فتنۂ ارتداد: ایک خطرناک چیلنج

                          یَاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗ(المائدہ:۵۴)

   (اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا ،جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں )

         آج جمعۃ المبارکہ کی اس مجلس میں’’ فتنۂ ارتداد:اسباب وعلاج ‘‘کے موضوع پرمیں کچھ عرض کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔

ارتدادکالغوی مطلب ہے:پلٹنا، واپس آنا،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰی أَدْبَارِکُمْ(المائدہ:۲۱)

          ”اپنی ایڑیوں کے بل واپس نہ پلٹ جانا۔“ارتدادکا معنی انگریزی میں’’اپوسٹیسی‘‘ (Apostasy)اورہندی میں’’ دھرم تیاگ‘‘ یا’’سودھرم تیاگ‘‘ کہتے ہیں۔’’مت تیاگ‘‘ یا ’’پکش تیاگ ‘‘کابھی استعمال ہوتا ہے۔مطلب اپنےمذہب،مذہبی عقیدےیانظریے سے پھرجانا ہے۔فقہاء کی اصطلاح میں ارتداد سے مقصود ہے اسلام کے بعد دوبارہ کفر اختیار کرنا؛ اسی بارے میں فرمان الٰہی ہے: وَمَنْ یَرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِینِه فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُولَئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیہَا خَالِدُونَ(البقرہ:۲۱۷)”تم میں سے جو کوئی بھی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ،اس کے اعمال دنیا اورآخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اورہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔“

         یہ ارتداد وہ چیز ہے جس کے مقابلے میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ،جوصحیح معنوں میں خلیفۃ الرسول ﷺتھے ، گویا نبی اکرم ﷺ کے قائم مقام تھے ،جنھوں نے خلافت نبوی ﷺ کا حق ادا کردیا،مرتدین زکوٰۃ کے سامنےآپ سینہ تان کر کھڑے ہوگئے ،خم ٹھونک کر میدان میں آگئے،انھوں نے کہا اس کوقطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا ،دین میں ایک لفظ بڑی چیز ہے ، ایک حرف کی بھی تبدیلی کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی،دین کے فرائض اوراس کے احکام میں سے کسی ایک کا بھی استثنا،کسی ایک کے لیے چھٹی دینا ،معافی دینا اوراس کے لیے جواز پیدا کرنا ممکن نہیں،اس کی کوئی گنجائش نہیں۔میرے سامنے کم از کم یہ نہیں ہوسکتا ، یا میں نہیں یا یہ نہیں۔پھرانھوں نے ایسا کرکے دکھادیا۔

         خطبۂ مسنونہ کے بعد جو میں نے آیت کریمہ پڑھی اس میں اللہ پاک نے یہی ارشاد فرمایا ہے:’’اے ایمان والو! تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا ،جن سے اللہ محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں‘‘ ۔

         یہ صفات جن حضرات کی ہیں وہ کون ہیں ، اس میں کئی اقوال ہیں۔اس میں سب سے پہلا اوراہم قول ’’حضرت مولا علی المرتضیٰ شیرِ خداکرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم، امام حسن بصری اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنھماکاہے، یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کے بعد مرتد ہونے والوں اور زکوٰۃ کے منکروں سے جہاد کیا۔

         اسلام کی تاریخ میں مختلف ادوار میں کئی فتنے رونما ہوئے، جن میں فتنۂ ارتداد ایک اہم اور سنگین فتنہ ہے۔ فتنۂ ارتداد سے مراد وہ صورت حال ہے جب کوئی مسلمان دین اسلام سے منحرف ہو کر دیگر مذاہب یا دہریت کی طرف مائل ہو جائے۔ یہ فتنہ ہمیشہ سے اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خطرہ رہا ہے اور اس کے اسباب اور علاج کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ اس کی روک تھام کی جاسکے۔

