فلسفۂ قربانی اوراعتراض وشبہات

         اسلام کا معنی فارسی زبان میں’’ گردن نہادن‘‘یعنی: گردن جھکانا، خم کرنا،وغیرہ ہے۔ جب گردن جھکانے کا محرک اطاعت وفرماں برداری کے جذبات ہوں تو اُسے اردو میں’’ تسلیم خم‘‘ بھی کہاجاتا ہے۔اللہ ورسول کےاحکام وفرامین کے آگے گردن جھکادینے والے کو ’’مسلم ‘‘اوران کی ہربات کو آنکھ بند کرکے مان لینے والے کو’’مومن ‘‘کہتے ہیں۔شاعر کی زبان میں ؎

اگر بخشے زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا

سر تسلیم خم  ہے جو  مزاج  یار  میں آئے

         مسلمان کا جذبۂ ایمانی ہمیشہ اُسے تیار رکھتا ہے کہ جو بھی حکم الٰہی جب اور جیسے اس کی طرف متوجہ ہو، اُسے بجالایاجائے، وہ اُسے عقل کی کسوٹی پرپرکھے بغیربلاچوں وچرا قبول کرلیتے ہیں۔قرآن کریم مومنوں کی یہی شان بتاتا ہے:الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(البقرہ:۳)وہ لوگ جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ(ہماری راہ میں ) خرچ کرتے ہیں۔

         اس ایک آیت میں دوحصے ہیں،’’بالغیب ‘‘تک کاتعلق مومن کے ایمان وعقیدے سے ہے اوراس سےآگے کاحصہ عمل خیرسےتعلق رکھتاہے۔ اس لیے ان سے متعلق چند اہم باتیں یادرکھنی چاہیے! !

         (۱)…’’ایمان‘‘ اسے کہتے ہیں کہ بندہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریات دین (میں داخل) ہیں اور کسی ایک بھی ضرورت ِدینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں۔(بہارِ شریعت، ۱ / ۱۷۲)

         (۲)…’’ عمل‘‘ ایمان میں داخل نہیں ہوتے اسی لیے قرآن پاک میں ایمان کے ساتھ عمل کا جداگانہ ذکر کیا جاتا ہے جیسے اس آیت میں بھی ایمان کے بعدنماز و صدقہ کا ذکرعلیٰحدہ  طور پر کیا گیا ہے۔

         (۳)…’’غیب ‘‘وہ ہے جو ہم سے پوشیدہ ہو اورہم اپنے حواس جیسے دیکھنے، چھونے وغیرہ سے اور بدیہی طور پر عقل سے اسے معلوم نہ کرسکیں۔بس!اللہ ورسول کے کہنے پر سب کچھ مان لیا ہے؎

ایک  دیکھنے  والے  کا  کہا   مان  لیا   ہے

 بن  دیکھے  تجھے  ہم  نے  خد ا  مان  لیا  ہے

         اور کسی نے یہ بھی خوب کہا ہے؎

ہر   جاننے   والے   نے   تجھے   جان   لیا   ہے

قدرت   سے   ہی   تیری   تجھے   پہچان   لیا  ہے

چھُپ  کر  بھی  تیرا  راز  زمانے  پے  عیاں  ہے

بِن   دیکھے   تجھے   سب   نے   خدا  مان  لیا  ہے 

         لیکن بعض نام نہاد، کج فہم اور کوتاہ نظر مسلمان بھی اپنی حیثیت بھول کر اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کو اپنی ناقص عقل کی گھسی پٹی کسوٹی پر، پرکھ کر اعتراض اورردکرنےکی جسارت کرتے ہیں۔ایسے لوگ اسلامی احکام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور اپنی کج فہمی کے مسموم جراثیم پھیلانے میں لگے ہیں۔ ایسے ہی اسلامی احکام میں ایک’’ قربانی‘‘ کا حکم بھی ہے،جس کا قوم مسلم بھرپور جذبۂ ایمانی سے ادائیگی کا اہتمام کرتی ہے، مگر ایک عرصہ سے بعض نادان اس’’ سنت ابراہیمی‘‘ سے متعلق اپنے فاسد خیالات کو عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

