سیدالانبیاﷺ کی سیاسی بصیرت

         اسلام دین حق بھی ہے اور مکمل دین بھی ۔ اس میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی اور ہدایات موجود ہیں ۔ ہر زمانے،ہر خطے اور ہر شخص کے لیے ہدایات ہیں۔اسلام کی یہی خوبی اسے دوسرے تمام ادیان و مذاہب سے ممتازکرتی ہے۔اسی طرح سیدالانبیا  ﷺ کی حیات مبارکہ سارے ہی انسانوں کے لیے نمونہ ہے،قرآن نے اس مقدس زندگی کو اسوۂ حسنہ اور اسوہ ٔکاملہ سے تعبیر کیا ہے۔آپ کی آئینہ زندگی سے ہر فرد اپنا چہرہ سنوار سکتا ہے؎

جس کا جی چاہے کسی رخ سے اٹھا کر دیکھ لے

کس قدر بے داغ ہے،  سیرت رسول اللہ کی

         یہ بات ہم سب کی عقیدت نہیں،حقیقت ہے بلکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ محسن انسانیت ﷺکی حیاتِ مبارکہ ایک جامعیت اوریہ  خصوصی امتیاز رکھتی ہے کہ آپ کی زندگی میں ہمیں زندگی کے ہرگوشےسے متعلق بڑی تفصیلی ہدایات ورہنمائی ملتی ہے۔حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نےجہاں بااُصول کامیاب تجارت فرمائی، وہیں ایک مثالی شوہر ہونے کا کردار بھی ادا کیا، تعلیم وتعلم میں آپ کے قائم کردہ معیارات جہاں باکمال تھے، وہیں ریاست کے انتظامی امور میں آپ کا کوئی مقابل ومثیل نہیں ۔

         مگرافسوس یہ ہے کہ محفل میلاد النبیﷺ ہویاسیرت پاک ﷺکے جلسے،ان میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی حیات مبارکہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی رہتی ہے،عموماًاس میںآپ کے لباس،بودو باش،خورد و نوش،طرز تکلم،اخلاق حسنہ اور معجزات وکمالات وغیرہ جیسےموضوعات پر علما وخطبا،واعظین ومقررین اور شعرا ومداحان رسول ﷺ نظم و نثر میںاپنی اپنی جانب سے خراج عقیدت پیش کرتےہیں ۔مگر آپ کی سیاسی زندگی اور بحیثیت ایک سیاست داں اور حکمراں کے گوشے شاید ابھی تشنہ ہیں۔حالانکہ اردو و عربی زبان میں بہت سارےمقالات وتصانیف موجود ہیں ،لیکن عوام کی نظروں سے یہ پہلو اوجھل ہی ہے ۔بلکہ بعض لوگ آپ کو سیاسی کہنے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتے ہیں،اس لیے کہ وہ سیاست کو دین سے متضاد کوئی مکروہ شئی سمجھتے ہیں۔اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ دین اسلام بھی ایک مذہب و مسلک بن کر رہ گیا ،اس کی عالمگیر اور ہمہ گیر حیثیت تقریباً ختم ہوگئی۔سنتوں کے نام پر بھی داڑھی ٹوپی،پاجامے کی پیمائش اور نماز و وضو کی سنتیں یاد رہیں اور آپ کی بعثت کا وہ مقصد عظیم کہیں گم ہوگیا جو ایک سیاسی انقلاب کی شکل میں آپ نے حاصل کیا۔

         صاحبو!انسانی زندگی میں سیاست کا بھی بڑا عمل دخل ہےاس لیے سیاست بھی دین کا ایک لازمی جزو ہے۔سیدالانبیاﷺ نے دیگرشعبہ ہائے زندگی کے ساتھ سیاست کابھی ایک مثالی نمونہ پیش کیاہے۔افسوس! ہم اس روشن نمونہ پر بھی عمل نہ کر سکے اور سیاست کو مکر و فریب،دغاو جھوٹ، اور منافقت و بد دیانتی کی ایک علامت بنا کر رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے نے سیاست کو دین سے الگ کوئی شئے سمجھ لیاہے۔اگر کوئی دین دار ،مذہبی انسان اور عالم دین سیاست کی طرف رُخ کرتا ہے تو ہمارے سماج وسوسائٹی میں اسے مشکوک نگاہوں میں دیکھا جاتا ہے ۔اسی لیے آہستہ آہستہ دین دار طبقہ جانے انجانے میں سیاست سے کٹتا چلا گیا یا پھر انھیں بڑے سلیقےسے درکنار کردیا گیا۔ظاہر ہے دین دار طبقے کا سیاست سے جدا ہونا ،دراصل دین کا ہی سیاست سےجدا ہونا ہے۔علامہ اقبالؔ نے بہت سچ کہا ہے کہ  ؎ 