         موجودہ حالات میں صاف نظر آرہا ہے کہ اگرہم نے اپنے بچوں اورآئندہ نسل کو اپنے حال پر چھوڑدیا،ان کی فکر نہیں کی ،ان کی تعلیم کا ذریعہ صرف سرکاری اسکول ومدارس اورپرائیوٹ انگلش میڈیم اسکول رہے تو ان کا ایمان سخت خطرے میں ہے ۔یہ لفظ تو بہت ثقیل ،گراں،بڑے مکروہ اوربڑے اذیت پہنچانے والے ہیں،لیکن مجبوراًکہنا پڑتا ہے کہ ان کے نہ صرف تہذیبی اورثقافتی ارتداد کا خطرہ ہے بلکہ دینی اور اعتقادی ارتداد کا بھی خطرہ ہے۔

         اسلام اوردین کے لغت میں کفروشرک کے بعد جولفظ سب سے زیادہ مکروہ ہے ،اورجس کے سننے سے رونگٹے کھڑے ہوجانے چاہیں ،اوررات کی نیند اڑجانی چاہیے ،اورکھانے پینے کا مزہ ختم ہوجانا چاہیے وہ لفظ ’’ارتداد‘‘ہے۔بلکہ ایمان لانے کے بعد اس سے پھر جانا ،کفرکی قسموں میں سب سے بدترین قسم ہے۔کل میدان محشر میں ایمان والوں کے چہرے جہاں سفید اورروشن ہوں گے وہیںاسلام سے پھرجانے والوں کے چہرے انتہائی سیاہ اورکالے کلوٹے ہوں گے،انھیں ہمیشہ کے لیے جہنم کی سزا ہوگی۔اعلان باری تعالیٰ ہے : یَّوْمَ  تَبْیَضُّ   وُجُوْهٌ  وَّ  تَسْوَدُّ  وُجُوْهٌۚ ج فَاَمَّا الَّذِیْنَ  اسْوَدَّتْ  وُجُوْهُهُمْ قف اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ  اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ  بِمَا كُنْتُمْ  تَكْفُرُوْنَ(البقرہ:۱۰۶)جس دن کئی چہرے روشن ہوں گے اور کئی چہرے سیاہ ہوں گے تو وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا کہ) کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے تھے؟ تو اب اپنے کفر کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔

         اورایک دوسری آیت کریمہ میں ارشاد ہوا: وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ  وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ‏(البقرہ: ۲۱۷)اورتم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر کر کفر کی حالت میں مرے گا، تو ان کے اعمال دنیا و آخرت میں رائیگاں ہو جائیں گے،یہی لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

         فتنۂ ارتداد کے اسباب:

         (۱) عقیدہ کی کمزوری: سب سے بنیادی سبب مسلمانوں کے عقیدے کی کمزوری ہے۔جب بندہ توحیدو رسالت، حشرو نشر اورتقدیروآخرت کےبنیادی عقائد کے حوالے سے شکوک وشبہات میں مبتلا ہوجائے تو آسانی سے دین سے دور ہو تاچلاجائے گا۔مرتدین ،ملحدین ،سابقہ مسلمان ( Ex-Muslims)کی جماعت پرنظرڈالیےتواہل علم اورہرباشعورطبقے کو یہ صاف نظر آئے گا کہ اسلامی عقائد ونظریات کا صحیح فہم نہ ہونا اور قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے ناواقفیت نے انھیں اس حال میں پہنچایا ہے۔

         (۲) دینی تعلیم سے دوری:  اگر مسلمانوں کو اسلامی عقائد، قرآن وحدیث کی بنیادی تعلیم اور سیرت نبوی ﷺسےبہرہ پن  کامعاملہ ہوتا ہےتو وہ اصل دین سے بے خبر رہتے ہیں اور کسی بھی پروپگنڈے کاآسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔

