محسن انسانیت کی جلوہ گری

وہ نبیوں میں رحمت  لقب  پانے  والا       ٭مرادیں غریبوں کی بر  لانے  والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا       ٭وہ اپنے پرائے  کا غم کھانے  والا
فقیروں  کا  ملجا   ضعیفوں  کا  ماویٰ٭         یتیموں کا  والی  غلاموں  کا  مولی
خطا کار  سے  درگزر  کرنے  والا٭         بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا
مفاسد کو  زیر  و  زبر  کرنے  والا    ٭     قبائل کو  شیر  و  شکر  کرنے والا
اتر  کر  حرا  سے  سوئے  قوم آیا       ٭   اور  اک  نسخۂ  کیمیا  ساتھ  لایا

         محسن انسانیت ﷺتشریف آوری سے قبل یہ دنیاجہالت،تاریکی ،شرک اورحیوانیت کے سرحدوں میں قدم رکھ چکی تھی،باپ اوربیٹے میں کوئی ادب وتمیز نہ تھا،ماں اور بیٹی کے درمیان کوئی احترام نہ تھا،اپنے اوربیگانے کافرق مٹ چکاتھا،نیکی وبدی کا کوئی تصور نہ تھا۔کردار کی پستی انسانوں کوجانوروں کی صف میں کھڑا کرچکی تھی۔سماج میں عورتوں کا حال تواوربراتھا،انھیں بس اپنی خواہشات نفسانی کا ذریعہ سمجھا جارہاتھا،لوگ اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرکے داماد لانے میں عار محسوس کرتے تھے،یہی وجہ تھی کہ بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انھیں زندہ درگورکردیا جاتاتھا۔اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ ’’آدم کے بیٹے ،آدم کی بیٹیوں کا بیوپار کررہے تھے۔‘‘

         یہی حال مذاہب عالم کا تھا،خود کوابراہیمی کہنے والے حضرت ابراہیم کے دین کو مسخ کرچکے تھے۔دین عیسائیت کواپنے مزاج کے سانچے میں ڈھال دیا گیا ۔یہودیت نےحضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کاتماشا بنادیا تھا۔انسان انسانوں کے خون سے ہولی کھیل رہےتھے۔کسی ایک قبیلے کے فرد کا اونٹ اگرکسی دوسرے قبیلے کی چراگاہ میں غلطی سے بھی چلا جاتا تو اس معمولی واقعہ چالیس چالیس سال تک دونوں قبیلوں میں جنگیں ہوتیں اورایک برسہابرس ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے ۔ان کے نزدیک انسانی خون کی اہمیت پانی سے بھی کم تر تھی۔

          ایسے نازک حالات میں جب کہ پوری انسانیت جان بلب تھی،۱۲؍ربیع الاول ،پیرکے دن،مطابق ۲۰؍اپریل ۵۷۱ء کونورکی گھٹائیں چھائیں،بہار کاموسم آیا،ابدی رحمتوں کا دروازہ کھلا،گل قدس کی خوشبو اڑی۔صبح صادق کی اس گھڑی میں جب رات کی تاریکی منھ چھپارہی تھی اوردن کا اجالا چھارہا تھا،حضرت عبداللہ کےگھر حضرت آمنہ خاتون کی گود میں ،محبوب داوررسالت کا سورج ،نبوت کی چاندنی،شریعت کی قندیل،بادصبا کی تازگی ،ابرکرم کا جھونکا اورہدایت کاپیکربن کر جلوہ گر ہوئے،حفیظ ؔجالندھری عرض کرتے ہیں؎

سلام  اے  آمنہ  کے  لال  اے  محبوب  سبحانی٭سلا م   اے   فخر  موجودات   فخر   نوع   انسانی
سلام  اے  ظلِ  رحمانی،  سلام  اے  نورِ  یزدانی٭ترا   نقشِ   قدم   ہے   زندگی  کی  لوحِ   پیشانی
ترے  آنے  سے  رونق  آگئی  گلزارِ  ہستی  میں٭شریکِ   حال  قسمت   ہو گیا   پھر  فضلِ   ربانی
سلام اے  صاحبِ  خلقِ عظیم  انساں کو سکھلا دے٭یہی    اعمالِ    پاکیزہ    یہی    اشغالِ   روحانی
تری صورت،  تری  سیرت ،  ترا  نقشہ،  ترا  جلوہ٭تبسم،   گفتگو،     بندہ   نوازی،   خندہ   پیشانی
زمیں  کا  گوشہ  گوشہ  نور  سے  معمور ہو جائے٭ترے پرتو سے  مل جائے  ہر  اک ذرے کو  تابانی
ترا  در  ہو ،  مرا  سر ہو ،  مرا  دل ہو،   ترا  گھر  ہو٭تمنا    مختصر   سی    ہے ،   مگر    تمہید   طولانی
سلام   اے   آتشیں    ز نجیر   توڑنے    والے٭سلام اے خاک کے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