جلال  بادشاہی  ہو  کہ  جمہوری  تماشا  ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تورہ جاتی ہے چنگیزی

         جناب اقبالؔ کا یہ شعر نہایت معنی خیز ہے۔ ’’ دین‘‘ زندگی گزارنے کا وہ لائحہ عمل ہے، جو رب ذوالجلال نے سلسلۂ رسالت کے ذریعے بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لیے بھیجاہے۔جس سے روگردانی صرف اور صرف تباہی وذلالت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے ۔ اسی طرح ’’سیاست‘‘کا مطلب بالکل وہ نہیں ہےجوہم نے سمجھ رکھا ہے،بلکہ سیاست حکمت عملی،تدبروتفکر،سوجھ بوجھ اورنظام مملکت کو خوش اسلوبی کے ساتھ چلانے کا نام ہے، تاکہ تمام انسان امن و سکوں سے زندگی گزارسکے ۔ سیاست انسانی تہذیب و تمدن کا سب سے اہم شعبہ رہا ہے جبکہ ’’چنگیزی ‘‘کشت وخوں،قتل وغارت وگری،فریب ودھوکہ اور لاقانونیت کا نام ہے ۔ یعنی دینی مقاصد کے بالکل برعکس اوربرخلاف شئی کا نام چنگیزیت ہے ۔اس لیے سیاست دین سے جداہوکرچاہے بادشاہی کی شکل میں ہو یا جمہوریت کی صورت میںسامنے آئے،یہ سب فریب ،دھوکہ اورچنگیزیت ہی ہے۔

          اگر سیاست کونبی اکرمﷺ کے سنہری سیاسی اصولوں کے مطابق چلایا جاتا تو سیاست اور مذہب کی علاحدگی کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اعلیٰ سیاسی بصیرت کا مظاہرہ فرماکردنیا کو سیاست کا شعور عطا فرمایا ہے۔

         نبی اکرم ﷺ کے سیاسی طرز عمل(’’Political Behavior‘‘) کامنصفانہ جائزہ لینے والےغیرمسلم اسکالرز متحیر نظر آتے ہیں۔ غور کیجیے! آپﷺ نے جب دعوتِ دین کا آغاز کرتے ہوئے کوہِ صفا پر لوگوں کومخاطب کیا تو آپ ایک تنہا فرد تھے، ۱۳؍ سال آپ نے مکہ میں معاندین اسلام کے درمیان بسر کیے، اس عرصہ میں آپ کسی بھی سیاسی سرگرمی( ’’Political Activism‘‘ ) کا حصہ نہ بنے، بلکہ فقط مخلصانہ وداعیانہ طریقہ سے لوگوں کو اسلام کا پیغامِ جانفزا سنایا، اس کے بعد مدینہ میں محض دس سال ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے حکومت فرمائی، لیکن ایک تنہا فرد سے جس دعوت کا آغاز ہوا جب۲۳؍ سال کے عرصہ کے بعد آپ کی رحلت ہوئی تو آپ کی سیاست کا کمال دیکھیے کہ کہ موجودہ یورپ کے برابر پورا سرزمینِ عرب کا خطہ آپ کی قلمرو میں اطاعت گزیں ہوچکا تھا۔ یہ حقیقت ،عقیدت پسندی سے قطع نظر ایک تاریخی واقعہ ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ پھر اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کچھ ہی سالوں میں اس زمانے میں قائم شدہ دو بڑی طاقتور سلطنتوں قیصروکسریٰ (Roman Empire & Persian Empire) کو صفحۂ ہستی سے ختم کردیا۔ اور آپ ﷺکی قائم کردہ حکومت صرف ۵۰ ؍ سے ۶۰ ؍سال کے دورانیہ میں تین براعظموں(Continent) میں پھیل گئی۔

