اسلام میں صدق و سچائی کو اعلیٰ اخلاقی قدر اور ایمان کی روح قرار دیا گیا ہے۔سچ بولنا انسان کے دل کو اطمینان بخشتا ہے، معاشرتی اعتماد کو فروغ دیتا ہے، اور انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی و نجات کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِرشاد فرماتاہے : لِیَجزِیَ اللَّہُ الصَّادِقِینَ بِصِدقِہِم وَیُعَذِّبَ المُنَافِقِینَ إِن شَاء أَو یَتُوبَ عَلَیہِم إِنَّ اللَّہَ کَانَ غَفُوراً رَّحِیماً۔تا کہ اللہ سچ بولنے والوں کو اُن کے سچائی کا انعام عطا فرمائے اور اگر چاہے تو منافقوں کو عذاب دے یا اُن کی توبہ قبول کرے، بے شک اللہ بخشش کرنے والا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ ( الأحزاب/آیت 24)
قراءة المزيد: سبق پھرپڑھ صداقت کا،عدالت کا،شجاعت کااللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ خبر ملتی ہے کہ ، اِیمان کی بنیادوں میں سے اہم بنیاد صِدق وسچائی ہے،اور منافقت کی بنیاد جھوٹ ہے ، پس ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں ، ایک دوسرے کو پہچان لیں اور ان کا جھگڑا نہ ہو۔اور یہ خبر بھی ملتی ہے کہ مُنافقت آخرت میں عذاب کا سبب ہے ،جبکہ سچائی ثواب کا ، بلکہ معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ صرف ثواب پر موقوف نہیں ، بلکہ آخرت میں بندے کی نجات کے بنیادی اسباب میں سے ہے ، جیسا کہ اللہ پاک کا فرمان ہے : قَالَ اللّہُ ہَذَا یَومُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدقُہُم لَہُم جَنَّاتٌ تَجرِی مِن تَحتِہَا الأَنہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّہُ عَنہُم وَرَضُوا عَنہُ ذَلِکَ الفَوزُ العَظِیم۔ اللہ نے فرمایا یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں ، ان باغات میں یہ سچے لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ ہے عظیم کامیابی۔( المائدہ / آیت:۱۱۹)
صِدق ، جسے عام طور پر ہم لوگ سچائی کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، اور اس کا مفہوم سچ بولنا لیا جاتا ہے ، لیکن اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر ، باطنی طور پر ، سب کے سامنے ، اور تنہائی میں ، غرضیکہ ہر وقت اس طرح رہے کہ اُس کا عمل اور اُس کے اقوال ، اسکا ظاہر اور اس کا باطن ایک دوسرے کی تکذیب نہ کرتے ہوں ۔
صادق و امین رسول ﷺ:
ہم ان نبی کریمﷺ کے امتی ہیں جنھوں نے صداقت وامانت کاایک اعلیٰ معیارپیش کیا۔ اعلانِ نبوت سے قبل بھی آپ ﷺ کی سچائی اور امانت داری پر دوست اور دشمن سب متفق تھے، اور آپ کو’’الصادق‘‘ اور ’’الامین‘‘کے القابات سے پکارتے تھے۔
پوری زندگی کی گواہی: دیگرتمام نبیوں کی قوموں نے جب اپنے نبیوں اوررسولوں سے ان کی حقانیت کی دلیل مانگی تو انھوں معجزات پیش کیے ۔لیکن رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ اے میرے محبوب !آپ اپنی ذات کوپیش کریں :فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(یونس:۱۶)تو بیشک میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟۔یعنی میں نے تمہارے درمیان چالیس رہ کرکبھی بندوں کے معاملے میں جھوٹ نہیںبولا تو آج میں اس پختگی کی عمرمیں خدااوراس کےکلام کے بارے میں جھوٹ کیسے بول سکتا ہوں؎
مِٹا کر رکھ دیا باطل کے ہر اک نقشِ کہنہ کو
سچائی کا عَلم لے کر اٹھے جو میرے آقا ﷺ