         ہر جدید تہذیب وتمدن کا دلدادہ اور مغربیت سے متأثر ذہنیت رکھنے والا اس ماہِ مبارک کے شروع ہوتے ہی سادہ لوح اور مذہب پسند مسلمانوں کا ذہن خراب کرنا شروع کر دیتا ہے کہ قربانی کی وجہ سے جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے، لاکھوں لوگوں کی یہ رقمیں بلا وجہ ضائع ہوتی ہیں، اس کے بجائے اگر اتنا مال خدمت خلق کے مفید کاموں،اسکول ،کالج،اسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کیا جائے، تو معاشرے کے بہت بڑے غریب اور مفلس طبقے کا بھلا ہو جائے گا، یہ افراد بھی زندگی کی ضروری سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔علاوہ ازیں قربانی اوراسلامی قوانین پرطنزکرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ اب ذرا آپ یہ انشااللہ خاں انشاؔ (م:۱۸۱۷ء)کا یہ شعر دیکھیں؎                          

یہ   عجیب   ماجرا   ہے  کہ   بروز   عید   قرباں

وہی  ذبح  بھی  کرے  ہے  وہی  لے  ثواب  الٹا

         یعنی اس طرح کی منفی ذہنیت رکھنے والے ہرزمانے میں موجود رہے ہیں۔ منکرین قربانی اپنی ناقص عقل سے کام لیتے ہوئے قربانی کے نقصانات اور ترکِ قربانی کے فوائد بیان کرتے نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ سے عام مسلمان ان نام نہاد دانشوروں کے زہریلے پروپیگنڈے اور بہکاوے میں آ کر اسلام کے اس عظیم الشان حکم کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

         اس حوالے سے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کا قربانی کے ایام میں دائمی عمل کیاتھا!! عید الاضحی کے اس خاص موقع پر اگر قربانی کےبجائے انسانیت کی فلاح وبہبود میں مال خرچ کرنااتنا ہی افضل، موزوں ،مناسب یا ضروری ہوتا توجناب نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں پر قربانی کے حکم کے بجائے غریب، سسکتی اور بد حال انسانیت پر مال خرچ کرنا ضروری قرار دیا جاتا۔یہ بات ظاہروباہر ہے کہ ہر دور میں غریب اور نادار طبقہ موجود رہا ہے، تو یقینا آپ ﷺکے مبارک دور میں بھی یہ طبقہ موجود تھا، بلکہ ایسے افراد تو بکثرت موجود تھے، لیکن سیدالانبیاﷺ جنھیں اللہ نے رحمۃ للعالمین بناکرمبعوث فرمایا،جوساری کائنات کے لیے بالعموم اور اپنی امت کے لیےبالخصوص بہت ہی زیادہ شفیق اور مہربان تھے، اپنے زمانہ کے اہلِ ثروت اور صاحب ِ نصاب مسلمانوں کو اس قربانی کے موقع پر یہ حکم کبھی نہیں دیا کہ وہ اپنا مال رفاہِ عامہ اورصدقہ وخیرات میں خرچ کریں، بلکہ یہ حکم فرمایا کہ اس موقع پر اللہ کے حضور جانور کی قربانی پیش کریں۔ اور خود رسول اللہ ﷺکا دائمی عمل ان دنوں میں قربانی کرنے کا ہی تھا، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا (اس قیام کے دوران ) آپ ﷺ قربانی کرتے رہے۔(سنن الترمذی: ۱۵۰۷) ساتھ ہی صحابہ کرام کا اس عظیم حکم کو ہمیشہ قائم ودائم رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی کرنا ہی افضل، اولیٰ اور ضروری ہے۔