         نبی انقلاب ﷺنے محض ۲۳؍سال کی مدت میں عرب میں ایک ایسا سیاسی انقلاب برپا کیاکہ جس کی چمک سے آج بھی نہ جانے کتنوں کی آنکھیں خیرہ ہورہی ہیں۔آئیے ذرا ہم حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی سیاست پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں:

         سیدالانبیاﷺ نےغیر منظم قبائل کو یکجا کرکے ایک حکومت کی بنیاد رکھی۔ایک جھنڈے کے نیچے سب کو جمع کرکے ایک اخلاقی نظام کا پابند بنایا۔یہ وہ عظیم کارنامہ ہے جو انبیاورُسل کی جماعت میں یہ امتیازصرف آپ کو حاصل ہے۔حکومت و اقتدار دوسرے انبیانے بھی قائم و حاصل کیا لیکن حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے جن حالات میں اور جن لوگوں کے درمیان یہ کارنامہ انجام دیا،وہ بالکل مختلف ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کے بعدان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے بادشاہ بنایا،بنی اسرائیل کے بیشتر انبیابادشاہ تھے،حضرت یوسف علیہ السلام کو قائم شدہ حکومت میں اختیارات حاصل ہوئے،لیکن سردار انبیاحضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے عرب کے ان بدوؤں کو نظم و قانون کا پابند کیا جن کی فطرت ہی لڑنا اور جھگڑنا تھی ،جو ذرا ذرا سی بات پر تلواریں سونت لیتے تھے اور پھر ان کی شمشیروں کی پیاس کئی سال تک بھی سینکڑوں انسانوں کا خون پی کر بھی نہیں بجھتی تھی۔اللہ کے رسول نے وہ سسٹم ڈیولپ کیا جس کے نتیجے کے طور پر آج بھی جس خطے میں اس سسٹم کا جتنا بھی حصہ نافذ ہے لوگ اس کی برکتوں سے فیضیاب ہورہے ہیں،عرب میں مغربی سازشوں کو اگر درکنار کردیا جائے تو امن و خوش حالی آج بھی موجود ہے۔

         سن ۶۰۵ء میںجب آپ کی عمرشریف ۳۵؍سال تھی، خانہ کعبہ کی تعمیر نوکےبعد حجر اسود کو نصب کرنے کا مرحلہ آیا تو مکہ کے قبائل یہ اعزاز حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف جنگ پر آمادہ ہو گئے۔ اللہ کے رسول ﷺنے اعلیٰ سیاسی اور سماجی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا متفقہ حل نکالا جس سے جنگ کے خطرات ٹل گئے اور امن و انصاف سے یہ حساس مسئلہ حل ہو گیا۔خاتم النبین ﷺنے مختلف مراحل پر جو فیصلے کیے ان سے آپ کی اعلیٰ سیاسی بصیرت ثابت ہوتی ہے۔

         ۲۰؍سالہ جوانی میںمحسن انسانیتﷺکی معاہدۂ حلف الفضول میں شرکت ایک سیاسی سوجھ بوجھ اورمثبت فکرونظررکھنے والا انسان ہی کرسکتا ہے ،جس کے نتیجے میں مکہ میں جزوی امن قائم ہوا۔اہل ایمان پر آزمائشوں کے دور میں حبشہ کی جانب ہجرت کا حکم سیاسی دور اندیشی کا ہی نتیجہ تھی ،جس نے اہل ایمان کو ایک آسرا بھی عطا کیا اور عظیم انسانی سرمائے کی حفاظت بھی کی ،اگر ہجرت حبشہ نہ ہوتی تو کمزور وں پر مظالم کے نتیجے میں اہل ایمان بڑی آزمائش میں مبتلا ہوسکتے تھے۔ایک طرف آپ کا دل اپنے جاں نثاروں پر مظالم دیکھ کر تکلیف محسوس کرتا اور دوسری طرف سعید روحیں کسی مناسب ماحول کا انتظار کرتیں۔