         اللہ جل شانہ نےاپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرماکراعلان عام فرمایا: وَ مَااَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(الانبیا:۱۰۷)’’ہم نے آپ کو سارے جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔یعنی اے محبوب! میں اگررب العالمین ہوں توآپ رحمۃ للعالمین ہیں،میں اگرسارے عالم کاخالق ومالک اورپالنے والاہوں ،توآپ سارے عالم پر کرم ومہربانی فرمانے والے ہیں؎                             

کرم سب ہو،کوئی ہو کہیں ہو 

  تم  ایسے  رحمۃ للعالمیں  ہو

         ۱۲؍ربیع الاول کی تاریخ اس لحاظ سے سب سے زیادہ اہم اورمنفرد ہے کہ اس تاریخ میں انسانیت کا نجات دہندہ دنیا میںتشریف لایا۔چھٹی صدی مسیحی میں پوری نوعِ انسانی خودکشی پرکمربستہ تھی ۔انسان، انسان کوبرداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔انسانیت جاں بلب تھی اورلوگوں کے دل ایک دوسرے کے لیے نفرتوں سے بھرگئے تھے۔اللہ کریم نے قرآن پاک میں اس منظر اورصورت حال کی جو تصویرکھینچی ہے ،اس سے بہتر کوئی بڑے سے بڑا مصور ،ادیب اورمؤرخ نہیں کھینچ سکتا،وہ فرماتا ہے: وَاذْكُرُوْا  نِعْمَتَ  اللّٰهِ  عَلَیْكُمْ  اِذْ  كُنْتُمْ  اَعْدَآءً  فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖ  اِخْوَانًا  ۚ وَ  كُنْتُمْ  عَلٰى  شَفَا  حُفْرَةٍ  مِّنَ  النَّارِ  فَاَنْقَذَكُمْ  مِّنْهَا۔’’اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔‘‘ (آل عمران:۱۰۳)

         اوریہ اللہ کافضل واحسان رسول رحمت ﷺکی شکل میں ظاہرہوا: لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(التوبہ:۱۲۸)بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔

         اور ارشاد فرمایا: فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ ج  وَ  لَوْ  كُنْتَ  فَظًّا  غَلِیْظَ  الْقَلْبِ  لَا  نْفَضُّوْا  مِنْ  حَوْلِكَ ص فَاعْفُ  عَنْهُمْ  وَ  اسْتَغْفِرْ  لَهُمْ  وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ ج(آل عمران:۱۵۹)تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم دل ہیں اور اگر آپ تُرش مزاج ، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ ضرورآپ کے پاس سے بھاگ جاتے توآپ ان کو معاف فرماتے رہو اوران کی مغفرت کی دعا کرتے رہو اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو ۔

         یورپٔین مؤرخین لکھتے ہیں:  اہل روما کے لیے سب سے زیادہ دلچسپ، فرحت افزا اور مست کر دینے والا نظارہ وہ ہوتا تھا جب دوانسانوں میں سےایک شمشیر زنی یا خوں خوار جانوروں کی لڑائی میں شکست کھاتے، مجروح ہوتے، زخموں سے چور چورہوتے، خون میں نہایا ہووہ ا انسان جاں کنی کی تکلیف میں مبتلا ہوتا اور موت کے کرب میں آخری ہچکی لیتا اس وقت روما کے خوش باش اور زندہ دل تماشائی اس خوش کن منظر کو دیکھنے کے لیے ایک دوسرے پر گرتے پڑتے ہوئے نظر آتے اور پولیس کو بھی ان کا کنٹرول کرنا ممکن نہ ہوتا۔

         محسن انسانیت میدان جنگ میں:

         رحمت عالم ﷺکے ابتدائی دور میں جزیرہ عرب میں مروجہ طرز کا کوئی باقاعدہ نظام حکومت موجود نہ تھا، جھگڑوں کے فیصلے کے لیے کوئی عدالت نہ تھی۔ امن قائم رکھنے کے لیے پولیس کا محکمہ نہ تھا اور بیرونی حملوں کی روک تھام کے لیے کوئی فوج بھی نہ تھی۔عربوں کے ہاں اپنا کوئی سکہ اور ٹکسال بھی موجود نہ تھا۔ نبی ٔ رحمت ﷺ نےہرچیز کا ایک اصول وضابطہ اورقانون بنایا۔کہاجاتا ہے کہ محبت اورجنگ میں سب جائز ہے(All is fair in love and war)،مگر رحمت عالم ﷺ نے لڑائی جھگڑے  کا بھی ایک اصول بنایا ۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ۔ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے لڑےتو وہ چہرے پر مارنے سے پرہیز کرے۔(صحیح مسلم :۶۶۵۵)اللہ اکبر!اس حدیث پاک کے رُو سے اسلام میں وہ کھیل بھی درست نہیں ،جس میں چہرے پرمارکراسے بگاڑ دیا جاتا ہے۔ریسلنگ ،فری اسٹائل کشتی وغیرہ جیسے کھیل حقیقتاً دورجاہلیت کی یاد دلانے والے ہیں ،اس سے انسانیت نہیں ،حیوانیت کاپیغام جاتا ہے۔

