’’دین محمدی ‘‘ہی’’ دین ابراہیمی ‘‘ہے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰـكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاط وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(آل عمران :۶۷)

(ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔)

         جسےہم ملتِ ابراہیم ،ابراہیمی ملت یادین ابراہیمی کہتے ہیں، وہ وہی ہے جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تین بڑے آسمانی مذاہب ہیں ،دین یہود، دین نصاریٰ، اور دین محمدﷺ۔ان تینوں مذاہب کے مورث اعلیٰ حضرت ابراہیم تھے۔اسی لیے حضرت ابراہیم کوقرآن میں ’’امام الناس ‘‘کہا گیا ہے:وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ رَبُّه بِكَلِمَاتٍ فَاَتَمَّهُنَّ   ۖ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (البقرہ:۱۲۴)اور جب ابراھیم کو اس کے رب نے کئی باتوں میں آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دیا، فرمایا بے شک میں تمہیں سب لوگوں کا امام بنادوں گا۔چنانچہ تینوں مذاہب کے بانی حضرت ابراہیم کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اسی جامعیت کی بنا پر قرآن نے ان کی ذات’’ امۃ‘‘ کہا ہے۔اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِيْفًا   (النحل:۱۲۰)بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھا، اللہ کا فرماں بردار تمام راہوں سے ہٹا ہوا۔اسی طرح آپ کا ایک لقب ’’ابوالانبیا‘‘بھی ہے۔

         حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباًچار ہزار سال پہلے قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔حضرت ابراہیم ایک صاحبِ کتاب پیغمبر تھےجیسا کہ قرآن سورۃالاعلیٰ میں ’’ صُحُفِ اِبْـرَاهِـيْمَ وَمُوْسٰى‘‘کےذریعہ اس کا تذکرہ کرتاہے۔ اگرچہ ان کی کتاب آج محفوظ نہیں۔ اسی طرح بقیہ تینوں مذاہب کے انبیامیں سے حضرت موسیٰ، اور حضرت عیسیٰ مسیح علیھم السلام صاحب کتاب پیغمبر تھے۔ تاہم ان کی کتابیں بھی آج پوری طرح محفوظ حالت میں نہیں ہیں۔

         اللہ جل شانہ نے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺکو اسی بات کا حکم دیا کہ آپ ملت ابراہیم کی تائید وتوثیق فرمائیں :ثُـمَّ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِــعْ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا     ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (النحل:۱۲۳) پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ (آپ بھی) دین ابراہیم کی پیروی کریں جو ہر باطل سے جدا تھے اور وہ مشرک نہ تھے۔

          اس اعتبار سے رسول اللہ کا مشن دین ابراہیم کی تجدید کا مشن تھا۔ رسول اللہ ﷺکو یہ خصوصیت حاصل ہوئی کہ آپ کا لایا ہوا دین ہر اعتبار سے محفوظ دین تھا، اور اب حق کے متلاشی کو اسی دین محمدی ﷺکی طرف رجوع کرنا ہے۔ کیوں کہ اب اللہ کا دین اپنی محفوظ حالت میں صرف دین محمدی میں پایا جاتا ہے۔مکہ کے قریش اگرچہ عملاً شرک پر قائم تھے، لیکن وہ اپنے مذہب کو حضرت ابراہیم کے ساتھ وابستہ کرتے تھے۔ اس لیے وسیع تر پہلو سے قریش بھی اس خطاب میں شامل ہیں۔یہود و نصاریٰ اس خطاب میں براہ راست طور پر شامل تھے، اور قریش بالواسطہ طور پر۔

واضح رہے کہ  ہر نبی کے ہر دور میں اس کے ذریعہ سے آئے ہوئے دین کو دین اسلام کہا جاتا ہے ،اور عند اللہ مقبول تھا،اور وہ یکے بعد دیگرے منسوخ ہوتا چلا گیا ،پس اس  لحاظ سے دین ابرہیم علیہ السلام ،دین اسلام ہی ہے اور حنیف اسی دین اسلام کی صفت ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت ابرہیم علیہ السلام کے حنیف اور مسلم ہونے کا اعلان فرمایا ،اور اسی معنی کے لحاظ سے حضرت نوح علیہ السلام نےفرمایا ’’وَ اُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْمُسْلِمِیْنَ(الزمر:۱۲) اور مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔

         اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین نے کہا :وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ(آل عمران:۵۲)’’اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں‘‘۔لیکن آخر میں جب یہ سلسلہ حضرت خاتم النبیین ﷺپر آکر ٹھہرا تو دین حق ،دین حنیف(خالص)،دین ابراہیمی اور دین اسلام، دین محمدی کا نام و لقب بن گیا اور قیامت تک یہی جاری رہے گا۔البتہ شریعت مختلف زمانوں اور مختلف امتوں میں مختلف تھی ۔

         اللہ جل شانہ کو’’ملت ابراہیم ‘‘ اس قدر عزیز ہے کہ وہ فرماتا ہے : وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ (البقرہ: ۱۳۰)دین ابراہیمی سے وہی بے رغبتی کرے گا جو محض بیوقوف ہو ، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں سے ہے۔