          نبی اکرم ﷺ، ان کے بعد خلفائے راشدین کا یہی عمل تھا۔ اگر ان حضرات کے نزدیک اس سے بہتر کوئی عمل ہوتا تو وہ یقینا قربانی کی بجائے اسی کو اختیار کرتے، دوسری بات یہ کہ ایسا ہو بھی کیسے سکتا تھا، جب کہ نبی اکرم ﷺ کا صریح فرمان مبارک موجود ہے کہ: ’’اس دن میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک (قربانی کے جانور کا)خون بہانے سے بڑھ کر بنی آدم کا کوئی عمل پسندیدہ نہیں ہے‘‘۔(سنن الترمذی : ۱۴۹۳) اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھماسے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحیٰ کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے افضل نہیں‘‘۔(سنن الدارقطنی: ۴۳)

         امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ(م:۲۴۱ھ ) فرماتے ہیں : ’’قربانی کے ایام میں بنسبت صدقہ کرنے کے قربانی کرنا افضل ہے‘‘۔امام ابو داؤد، امام ربیعہ اور ابو الزناد رحمہم اللہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔ (المغنی لابن قدامہ: ۱۱/۶۹)

         مشہورمحدث،فقیہ اورمصنف حضرت ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی المعروف امام نووی رحمۃ اللہ علیہ(م:۶۷۶ھ) بھی اسی طرح ذکر کرتے ہیں کہ صحیح احادیثِ مشہورہ کی بنا پر شوافع کے نزدیک ان دنوں میں قربانی کرنا ہی افضل ہے، نہ کہ صدقہ کرنا، اس لیے کہ اس دن قربانی کرنا شعارِ اسلام ہے، یہی مسلک سلف صالحین کا ہے۔ (المجموع شرح المہذب: ۸/۴۲۵)البتہ ! وہ افراد جن پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اُن کے لیے یا اُن کی طرف سے قربانی کرنے کی بجائے صدقہ کرنا افضل شمار ہو گا۔(البحر الرائق: ۸/۲۰۲)

         صاحب مرعاۃ المفاتیح شارح مشکوٰۃ المصابیح لکھتے ہیں کہ: ’’بعض فقہا کے نزدیک قربانی واجب ہے اور بعض کے نزدیک سنت مؤکدہ، لیکن بہرصورت اس دن میں قربانی کرنا یعنی: خون بہانا متعین ہے، اس عمل کو چھوڑ کر جانور کی قیمت صدقہ کر دینا کافی نہیں ہو گا، اس لیے کہ صدقہ کرنے میں شعائر اسلام میں سے ایک بہت بڑے شعار کا ترک لازم آتا ہے، چنانچہ! اہل ثروت پر قربانی کرنا ہی لازم ہے‘‘۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۵/۷۳)