         بلاشبہ محسن انسانیتﷺ نے لڑائیاں بھی لڑی ہیں،جنگ کے میدانوں میں بھی نظر آئے ہیں،مگر اصول یہ تھا کہ ’’اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظلُوْمِ‘‘یعنی مظلوموں کی ہمیشہ مدد کی جائے گی۔آپ کی تلوار دفاع میں بلند ہوئی ،یامظلوموں کی مدد کے لیے اٹھی یا اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے۔ آپ کی پوری زندگی میں ملک گیری،بادشاہی ،زمینوں پر قبضہ یا دوسرے کسی دنیاوی مقصد کا دور دور تک شائبہ نظر نہیں آتا۔میدان جنگ میں بھی ان کے سامنے اللہ کا فرمان نگاہوں کے سامنے ہوتا:مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًاط وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَا اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاط۔یعنی:جس نے کسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے بدلے کے بغیر کسی شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی ایک جان کو (قتل سے بچا کر) زندہ رکھا اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔(المائدہ :۳۲)

         حضرت ابوبکربیان کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا:مَنْ قَتَلَ  مُعَاھِدًا فِی غَیْرِ کُنْھِہٖ، حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِ الْجَنّۃَ، جومسلمان کسی غیرمسلم شہری کو ناحق قتل کرے گا،اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام فرمادے گا۔(سنن نسائی،کتاب القسامۃ)

          حضرت عبداللہ ابن عمرو سے روایت ہے کہ حضورعلیہ السلام نے فرمایا:مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا،یعنی :  جس نے کسی ایسےغیرمسلم( ذمی) کو قتل کر دیا جس کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے پناہ دے رکھی ہو، تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے“۔(سنن اب ماجہ،کتاب الدیات،حدیث:۲۶۸۷)

         غیرملکی نمائندوں اورسفارت کاروں کی جان کی حفاظت کرنا بھی سنت نبوی ﷺہے۔ایک طویل حدیث کے بعد حضرت عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا:فَجَرَتْ سُنَّةٌ أَنْ لَا يُقْتَلَ الرَّسُولُ، ’’تو یہ سنت (قانون یا طریقہ) جاری ہو گئی کہ قاصد (سفیر) کو قتل نہ کیا جائے۔“(مسنداحمدبن حنبل،حدیث:۳۷۱۹)

         اسی طرح غیرمسلموں کے مذہبی رہنماؤں کے قتل کی بھی سخت ممانعت کی گئی ہے۔حضرت عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے :كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ، قَالَ: اخْرُجُوا بِسْمِ اللهِ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، لَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ، وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ‘‘نبی کریم ﷺجب اپنے کسی لشکر کو روانہ کرتے تو فرماتے کہ ”اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے جہاد کرو، وعدہ خلافی مت کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، لاشوں کا مثلہ نہ کرو، بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل مت کرو۔(مسنداحمدبن حنبل،حدیث:۲۷۲۸)

         اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ پُرامن شہریوں کو دوسرے ظالم افراد کے ظلم کے عوض سزادے۔حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:لَایُؤخَذُ مِنْھُمْ رَجُلٌ بِظُلْمٍ آخَرَ(ابویوسف:الخراج)یعنی کسی امن پسند غیرمسلم شہری کو دوسرے غیرمسلم شہری یا افراد کے ظلم کے عوض کوئی سزا نہ دی جائے گی۔اسی بات کو اللہ کریم یوں بیان فرماتا ہے:  اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى،(وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔(النجم:۳۸)

         ایک جنگ کے موقعہ پر دشمنوں کے بچوں کو قتل کردیاگیا۔حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کومعلوم ہواتوسختی کے ساتھ لوگوں کو اس حرکت سے منع فرمایا۔کسی نے عرض کیا:یارسول اللہ !وہ تومشرکین کے بچے تھے!!توآپ نے فرمایا:خِیَارُکُمْ اَبْنَاءُ الْمُشْرِکِیْنَ ،اَلَا لَاتُقْتَلُ الذُّرِّیَۃُ،تم میں سے بہترین لوگ بھی مشرکین ہی کے بچے تھے،خبردار جنگ کے درمیان بچوں کوقتل نہ کیا جائے۔

