اللہ جل شانہ کے تمام انبیاورسل اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ ’’رحمت‘‘ تھے، مگر ’’رحمۃ للعالمین‘‘ نہیں تھے۔ ان کی شانِ رحمت اپنی قوم، اپنے علاقے، اپنے دور اور اپنے زمانے تک محدود تھی، جب کہ رحمتِ مجسم ، محسنِ عالم حضرت محمد ﷺکی رحمت و شفقت کا دائرہ ہر عہد، ہر زمانے، ہر قوم، اپنے پرائے، جملہ کائنات اور جملہ مخلوقات یہاں تک کہ تمام جہانوں اور دنیا و آخرت کو شامل ہے۔ارشاد ہوتا ہے:وَ مَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ،اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا۔ (الانبیا:۱۰۷)قرآن کریم کی یہ آیتِ مبارکہ قرآنِ ناطق رحمۃ للعالمین ﷺ کی شانِ رحمت، اورآپ کے خصائل و شمائل اور اخلاق کریمانہ کا جلی عنوان ہے۔
رحمۃ للعالمین ﷺکی صفتِ رحمت اور آپﷺ کی شانِ رحمت کی تجلّی عام ہے۔ رحمت کے اس خزانے اور امت کے غم خوار کے دربار میں دوست، دشمن، اپنا پرایا، عورت، مرد، بوڑھے بچّے، کافر، مسلم، آقا و غلام، انسان ،حیوان، کائنات اور تمام جہانوں کا ذرّہ ذرّہ ہر ایک صنف ہستی برابر کی حصّے دار ہے۔ آپﷺ کی شانِ رحمت تمام عالمین، تمام جہانوں اور ہر عہد کو محیط ہے۔
کفار و مشرکین نے مکہ مکرمہ میں وہ کون سا ظلم تھا جو سرکارِ دوعالمﷺ اور صحابۂ کرام کے ساتھ روا نہ رکھا ہو، آپﷺ کوجسمانی اور ذہنی اذیتیں دی گئیں، آپﷺ پر پتھروں اور سنگریزوں کی بارش کی گئی، آپﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپﷺ کا گلا گھونٹا گیا،نماز کی حالت میں آپﷺ پر اُونٹ کی اوجھڑی رکھ دی گئی، آپﷺ کے قتل کے منصوبے تیار کیے گئے، تین سال تک شعب ابی طالب میں آپﷺ کو محصور رکھا گیا، جس میں ببول کے پتے کھا کر گزارا کرنے کی نوبت آئی، طائف میں آپ ﷺکو سخت اذیت پہنچائی گئی۔
لوگوں نے آپﷺ کو اتنا زدوکوب کیا کہ آپﷺ کے نعلین مبارک خون سے لبریز ہوگئے، آپﷺ کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا، آپﷺ مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی سکون و اطمینان سے رہنے نہیں دیا گیا، اور طرح طرح کی یورشیں جاری رکھی گئیں، یہود کے ساتھ مل کر رحمتِ عالمﷺ اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بند مہم چھیڑ دی گئی، فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کو موت اپنے سامنے نظر آ رہی تھی، انہیں خطرہ تھا کہ آج ان کی ایذا رسانیوں کا انتقام لیا جائے گا۔
سرکارِ دوعالمﷺ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا: اے قریش کے لوگو! تمہیں کیا توقع ہے، اس وقت میں تمہارے ساتھ کیا معاملہ کروں گا؟انہوں نے جواب دیا: ہم اچھی ہی اُمید رکھتے ہیں، آپﷺ کریم النفس اور شریف بھائی ہیں اور کریم اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا، آج تم پر کوئی الزام نہیں،جائو تم سب آزاد ہو‘‘۔ (زادالمعاد، ج: ۱،ص: ۴۲۴)
علامہ شبلی نعمانی رحمتِ دو عالم، حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ طیبہ کے ان واقعات کو نقل کرنے کے بعد آپﷺ کی شان رحمت اور رحمۃ للعالمینی کے متعلق لکھتے ہیں ’’حضور انور ﷺ کی ذات پاک تمام دنیا کے لیے رحمت بن کر آئی تھی، حضرت مسیحؑ نے کہا تھا کہ ’’میں امن کا شہزادہ ہوں‘‘، لیکن امن و سلامتی کے شہنشاہ اعظم حضرت محمد ﷺ کو خدا وند ازل ہی نے خطاب کیا!’’وَمَا اَرْسَلْنٰک اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘(محمدﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ آپ ﷺکے خزانۂ رحمت میں دوست و دشمن، کافر و مسلم، بوڑھے بچے، عورت مرد، آقا و غلام، انسان و حیوان ہر ایک صنف ہستی برابر کی حصے دار تھی۔ آپﷺ نے فرمایا! میں رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔
آپ ﷺنے دنیا کو پیغام دیا! ’’ایک دوسرے سے بغض و حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو، اور اے خدا کے بندو! سب آپس میں بھائی بھائی بن جائو۔‘‘رسول اللہﷺ کی یہ بے مثال تعلیمات آپﷺ کے رحمۃ للعالمین ہونے اور شانِ رحمت کا عظیم مظہر ہیں۔
رحمۃ اللعالمینی کی جھلکیاں؛