         (۳) مغربی افکار ونظریات: مغربی ثقافت اور فلسفہ، جو زیادہ تر مادیت پسندی اور مذہبی بے راہ روی پر مبنی ہے، مسلمانوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور مغربی نظریات کی تشہیر کے نتیجے میں بعض مسلمان اپنے دین سے دور ہو جاتے ہیں۔

         (۴) اقتصادی و معاشرتی دباؤ: کچھ لوگ غربت وبے روزگاری اور معاشرتی مشکلات کے دباؤ میںاپنا دین ومذہب چھوڑکر  چھوڑ کر اس راستے پر چل پڑتے ہیں جس سے انھیں فوری مالی اوراقتصادی فائدہ حاصل ہوجائے۔خاص طور پر جب کہ کئی غیر مسلم تنظیمیں مالی امداد اور دیگر سہولیات کے ذریعے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی مہم پر لگی ہوں۔

         نبی اکرم ﷺارشاد فرماتے ہیں : كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْراً(مرقاۃ المفاتيح شرح مشکوۃ المصابيح:۵۰۵۰) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ غربت انسان کو بہت سی مشکلات میں مبتلا کر سکتی ہے، اور بعض اوقات یہ اتنی شدید ہو سکتی ہے کہ انسان مایوسی اور ناامیدی میں مبتلا ہو کر پر ایمان سے دور ہو سکتا ہے۔ اس حدیث میں غربت کی سنگینی اور اس سے بچنے کی ضرور زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غریب ہونا خود کفر ہے، بلکہ یہ ہے کہ غربت انسان کو کفر کے راستے پر ڈال سکتی ہے۔ نبی کریمﷺ سے اس سلسلہ میں دعا بھی منقول ہے : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ (سنن نسائی:۱۳۴۷) اے اللہ ! میں اسلام کا انکار کرنے اور محتاج ہونے اورعذاب قبرسے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

         (۵) نفسیاتی مسائل: نفسیاتی دباؤ، مایوسی اور ذاتی زندگی کے مسائل بھی بعض افراد کو دین سے دور کر دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں انسان عموماً اپنے عقائد پر شک کرنے لگتا ہےکہ واقعی!کیا خداہے؟ اگر خدا ہے تووہ میرے ساتھ ہی ناانصافی کیوں کررہا ہے!! (نعوذ باللہ من ذالک)اورپھر وہ آہستہ آہستہ دین سے نکلتا جاتا ہے۔عموماً اس میں وہ لوگ زیادہ ہوتے ہیں جن کے پاس دنیاوی تعلیم تو وافر ہوتی ہے مگر دینی تعلیم وتربیت،صحبت وسنگت اوران کا بیک گراؤنڈ دین سے غافل اوربیزار ہی ہوتا ہے۔

         (۶)اسکول وکالج اورعشق میں ارتداد: اسکول وکالج میں مخلوط تعلیم کی وجہ سے لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ رہتے ہیں ، اس پر سیکس کی تعلیم کا لزوم پٹرول میں آگ لگانے کا کام کرتی ہے، آن لائن تعلیم نے بھی تعلقات کی پاکیزگی ختم کر دی ہے۔ بے پردگی کی وجہ سے بھی گندے تعلقات ہو جاتے ہیں، معاشقے میں ذات پات کی کوئی قید نہیں ہوتی ، جس کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کے مذہب کو محض شادی کے لیے قبول کر لیتے ہیں ، ان میں نہ تو مسلمان ہونے والوں کو اسلام سے کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ غیر مسلم ہونے والوں کو، دونوں مذہب بے زار ہوتے ہیں،مسلمانوں کو اپنی اولاد پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، تا کہ وہ فتنہ ارتداد سے بیچ سکیں۔