         امام ابوداؤد حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا، وَلَا طِفْلًا صَغِيرًا، وَلَا امْرَأَةً، نہ کسی بوڑھے کو قتل کرو ،نہ شیرخوار بچے کو ،نہ نابالغ کو اور نہ عورت کو(ابوداؤد)

         یہی وجہ تھی کہ غیرمسلموں نے بھی محسن انسانیت ﷺ کوغلبے اورکامیابی کی دعاتک دی ہے۔چنانچہ جب شام فتح ہوا تومسلمانوں نے شام کے لوگوں سے جوعیسائی تھے،ٹیکس وصول کیالیکن اس کے تھوڑے عرصے بعد رومی سلطنت کی طرف سے پھرجنگ کا اندیشہ پیدا ہوگیا ،جس پر شام کے اسلامی سلطنت کے امیر حضرت ابوعبیدہ ابن الجراح نے تمام وصول شدہ ٹیکس عیسائی آبادی کوواپس کردیااورکہا کہ جنگ کی وجہ سے جب ہم تمہارے حقوق ادا نہیں کرسکتے،تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے توہمارے لیے جائز نہیں کہ یہ ٹیکس اپنے پاس رکھیں۔عیسائیوں نے یہ انصاف دیکھ کربے اختیار مسلمانوں کودعا دی اورکہا:خداکرے تم رومیوں پرفتح پاؤ اورپھرسے اس ملک کے حاکم بنو۔(ابویوسف،کتاب الخراج)

         بہرحال! حضور ﷺ بنفس نفیس ۲۷؍جنگوںمیں شریک ہوئے، باوجود اس کے آپ کی تلوار سےکسی کی ایک انگلی بھی نہیں کٹی۔محسن انسانیتﷺ دنیا وہ واحد جرنل،کمانڈر انچیف اوربہادر سپاہی ہیں کہ جن کی تلوار پر خون کا ایک دھبا نظرنہیں آتا۔

         جنگِ احد میں دشمن نے آپﷺ کے چہرہ انور پر حملہ کیاتوصحابہ نے بد دعا کے لیےکہا۔آپ ﷺنے فرمایا :میں رحمت اور راہ راست پر لانے کے لیے آیا ہوں۔

         محسن انسانیتﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کو صحابہ کو تعلیم دینےکے بدلے میں چھوڑدیا۔

         رحمت عالمﷺ نے اپنے پیارےچچاحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے وحشی قاتلوں سےبھی انتقام نہیں لیا۔

         محسن انسانیت ﷺ نے ان حملہ آوروں کو بھی معاف کر دیا،جوآپ کوشہید کردینا چاہتے تھے۔

         انسانیت کے اس عظیم محسن نے مدینہ آکرتمام یہاں بسنے والے یہودیوں سے امن وامان کامعاہدہ کیا۔مگر کوئی امن معاہدہ ایسا نہ تھا جس کی یہودیوں نے خلاف ورزی نہ کی ہو۔ لیکن ایک یہودی کے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور یہ واضح فرمادیا کہ احترام آدمیت اور احترام انسانیت ہرحال میں ضروری ہے۔

         خواتین پراحسان:

         آج دنیا بھر عورتوں کے حقوق کی باتیں ہورہی ہیں،عورتوں کا سماج میں کوئی مان سمّان نہ تھا،ایسے میں آپ نے اپنی بیٹی کو جگر کاٹکڑا کہا،اس بات کا اعلان کیا کہ ’’ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے‘‘۔ اپنی بیویوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے:آپ نے فرمایا: تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے اچھے ہیں۔آپ گھر کے کاموں میں بیویوں کاہاتھ بٹاتے تھے۔اولاد کے ساتھ آپ کے حسن سلوک کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔آپ نے سوتیلی اولاد کی بھی حقیقی اولاد کی طرح بہترین تربیت اور پرورش کی۔اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو آتا دیکھ کر اُٹھ کھڑے ہوجاتے تھے اور اپنی چادر مبارک ان کیلئے بچھادیتے تھے۔