۱۔والدہ حضرت آمنہ خاتون نے سات دن دودھ پلایا ،آٹھویں دن دشمن اسلام ابولہب کی کنیز ثویبہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ثویبہ نے دودھ بھی پلایا اور دیکھ بھال بھی کی ،یہ چند دن کی دیکھ بھال تھی ،یہ چنددن کا دودھ تھالیکن ہمارے آقا نے اس احسان کو زندگی بھر یاد رکھا۔مکہ کا دور تھا تو ثویبہ کو میری ماں میری ماں کہہ کر پکارتے تھے،ان سے حسن ِ سلوک فرماتے اور مالی مدد بھی کرتے تھے۔مدنی دور آیا تو مدینہ سے ابولہب کی کنیز ثویبہ کے لیے کپڑے اور ضرورت کی چیزیں بھیجواتے تھے۔یہ ہے دین وشریعت اور حضور کی شان رحمت۔
۲۔حضرت حلیمہ سعدیہ رضاعی ماں تھیں ،یہ ملاقات کے لیے آئیں،دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں ،میری ماں پکارتے ہوئےمحبت ووارفتگی میں ان کی طرف دوڑ پڑے۔وہ قریب آئیں تو اپنے سر سے وہ چادر اتار کر زمین پر بچھادی جسے ہم کائنات کی قیمتی ترین دولت سمجھتے ہیں ،پھر اپنی رضاعی ماں کو اس پر بیٹھایا،توجہ کے ساتھ ان کی بات سنی،ان کی تمام حاجتیں پوری فرمائیں اور عزت کے ساتھ آگے بڑھ کر انھیں رخصت کیا۔۔۔فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئیں،آپ نے ماں کے بارے میں پوچھا،بتایاگیا: وہ انتقال کرچکی ہیں ،رحمت عالم ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے،روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے۔رضاعی خالہ کولباس،سواری اور سو درہم عنایت کیے۔رضاعی بہن شیما غزوۂ حنین کی قیدیوں میں شریک تھیں،پتہ چلا تو انھیں بلایا ،اپنی چادر بچھاکربٹھایا، دل بستگی کی باتیں کیں، انھوں نے اپنے قبیلے جانے کی خواہش ظاہر کی تو آقائے رحمت ﷺ نے بہت ساری چیزوں سے نواز کر رخصت کیا ۔یہ ہے دین وشریعت اور آپ کی شان رحمت۔
۳۔جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے،ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا،حضرت زید بن ثابت کوعبرانی زبان سیکھنے کا حکم دیا گیا،آپ نے عبرانی زبان سیکھی اور اس زبان میں یہودیوں سے خط وکتابت کرتے رہے ۔کافروں کا ایک شاعر تھا ’’سہیل بن عمرو‘‘۔یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھااور توہین آمیز اشعار بھی کہتا تھا،یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا ۔سہیل بن عمرو کو بارگاہِ رسالت میں پیش کیا گیا۔حضرت عمر نے فرمایا یارسول اللہ ! میں اس گستاخ کے دونچلے دانت نہ نکال دوں کہ پھر کبھی یہ اشعار نہ پڑھ سکے۔حضور نے تڑپ کر فرمایا :عمر نہیں!میں اگر اس کے اعضا بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضا بگاڑدے گا۔سہیل بن عمرو نے رحمت کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا کہ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کردیا جائے۔پوچھا گیا کیوں؟اس نے کہا میری پانچ بیٹیاں ہیں ،میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔حضور نے اسی وقت اسے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھیے کہ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اوربارگاہ رسالت میں جرأت کرنے والا بھی، لیکن رحمۃ للعالمین کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ اس پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھا جائے یا اس کے دانت توڑوادئیے جائیں ۔یہ ہے اسلام اور یہ ہے آپ کی شان رحمت۔
سوچیں کہ اس دور میں جب بیٹیاں زندہ درگور کی جارہی تھیں،انھیں صرف اپنی ہوس اور خواہشات پوری کرنے کا ذریعہ سمجھا جارہاتھا، باپ کے مرنے کے بعد سوتیلی ماؤں کو بھی سامان ضرورت کی طرح آپس میں تقسیم کیا جارہا تھا، سماج وسوسائٹی میں ان کی کوئی قدر وعزت نہ تھی۔اس دور میںنبی رحمت ﷺ قدم قدم پرخواتین اوربیٹیوں کو نوازتے چلے جارہے ہیں۔آج ’’بیٹی بچاؤ اور بیٹی پڑھاؤ‘‘ کا نعرہ دینے والوں کا حال یہ ہے کہ بیٹیوں کی عصمتوں سے کھلواڑ کے لیے غنڈوں کی ٹیم ان کے پیچھے لگارکھی ہے۔ریپسٹ اورزانیوں کےجرم پر پردہ ڈالنے اور عیب کو ہنر بنانے میں پوری مشنیری لگ جاتی ہے، مگر آج سے پندرہ سو سال پہلے تاریک ترین دورمیں آپ ﷺ نے عورتوں اور بیٹیوں کو جوعزت ومقام عطا فرمایا ہے،آج کی تہذیب یافتہ دنیا میں اس کی کوئی نظیر اور مثال نہیں پیش کی جاسکتی۔