         ابھی چند سال پہلے امریکہ واسرائیل نے عرب ممالک کو شیشے میں اتارنے کے لیے ابراہم معاہدات (Abraham Accords) کا ایک نہایت فتنہ انگیز شوشہ چھوڑا ہےکہ بھائی ہم لوگ سب ابراہیمی ہیں ،اس لیے آؤ اس کے تحت ایک معاہدہ کرتے ہیں۔یہ بڑا ہی شوگرکوٹیڈ معاملہ ہے۔

  • حفاظتی اور سکیورٹی مفادات: ایران کا بڑھتا اثر، علاقائی کشیدگیاں، اور خفیہ تعاون پہلے سے چل رہا تھا — اب اسے کھلے طور پر کیا جانے لگا۔
  • اقتصادی و ٹیکنالوجی تبادلے: عرب ریاستیں جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، تجارت اور سلامتی شراکت داری چاہتی تھیں۔
  • اسرائیل کا علاقائی تنہائی کم کرنا: اسرائیل کئی دہائیوں تک دنیا کے بعض حصوں میں تنہا رہا، اب اسے عرب ممالک کے ساتھ روابط چاہئیں تھے۔
  • تبدیلی پسِ منظر بین الاقوامی: امریکہ اور دیگر قوتیں مشرقِ وسطیٰ کو مستحکم کرنا چاہتی تھیں، اور عرب ریاستوں کی خارجہ پالیسی کو نیا رخ دینا چاہتی تھیں۔

         دستخط شدہ معاہدے اور ریاستیں

ابتدائی معاہدہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (UAE) کے درمیان ہوا۔

اس کے بعد بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی باقاعدہ معاہدے کیے۔

مزید بعد میں مراکش اور سوڈان نے عمومی معاہدے یا روابط کے امکانات قبول کیے۔

ان معاہدوں کا مقصد صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی، اقتصادی، اور ثقافتی روابط قائم کرنا بھی تھا۔

اصول اور بیسکس (بنیادی نکات)

         یہ کچھ بنیادی اصول یا “فارمولا” کہے جا سکتے ہیں جو Abraham Accords نے قائم کیے:

  • معمول پر لانا (Normalization): دولتِ عرب اور اسرائیل باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کریں، سفارت خانے کھولیں، تجارتی اور ثقافتی روابط شروع کریں۔
  • امن و سلامتی تعاون: باہمی سلامتی معلومات کا تبادلہ، مشترکہ بحری یا فضائی تعاون، دہشت گردی کے خلاف اشتراک کرنا۔
  • خادم ریاستوں کا فریم ورک: تناؤ کو کم کرنا، اختلافات پُرامن طریقے سے حل کرنا، تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے طے کرنا۔
  • اقتصادی روابط: تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلے، سیاحت وغیرہ کو فروغ دینا۔
  • شرط مشترکہ موقف: بعض اوقات معاہدے میں شرط ہوتی ہے کہ کوئی پارٹی کسی اصول سے تجاوز نہ کرے — مثلاً معاہدے کے دوران ریاستیں کہتی ہیں کہ وہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھیں گی، یا اسرائیل مزید زمینِ مغرب کی خودمختاری کا الحاق نہ کرے۔

         تنقید، چیلنجز اور تعلق فلسطین سے:

         اب راہِ تجزیہ یہ ہے کہ یہ معاہدے فلسطینی مسئلے پر کس طرح اثر انداز ہوئے یا ہو سکتے ہیں، اور اس میں کیا مشکلات ہیں:

         پہلی تنقید یہ ہے کہ معاہدے نے عرب ممالک کو ایک قسم کا “تجارت بندی” موقع دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف رسمی بائیکاٹ ترک کریں، بغیر فلسطینی حقوق کی خاطر زیادہ موقف اختیار کیے۔

         کچھ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ معاہدے ’’پُرامن تنازعات کا انتظام‘‘ زیادہ ہیں ،یعنی جنگ ختم کرنے سے زیادہ تنازعات کو قابو کرنے کی کوشش ہیں — کیونکہ فلسطینی حق خود ارادیت کی معطلی پر توجہ کم رہ گئی۔

ایک اور چیلنج یہ ہے کہ عوامی حمایت کم رہی — بعض عرب ریاستوں میں عوامی رائے نے معاہدے کی مخالفت کی یا اسے قبول نہیں کیا۔

اسرائیل کی ساختیت اور مغربِ اردن (West Bank) میں قبضے اور مزید بستیوں کی توسیع کا مسئلہ: اگر اسرائیل مزید قبضہ کرے تو معاہدے کو خطرہ ہو سکتا ہے، اور بعض ریاستیں اسے “ریڈ لائن” کہہ چکی ہیں۔

فلسطینی قیادت اور عوام کا ردعمل: فلسطینی قیادت نے بعض اوقات معاہدے کو خیانت یا پسپائی مانا، اور کہا کہ عرب ریاستوں کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے پہلے فلسطینی حق و اصول پر پختہ موقف ہونا چاہیے۔

٭٭٭