         قدیم زمانہ میں رواج تھا کہ جنگ میں مردوں کا حوصلہ بڑھانے، رنگ و طرب کی محفلیں سجانے اور دل بہلانے کے لیے عورتیں بھی شریک جنگ ہوتی تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے عورت کاجو تقدس اور احترام قائم فرمایا اس لحاظ سے آپﷺ کو یہ طریق سخت ناپسند تھا۔خیبر کے موقع پر حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے بطور خاص کچھ خواتین کو زخمیوں کی مرہم پٹی، تیمارداری اور دیکھ بھال کے لیے ساتھ چلنے کی اجازت فرمائی۔رحمت عالمﷺ کے اس پاکیزہ خیال کو ایک فرانسیسی عیسائی سوانح نگاریوں بیان کرتا ہے کہ’’شاید تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ کسی لشکر کے ساتھ عورتیں نرسنگ کی خدمات اور زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے شامل ہوئیں، ورنہ اس سے پہلے جنگ میں عورت سے تحریضِ جنگ اور حظِّ نفس کے سواکوئی کام نہیں لیا جاتا تھا ۔عورت سے درست اور جائز خدمات لینے کے بارہ میں اب تک کسی نے نہ سوچا تھا کہ میدان جنگ میں تیمارداری اور بیماروں کی دیکھ بھال کی بہترین خدمت عورت انجام دے سکتی ہے‘‘۔

                                                                   (حیات محمد، تالیف: محمدحسین ہیکل ،ص:۲۵۰-۲۵۱)

         خدام اورغلاموں پراحسان:

         صحابہ اور اپنے خدام کے ساتھ بھی آپﷺ کا حسن سلوک مثالی تھا۔ حضرت انس دس سال تک آپ کے خادم رہے۔فرماتے ہیں کہ ’’کبھی کام بگڑنے پر بھی  مجھے میرے آقاﷺ نےنہیں ڈانٹا۔

         آپﷺ کو ایک صحابیہ نے عمدہ چادر پیش کی۔آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔لیکن ایک صحابی نے آپ کو اوڑھے ہوئے دیکھ کر کہہ دیا کہ کیا ہی عمدہ چادر ہے۔ آپ نے اسی وقت یہ چادر اتار کر اس صحابی کو دیدی۔

         ایک صحابی کی شادی ہوئی۔ ولیمہ کے لیے کچھ نہ تھا۔ اس صحابی نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپﷺ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آٹے کی ٹوکری لانے کو کہا جب کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے گھر میں اس آٹے کے سوا اس روز کچھ نہ تھا۔

          ایک صحابی مہمان ہوئے۔ رات کو دودھ کے سوا کچھ نہ تھا۔ سارا دودھ اسے دیدیا۔ حالانکہ آپ کئی دنوں سے فاقہ سے تھے۔اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیں کہ ان اوصاف کریمانہ میں سے کس وصف پر ہم عمل کرتے ہیں؟

         محسن انسانیت کااصلاحی پیغام:  

         محسن انسانیت،رحمت عالم ﷺ قرآن کی شکل جونسخۂ کیمیا لے کر آئے،اس میں کیا نہیں ہے!!ہرمسئلے کا حل موجود ہے،ہرسوال کا جواب موجودہے،ہرمرض کی دواموجودہے:اخلاقیات قرآن میں،معاشرت قرآن میں،اقتصادیات قرآن میں،معشیات قرآن میں،سیاسیات قرآن میں ،اصول قرآن میں ،قانون قرآن میں ،تاریخ قرآن میں ،سائنس قرآن میں ،سماجیات قرآن میں اورزندگی گذارنے کا خوب صورت ضابطہ قرآن میں موجودہے۔   

         قرآن کی اخلاقی تعلیمات میں سب سے پہلے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔فرمایا گیا: انہیں اُف تک نہ کہو ،   انہیں جھڑکو مت اور ان سے شائستگی سے بات کرو:اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَا اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(بنی اسرائیل:۲۳)

          قرآن جاہلوں سے گریز کرنے اور لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہتاہے: اور لوگوں سے گال پھلائے مت پھرو۔ زمین پر اکڑ کر مت چلو:وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا(الفرقان:۶۳)

         قرآن کی ایک سورہ سورۃ الحجرات کی آیت ۶؍سے ۱۲؍تک کے درمیان ۹؍ایسی نصیحتیں موجود ہیں ،جس پرہم عمل کرلیں تومسلم معاشرے میں ایک سماجی اوراصلاحی انقلاب آجائے ۔ذراملاحظہ فرمائیں:

         فَتَبَیَّنُوْا(الآیۃ:۶)                          یعنی خبر کی خوب تحقیق کرلیا کرو۔

         فَاَصْلِحُوْا۔(الآیۃ:۹)                             لوگوں کے درمیان صلح کراؤ۔

         وَاَقْسِطُوْا۔(الآیۃ:۹)                              انصاف سے کام لیا کرو۔

         لَایَسْخَرْ۔(الآیۃ:۱۱)                                                                                      ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑایا کرو۔

         وَلَاتَلْمِزُوْا۔(الآیۃ:۱۱)                                  ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو۔