         ان تمام باتوں سے معلوم ہوا کہ ارتداد کا مقابلہ کرنا مسلمانوں کے لیے بہت ضروری ہے، مرتد ہونے والا اگر کوئی اعتراض کرے تو اس کے اعتراض کو سنا جائے گا اس کا جواب دیا جائے گا ، اس لیے کہ اسلام مدلل مذہب ہے، اس میں داخل ہونے کے لیے کوئی زبردستی نہیں ، اسلام جبر اور تلوار سے نہیں پھیلا ہے، اسلام کے کسی حکم میں کسی کو شبہ ہو تو اس شبہ کو دور کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، بھارت ایک جمہوری ملک ہے، یہاں مذہب کی آزادی ہے، یہاں مرتد کو قتل کرنے اور ان سے جہاد کرنے کی بات تو نہیں کہی جاسکتی ، اس لیے کہ سزاؤں کے نفاذ کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے، البتہ دلائل سے سمجھایا جائے گا اور مسلمان بھائیوں بہنوں کے فکری ارتداد کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور یہ مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے ۔ اس میں جمہوریت رکاوٹ نہیں ہے۔

         فتنۂ ارتداد کا علاج: اس خطرناک فتنے سے اپنی قوم کو بچانے کے لیے اب کچھ علاج تجویز کیا جاتا ہے۔اگراس پر والدین اور ذمہ داران قوم عمل کریں تویہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

         (۱)عقیدہ کی پختگی: مسلمانوں کو اپنے عقائد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کو سمجھنا اور ان پر غور و فکر کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اس کے لیےدینی کتابوں کے مطالعہ کےساتھ ساتھ مخلص ،باصلاحیت اورباعمل عالم کی رہنمائی ضروری ہے۔

         (۲) دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام:  ہر مسلمان کو دینی تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اسکولوں اور مدارس میں اسلامی تعلیمات کو اہمیت دی جائے اور نوجوانوں کو اسلامی عقائد، اخلاقیات اور تاریخ سے روشناس کرایا جائے۔ والدین کا کردار بھی بہت اہم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ابتدائی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کریں۔اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ بچپن میں ابتدائی مکتب ومدرسے کی تعلیم کس قدر ضروری ہے۔کورے کاغذ پرجو پہلا نقش اورپہلی لکیر کھنچ جاتی ہے وہ اول بھی ہوتی ہے اورآخر بھی۔

         (۳)مغربی افکار کا جواب: مغربی نظریات اور فلسفہ کو علمی بنیادوں پر رد کیا جائے اور اسلامی عقائد کی مضبوطی پر زور دیا جائے۔ جدید مسائل کا حل اسلامی تعلیمات میں موجود ہے اور اس کو صحیح طریقے سےنوجوانوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

         (۴)معاشرتی و اقتصادی اصلاحات: اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا حل دین اسلام میں موجود ہے۔ اسلامی معاشی نظام اور عدل و انصاف کے اصولوں کو نافذ کر کے ان مسائل کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔دنیاکے مسلم حکومتوں اور اسلامی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ معاشرتی فلاح و بہبود کے پروگرامز کو فروغ دیں تاکہ لوگ غربت اور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔حقیقت یہ ہے زکوٰۃ کے نظام اگرہمارے یہاں درست ہوجائے ،زکوٰۃ نہ دینے والوں کو زکوٰۃ کی اہمیت اورترغیب دلائی جائے اورہرشہرمیں مخلص اورایمان دار لوگوں کی جماعت کے ذریعہ بیت المال کا صحیح نظم قائم ہو تواس طرح کے فتنے پربالکل قابو پایا جاسکتا ہے۔

         (۵) نفسیاتی مدد اور رہنمائی: نفسیاتی مسائل کے شکار افراد کو دین کے ذریعے سکون اور حل فراہم کرایاجائے۔ علما اور اسلامی کونسلز کو نفسیاتی مشاورت فراہم کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ لوگوں کو اخلاق وہمدردی کے ساتھ دین سے جوڑے رکھنے میں مدد کر سکیں۔

         اس خطرناک چیلنج  کا مقابلہ وقت کا اہم تقاضا:

