرمارہا ہے کہ اے میرے حبیب!آپ میرے کلام اور میری ذات کی صداقت کے لیے اپنی ذات کو پیش کردیں ۔ان سے فرمائیں کہ لوگو! سوچ لو،غور کرلو،کریدلو،لوگوں سے پوچھ لواوراپنی عقل سے کام لو، اگر میری کتاب زندگی کے کسی ورق پر ،کسی سطر پراور میرے عرصۂ حیات کے کسی لمحے پر تمہاری اعتراض کی انگلی اٹھ جائے ،میری زندگی میں کوئی جھول نظر آجائے،کوئی نقص وکمی نظر آجائے،کوئی غلطی،خطا اور بہکنا نظر آجائے ۔غرضیکہ کوئی عیب نظر آجائےتو رب عزت کی قسم! اس کے کلام اور اس کی ذات کا انکار کردینا ۔لیکن مجھ میں تمہیں کوئی عیب نظر آئے تو میرے رب کو بھی بے عیب مان لینا ۔اور اس کے کلام کو میرا کلام کہنے کی تہمت اور الزام مجھ پر نہ باندھنا۔اب حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر سنیں:

  وَأَحسَنُ  مِنكَ  لَم  تَرَ قَطُّ  عَيني

  وَأَجمَلُ   مِنكَ  لَم  تَلِدِ   النِساءُ

  خُلِقتَ    مُبَرَّءً   مِن  كُلِّ      عَيبٍ

 كَأَنَّكَ    قَد   خُلِقتَ   كَمَا     تَشاءُ

         یعنی ’’یارسول اللہ! میری آنکھ نے آپ جیسا حسین ترین پیکر نہیں دیکھا بلکہ آپ سے بڑھ کر حسین وجمیل کسی ماں نے جنم ہی نہیں دیا۔گویا آپ اس طرح پیدا کیے گئے جیسا آپ نے چاہا‘‘۔۔۔۔۔علامہ اقبال سے ایک فلاسفر نے سوال کیا:علامہ! آپ کے علم ،قابلیت اور صلاحیت سے میں بڑا متاثر ہوں مگر آپ کا اپنے دین سے اتنا گہرا تعلق دیکھ کر کچھ سوچنےپرمجبورہوتاہوں۔اگر اجازت ہوتو عرض کروں !!۔علامہ نے کہا ضرور!اس نے کہا یہ بتائیں کہ آپ اپنے والدین کے عقیدے کی پیروی میں خدا کو ایک مانتے ہیں یا معاشرے اور ماحول سے متاثر ہوکر؟۔علامہ نے کہا ان میں سے کوئی وجہ نہیں بلکہ اس وجہ سے میں خدا کو ’’وحدہ لاشریک ‘‘مانتا ہوں کہ ایسی عظیم ہستی نے یہ عقیدہ دیا ہے کہ جس کے کٹر دشمن بھی اسے صادق وامین کہتے تھے۔پھرعلامہ نے اس انگریز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرفرمایا:مسٹر! جو اتنا سچا ہو کہ اس کی صداقت کی عظمت دشمن بھی تسلیم کریں تو پھر اس کی بات مان لینا ہی انسانیت ہے۔

         اللہ جل شانہ جسم وجسمانیات سے پاک ہے،اس کا کوئی چہرہ نہیں ،اس کی کوئی ساخت نہیں ،اس کا کوئی جسم نہیں ،وہ نگاہوں سے مستور اور ہمارے فکروخیال سے ماوریٰ ہے مگر اس نے اپنے محبوب ﷺ کو اپنے جمال جہاں آرا کا عکس بناکر دنیا میں بھیجا ہے۔فاضل توریت وانجیل حضرت علامہ سید شاہ محمد قائم قتیل دانا پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