         وَلَاتَنَابَزُوْا بِاِلۡاَلۡقَابِ۔(الآیۃ:۱۱)                   ایک دوسرےکوبرے القاب سے نہ پکارو۔

         لَایَغْتَبْ۔(الآیۃ:۱۲)                                      ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔

         لَاتَجَسَّسُوْا۔(الآیۃ:۱۲)                                          کسی کی ٹوہ میں نہ لگو۔کسی کی جاسوسی نہ کرو۔کسی کے اندرون خانہ جھانکنے کی کوشش نہ کرو۔

         اِجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِ۔(الآیۃ:۱۲)                          بدگمانیوں سے بچو۔یعنی لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھو۔

         محسن انسانیتﷺ نے قرآن کی ایک ایک تعلیم پر مکمل عمل کرکے دکھادیا، بولنے میں بھی،چلنے پھرنے میں بھی،کھانے پینے میں بھی،اٹھنے بیٹھنے میں بھی ،اخلاق وعادات میں بھی اور لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے میں بھی۔

         معلم انسانیتﷺ نے وضو کرتے وقت بھی پانی کے اسراف و فضول خرچی سے بچنے کا حکم دیا۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد وضو کر رہے تھے،ان پر حضور کا گزر ہوا۔ آپ نے اسراف سے منع کرتے ہوئے اس مفہوم کی بات فرمائی کہ چاہے سامنے نہر بھی بہہ رہی ہو تب بھی اسراف ناجائز ہے۔

         (۱ ) حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جب ایمان لانے کے لیے آقائے کریم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہو رہے تھے۔ تو آقائے کریمﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ دیکھو عکرمہ آرہے ہیں،خبردار !کوئی شخص عکرمہ کے سامنے ان کے باپ ابو جہل کا تذکرہ نہ کرے کہ اس سے ان کی دل آزاری ہوگی۔ سبحان اللہ!!

          (۲ ) مدینہ طیبہ میں ابو لہب کی نواسی یا پوتی رہتی تھی۔ جسے چڑھانے کے لیے کچھ لوگ اسے دیکھ کر سورہ لہب پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ صحابیہ رضی اللہ عنہا آقائے کریم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض گزار ہوئیں کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے ابو لہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کوئی ہمدردی ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہیں جو مجھے دیکھ کر سورہ لہب پڑھتے ہیں۔ جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ آقائے کریم ﷺ نے لوگوں کو ان کے سامنے سورہ لہب پڑھنے سے منع فرمایا۔حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت پاک سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایسا صحیح کام جس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو تو بغیر اشد ضرورت کے وہ کام نہ کیا جائے۔

         ذات باری تعالی تو اپنے نبی کی محبت کے سارے تقاضے پورے کر رہی ہے، لیکن ہم ہیں کہ بس دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔کیا ہم غور کرتے ہیں کہ الله کے رسول ﷺ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ سلوک کیا تھا۔ قرآن کہتا ہے: وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰى اَلَّا تَعْدِلُوْا، اِعْدِلُوْا۔ اورکسی قوم سے عداوت تمہیں ناانصافی پر نہ ابھارے بلکہ انصاف سے کام لو۔

         تعلیمات رسول اورنام نہادعشاق رسول:

         ایک سنجیدہ اور حقیقت پسندبریلوی جماعت کے عالم دین کی تحریر میری نظروں سے کبھی گذری تھی ،افسوس ! ان کا نام محفوظ نہیںرہ گیا ۔وہ کہتے ہیں کہ محسن انسانیتﷺ کے اخلاق ورواداری،عفوودرگذراورحلم وحکمت سےمتعلق جب میں نےسیرت اورحدیث پاک کی روشنی میںگفتگو کی،تواسی محفل میں ایک امام صاحب کھڑے ہوگئے اور انہوں نے فتاویٰ رضویہ کے جلد نمبر اور صفحہ نمبر کاحوالہ دے کر کہنے لگے کہ’’ اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہابیوں کی خوب خوب برائی کیا کرو، اس لیے ہمیں وہابیوں کی خوب خوب برائی کرنی چاہیے اور اگر اس سے کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو اعلیٰ حضرت کے فتوے کے مطابق وہ بھی اسی میں سے ہے۔‘‘