         امت مسلمہ کے لیےفتنۂ ارتداد ایک سنگین چیلنج ہے، جس کا سامنا امت مسلمہ کو ہمیشہ سے رہا ہے۔ اس کے اسباب اور علاج کوبھی  سمجھنا اورعمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ اس وقت مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے بچوں نے اگر دینی تعلیم نہیں پائی تو وہ فرائض وواجبات میںغفلت برتنے لگیں گے ، یا ان کی صورت شکل اسلامی نہیں رہے گی،دہ اسلامی اخلاق وآداب سےدورہوں گے ،یاوہ دین کی خدمت نہیں کر سکیں گے یا علم دین کا احترام نہیں ہوگا ،اور دین سے فائدے اٹھانے کا اُن کے اندر جذبہ نہیں ہو گا، بلاشبہ ایک مسلمان کے لیےیہ چیزیں بھی وحشت ناک ہیں ۔ اپنی جگہ پر یہ سب بہت اہم ہیں،لیکن اس تلخ حقیقت کوسمجھنے کی کوشش کریں کہ اصل خطرہ ان کے ارتداد کاہے، دین سے منھ موڑلینے اورپھرجانے کا ہے۔یہ صرف ذہنی و تہذیبی ارتداد کا نہیں، بلکہ دینی و اعتقادی ارتداد کا ہے۔ آنے والی نسلوں کی تعلیم وتربیت میں غفلت سے اس بات کا سخت خطرہ ہےکہ بڑی سے بڑی گنجائش اور نہایت رواداری اور وسیع الخیالی کے باوجود بھی ان کو مسلمان کہنا مشکل ہوگا، عام لوگوں کے لیےاس کا تصور بھی مشکل ہے۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں یہ واقعہ پیش آچکا ہے، ان کو اپنے سامنے رکھیں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ و ہاں کیا ہوا! حالات کیسے بدل گئے !زمین وآسمان کہیں اس طرح بدلتے ہیں!!

         تاریخ میں ایسےکئی علاقے اور ممالک کےنام آپ کو مل جائیں گے جہاں مسلمانوں نے طویل عرصے تک حکومت کی، لیکن جب وہاں سے مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو اتومسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا دین وایمان بھی نہ بچاسکی ۔ ان میں سب سے نمایاں نام اسپین (اندلس) کاہے۔جہاں مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سوسال تک(۷۱۱ء ۔تا۔۱۴۹۲ء ) حکومت کی۔

         اسی طرح مغلیہ سلطنت کےخاتمے کے بعدغیرمنقسم ہندوستان، خلافت عثمانیہ کے بعد ترکی اورکمیونزم کے دور میں پورے سوویت روس کے علاقے میںمسلمانوں پرکیساکفروارتداد کاحملہ ہوا،تاریخ کا ہرطالب علم اسے بخوبی جانتا ہے۔اگرہمارے ملک یاترکی وغیرہ میں مسلمان بچے ہیں تو اس کے پیچھے ہمارے صوفیہ اورمخلص علما کی کیسی قربانیاں رہی ہیں،اسے بھی ہمیں جاننا چاہیے۔

         پورے عالم اسلام میں بالعموم اور اس بھارت میں بالخصوص ،مسلمانوں کو کافرومرتد بنانے کی بڑی تیز لہر چل رہی ہےجو آگے چل کر شدید اورپھرشدید تر ہوگی۔اس خوف ناک طوفان سے بس وہی بچ سکتا ہے، جسے اپنے اوراپنی نسلوں کے ایمان بچانے کی فکر ہوگی؎

اٹھو  و  گر  نہ   حشر  نہیں  ہوگا  پھر  کبھی

د وڑو   زمانہ   چال  قیامت  کی  چل  گیا

                                      سید سیف الدین اصدق چشتی

                                                                                                                    آستانہ چشتی چمن پیربیگھہ شریف نالندہ(بہار)