                      وہ رخ آئینۂ وحدت نما معلوم  ہوتا  ہے  

   نبی کو دیکھتا ہوں  اور  خدا  معلوم  ہوتا  ہے

   کلاہِ بادشاہت ہے تری نعلین  کا  صدقہ

      شہنشاہِ  جہاں  تیرا  گدا  معلوم  ہوتا ہے

                      خدا کو دیکھنا ہو  تو نبی  ذات  میں دیکھو     

  یہی مظہر ہے وہ جس میں خدا معلوم ہوتا ہے

         ایک اور صوفی بزرگ شاعر حضرت عشرت عظیم آبادی کہتے ہیں؛

مرا شوق  ہے  سراپا  تری  آرزو  محمد      

مرے دل کی دھڑکنوں کو تری جستجو محمد

ہے یہ غایت تقرب نہیں اک ذرا جدائی     

کہ جہاں جہاں خدا ہے وہاں چارسو محمد

کوئی ہوسکا نہ تم سا ، کبھی حشر تک نہ  ہوگا     

ہے تمہارا خُلق قرآں، ہے تمہاری خو محمد

نہ ہوا  خد ا  مجسم ،  بخدا  اگر  وہ  ہوتا      

 تو زمانہ دیکھ لیتا کہ ہے  ہو  بہو  محمد

مولانا عامر عثما نی سابق مدیر تجلی دیوبندکوبھی سن لیں،وہ کہتے ہیں :                                                        

میں مانتا ہوں بشر ہو خدا نہیں ہو تم    

بشر ہزار بڑا ہو  خدا  نہیں  ہوتا

مگر  خدا  بھی  بقید  نظر اگر ہوتا

    خدا گواہ تمہارے سوا نہیں  ہوتا

         حضور کی تعلیمات:نے کائنات انسانی میں انقلاب برپا کردیا۔دنیا میں بے شمار رہنما،مذہبی پیشوا،فلاسفر ،دانشور،حکمران اور قائدین آئے جنھوں نے اپنے اپنے دور میں بڑے بڑے نظریات اور فلسفے پیش کیے ۔ان کی تعلیمات اور افکارونظریات کو دیکھاجائے اور پھر عملی زندگی اور شب وروز کےمعمولات کو دیکھا جائے تو قول وفعل یعنی کہنی اور کرنی میں بہت بڑ افرق نظر آئے گا مگر تاریخ میں یہ کریڈٹ اور اعزاز صرف اور صرف حضرت عبداللہ کے در یتیم ،حضرت آمنہ کے لعل ،پیغمبرآخرالزمان حضرت محمد مصطفےٰﷺکو جاتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ جو کہا وہ کرکے دکھایابلکہ کیا پہلے اور کہا بعد میں۔۔۔آپ کا عمل،آپ کے قول کی تفسیر ۔۔۔آپ کا کردار ،آپ کی گفتار سے بڑھ کر۔۔۔اہل مکہ کو قرآن کی دعو ت بعد میں دی ،چالیس سال پہلے خود قرآن بن کر دکھایا۔۔۔لوگوں کو صدق وامانت کی تعلیم بعد میں دی ،اپنے معاشرہ سے صادق وامین کا لقب پہلے پایا۔۔۔لوگوں کو پانچ وقتوں کی نماز کا حکم بعد میں دیا ،پہلے خود ساری رات کھڑے ہوہوکرعبادت گذاری کی۔۔۔دوسروں کو صیام رمضان کا حکم بعد میں دیا،پہلے خود کئی کئی دن مستقل فاقے سے گذارے۔۔۔امت کو ڈھائی فیصد زکوٰۃ کا حکم بعد میں دیا،پہلے خودسب کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔۔۔خندق کھودتے وقت اگرکارکنان اپنے پیٹ پر ایک پتھر باندھتے ہیں تو وہ عظیم دوپتھر باندھے دکھائی دیتا ہے۔