          کیا قربانی سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے؟     

          اللہ رب العزت کاہمیشہ سے یہ نظام چلا آ رہا ہے کہ انسانوں یا جانوروں کو جس چیز کی ضرورت جتنی زیادہ ہوتی ہے، وہ اس کی پیدائش اور پیداوار بھی اسی قدرکرتاہے اور جس چیز کی جتنی ضرورت کم ہوتی ہے تو اس کی پیداوار بھی اتنی ہی کم ہو جاتی ہے، آپ پوری دنیا کا سروے کریں، اچھی طرح جائزہ لیں کہ جن ممالک میں قربانی کے اس عظیم الشان حکم پر عمل کیا جاتا ہے، کیا ان ممالک میں قربانی والے جانور ناپید ہو چکے ہیں یا پہلے سے بھی زیادہ موجود ہیں!!آپ کبھی اور کہیں سے بھی یہ نہیں سنیں گے کہ دنیا سے حلال جانور ختم ہو گئے ہیں یا اتنے کم ہوگئے ہیں کہ لوگوں کو قربانی کرنے کے لیے جانور ہی میسر نہیں آئے، جبکہ اس کے برخلاف کتے اور بلیوں کو دیکھ لیں، ان کی نسل ممالک میں کتنی ہے!!حالاںکہ تعجب والی بات یہ ہے کہ کتے اور بلیاں ایک ایک حمل سے چار چار پانچ پانچ بچے جنتے ہیں، لیکن ان کی تعداد حلال جانوروں کے مقابلہ میں بہت کم نظر آتی ہے۔ مفسرین قرآن اس آیت:’’وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْیٍٔ فَھُوَ یُخْلِفُہ‘‘(سبا:۳۹) کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ’’ اس آیت کے لفظی معنی یہ ہیں کہ تم جو چیز بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اپنے خزانۂ غیب سے تمہیں اس کا بدل عطا فرمادیتا ہے، کبھی دنیا میں اور کبھی آخرت میںاور کبھی دونوں میں۔ کائنات ِ عالم کی تمام چیزوں میں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے، انسان اور جانور اس کو بے دھڑک خرچ کرتے ہیں، کھیتوں اور درختوں کو سیراب کرتے ہیں، وہ پانی ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا اس کی جگہ اور نازل ہو جاتا ہے، اسی طرح زمین سے کنواں کھود کر جو پانی نکالا جاتا ہے، اس کو جتنا نکال کر خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ دوسرا پانی قدرت کی طرف سے جمع ہو جاتا ہے۔ انسان غذا کھا کر بظاہر ختم کر لیتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسری غذا مہیا فرمادیتا ہے۔ بدن کی نقل وحرکت اور محنت سے جو اجزاءتحلیل ہو جاتے ہیں، ان کی جگہ دوسرے اجزاءبدل بن جاتے ہیں۔ غرض انسان دنیا میں جو چیز خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عام عادت یہ ہے کہ اس کے قائم مقام اس جیسی دوسری چیز عطافرمادیتا ہے۔ کبھی سزا دینے کے لیے یا کسی دوسری تکوینی مصلحت سے اس کے خلاف ہو جانا اس ضابطۂ الٰہیہ کے منافی نہیں۔

          اس آیت کے اشارہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اشیا صرف انسان اور حیوانات کے لیے پیدا فرمائی ہیں، جب تک وہ خرچ ہوتی رہتی ہیں، ان کا بدل من جانب اللہ پیدا ہوتا رہتا ہے۔ جس چیز کا خرچ زیادہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پیداوار بھی بڑھا دیتاہے۔ جانوروں میں بکرے اور گائے کا سب سے زیادہ خرچ ہوتا ہے کہ ان کو ذبح کر کے گوشت کھایا جاتا ہے اور شرعی قربانیوں اور کفارات وجنایات میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے، وہ جتنے زیادہ کام آتے ہیں، اللہ تعالیٰ اتنی ہی زیادہ اس کی پیداوار بڑھا دیتاہے، جس کا ہر جگہ مشاہدہ ہوتا ہے کہ بکروں کی تعداد ہر وقت چھری کے نیچے رہنے کے باوجود دنیا میں زیادہ ہے،کتے بلی کی تعداد اتنی نہیں، حالانکہ کتے بلی کی نسل بظاہر زیادہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی پیٹ سے چار پانچ بچے تک پیدا کرتے ہیں، گائے بکری زیادہ سے زیادہ دو بچے دیتی ہے، گائے بکری ہر وقت ذبح ہوتی ہے، کتے بلی کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، مگر پھر بھی یہ مشاہدہ ناقابلِ انکار ہے کہ دنیا میں گائے اور بکروں کی تعداد بنسبت کتے بلی کے زیادہ ہے۔ جب سے ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگی ہے، اس وقت سے وہاں گائے کی پیداوارگھٹ گئی ہے، ورنہ ہر بستی اور ہر گھر میں کئی کئی گائےبندھی ہوتی تھیں۔عرب نے جب سے سواری اور باربرداری میں اونٹوں سے کام لینا کم کر دیا، وہاں اونٹوں کی پیداوار بھی گھٹ گئی، اس سے اس ملحدانہ شبہ کا ازالہ ہو گیا، جو احکامِ قربانی کے مقابلہ میں اقتصادی اور معاشی تنگی کا اندیشہ پیش کر کے کیا جاتا ہے‘‘۔(معارف القرآن، سورہ سبا،ج: ۷،ص:۳۰۳)