بیٹیوں کے لیے رحمت:
حضرت صعصعہ بن ناجیہ دروازہ رسول اللہ ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے، مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول!مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا : پوچھو۔ کہنے لگےیا رسول اللہ! دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہیں، ان کا بھی اللہ ہمیں اجر عطا کرے گا؟ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : تو بتا تو نے کیا نیکی کی ہے ؟ تو کہنے لگیں یا رسول اللہ! میرے دو اونٹ گم ہوگئے تو میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا، میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اس پار نکل گیا، جہاں پرانی آبادی تھی۔ میں نے وہاں اپنے دونوں اونٹوں کو پالیا۔ ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا، اس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں، وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے، تمہارے ہیں تولے جاؤ ! ان ہی باتوں میں اس نے پانی بھی منگوا لیا، چند کھجوریں بھی آ گئی، میں پانی پی رہا تھا اور کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کی رونے کی آواز آئی تو وہ بوڑھا آدمی پوچھنے لگا کہ بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا؟ میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے؟ کہنے لگا اگربیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اور اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اسے زندہ دفن کردوں گا، اس لیے کہ میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا۔ میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا۔ میں ابھی دفن کردوں گا۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ ! یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا، میں نے اسے کہا پھر پتا کرو کہ بیٹی ہے یا بیٹا؟ اس نے معلوم کیا تو پتا چلا کہ بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ کیا واقعی تو دفن کرے گا؟ کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں، یا رسول اللہ! وہ مجھے کہنے لگا اگر بچی تمہیں دے دوں تو تم کیا کرو گے؟ میں نے کہا تم میرے دو اونٹ رکھ لو، بچی دے دو، کہنے لگا نہیں دو۔ یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ عرض کرنے لگے کہ ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو یہ مجھے گھر چھوڑ آئے، میں یہ اونٹ اسے واپس دے دیتا ہوں۔ یا رسول اللہ! میں نے تین اونٹ دے کے ایک بچی لی، اس بچی کو لا کے میں نے اپنی کنیز کو دیا، نوکرانی اسے دودھ پلاتی۔ یا رسول اللہ! وہ بچی میری داڑھی کے بالوں سے کھیلتی، وہ میرے سینے سے لگتی، حضور پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا، پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے؟ یا رسول اللہ ﷺ میں ڈھونڈنے لگا میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا، یا رسول اللہﷺ میں نے۳۶۰؍ بچیوں کی جان بچائی ہے۔ میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں۔ حضور مجھے بتا ئیں کہ میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا؟ کہتے ہیں حضور کا رنگ بدل گیا، داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا، میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے، یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے، رب نے تجھے دولت ایمان عطا کر دی ہے، نبی کریم ﷺ فرمانے لگے، یہ تیرا دنیا کا اجر ہے اور تیرے اللہ کے رسول ﷺ کا وعدہ ہے کہ قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کر دے گا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث نمبر: ۷۴۱۲)
ایسے دورمیں جب کہ بیٹیوں کوایک بوجھ ،وجہ ذلت،بےوقعت اور زندہ درگور کیاجارہاتھا،نبیٔ رحمت ﷺانھیں معاشرہ وسماج میں عزت ووقار بخش رہے تھے۔آپ فرماتے ہیں:”بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو، بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں۔“ (مسند اِمام احمد،۶/۱۳۴،حدیث:۱۷۳۷۸)