رحمت عالم ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں، مظلوموں اوربےسہاروںکی دستگیری کی اور جابروظالم کے سامنے حق بات کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت نے انسانی مساوات اور بلا تفریق رنگ و نسل عدل و انصاف کی بنیاد رکھی۔
حضورعلیہ الصلاۃ والسلام کا خطبۂ حجۃ الوداع حق کی حمایت اور انسانی حقوق کا سب سے عظیم منشور ہے، جس میں تمام انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔آپ ﷺ کی کامل سیرت اور روشن تعلیمات آج بھی پوری دنیا کے لیے امن، صداقت اور حق کی پیروی کی بہترین راہنمائی کرتی ہیں۔آپ ﷺکی سیرت تواپنی جگہ ،آپ کی صورت بھی حق وصداقت کی آئینہ دار تھی۔
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی (ﷺ) مدینہ آئے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ مل کر آیا، تاکہ آپ (ﷺ) کی زیارت کے لیےحاضرہوا۔فرماتے ہیں: فَلَمَّا أَنْ رَأَیْتُ وَجْہَہُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْہَہُ لَیْسَ بِوَجْہِ کَذَّابٍ، جب میں نے آپ (ﷺ) کا چہرہ دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔فَکَانَ أَوَّلُ شَیْئٍ سَمِعْتُ مِنْہُ أَنْ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ ، وَأَفْشُوا السَّلاَمَ ، وَصِلُوا الأَرْحَامَ ، وَصَلُّوا بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ ، تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلاَمٍ(صحیح ترمذی ۲۴۸۵)یعنی:سب سے پہلی جو بات میں نے نبی (ﷺ) سے سنی یہ ہے کہ اے لوگو ! کھانا کھلاؤ، سلام کرو، صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو، جب لوگ سوئے ہوئے ہوں، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔
اسی طرح صلح حدیبیہ کی مدت میں ابوسفیان (جواب تک ایمان نہ لائے تھے)ایک وفد کے ساتھ تجارت کے مقصد سےملک شام پہنچے توقیصر روم نے مکہ کی اس پوری ٹیم کو اپنے دربار میں بلایااورسب سے پہلے پوچھاکہ تم میں سے کون شخص سب سے زیادہ مدعیٔ رسالت کاقریبی عزیزہے؟ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں بول اٹھا کہ میں سب سے زیادہ قریبی رشتہ دارہوں۔ یہ سن کر ہرقل نے حکم دیا کہ اس کو میرے قریب لا کر بٹھاؤ اور اس کے ساتھیوں کو اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھا دو۔ پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں ابوسفیان سے محمد(ﷺ) کےحالات پوچھتا ہوں۔ اگر یہ مجھ سے کسی بات میں جھوٹ بول دے تو تم اس کا جھوٹ ظاہر کر دینا۔
پھرحضور(ﷺ) کی نسبت پوچھناشروع کیا کہ ان کا خاندان کیسا ہے؟ان کاحال کیساہے؟ان کی کیفیت کیسی ہے؟ اورپھر یہ سوال کیا کہ ’’کیا دعویٰ نبوت سے پہلے تمہیں ان پر جھوٹ بولنے کا گمان ہوا ہے ؟ابو سفیان نے جواب دیا :نہیں۔ابوسفیان کہتے ہیں:’’اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ غیرت نہ آتی کہ یہ لوگ مجھ کو جھٹلائیں گے تو میں آپ ﷺ کی نسبت ضرور غلط بیانی سے کام لیتا۔بعد میں قیصرروم نے جب اپنابیان جاری کروایاتوکہا:میں نے سمجھ لیا کہ جو شخص آدمیوں کے ساتھ دروغ گوئی سے بچے وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹی بات کہہ سکتا ہے۔پھر اس نے کہا: اگر یہ باتیں جو تم کہہ رہے ہو سچ ہیں تو عنقریب وہ اس جگہ کا مالک ہو جائے گا کہ جہاں میرے یہ دونوں پاؤں ہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ (پیغمبر) آنے والا ہے۔ مگر مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہارے اندر ہو گا۔ اگر میں جانتا کہ اس تک پہنچ سکوں گا تو اس سے ملنے کے لیے ہر تکلیف گوارا کرتا۔ اگر میں اس کے پاس ہوتا تو اس کے پاؤں دھوتا۔(صحیح بخاری،حدیث:۷)