         چونکہ اس مجلس میں دس پندرہ علمائے کرام کے ساتھ کافی تعداد میں عوام بھی موجود تھی اس لیے مجھے پھر سے کھڑا ہونا پڑا اور میں نے عرض کی کہ الحمدللہ! یہاں ہم لوگ سب کے سب اہل سنت سے ہیں۔ اور ابھی میں نے دو حدیثوں کا مفہوم پیش کیا جس میں آقائے کریمﷺ کے فرمان عالیشان اور اُسوۂ حسنہ کے عمدہ نمونے تھے۔امام صاحب نے اس کے مقابلے میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ پیش فرمایا ہے ،جس سے بظاہر حدیث پاک اور فتاوی رضویہ میں تضاد نظر آتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ آقائے کریمﷺ کا فرمان عالیشان اور اخلاق کریمہ صبح قیامت تک تمام مسلمانوں کے لیے ہر طرح کے حالات میں یکساں طور پر مفید و کارآمد ہے۔ جب کہ اعلیٰ حضرت کا فتوی یقینی طور پر کسی خاص موقع و محل کے لیے ہوگا۔ مثلا کسی گاؤں میں سنی اور وہابی ساتھ ساتھ رہتے ہوں یا کوئی ایسی محفل جہاں سنی اور وہابی ایک ساتھ بیٹھے ہیں، تو یقینی طور پر برے لوگوں کی برائی کر کے اچھے لوگوں کو ان سے بچانا چاہیے۔اللہ تعالی کا شکرو احسان ہے کہ علمائے کرام کے ساتھ عوام نے بھی اس کو سمجھا اور تھوڑی سی گفتگو کے بعد فیصلہ بھی ہو گیا۔ مولانا فرماتے ہیں کہ ’’اس دن اس حقیر کو اندازہ ہوا کہ کس طرح کم پڑھے لکھے ائمہ حضرات اور علمائے کرام جو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے شدید محبت کرتے ہیں اور اس میں غلو کرتے ہوئے انجانے میں اہل سنت و جماعت کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔

         مگرمیں تویہ کہتاہوں کہ محبوب خداﷺکے مقابل کسی بھی ذات کولانا،کیا کوئی معمولی بات نہیںہے!!نہیں!یہ بڑی دیدہ دلیری ہے کہ معلم کائنات ﷺکی حدیث وسیرت پاک کے مقابل کسی کاقول پیش کیاجائے!!۔ایسے شخص کوتواپنےایمان کی خیرمنانی چاہیے۔سوال یہ بھی پیداہوتا ہے کہ ایسی بے ہودہ تعلیم ،ایسی ناقص تربیت اورایسی گھٹیا سوچ اسے کہاں سے ملی اورکیسے ملی کہ وہ ایک غیرنبی کے قول کو سیدالانبیاﷺکے مقابل لانے کی اتنی بڑی جرأت وجسارت کربیٹھا!!۔اسے صرف اورصرف مقام مصطفےٰ ﷺکوسامنے رکھ کرسمجھنے کی ضرورت ہے۔حکیم الامت علامہ اقبال ؔ علیہ الرحمہ نے کیاہی خوب کہا ہے؎

بِمصطفیٰ  برساں  خویش  را  کہ  دیں  ہمہ  اوست

ا گر   بہ   او   نہ   رسیدی   تمام    بولہبی    است

         (یعنی :اپنے آپ کو مصطفیٰ جان رحمت ﷺ کےقدموں تک پہنچا دو کہ دین سارا کا سارا وہی ہیں، اگر تم ان تک نہیں پہنچے (ان کی ذات سے عشق و اطاعت کا رشتہ استوار نہیں کیا،ان کے قول وفعل وعمل کوحتمی نہیں جانا)، تو سب کچھ ’’بولہبی‘‘یعنی کفروزندیقیت اور گمراہی وضلالت ہے۔)

         اعلیٰ حضرت مولانا احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی عشق مصطفےٰ ﷺمیں ڈوب کرہماری رہنمائی فرماتے ہیں؎

اُنہیں  جانا،  اُنہیں  مانا ،  نہ  رکھا  غیر  سے  کام

للہ    الحمد   میں    دنیا    سے    مسلمان   گیا

         ایک غیرمسلم کا اعتراف حقیقت:

          مجھے ایک اسلامی اسکالرکا واقعہ یاد آرہا ہے،وہ لکھتے ہیں: میں نے اسراف اورفضول خرچی کے سلسلہ میں الله کے رسول ﷺ کا یہ حکم عالمی سطح پر پانی کے تعلق سے ہونے والی ایک گفتگو کے دوران سنایا۔ وہاں اسلام کے زبردست مخالف ایک سینئر ہندو صحافی بھی موجود تھے۔ میرے بعد انھوں نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ’’اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کو تو ہم کچھ ہی دہائیوں سے فکر مند پاتے ہیں جبکہ پیغمبر اسلام نے ۱۴؍ صدیوں پہلے پانی کی قدر وقیمت کو محسوس کرلیا تھا۔ پھر اس صحافی نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ کی طرح کتنے مسلم نوجوان ہیں، جو پیغمبر اسلام کے اخلاقی نمونوں کو اپنی زندگی میں اتارتے ہیں؟ اس کے بعد انھوں نے مسلم محلوں میں نوجوانوں کی اوباشی کا جو نقشہ کھینچا اس نے مجھے شرمندہ کرکے رکھ دیا۔

         مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے خطبااوردینی ذمہ داران الله کے رسول ﷺ کے اخلاقی اوصاف کے تناظر میں نوجوانوں میں پائی جانے والی اخلاقی خرابیوں پر تنبیہ یا ان کی اصلاح نہیں کرتے۔ مسلم محلوں میں نوجوان اپنی موٹر سائیکلوں کو بیچ سڑک پر کھڑی کرکے اس پر بیٹھ کر ہرزہ سرائیاں کرتے رہتے ہیں۔کار سواروں کو سکون سے نکلنا تو بہت دور انہیں اپنی عزت بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔ اب تو مسلم محلوں میں کھلے عام بلند آواز سے گانے اور گالیاں سننے کو ملتی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے ماں باپ آخر کہاں چلے جاتے ہیں، انہیں یہ سب نظرکیوں نہیں آتا؟۔

         ذمہ داران قوم سے درمندانہ اپیل:

         میں ملک بھر کے تمام علماوخطبا اور ذمہ داران قوم سے دست بستہ اپیل کرتا ہوں کہ الله کے رسول کےاخلاق حسنہ اور اوصاف کریمانہ کو سامنے رکھ کر نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کی ایک مہم چلائیں۔ نماز کی تلقین،جنت کی ترغیب اور جہنم کی ترہیب بھی ضروری ہے، لیکن ان سب سے پہلے انہیں با اخلاق اور بلند اخلاق بنانا ضروری ہے۔مسلم محلوں اور بستیوں میں زیادہ تر دوکانیں مسلمانوں کی ہی ہوتی ہیں۔ ریڑھیوں پر پھل اور سبزی بیچنے والے بھی زیادہ تر مسلمان ہی ہوتے ہیں۔ کوئی ہوگا جو پورا پورا وزن کرتا ہوگا۔ شایدکوئی ہوگا ،جو عیب دار پھل کو الگ کرکے بیچتا ہوگا۔شاید کوئی ہوگا ،جو عیب دار کپڑے کو ظاہر کرتا ہوگا۔شاید کوئی ہوگا، جو دودھ میں پانی نہیں ملاتا ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ خواتین اور خریداروں سے یہ سبزی فروش،پھل فروش اور دوکاندار سیدھے منہ بات نہیں کرتے۔سامان پر حد سے زیادہ نفع وصول کرتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ گنجائش والے مسلم گھرانوں کی اکثر خواتین اپنی بستیوں سے باہر دوسروں کے بازاروں میں جاتی ہیں۔وہاں انہیں ناک منہ بناکر بات کرنے والے نہیں ملتے۔ انہیں لوٹا نہیں جاتا۔ان کے ساتھ دھوکہ نہیں کیا جاتا۔ کوئی سامان غلط نکل آئے تو وہ خندہ پیشانی کے ساتھ اسے تبدیل کردیتے ہیں۔ آخر یہ کس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے نوجوانوں کو اسلام کااخلاقی پیغام پہنچایا جائے،انہیں الله کے رسول کے اخلاق حسنہ اورانسانیت نوازی سے آگاہ کیا جائے،انہیں راہ راست پر لایا جائے؟ ان کے والدین کو عار دلائی جائے؟ کیاجمعہ کے خطبات میں یہ کام مساجد کے خطبااور تبلیغ دین کافریضہ انجام دینے والے احباب انجام نہیں دے سکتے؟مگرافسوس! ہماری اکثرمساجد میں بے تکی چیخ وپکار والی،جذباتی اور نفرت انگیز تقریریں ہوتی ہیں ۔المیہ تویہ ہے کہ محسن انسانیت ﷺ کے اخلاق وکردار ،عفوودرگذر،حلم وحیا ،انسانیت نوازی اورچشم پوشی پراصلاحی گفتگوہوتو بعض متعصب اورتنگ نظر مولویوں کو ہی یہ عقیدہ ومسلک کے خلاف باتیں معلوم ہوتی ہیں۔تُف ہے ایسے عقیدہ ومسلک پر جن سے قرآن وحدیث اورسیرت رسول اکرم ﷺ پر ضرب پڑے ۔ہماری آن،بان ،شان، رسول رحمت ﷺکی ذات بابرکات ہے۔اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی زبان میں؎

اللہ  کی  سر  تا  بہ  قدم  شان  ہیں  یہ

ان  سا  نہیں  انساں،  وہ انسان  ہیں یہ

قرآن   تو   ایمان   بتاتا   ہے   انھیں

ایمان  یہ  کہتا  ہے ،مری  جان  ہیں  یہ