جنت میں داخلہ:
حضورﷺیہ بھی فرماتے ہیں:”جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ نہ تواسے کوئی تکلیف پہنچائے، نہ ہی اسے بُرا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ کریم اسے جنت میں داخِل فرمائے گا۔ (مستدرک، ۵/۲۴۸ ، حدیث: ۷۴۲۸)
جہنم سے حفاظت:
ایک مقام پرفرماتے ہیںکہ ”جس شخص پر بیٹیوں کی پرورش کا بوجھ آ پڑے اور وہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے رُکاوٹ بن جائیں گی ۔“ (مسلم،ص:۱۴۱۴، حدیث:۲۶۲۹)
اللہ کی رحمت شامل حال رہے گی :
رحمۃ للعالمین ﷺنے یہ بھی ارشاد فرمایاہے کہ :” جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ پاک فِرِشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں :’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم اَہْلَ الْبَیْت ‘‘یعنی اے گھر والو! تم پر سلامَتی ہو۔‘‘ پھر فِرِشتے اُس بچّی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک کمزور سے پیدا ہوئی ہے ، جو شخص اس کمزور جان کی پرورِش کی ذمّے داری لے گا، قِیامت تک اللہ کریم کی مدد اُس کے شاملِ حال رہے گی۔ (مجمع الزوائد،۸ /۲۸۵، حدیث: ۱۳۴۸۴)
جنت کی بشارت:
رحمت عالم ﷺ نےارشاد فرمایا:”جس کی تین بیٹیاں ہوں اوروہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اُس کے لیے جنت واجِب ہوجاتی ہے ۔عرض کی گئی : اور دو ہوں تو؟ فرمایا : دو ہوں تب بھی ۔ عرض کی گئی : اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا:”اگر ایک ہو توبھی ۔“ (معجم الاوسط،۴/۳۴۷ ،حدیث:۶۱۹۹)
جہنم کی آگ سے حفاظت:
آقائے کائناتﷺ نے ارشاد فرمایا:”جو اپنی دو بیٹیوں یا دو بہنوں یا دو رشتے دا ر بچیوں پر ثواب کی نیّت سے خرچ کرے یہاں تک کہ اللہ پاک انہیں بے نیاز کر دے(یعنی ان کا نِکاح ہوجائے یا وہ صاحِب مال ہوجائیں یا ان کی وفات ہو جائے ) تووہ اس کے لیےآگ سے رکاوٹ ہوجائیں گی۔“ (مسند امام احمد بن حنبل، ۱۰/۱۷۹، حدیث: ۲۶۵۷۸)
اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ سے آپ کی محبت:
سیدعالم ﷺ کی پیاری بیٹی سیدۂ کائنات حضرتِ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کس قدر محبت فرماتے تھے،اسے کون نہیں جانتا!!آپ ﷺفرماتے تھے:فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اس سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”جو چیز اسے قلق میں مبتلا کر دیتی ہے وہی چیز مجھے قلق میں مبتلا کر دیتی ہے اور جو چیز اسے ایذا پہنچاتی ہے وہی چیز مجھے ایذا پہنچاتی ہے۔“ (مشکوٰۃ المصابيح/کتاب المناقب/حدیث: ۶۱۳۹)
اسی طرح جب سیدہ فاطمہ اپنے والدمحترمﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آقا ﷺ کھڑے ہو کران کی طرف متوجِّہ ہو جاتے ، پھر اپنے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے کراُسے بوسہ دیتے پھر اُنہیں اپنی جگہ بٹھا تے۔ اسی طرح جب نبی کریم ﷺ حضرت بی بی فاطِمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں ، آپ کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چُومتیں اورآپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بیٹھاتیں۔ (ابوداؤد،۴/۴۵۴،حدیث:۵۲۱۷)
رحمت عالم ﷺ کایہ پیارا اورمحبت آمیز عمل صرف اپنی بیٹی کے لیے نہ تھا بلکہ قیامت تک وہ اپنے امتیوں کے لیے ایک نمونہ چھوڑرہے تھے کہ اے مجھ سے محبت کرنے والو!اگرتمہیں مجھ سے محبت ہے ،مجھ پرایمان لائے ہو،میری اتباع کرتے ہوتومیری طرح اپنی اپنی بیٹیوں کو بھی جگرکاٹکڑا اوردل کا چین بناؤ۔آج اگردنیاوالوں کے دلوں میں اپنی بیٹیوں کے لیے الفت ومحبت کی خوشبو ہے تو وہ صدقہ ہے جناب رسول اکرم ،رحمت عالم ﷺ کی ذات بابرکات کا۔آپ نے ہرموڑ،ہرجہت ،ہرسمت ، ہرطرف اورہرشعبے میں ہماری رہنمائی کی اورہم پرکرم ورحمت کی بوچھارفرمادی؎
قدم قدم پہ برکتیں، نفس نفس پہ رحمتیں
جہاں جہاں سے وہ شفیعِ عاصیاں گزر گیا
جہاں نظر نہیں پڑی، وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئی، جہاں جہاں گزر گیا