سچ اختیارکیا،سب گناہ چھوٹے:
عام طورپرلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ اورکذب بیانی کوئی بڑا جرم نہیں اور سچ بولنے میں کوئی خاص نیکی اورثواب کا کام نہیں۔ایسے لوگوں کو یہ واقعہ چشم دل سے پڑھنا چاہیے:ایک شخص نبی اکرم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ بولا مجھے، زنا، چوری، شراب اور جھوٹ کی عادت ہے، میں ایمان لانا چاہتا ہوں مگر یکدم چاروں عیب نہیں چھوڑ سکتا- حضور مجھے ایک عیب سے منع فرما دیں تو میں اسلام قبول کر لوں گا، فرمایا جھوٹ چھوڑ دے۔ وہ بولا بہت اچھا اور مسلمان ہوگیا۔جب دربارِ عالی سے گیا چوری کا ارادہ کیا، خیال آیا کہ اگر پکڑا گیا تومیں جھوٹ تو نہیں بولوں گا، اقرار کروں گا اور میرا ہاتھ کٹےگا۔یہی خیال ہر عیب کرتےوقت آیا۔ سب سےتوبہ کرلی۔ بارگاہ عالی میں حاضر ہوا۔ بولا میری جان فدا آپ(ﷺ) جیسے معلم پر کہ آپ (ﷺ) نے مجھے جھوٹ سے روک کر سارے عیبوں سے بچا لیا ۔[تفسیرکبیر]
مسلمانوں کی شکست،اسلام کی فتح:
انگریزی حکومت کادورتھا،اترپردیش کے ایک گاؤںمیں زمین کے ایک حصے پر ایک ہندو اور ایک مسلمان کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ مسلمان کہتا تھا کہ یہ میرا ہے اور ہندو کہتا تھا کہ یہ میرا ہے۔ یہ دونوں کا پرسنل معاملہ تھا ، مگر مسلمان ذراسیاناٹائپ کاتھا، اس نے یہ کہہ دیا کہ اگر یہ پلاٹ مجھے مل گیا تو میں یہاں مسجد بناؤں گا۔ جب اس نے مسجد بنانے کی بات کی تو وہاں کے سب مسلمان اس کے ساتھ ہو گئے کہ اس کو ملنا چاہیے ۔ اُدھر اس ہندو نے بھی مسجد کانام سن کر مندرکارڈ کھیل دیا ،اورادھرسارے ہندو اکٹھے ہو گئے ۔ اس طرح یہ ایک حساس سامسئلہ بن گیا۔عدالت میں مقدمہ چلا گیا ۔ جب پیشی کا وقت آیا تو دونوں طرف سے سینکڑوں لوگ پہنچ گئے ۔ جج گرچہ ہندو ہی تھا مگرسمجھدار اورتجربہ کار آدمی تھا، وہ سمجھتا تھا کہ یہ بہت ہی حساس معاملہ ہے، اگر تھوڑی سی اونچ نیچ ہو گئی تو اس گاؤں کے اندر انسانوں کی لاشیں نیچے گریں گی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس کوسمجھابجھاکر،مل جل کرکسی طرح کرلیا جائے ۔ چنانچہ اس نے دونوں پارٹیوں سے پوچھا کہ بتاؤ! کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ مسئلہ کو ہم ٹیبل پر بات چیت کے ذریعے حل کر لیں؟
ہندوؤں نے کہا ہاں! ایک طریقہ ہے ۔ وہ یہ کہ ہم ایک مسلمان عالم کا نام دیتے ہیں، اس کو بلا کر اس سے گواہی لے لیں ، اگر وہ کہیں کہ مسلمان کا ہے تو اس کو دے دیں اور اگر وہ کہے کہ ہندو کا ہے تو ہندو کو دے دیں ۔ جج نے کہا: بہت اچھا! اس طرح یہ مسئلہ اچھے طریقے سے حل ہو جائے گا۔ اس کے بعد جج نے اگلی تاریخ ڈال دی ۔
مسلمان بڑے خوش ہوئے کہ جو بھی ہوگا ، آخر وہ مسلمان ہی ہو گا اور وہ اللہ کا گھر وہ بنانے کی ہی بات کرے گا۔ وہ تو یہی کہے گا کہ مسلمان کو دو تا کہ اللہ کا گھر بنے ، اور ہندوؤں نے جو کہا تھا کہ اگر ہمیں ملا تو ہم مندر بنا ئیں گے، اس طرح مندر تو نہیں بنے گا۔ اس کے برعکس ہند دعوام بہت فکرمندتھی، انھوں نے اپنے نمائندوں سے کہا تم نے وہاں جا کر کوئی اچھی تجویز نہیں دی تم نے مسلمان کا نام دے دیا، پتہ نہیں مسلمان آگے سے کیا بیان دے دے؟ لیکن جو عالم کانام دینے والے ہندوتھے،انھوں نے لوگوں کوتسلی دلائی :
ع گنے جاتے تھے دن جس دن کے لیے