         اس طرح غریبوں کے مولا ،یتیموں کے والی ،فقیروں کے انیس،مسکینوں کے جلیس،محسن انسانیت، پیغمبر انقلاب، حضرت محمدﷺنے غریبوں سےہم دردی اور مسکینوں سے غم گساری کی صرف تعلیمات ہی نہ دیں بلکہ اپنے مبارک کردار وعمل سے رہتی دنیا کے لیے ایک ایسا نمونہ اور گائیڈ لائن دے کر گئےجس کی مثال پوری تاریخ میں ڈھونڈھنے سے بھی دوردور تک دکھائی نہیں دیتی۔ذرا اس کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔نبی ٔ رحمت ﷺارشادفرماتے ہیں:

                  ۱۔إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ،وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى:اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے،اور آدمی کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح مسلم:۴۹۲۷) یہ ایک نہایت جامع اوراہم حدیث پاک ہے ۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اصول الاسلام علی ثلاثۃ احادیث: حدیث عمر (انما الاعمال بالنیات) وحدیث عائشۃ (من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد) وحدیث النعمان بن بشیر (الحلال بین والحرام بین)‘‘ (اسلام کے بنیاد تین احادیث پر ہے ایک حدیث عمر (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے) دوسری حدیث عائشہ (جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردودہے) اور حدیث نعمان بن بشیر (حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے)یہ فرمان: ’’ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ‘‘ اس بات کی خبر ہے کہ انسان سے ان ہی اعمال کا صدور ہوتاہے جن کی اس نے نیت کی ہوتی ہے۔ اگر خیر کی نیت کی ہوگی تو خیر ہی حاصل ہوگی، اگر نیت ہی بری ہوگی تو برائی ہی حاصل ہوگی۔ لہذا فی نفسہ عمل کی صلاح وفساد یا اباحت اس نیت پر منحصر ہے جس نے اس پر ابھارا اور اسے وجود میں لانے کا تقاضہ کیا۔ اور عامل کا ثواب یا عقاب یا سلامتی اس نیت کے مطابق ہوگا جس کی بنا پر وہ عمل صالح یا فاسد یا مباح ہوا۔

         ۲۔لَا يَرْحَمُ اللّهُ مَنْ لَّا يَرْحَمُ النَّاسَ(بخاری ومسلم)الله تعالیٰ اس شخص پر رحم نہین کرتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ہے۔‎

Allah doesn’t keep mercy upon those who don’t keep mercy upon others.                

         ۳۔لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ(بخاری ومسلم)چغل خور جنت میں نہ جائے گا ۔‎Back biter will not enter the paradise.

         ۴۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ، أَيُّ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرٌ؟قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ،عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، اُنھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺسے کسی شخص نے پوچھا:بہترین مسلمان کون ہے؟ آپ نے فرمایا:جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

         ۵۔عَنْ أَبِيْ ہُرَیْرَۃَ، عَنِ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ،وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَاءِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے لوگ سلامت رہیں اور مومن وہ ہے جس سے دوسرے لوگ اپنے جان ومال کے معاملے میں مامون ہوں۔

         حصول ِعلم کی ترغیب :

         اسی طر ح متعد داحادیثِ مبارکہ میں نبی اکرم ﷺ نے علم کی اہمیت بیان فرمائی ہے،یہاں کچھ مثالیں پیش کی جاتی ہیں،فرمایاگیا: طلبُ العِلمِ فريضةٌ على كلِّ مُسْلِمٍ وَّمُسْلِمَۃ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔(اخرجہ ابن ماجہ)

         اسی طرح فرمایا گیا: اُطْلُبُوْاالْعِلْمَ وَلوْبِالصِّیْن،یعنی علم حاصل کرواگرچہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے(شعب الایمان)

         حضورﷺ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں:وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ،یعنی:جو شخص کسی ایسے راستے پر چلا جس میں وہ کوئی علم حاصل کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔“ (صحیح مسلم)

         بہترین صدقہ: آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کی موت کے بعد بھی اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں جاری رہتی ہیں، جن میں سے ایک ’’نفع بخش علم‘‘ بھی ہے۔إِذَا مَاتَ الإنْسَانُ انْقَطَعَ عنْه عَمَلُهُ إلَّا مِن ثَلَاثَةٍ: إلَّا مِن صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو له(صحیح مسلم)