         حضرت عمرکے لیے قبول اسلام کی دعا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سماج کےباصلاحیت اور ٹیلینٹڈلوگوں پر آپ کی کیسی گہری نظر تھی ،ہجرت مدینہ کے لیے رفیق سفر اور راستے کا انتخاب صرف ایک معجزہ ہی نہیں، سیاسی چال بھی تھی۔شب ہجرت اپنے بستر استراحت پر حضرت علی کو آرام کرنے کا حکم صرف امانتوں کی واپسی تک محدود نہ تھا ،بلکہ دشمنوں کو اس شبہ میں مشغول رکھنا تھا کہ بستر پر محمد موجود ہیں۔دوران قیام مکہ عکاظ کے میلوں میں جاکر قبیلوں سے ملاقاتیں،طائف کا غیر معمولی سفر،بیعت عقبہ کے مراحل کو سیاست کے صفحات میں ہی جگہ ملنا چاہئے۔مدینہ پہنچ کر وہاں کے غیر مسلموں سے میثاق مدینہ ہندوستان کے کثیر ثقافتی سماج میں آج کے سیاسی رہنماؤں کے لیے ایک بیش قیمت نمونہ ہے۔

         اسی طرح مواخات کا نظام انسانی تاریخ کا انمول باب ہے جس نے چٹکیوں میں کئی مسائل حل کردیے۔مدینے میں اپنی قیام گاہ کا انتخاب اونٹنی پر چھوڑ دینا محض کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ اپنی غیر جانب داری کا اعلان تھا۔آپ کسی کا نام لے کر دوسرے ساتھیوں کی دل شکنی نہیں کرسکتے تھے ۔غزوہ بدر سے لے کر فتح مکہ تک تمام جنگی اسکیمیں آپ کی اعلیٰ سیاسی بصیرت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔

         علاوہ ازیں معلم انسانیت ﷺنے اپنے قریبی رفقاء کی تربیت اس مہارت کے ساتھ کی کہ وہ نسل قبیلہ برادری اور دوسرے سب رشتے توڑ کر ایک عقیدہ کے رشتے سے وابستہ ہو گئے اور آخری دم تک اسلامی کاز کے لیے ثابت قدم رہے۔ اللہ کے رسول ﷺنے دینی تحریک کو کسی قسم کی مہم جوئی کا شکار نہ ہونے دیا۔

         صلح حدیبیہ آپ ﷺ کی ایک ایسا سیاسی قدم ہے جس نے فتح مکہ کی راہ کو آسان کردیا ۔بدر کے قیدیوں کو آزاد کرنے سے دشمنوں میں بھی آپ کی اخلاقی ساکھ قائم ہوئی۔بادشاہوں کو خطوط آپ نے ایک مصلح اور واعظ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک نبی اور نظام مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے تحریر فرمائے تھے۔ایک واعظ کو کسی سے جنگ کرنے کی نوبت نہیں آتی ۔جنگ صرف اسی صورت میں پیش آتی ہے جب آپ کسی کے اقتدار کو چیلنج کرتے ہیں اور نظام حکومت کی تبدیلی کا ہدف آپ کے پیش نظر رہتا ہے،نظام حکومت کی تبدیلی کا ہدف، معیشت و معاشرت کا نہیں بلکہ سیا ست کا موضوع ہے۔

         آپ ﷺنے دعوت کے ابتدائی مرحلہ کے دوران مکہ میں مصائب اور مشکلات کا سامنا کیا مگر کسی موقع پر بھی شدت پسندانہ رویے کا مظاہرہ نہ کیا بلکہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرکے مکہ کے مشرکین کو حیران کر دیا۔ آپ ﷺ نے اپنے رفقاء کے ہمراہ شعب ابی طالب میں تین سال تک نظر بندی بھی کاٹی اور اپنے عظیم مشن کے لیے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے بیعت عقبہ کے دوران اہل مدینہ سے کامیاب مذاکرات کیے جن کی وجہ سے مسلمانوں کو نہ صرف اسلامی مرکز حاصل ہو گیا بلکہ ان کا سیاسی مستقبل بھی محفوظ ہو گیا۔ آپ نے جب ضروری سمجھا اپنے رفقاء کو حبشہ کی جانب ہجرت کر نے کی ہدایت کی۔ ان کا سیاسی بصیرت پر مبنی یہ فیصلہ دینی تحریک کے فروغ کے لیے بڑا اہم ثابت ہوا۔