اس دن عدالت میں لوگوں کا بے تحاشا ہجوم تھا۔ اس وقت انگریز حج نے ہندوؤں سے پوچھا: وہ مسلمان عالم کون ہیں؟ انہوں نے اپنے علاقے کے ایک سچے،تقویٰ شعاراورحق پسندمسلمان’’ مولوی الہی بخش‘‘ کا نام لیا ، چنانچہ ان کو عدالت میں بلایا گیا۔حج نے مفتی صاحب سے پوچھا، مفتی صاحب ابتائیے ، یہ زمین کا ٹکڑا مسلمان کا ہے کہ ہندو کا ؟ اب مسلمان بہت ہی مطمئن تھے کہ مفتی صاحب کو فوراًجواب ہوگا کہ مسلمان کا ، لیکن مفتی صاحب نے انگریز کی عدالت میں کہا کہ حج صاحب ! اگر آپ مجھ سے گواہی لینا چاہتے ہیں تو میں یہ گواہی دوں گا کہ میری معلومات کے مطابق یہ زمین کا ٹکڑا ہندو کا ہے، اور یہ اس کی ہی ملکیت ہے۔ پھر حج نے پوچھا : کیا ہندو اس پر مندر بنانا چاہے تو بنا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: جب ملکیت اس کی ہے تو اس کی اپنی صواب دید ہے کہ اس پر اپنا گھر بنائے یا مندر بنالے!!۔
جب انھوں نے یہ بیان دیا تو مسلمان ہکے بکے رہ گئےاورکورٹ میں مکمل سناٹاچھاگیا۔مسلمان سوچنے اورآپس میں چہ مگوئیاںکرنے لگے کہ یہ مولوی صاحب نے کیا بیان دے دیا ! !۔یہ تواسلامی غیرت اورحمیت کے خلاف ہے۔انگریزجج نےہندوؤںکے حق میں فیصلہ سنادیا۔اب باری ہندوؤں کی تھی،ان کےسرکردہ افراد آگے آئےاوربولے کہ جج صاحب! آپ نے اپنا فیصلہ سنایا، اب ہمارا فیصلہ بھی ذرا سن لیجیے، وہ فیصلہ یہ ہے کہ ہم اس سچے مسلمان اوراس کےسچے دین کی عظمت سے بے حدمتاثرہوئے ہیں اوراب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوتے ہیں اور اب ہم اپنے ہاتھوں سے اس جگہ پر مسجد بنائیں گے ۔جج نےاٹھتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا کہ بے شک!’’ آج کے اس مقدمے میں مسلمان تو ہار گئے، مگر اسلام جیت گیاہے‘‘ ۔معلوم ہواکہ جب ایک سچا مسلمان تعصب،طرف داری اوربھیدبھاؤ سے اوپر اٹھ کراسلامی تعلیمات اورقرآن وسنت کے مطابق حق اورسچ کی حمایت کرتا ہےتوزمانہ اس کے قدموں میں آجاتاہے؎
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
آج ہمارے یہاں ’’اسلامی حمیت‘‘کامطلب یہ ہے کہ غیرمسلم کے مقابلے میں اگرمسلمان ہے تووہ صحیح ہو یا غلط ہمیں اسی کی طرف داری اور حمایت کرنی ہے۔اللہ پاک کا اعلان عام ہے:یَاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ ۫ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰی اَلَّا تَعْدِلُوْا ط اِعْدِلُوْا قف ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ. اے ایمان والو! اللہ کے لیےمضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو، عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اللہ سے ڈرا کرو، بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہے(المائدہ:۸)یہ آیت کریمہ ہمیں اس بات کی دعوت دے رہی کہ ہم حق وانصاف کاساتھ دیں ،اورظلم وزیادتی اورناانصافی سے اپنے آپ کوبچاکررکھیں۔
حق کی آوازاورمظلوم کا ساتھ:
سونم وانگچوک( Sonam Wangchuk )بھارت کے علاقے لداخ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف انجینئر، موجد، ماحولیاتی کارکن اور تعلیمی اصلاح کار ہیں۔انھوں نے لداخ میں تعلیمی میدان میں بڑے کارنامے اورخدمات انجام دئیے ہیں۔ وہ خاص طور پر تعلیم میں اصلاحات، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ۲۸؍جون ۲۰۲۶ء سے سونم وانگچوک نئی دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کی ہڑتال کا بنیادی مقصد NEET امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنا اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنا ہے۔ یہ احتجاج نوجوانوں کی ایک تحریک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر بھی کیا جا رہا ہے۔