         رفاہی ،فلاحی اورخدمت خلق کے کاموں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہےلیکن ۱۰؍ ذوالحجہ سے لے کر ۱۲؍ ذوالحجہ کی شام تک جس شخص پر قربانی کرنا واجب ہے، اس کے لیے قربانی چھوڑ کر اس رقم کا صدقہ کرنا جائز نہیں ہے۔ہاں! جس شخص پر قربانی کرنا واجب نہیں ہے، اس کے لیے ان دنوں میں یا صاحب ِ نصاب لوگوں کے ان دنوں میں قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ یا سال کے دیگر ایام میں مالی صدقہ کرنا یقینا بہت زیادہ ثواب کی چیز ہے۔ رفاہِ عامہ کے مفید کاموں، ہسپتالوں کی تعمیر اور انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے خرچ کرنے کے لیے اسلام نے زکاۃ، صدقۃ الفطر، عشر، کفارات، نذور، میراث، دیگر وجوبی صدقات اور ہدایا وغیرہ کانظام وضع کیا ہوا ہے، ان احکامات کوپوری طرح عملی جامہ پہنا کر مطلوبہ نتائج ومقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں، نہ یہ کہ اسلام کے ایک عظیم الشان حکم کو مسخ کر کے تلبیس سے کام لیا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ معاشرے میں ہونے والی خرافات پر تفصیلی نظر ڈالی جائے، طرح طرح کی مروج رسومات میں ضائع ہونے والے اربوں وکھربوں کی مالیت کے روپے کو کنٹرول کیا جائے، نہ کہ ایک فریضے میں صرف کرنے والوں لوگوں کو بھی بہکا کر اس سے روک دیا جائے۔

         منکرین قربانی کا یہ کہنا کہ’’ قربانی کی وجہ سے جانوروں کی نسل کُشی ہوتی ہے اور لوگوں کی رقمیں بلاوجہ ضائع ہوتی ہیں، اگر یہ رقوم رفاہِ عامہ کے کسی مفید کام میں صَرف کی جائیں تو کیا ہی اچھا ہو، وغیرہ وغیرہ‘‘مگر یہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو (جو حکیم علی الاطلاق ہے اور اس کا کوئی حکم عقل کے خلاف اور خالی از حکمت نہیں ہوتا) محض ان طفل تسلیوں سے کیوں کر رد کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس کو قربانی کا حکم دیتے وقت یہ معلوم نہ تھا کہ قربانی سے جانوروں کی نسل کشی ہوتی ہے اور اس کے یہ نقصانات ہیں؟ رب تعالیٰ کے صریح احکام میں معاذ اللہ کیڑے نکالنا کون سا ایمان ہے؟،اور پھر جناب خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺکے صحیح اور صریح قولی فعل اور اُمتِ مسلمہ کے عمل کو جو تواتر سے ثابت ہوا ہے، خلاف ِ عقل یا مضر بتانا کون سا دین ہے؟۔   

         ان نام نہاد مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم اور اہم عبادت ہے، جیسے: حج کرنا، زکاۃ دینا، اور دوسری عبادات۔ تو کیا ان عبادات کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ فضول خرچی ہے،جسم کو تھکانا ہے اور مال کو بے جا خرچ کرنا ہے؟ اس طرح تو دین کا بہت بڑاحصہ اور بہت سے دینی احکام ہی کا اسلام سے تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ پس جب شریعت میں قربانی کا حکم ہے تو اسے عقلی اعتراضوں اور ذہنی ڈھکوسلوں کا شکار بنانا کسی طرح درست نہیں۔    

         دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں ہونے والی دوسری اور اصل فضول خرچیاں (جن کا شریعت نے حکم بھی نہیں دیا) ان لوگوں کو نظر نہیں آتیں، جبکہ اصل میں تو ان کے ختم کرنے اور مٹانے کی ضرورت ہے، ملک کی کتنی بڑی تعداد ایسی ہے جو سگریٹ نوشی، منشیات، کرکٹ، ہاکی اور دوسرے کھیل، جوئے بازی، گھوڑ دوڑ، ناچ گانا، فحش پروگرام، انٹرنیٹ، ٹی وی، کیبل، وی سی آر، سینما، فضول تصویر سازی اور مووی بازی اور دوسرے فحش میڈیائی پروگرام، فحش اخبار ورسائل اور دیگر ناول اور ڈائجسٹ، بسنت، عید کارڈ، شادی کارڈ، گانوں اور دیگر غلط پروگراموں کی آڈیو وویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز، ویڈیو گیمز، آتش بازی، شادی بیاہ، مرگ وموت اور غمی خوشی کی رسومات، مختلف فیشن، غیر شرعی بیوٹی پارلر وغیرہ کی زد میں ہے، جن کو چھوڑے اور توبہ کیے بغیر دنیا وآخرت کی فلاح اور کامیابی ملنا مشکل ہے اور یہی پیسہ اگر قومی اور رفاہی مفادات پر خرچ کیا جائے تو بہت جلد ترقی حاصل کی جا سکتی ہے۔

         ذبح کرنے پرایک عامیانہ اعتراض:  منکرین اور ملحدین کی طرف سے ایک اعتراض یہ بھی سامنے آتا ہے کہ زندہ جانوروں کے گلے پر چھری پھیر دینا بھی عقلِ سلیم کے خلاف ہے،ظلم ہےاور یہ فعل مسلمانوں کی بے رحمی پر دلالت کرتا ہے۔

         اس پر’’ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ سے زیادہ رحم کسی مذہب میں بھی نہیں ہے، اور’’ ذبح حیوان‘‘ رحم کے خلاف نہیں، بلکہ ان کے حق میں اپنی موت مرنے سے مذبوح ہو کر مرنا بہتر ہے، کیوں کہ خود مرنے میں قتل وذبح کی موت سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ رہا یہ سوال کہ پھر انسان کو ذبح کر دیا جایا کرے، تا کہ آسانی سے مر جایا کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حالت یاس سے پہلے ذبح کرنا تو دیدہ و دانستہ قتل کرنا ہے اور’’ حالت یاس‘‘ پتہ نہیں چل سکتی، کیونکہ بعض لوگ ایسی بھی دیکھے گئے ہیں کہ مرنے کے قریب ہو گئے تھے، پھر اچھے ہو گئے۔ اور شبہ حیوانات میں کیا جائے کہ ان کی تو یاس کا بھی انتظار نہیں کیا جاتا۔

         اس کا جواب یہ ہے کہ بہائم اور انسان میں فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کا تو اِبقاء (باقی رکھنا) مقصود ہے، کیونکہ خلقِ عالم سے وہی مقصود ہے، اس لیے ملائکہ کے موجود ہوتے ہوئے اس کو پیدا کیا گیا، بلکہ تمام مخلوق کے موجود ہونے کے بعد اس کو پیدا کیا گیا، کیونکہ نتیجہ اور مقصود تمام مقدمات کے بعد موجود ہوا کرتا ہے، اس لیے انسان کے قتل اور ذبح کی اجازت نہیں دی گئی، ورنہ بہت سے لوگ ایسی حالت میں ذبح کر دئیے جائیں گے، جس کے بعد ان کے تندرست ہونے کی امید تھی اور ذبح کرنے والوں کے نزدیک وہ یاس کی حالت میں تھا۔ اور جانور کوباقی رکھنامقصود نہیں، اس لیے اس کے ذبح کی ا جازت دی گئی ہے، ذبح ہو جانے میں ہی ان کو راحت ہے اور ذبح ہو جانے کے بعدان کا گوشت وغیرہ بقائے انسانی میں مفید ہے، اللہ جل شانہ کو جس کا باقی رکھنامقصود ہے۔اگرحلال جانوروں کو ذبح کرکے استعمال نہ کیا جائے اور یوں ہی مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو وہ مردہ ہو نے سے اس کے گوشت میں زہریلا اثر پھیل جائے گا اور اس کا استعمال انسانی صحت کے لیےسخت مضر اور نقصان دہ ہو گا۔