         مسلمانوں کو حبشہ میں ایک محفوظ ٹھکانا مل گیا اور حبشہ کے بادشاہ کے ساتھ خوشگوار مراسم بھی پیدا ہوگئے۔ اسلامی سکالرز اور مورخ اللہ کے رسول ﷺکے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام خط کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ یہ خط جو اعلیٰ سفارت کاری کا بہترین نمونہ تھا،آج  تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺمکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ پہنچے تو ہر قبیلے کی خواہش تھی کہ آپ ﷺاس کے گھر میں قیام فرمائیں۔حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے بے مثال دانشمندی اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قیام کا فیصلہ اونٹنی پر چھوڑ دیا کہ وہ جہاں بیٹھے گی آپ اسی کے گھر میں قیام پذیر ہوں گے۔ صلح حدیبیہ حضور اکرم ﷺ کا بے مثال سیاسی معاہدہ ہے اس معاہدے کو دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں نے اپنے نصاب میں شامل کیا ہے جس سے اللہ کے رسول ﷺ کی اعلیٰ سفارت کاری اور بے مثال سیاسی بصیرت ثابت ہوتی ہے۔ اس معاہدے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ اور قرب و جوار کے مختلف قبیلوں کو تقسیم کردیا تاکہ وہ متحد ہوکر مدینہ پر حملہ نہ کر سکیں ،کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی دفاعی طاقت اس قدر نہیں تھی کہ وہ تمام قبائل کا کھل کر مقابلہ کرسکتے۔

          جب مکہ میں قحط پڑا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ۵۰۰؍ اشرفیاں مکہ کے غریبوں کے لیے بھیج کر ان کے دل جیت لیے اور بڑے مقصد کی خاطر ان کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کو نظر انداز کر دیا۔ میثاق مدینہ جو تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور تھا آپ ﷺکی اعلیٰ سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میثاق سے آپ ﷺ نے مدینہ کے تمام قبائل کو اپنی قیادت میں جمع کر لیا جس کے بعد مسلمانوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اسلامی ریاست کی بنیادیں مستحکم اور محفوظ بنا سکیں۔ میثاق مدینہ کی اساس امن، انصاف اور بقائے باہمی کے اصولوں پر رکھی گئی۔

         مؤرخین نے حجتہ الوداع کے خطبہ کو مثالی انسانی چارٹر قرار دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺکا یہ آخری خطبہ جو ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمانوں کے اجتماع میں دیا گیا انسانی حقوق کا ابدی اور ازلی نمونہ ہے اور آپ کی سیاسی دانش و بصیرت کا شاہکار ہے۔ اللہ کے رسول ﷺنے اپنے مثالی سیاسی ماڈل کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی ان میں اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت، امانت، دیانت، صداقت ،انصاف، احتساب، مساوات، تحمل، برداشت اور اخوت شامل تھے۔

          حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کی بھلائی چاہتا ہے تو ان کا حکمران دانش مند لوگوں کو بنا دیتا ہے اور ان کا مال سخی لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتا ہے اور جب کسی قوم کو آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو ان پر نادانوں کو حکمران بنا دیتا ہے اور ان کے مال بخیل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتا ہے۔ امام غزالی کے نزدیک سیاست کا مفہوم یہ ہے کہ سیاست اللہ تعالی کی مخلوق کی دنیا اور آخرت میں نجات دلانے کے لیےاصلاح کے سیدھے راستے پر راہنمائی کرنا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں انہیں نظر انداز نہ کرو ،کچھ حرمتیں مقرر کی ہیں انہیں نہ توڑو، کچھ حدود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور کچھ باتیں جن کے بارے میں سکوت فرمایا ہے ان کی کھوج میں نہ پڑو۔اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ایسا کوئی شخص نہیں کہ اللہ نے اسے کوئی رعایت دے رکھی ہو اور وہ اس حال میں اپنی رعایا سے خیانت کرنے والا ہو تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا۔ سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے جس میں اقتدار اور دولت کی ہوس کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی

         غرضیکہ معلم انسانیت ﷺکے اقوال،افعال اورآپ کی کتاب زندگی کامطالعہ کیاجائے تودنیاکاکوئی ایسامعاملہ اورمسئلہ نہیں ہےجوحل ہوتا ہوانظرنہیں آتااورہمیں آپ سے رہنمائی ملتی نظر نہیں آتی ۔مولاناظفرعلی خان نے بہت خوب کہا ہے ؎

جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا جو نکتہ وروں سے حل نہ ہوا

وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں

٭٭٭