         وراثتِ انبیاء: ارشاد فرمایا: إنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنبِيَاءِ وَإنَّ الأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِّثُوْا دِيْنَارًا إِنَّمَا وَرَّثُوْا عِلْمًا۔‘ یعنی:بے شک علما انبیاکے وارث ہیں، اور انبیا نے کوئی دینار یا درہم (مال و دولت) ورثے میں نہیں چھوڑا، بلکہ انہوں نے صرف علم کو ورثے میں چھوڑا ہے، لہٰذا جس نے اسے حاصل کیا اس نے ایک بڑا حصہ پالیا۔ (ابو داؤد:۳۶۴۱)

                  نبی اکرم ﷺ نےحصول علم کے لیےحوصلہ افزائی فرمائی ۔ آپ جس سماج میں تشریف لائے ، وہاں لوگ اس بات کو سرمایۂ افتخار سمجھتے تھے کہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ، وہ بہت ہی فخر کے ساتھ اپنے ’’ اُمّی ‘‘ ہونے کی بات کہتے تھے ، آپ ﷺ نے تعلیم و تعلم کی حوصلہ افزائی کی اور علم کو بلا امتیاز و تفریق ہر طبقہ کے لئے عام فرمایا ، پھر آپ نے علم کے معاملہ میں دین و دنیا کی کوئی تقسیم نہیں کی ؛ بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو ، خداسے اس کی دُعاء کی اورفرمایا کہ علم و حکمت کی جو بات جہاں سے مل جائے ، اس کی طرف اسی طرح لپکنا چاہیے ، جیسے انسان اپنی گم شدہ چیز کے لیے لپکتا ہے : اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤمِنِ (ترمذی ، ابواب العلم ، حدیث نمبر : ۲۶۸۱)

         نبی رحمت ﷺ نے مسلمان بچوں کو بدر کے غیر مسلم قیدیوں سے تعلیم دلائی اور مدینہ میں یہودیوں کی درس گاہ ’’بیت المدراس ‘‘ میں تشریف لے گئے ، جس سے علم کے معاملہ میں آپ کی فراخ قلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ ہوتا ہے ۔

         اس سے نہ صرف یہ کہ علم کا دور دورہ ہوا بلکہ غیر سائنٹفک فکر کی جگہ سائنٹفک فکر کا غلبہ ہوا ، اور توہمات کی زنجیریں کٹ گئیں ، شرک میں چوںکہ مخلوقات کو معبود کا درجہ دیا جاتا ہے اورجو معبود ہو ، اس کی عظمت اور اس کا احترام تحقیق و تجسس میں مانع بن جاتا ہے ؛ اس لئے وہ علمی ترقی اور تحقیق وسائنس کے ارتقاء میں رکاوٹ بن جاتی ہے ، توحید چوںکہ مخلوقات کے معبود ہونے کی نفی کرتی ہے ؛ اس لئے کائنات کی تما م اشیاء پر غور و فکر ، بحث و تحقیق اور تفحص وتجسس کا راستہ کھلتا ہے ، انسان علم میں جتنا آگے بڑھتا جائے اور کائنات کے حقائق پر جو پردے پڑے ہوئے ہیں ، ان کو جس قدر اُٹھاتا جائے ، وہ اسی قدر توہمات سے آزاد ہوتا جائے گا ۔

          آپ ﷺ کی انقلاب انگیز تعلیمات پوری انسانیت کے لئے نفع اور خیر و فلاح کی ضامن ہیں ، پیغمبر اسلام ﷺ کی انقلابی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے ذریعہ آئے ہوئے دین کو اللہ تعالیٰ غلبہ عطا کریں گے :لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ (التوبۃ : ۳۳) یہ صرف دعویٰ نہیں ہے ؛ بلکہ ایک تاریخی حقیقت ہے ، آپ کے ذریعہ دنیا میں جو فکری انقلاب آیا اور اس کے نتیجہ میں ترقی اور انصاف کے راستے کھلے ، وہ پیغام محمدی ﷺکے غلبہ کی واضح مثال ہیں ۔مولانا الطاف حسین حالیؔ خوب کہتے ہیں؎