         مغربی بنگال میں اس ۲۰۲۶ء میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی جس طرح شدت پسند ہندوؤں کے ایک طبقے کو خوش کرنے کے لیے کہ دیگربھاجپا ریاستوں کی طرح مسلمانوں کوپریشان کرنےکا سلسلہ شروع ہواہے ، گائے کی قربانی وغیرہ پرسخت پابندی اورسزاؤں کی بات کی گئی تو مسلمانوں نے خود گائے نہ خریدنے کااعلان کردیا۔اس پرحال یہ ہواکہ ہندوؤں کا ہی وہ طبقہ جو گائے کا کاروبار کرتا ہے اورمسلمانوں سے ہی ان کے سال بھر کی روزی روٹی چلتی تھی، چیخنے چلانے لگے اورخودکشی کی بات کرنے لگے ہیں ۔ان کاکہنا ہے کہ ہم نے لون وغیرہ لےکربڑی مشکل سے گائے کا انتظام کیا ہے،اگر یہ قربانی میں فروخت نہیں ہوگی توہم تباہ ہوجائیں گے۔ادھر۲۵؍مئی ۲۰۲۶ءکوہی راجستھان کے جیسلمیر میں میونسپل کونسل کے ڈمپنگ یارڈ سے ۵۰۰؍سے زائد گایوں کی سڑی گلی لاشیںبرآمد ہوئی ہیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہندوؤں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔مگرغم وغصہ کے بجائے انسان کے ہرطبقے کو اس پر غور کرنا ہوگا کہ فطرت کے نظام کے خلاف اگرچلیں گے تویہی صورت حال ہوگی۔اللہ جل شانہ نے حلال جانور کھانے کے لیے پیدا کیا ہے ،اگراس سے استفادہ کرنے کے بجائے اسے معبود مان کر پوجا شروع کردی جائے تو ان کا یہی حشر ہوگااوروہ جانور ایک دن نابود ہوجائیں گے۔اس لیے انسانیت کو اسلام کے آغوش میں ہی سکون وقرار مل سکتا ہے۔

         اسی طرح رجم ،قصاص، جہاد وغیرہ میں چوں کہ بعض لوگوں کا خاتمہ تمام لوگوں کے لیے بقا اورسکون کا ذریعہ ہے، اس لیے وہاں قتل انسانی کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔مگر ساتھ ہی اس کی رعایت کی گئی کہ حتی الامکان سہولت کی صورت سے مارا جائے، یعنی: قصاص میں جو کہ قتل اختیاری ہے، تلوار سے۔اور جہاد میں مثلہ وغیرہ کی ممانعت کی گئی ہے‘‘۔

         قربانی کی حقیقت کیا ہے؟ اگر قربانی کی حقیقت پر نظر ہو تو بھی یہ وسوسہ پیدا نہیں ہو سکتا، قربانی تو یادگار ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اپنا بیٹا ذبح کرو، حالانکہ! دوسری طرف خود قرآن کا اعلان ہے کہ قتل کی سزا ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ہے، نیز! بچوں کو تو جہاد کی حالت میں بھی قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے، الغرض عقل کبھی بچے اور بالخصوص اپنے معصوم بچے کے قتل کو تسلیم نہیں کر سکتی، لیکن قربان جائیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر کہ انہوں نے اللہ سے یہ نہیں پوچھا کہ اے اللہ! جو بچہ مجھے برسہا برس دعائیں مانگنے کے بعد ملا، آخر اس کا قصور کیا ہے؟! اور اگر قصور ہے بھی تو اس کو مارنے سے کیا حاصل ہو گا؟