ان کےبھوک ہڑتال کو ۱۹؍دن ہو چکے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق ان کا وزن ۹ ؍کلوگرام سے زیادہ کم ہو گیا ہے اور صحت کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔
مگر افسوس! حکومت تو ہٹلر ،مسولینی،اسٹالن اوران جیسے تاناشاہ حکمرانوں کی راہ پر چل رہی ہے۔ عوام مرے یا جیے اس سے کوئی مطلب نہیں، لیکن کیا ایسے موقعے پر ہماری قوم کی قیادت اورمسلم سربراہان کی ذمہ داری نہیں تھی کہ وہ بھی کم از کم زبانی ہی سہی ان کی حمایت کا اعلان کرتے۔اگرآپ پرظلم ہوتا ہے تو آپ ساری دنیا سے حمایت کی امید رکھتے ہیں مگرجب دوسروں پرظلم ہواوروہ حق کی آوازاٹھائے توآپ کی زبانیں کیوں چپ رہتی ہیں !!یا آپ نے صرف نمازوتسبیح ،ذکرواذکار،اللہ ھو کی ضرب،اجلاس واجتماعات اوروعظ ونصیحت کی محفل کودین سمجھ لیا ہے۔سچ کہا ہے کسی شاعرنے؎
ہنگامہ ٔ ہستی سے الگ گوشہ نشینو
بے سود ریاضت کا صلہ مانگ رہے ہو
دنیا تو گئی چاند ستاروں سے بھی آگے
تم بیٹھے مصلے پہ دُعا مانگ رہے ہو
شاعرمشرق علامہ اقبال ؔ نے بھی کیا خوب کہا ہے؎
یہ مصرع لکھ دیا کس شوخ نے محراب مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا چل
رسول اکرم ﷺ کی زندگی ہرموقع پر ہماری رہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔آپ معاہدۂ حلفُ الفضول کامطالعہ کیجیے۔یہ ظہور اسلام سے پہلے مکہ مکرمہ میں کیا جانے والا ایک مشہور معاہدہ تھا۔ایک یمنی تاجر کے ساتھ ظلم ہوا اور اس کا حق ادا نہیں کیا گیا، تو اس کے حق میں یہ معاہدہ کیا گیا۔اس معاہدے میں یہ عہد کیا گیا کہ مکہ میں کسی پر ظلم ہوگا تو سب مل کر اس کی مدد کریں گے، خواہ وہ مقامی ہو یا غیر ملکی۔
یہ معاہدہ بعثتِ نبوی سے تقریباً ۲۰ سال پہلے ہوا۔اس میں قریش کے چند معزز قبائل کے سردار شریک ہوئے۔
معاہدہ نامہ کچھ یوں تھا:
۱۔ہم مظلوموں کا ساتھ دیں گے، خواہ وہ کسی قبیلے کے ہوں یہاں تک کہ ان کا حق ادا کیا جائے۔
۲۔ملک میں ہر طرح کا امن و امان قائم کریں گے۔
۳۔مسافروں کی حفاظت کریں گے۔
۴۔غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے۔
۵۔کسی ظالم یا غاصب کو مکہ میں نہیں رہنے دیں گے۔
رسول اللہ ﷺ نے عین شباب کی عمر میں جب کہ آپ کی عمرشریف صرف ۲۰؍سال تھی، اس معاہدے میںشریک ہوئے، اور بعد میں فرمایا:میںعبداللہ بن جدعان کے گھر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا تھا کہ اگر آج اسلام میں بھی مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں ضرور قبول کروں گا۔(مسند احمد، سیرت ابن ہشام)
معلوم ہوا کہ عدل، انصاف اور مظلوم کی مدد جیسے اعلیٰ اخلاقی اصول اسلام میں بھی نہایت اہم ہیں، اور اگر کوئی معاہدہ ان اصولوں پر قائم ہو تو اسلام اس کی تائید کرتا ہے۔آج کے اس نازک ترین دورمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات اوراسوۂ رسول ﷺ پر عمل پیراسب سے پہلے حق اورسچ کو اپنی ذات میں اتاریں اورعملی اعتبار سے اسلام کی دعوت کا فریضہ انجام دیں توان شاء اللہ انقلاب آئے گا اور ضرور آئے گا؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا ، عدالت کا ، شجاعت کا
ليا جائے گا تجھ سے کام دنيا کی امامت کا
٭٭٭
سید سیف الدین اصدق چشتی
آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف نالندہ (بہار)
بانی وسرپرست:تحریک پیغام اسلام جمشیدپور(جھارکھنڈ)