لیے علم وفن ان سے نصرانیوں نے

    کیا کسب اخلاق روحانیوں نے

ادب ان سے سیکھا اصفہانیوں نے 

   کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے

ہر  اک  دل  سے  رشتہ  جہالت  کا  توڑا

کوئی  گھر  نہ  دنیا   میں  تاریک   چھوڑا

         معلم انسانیت ﷺنے اپنے شاگردوںکو ان کی صلاحیت واستعداد کے مطابق سجایاسنوارااوررشک بداماں بنادیا۔حضرت ابوبکر کوصداقت کا پیکربنایا،حضرت عمر کو فارق حق وباطل کامنصب بخشا،حضرت عثمان کو سخاوت ودریادلی عطافرمائی ،سیدناعلی المرتضیٰ کو علم وشجاعت اورروحانیت کاشہریاربنایا،اپنےچچاسیدالشہداحضرت حمزہ کو’’ اسداللہ واسدرسولہ ‘‘(اللہ اور اس کے رسول کا شیر)کا لقب عطا فرمایا،حضرت عماربن یاسر کو’’ طَیِّب و مُطَیَّب‘‘(پاک وپاکیزہ شخص)قراردیا،حضرت بلال حبشی کو’’سیدالمؤذنین‘‘(مؤذنوں کا سردار)کاعہدہ عطا فرمایا، حضرت معاذ ابن جبل کو امام الفقہا بنایا،حضرت زید ابن ثابت کو علم فرائض کا سب سے بڑا عالم قراردیا،حضرت ابی بن کعب قرآن کے سب سے بڑے قاری،یعنی ’’استاذالقرا‘‘بنے،حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح کو’’ امین الامت ‘‘فرمایا،حضرت زبیربن عوام کو اپنا ’’حواری ‘‘قرار دیا،حضرت عبداللہ ابن عمر ’’امام المفسرین‘‘بنے،حضرت ابوہریرہ کو’’ امام المحدثین ‘‘کی سندعطا فرمائی،حضرت خالدبن ولیدکو ’’سیف اللہ ‘‘کا اعزازبخشا،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کو ’’الصادق البار‘‘(سچا اورنیک )کالقب عطا فرمایا۔پیغمبر اسلام ﷺنے کایہ ایک ایساعلمی اورصالح انقلاب تھا کہ دنیا اس کی کوئی دوسری نظیرنہیں پیش کرسکتی ۔ آپ ﷺکی صحبت بافیض اورتعلیم وتربیت نےقطرے کودریا، ذرے کو آفتاب ،تنکے کو کوہِ گراں،ادنیٰ کو اعلیٰ اورمقتدی کومقتدابنادیا۔ لسان القوم اکبر اِلٰہ آبادی نے بہت خوب فرمایا ہے :

دُر فشانی   نے   تری ،  قطروں  کو  دریا  کردیا

دل  کو  روشن  کردیا ،  آنکھوں  کو  بینا  کردیا

خود نہ تھے  جو راہ پر ،  اوروں کے  ہادی  بن  گئے

کیا  نظر تھی  جس  نے  مردوں  کو  مسیحا  کردیا !

         حسن اخلاق کی تعلیم:

         ۶۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ:  جَاءَ فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَيُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا‘‘ قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَکْیَسُ؟ قَالَ: أَکْثَرُھُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا، وَأَحْسَنُہُمْ لَہُ اسْتِعْدَادًا قَبْلَ أَنْ یَّنْزِلَ بِہِمْ، أُولٰئِکَ مِنَ الْأَکْیَاسِ ثُمَّ سَکَتَ الْفَتٰی.

         حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ، اُنھوں نے بیان کیا کہ انصار میں سے ایک نوجوان رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کو سلام کیا، پھر بیٹھ گیا اور پوچھا:یا رسول اللہ! ایمان والوں میں سب سے زیادہ فضیلت کس کی ہے؟ آپ نے فرمایا:جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ اُس نے پوچھا:اُن میں سے سب سے زیادہ دانش مند کون ہے؟ فرمایا:جو اُن میں سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والے اور اُس کے آنے سے پہلے اُس کی سب سے اچھی تیاری کرنے والے ہوں۔ یہی سب سے زیادہ دانش مند ہیں۔اِس کے بعد نوجوان خاموش ہوگیا، اُس نے مزید کوئی بات نہیں پوچھی۔

         ۷۔ عَنْ عَائِشَۃَ، قَالَتْ؛ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ:أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا، وَأَلْطَفُہُمْ بِأَھلِہِ،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے بڑھ کر کامل ایمان اُس شخص کا ہے جو لوگوں میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے بہتراور اپنے اہل وعیال کے ساتھ سب سے بڑھ کر نرمی اور شفقت سے پیش آنے والا ہو۔

         ۸۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلاَمِ خَیْرٌ؟ قَالَ: تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ،حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: کس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تم ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ اور ہرشخص کو سلام کرو، چاہے اُس کو جانتے ہویا نہ جانتے ہو۔

         پڑوسیوں کے حسن سلوک کی تعلیم:

         حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری:۶۰۱۸ )

         ایک اورروایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ کرے۔(صحیح مسلم :۱۸۴، ۱۸۵)

         اور ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے لیے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہو۔(ترمذیـ:۱۹۴۴)

         حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یارسو ل اللہ! فلاں عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ خیرات کرنے والی ہے ( لیکن ) اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے تکلیف دیتی ہے( یعنی برا بھلا کہتی ہے)۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : وہ دوزخ میں ہے ۔پھر اس شخص نے عرض کیا: یا رسو ل اللہ! فلاں عورت کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ نفلی روزہ ، صدقہ خیرات اور نماز تو کم کرتی ہے، بلکہ اس کا صدقہ وخیرات پنیر کے چند ٹکڑوں سے آگے نہیں بڑھتا، لیکن اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے کو ئی تکلیف نہیں دیتی ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا: وہ جنت میں ہے ۔(صحیح ابن حبان :۵۷۶۴)

         رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: وہ شخص مجھ پر ایمان لانے والا نہیں ہوسکتا، (یعنی کامل مؤمن نہیں ہوسکتا) جو خود تو پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے اور وہ یہ بات جانتا بھی ہو۔(الطبرانی فی الکبیر:۷۵۱)

          حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جبرائیل( علیہ السلام ) مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔(صحیح بخاری:۶۰۱۵)

         آج کے مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺکی تعلیمات کی پیروی نہایت اہم ہے تاکہ وہ اپنے دین کی صحیح تصویر پیش کر سکیں۔ موجودہ دور میں جہاں مختلف چیلنجز اور مشکلات ہیں، وہاں ان تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنا فرد اور معاشرہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ نبی کی تعلیمات ہمیں صبر، برداشت، اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتی ہیں جو آج کے دور میں بھی اتنے ہی مؤثر ہیں جتنے پہلے تھے۔واضح رہے کہ دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ اللہ کی کتاب قرآن کیا کہتاہے اورنبی پاک کی سیرت کیا کہتی ہے!!بلکہ وہ مسلمانوں کودیکھتے ہیں کہ وہ کیسے ہیں اورکیا کررہے ہیں،پھر وہ انھیں دیکھ کر اسلام اورپیغمبراسلام ﷺکے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔اس لیے قرآن اورصاحب قرآن علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے تاکہ نہ صرف ان کی زندگی بہتر ہو بلکہ معاشرے میں امن، محبت ،بھائی چارگی اورانسانیت کاپیغام عام ہواوردنیامسلمانوںسے متاثر ہوکراسلام کے قریب آئے ؎

ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغا م  محبت ہے  جہاں تک  پہنچے

٭٭٭