         لیکن نہیں!!وہ جانتے تھے کہ اس لیے کہ جہاں اور جس کام میں اللہ کا حکم آ جاتا ہے وہاں چوں چرا کی گنجائش باقی نہیں رہتی، چاہے نفع نظر آئے یا نقصان۔ دوسری طرف قربانی کے جانور پر آنے والے اخراجات کا جائزہ لیجیے! آج کے اس مہنگائی کے دور میں بڑے جانور میں حصہ لینے کے لیے چار،چھ ہزار روپے کافی ہیں اور اگر چھوٹا جانور لینا چاہیں تو بارہ سے پندرہ ہزار روپے میں کام چل جاتا ہے۔ اس جائزے کے بعد سوچیےکہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں حکم ہو کہ تمہیں اختیار ہے کہ تم اپنا بیٹا قربانی کے لیے ذبح کرو، یا اس کی بجائے (بارہ سے پندرہ ہزار روپے کا)جانور ذبح کرو، تو بتلائیے کہ کون کس کو ترجیح دے گا؟ یقینا بیٹے کے ذبح کے مقابلہ میں ہر عقل مند جانور ذبح کرنے کو ترجیح دے گا۔ اب ایک نظر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف بھی ڈالیے کہ جب ان کو بیٹا ذبح کرنے کاحکم ملا (اور حکم بھی صراحۃً نہیں ملا، بلکہ خواب میں اشارۃً بتلایا گیا) تو انھوں نے ایک لمحے کے لیے بھی رُک کر یہ نہ پوچھا کہ اےپاک پروردگار ! اس میں میرے لیے کیا نفع ہے اور کیا نقصان؟اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا جانور ذبح کرنے کا حکم دیا گیا اور ہم پوچھتے پھرتے ہیں کہ اس میں میرا کیا نفع ہے؟اس کے بجائے یہ ہو جائے، وہ ہو جائے، وغیرہ ،تویہ قربانی کی روح کے خلاف ہے، یہ سوال کرنے والا درحقیقت قربانی کی حقیقت سے ہی ناواقف ہے، قربانی کے ذریعے تو یہ جذبہ پیدا کرنا مقصود ہے کہ جب اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی حکم آ جائے توہم اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے اللہ کے حکم کی پیروی کریں، اس کے حکم کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کریں، اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عمل میں اشارہ کیا ہے کہ ’’فَلَمَّا أَسْلَمَا‘‘’’ جب انھوں نے سر تسلیم خم کر دیا‘‘۔ تو اچھی طرح سمجھ لیناچاہیے کہ قربانی محض رسم یا دل لگی نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے ایک ذہنیت دینا مقصود ہے، جسے فلسفۂ قربانی کا نام دیا جاتا ہے، وہ یہی ہے کہ جب اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی حکم آ جائے توہم اپنی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی بجائے اللہ کے حکم کی پیروی کریں، اس کے حکم کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کردیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ منکرین، ملحدین ،مستشرقین اور کفار ومشرکین کے اس زہریلے پروپیگنڈے کے مقابلے میں اہل اسلام پُرزور طریقے سے اس حکم پر عمل پیرا ہوں، اسی میں اہل اسلام کی خیر وبقا اور دین اسلام کی حفاظت کا راز مضمر ہے۔کسی شاعر نے بہت خوب کہا ہے؎

اے مسلماں!  سُن  یہ  نکتہ  درس  قرآنی  میں  ہے

عظمت  اسلام  و  مسلماں  صرف  قربانی  میں  ہے

                                                                                                                        سید سیف الدین اصدق چشتی

                                                                                                                  آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف نالندہ (بہار)